Connect with us

بہار

کانسٹی ٹیوشن کلب آف انڈیا کے انتخاب میں تمام پارٹیوں کی ملی حمایت: روڈی

Published

on

(پی این این)
سارن :مقامی ایم پی راجیو پرتاپ روڈی کانسٹی ٹیوشن کلب آف انڈیا کے ایڈمنسٹریٹو سکریٹری کا انتخاب جیتنے کے بعد پہلی بار دیشا کی میٹنگ کے لئے چھپرہ آنے پر مقامی نامہ نگاروں سے گفتگو کی۔بی جے پی کے ضلع صدر رنجیت کمار سنگھ کی صدارت میں سرکٹ ہاؤس میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے روڈی نے کہا کہ ہندوستان کی تاریخ میں اب تک کا سب سے تاریخی انتخاب کانسٹی ٹیوشن کلب آف انڈیا کے انتظامی سکریٹری کے عہدہ کے لئے ہوا۔حکمراں پارٹی بی جے پی اور اپوزیشن سبھی نے ووٹ دیا اور مجھے تمام پارٹیوں نے ترقی کے نام پر حمایت کیا۔چاہے وہ ہندوستان کے کسی بھی کونے کے ایم پی ہوں۔سب نے راجیو پرتاپ روڈی کے کام کو ووٹ دیا۔یہ ہندوستان کی تاریخ کا سب سے تاریخی لمحہ تھا۔جب تمام ممبران پارلیمنٹ نے میرے کئے گئے کاموں پر مجھے ووٹ دیا۔جس کی وجہ سے سارن کا ایم پی اور آپ کا بھائی،بیٹا ہندوستان کے آئین کے مرکزی کلب کے ایڈمنسٹریٹو سکریٹری کے عہدے پر منتخب ہوا۔
انہوں نے دیشا کی میٹنگ میں ہونے والے ترقیاتی کاموں پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ڈبل ڈیکر،نمامی گنگے سمیت تمام ترقیاتی کاموں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔بہت جلد سارن کے تمام کام مکمل ہو جائیں گے۔منصوبوں کے معیار میں اضافہ کیا گیا ہے۔اس بات کا بھی خیال رکھا جائے گا کہ سارن کے لوگوں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔راجیو پرتاپ روڈی نے کہا کہ آج ملک کے وزیر اعظم گیا آئے ہیں۔وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی قیادت میں بہار میں بے مثال کام ہوا ہے۔جس کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔سڑکوں،شاہراہوں،بڑے ایمس،ہوائی اڈے،پارلیمنٹ،ثقافتی دھارے کو بچانے اور مذہبی مقامات کی ترقی کے ساتھ ساتھ طلباء کے لیے انجینئرنگ کالج اور نوجوانوں کے پڑھنے کے لیے میڈیکل کالج تمام شعبوں میں بے مثال ترقی ہوئی ہے۔جس کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔بہت سے کام مکمل ہو چکے ہیں اور متعدد کام جاری ہیں۔بہت سے کام عنقریب مکمل ہونے والے ہیں۔وندے بھارت سمیت کئی ٹرینیں بہار سے چل رہی ہیں۔آنے والے وقت میں کئی اور ٹرینیں چلنا شروع ہونے والی ہیں۔بہار کی ترقی بہت تیز رفتاری سے چل رہی ہے۔روڑی نے اپوزیشن کی یاترا پر کہا کہ لوگوں کے کسی بھی طرح کے یاترا کا بہار کے لوگوں پر کوئی اثر نہیں ہونے والا ہے۔بہار کے عوام این ڈی اے مخلوط حکومت کے کام کو دیکھ رہے ہیں۔وہ کسی کے بہکاوے میں آنے والے نہیں ہیں۔آج جو لوگ یاترا نکال رہے ہیں بہتر ہوتا کہ وہ لوگوں کے نام ووٹر لسٹ میں شامل کروانے کی کوشش کرتے۔
پریس کانفرنس سے پہلے بی جے پی ضلع صدر رنجیت کمار سنگھ نے ایم پی راجیو پرتاپ روڈی کا گلدستہ اور شال پیش کرکے خیرمقدم کیا۔نظامت جنرل سکریٹری وویک کمار سنگھ نے کی۔موقع پر وزیر کرشن کمار منٹو،ایم ایل اے جنک سنگھ،سابق ضلع صدر رام دیال شرما،رمیش پرساد،ورکنگ کمیٹی رکن راکیش کمار سنگھ،جنرل سکریٹری نرنجن شرما،دھرمیندر شاہ،اردھیندو شیکھر،وکاس گپتا،بلونت سنگھ،میئر لکشمی نارائن گپتا،راجن سنگھ، سوویت سنگھ،راجدھانی سنگھ،دھرمیندر چوہان،سشیل کمار سنگھ،مدن سنگھ،انل سنگھ،راکیش کمار سنگھ،انجنیئر ستیندر سنگھ وغیرہ موجود تھے۔

Bihar

محرم کے موقع پر گیاجی میں خصوصی ٹریفک پلان نافذ، کئی راستوں پر گاڑیوں کے داخلے پر پابندی،حساس مقامات پر پولیس کی نظر

Published

on

(پی این این)
گیاجی: محرم کے موقع پر تعزیہ جلوس اور کربلا کے علاقوں میں متوقع بھیڑ کو مدنظر رکھتے ہوئے ضلع انتظامیہ نے گیا شہر میں خصوصی ٹریفک انتظامات نافذ کر دیے ہیں۔ یہ انتظامات 26 اور 27 جون کو شام 4 بجے سے پروگرام کے اختتام تک مؤثر رہیں گے۔
انتظامیہ کی جانب سے جاری حکم کے مطابق ایمرجنسی خدمات کے علاوہ گیا شہر میں بڑی گاڑیوں کے داخلے پر مکمل پابندی عائد رہے گی۔ اس کے ساتھ ہی کنڈی نواڈا سے رام شلا موڑ ہوتے ہوئے کرانی گھاٹ پٹرول پمپ تک اور کرانی گھاٹ سے رام شلا موڑ کی سمت تمام آٹو، ٹوٹو، ٹیمپو اور چار پہیہ گاڑیوں کی آمد و رفت مکمل طور پر بند رہے گی۔ چاکند کی جانب سے گیا شہر میں داخل ہونے والی چھوٹی اور چار پہیہ گاڑیوں کو بھی کنڈی نواڈا سے رام شلا کی طرف جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
شہریوں کی سہولت اور ٹریفک کو رواں رکھنے کے لیے انتظامیہ نے متبادل راستوں کا تعین کیا ہے۔ چاکند کی طرف سے آنے والی گاڑیاں این ایچ-22 بائی پاس، ابگیلا اوور برج، گیا-پریت شلا روڈ، ریلوے گمٹی نمبر 64، چھوٹکی نواڈا اور باغیشوری گمٹی کے راستے ریلوے اسٹیشن اور اپنے مقررہ مقامات تک پہنچ سکیں گی۔اسی طرح پٹنہ کی جانب سے بودھ گیا، ڈوبھی اور شیرگھاٹی جانے والی چار پہیہ گاڑیوں کو چاکند سے این ایچ-22 راستہ استعمال کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
مزید برآں کنڈی نواڈا سے بنیاد گنج اور مانپور پل کی جانب جانے والی گاڑیاں ککرا موڑ، مہتا پٹرول پمپ، بھسُنڈا موڑ اور گھگھڑی ٹانڈ بائی پاس کے راستے اپنی منزل تک پہنچیں گی۔ضلع انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مقررہ ٹریفک ضوابط پر عمل کریں اور متبادل راستوں کا استعمال کریں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ محرم کے پرامن، محفوظ اور منظم انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے یہ خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

Continue Reading

Bihar

صاحب استطاعت حضرات حج کی ادائیگی میں نہ کریںتاخیر :مفتی سعید الرحمن قاسمی

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:امارت شرعیہ بہار،اڈیشہ وجھارکھنڈ کے ناظم مولانامفتی محمد سعید الرحمن قاسمی نے اپنے ایک اخباری بیان میں کہا کہ حج جہاں اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے ، وہیں اجتماعیت ، زہد و تقویٰ ، پرہیزگاری تکثیر حسنات اور تقرب الی اللہ کا عظیم ذریعہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے خود مسلمانوں کو اپنے مقدس گھر کی زیارت کی ہدایت دی ہے اور حج کرنے کا حکم دیا ہے،بہت ساری حدیثوں میں اس عمل کی بڑی فضیلت آئی ہے ، ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ ’’حج مبرور کا بدلہ جنت ہی ہے‘‘۔ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ جس نے بیت اللہ کا حج اس طرح کیا کہ ا س میں اس سے کوئی گناہ سر زد نہ ہوا ہو تو وہ حج کے سفر سے ایسا واپس ہوگا کہ جیسے اس کی ماں نے اسے آج ہی جنم دیا ہو۔
حج فرض ہو نے کے بعد اس کی ادائیگی میںتاخیرنہیںکرنی چاہئے ،جتنی جلد ممکن ہواس کی ادائیگی کرلی جائے ،اس لئے کہ اگر کسی کی موت اس حالت میں آجائے کہ جس نے حج کے فرض ہو نے کے باوجود اس فریضہ کو ادا نہیں کیا تو حدیث میں ایسی موت کو جاہلیت کی موت سے تعبیر کیا گیا ہے۔عام طور پر برصغیر کا ماحول یہ ہے کہ حج فرض ہو جانے کے باوجود لوگ سستی کرتے ہیں اور اس کو اخیر عمر تک ٹالتے رہتے ہیں ۔ جبکہ عزیمت یہ ہے کہ جوں ہی آدمی صاحب استطاعت ہو اور آمد و رفت کے اخراجات کے ساتھ اہل و عیال کا نفقہ ادا کرنے کا اہل ہو جا ئے تو فوراً حج کی ادائیگی کے لیے رخت سفر باندھ لے۔دوسری بات یہ ہے کہ تاخیر کرنے اور بڑھاپے میں حج کرنے کی صورت میں ضعف اور پیری کے باعث عبادت میں اورارکان و واجبات حج کی ادائیگی میں نشاط و لطف مکمل درجہ کا نہیں رہ پا تا ہے اور ارکان کی صحیح طور پر ادائیگی مشکل ہوجاتی ہے۔اس لیے صاحب ثروت لوگوں کو اس جانب متوجہ کرنے کی ضرورت ہے کہ حج کے فرض ہونے کے بعد اس کی ادائیگی میں جلدی کریں۔
الحمد للہ۲۰۲۷ء؁ کے لیے حج کا فارم بھرنے کا اعلان آچکا ہے جس کی آخری تاریخ ۲۰؍ جولائی۲۰۲۶ء؁ رات ۵۹:۱۱ منٹ تک ہی ہے ، اس کے لیے ضروری ہے کہ زیادہ سے زیادہ مسلمانوں کو اس طرف متوجہ کیا جائے اور وقت رہتے فارم پر کر لیا جائے۔حج کا فارم بھرنے کے لیے انٹرنیشنل پاسپورٹ ہونا لازمی ہے ، اس لیے جن لوگوں کے پاس پاسپورٹ نہیں ہے یا پاسپورٹ اکسپائر ہو چکا ہے وہ جلد از جلد اپنا پاسپورٹ بنوا لیں یا رینیول کروا لیں ۔
حج کا فارم حج کمیٹی آف انڈیا کے ویب سائٹ www.hajcommittee.gov.inپر دستیاب ہے ، یا موبائل ایپ (Haj Suvidha))آن لائن فارم بھرنے کی سہولت ہے ، اگرآن لائن حج فارم بھر نے میں دشواری ہوتوحج بھون پٹنہ میں آکر بھی حج فارم بھرا یاجاسکتاہے ۔
ائمہ مساجد، اساتذہ مدارس، تنظیموں اور اداروں کے ذمہ داران،علماء کرام ،دانشوران ملت اور سیاسی و سماجی خدمتگاروں سے ا پیل ہے کہ وہ حج کی فضیلت و اہمیت کو اپنی تقاریر، خطبات اور خصوصی مجلسوں میں لوگوں کے سامنے اجاگر کریں تا کہ اس اہم فریضہ کی ادائیگی کی طرف لو گ متوجہ ہوں۔نیز عازمین حج کے پاسپورٹ بنوانے کی سعی کے ساتھ حج فارم بھرنے میں مدد کریں۔
ایسے لوگ جنہیں اللہ نے دولت و ثروت کی نعمت سے نوازا ہے انہیں خصوصی ملاقاتوں کے ذریعہ حج کی ادائیگی کی طرف رغبت دلانے سے اچھے نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ ناظم صاحب نے حج کمیٹی کے ذمہ داروں کو متوجہ کرتے ہوئے کہاکہ بہار سے عازمین حج کی تعداد میں اضافہ ہو اس کے لیے بڑے پیمانے پر ترغیب حج کی مہم چلانے کی ضرورت ہے ،حج کمیٹی کو چاہئے کہ ملی تنظیموں، علماء اور ائمہ حضرات کی مدد سے ہر ضلع میں بلاک اور پنچایت کی سطح پر ترغیب حج کے پروگرام منعقد کیے جائیں ، سماجی کارکنان اور رضاکاروں سے بھی اس کام میں مدد لی جائے ، ان شاء اللہ اس کا خاطر خواہ نتیجہ برآمد ہوگا اورانشاء اللہ عازمین کی تعداد میں اضافہ ہو گا۔ائمہ کرام سے بھی درخواست ہے کہ مسجد کے منبر ومحراب سے لوگوں کو حج کی ترغیب پر خصوصی توجہ دیں۔

Continue Reading

Bihar

ضلع کانگریس کمیٹی کے زیراہتمام اہم پروگرام کا انعقاد،ملک گیر عوامی بیداری مہم کے تحت طلباء کے نعروں سے گونج اٹھا ارریہ شہر

Published

on

(پی این این)
ارریہ:انڈین نیشنل کانگریس کی طرف سے شروع کی گئی ملک گیر عوامی بیداری مہم ” طلباء کے شگاف فلک نعروں سے پورا ارریہ شہر گونج اٹھا۔ طلباء اور طالبات نے کانگریس کمیٹی ارریہ کے بینر تلے تعلیمی نظام میں بڑے پیمانے پر افراتفری، بار بار پیپر لیک ہونے، امتحانات کی منسوخی اور بڑھتی ہوئی بے روزگاری سے نمٹنےکے لئے گزشتہ کل ضلع کانگریس کمیٹی، ارریہ کے دفتر میں ایک اہم تقریب کا انعقاد کیا۔ تقریب میں طلباء اور نوجوانوں نے اپنے مستقبل سے متعلق مسائل پر تشویش کا اظہار کیا اور مرکزی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کی۔
ضلع کانگریس صدر معصوم رضا نے تقریب کی صدارت کی۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ آج ملک کے طلباء اور نوجوان ایک گہرے بحران کا شکار ہیں۔ ایک طرف طلباء برسوں کی محنت کے بعد مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کرتے ہیں تو دوسری طرف پیپر لیک ہونے اور امتحانات کی منسوخی جیسے واقعات ان کے خوابوں اور مستقبل کو چکنا چور کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی نظام میں مسلسل بڑھتے ہوئے انتشار اور حکومتی بے حسی نے طلباء میں مایوسی کی فضا پیدا کر دی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ NEET-2026 کے امتحان کی منسوخی کے بعد طلباء کو ذہنی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا اور صرف 37 دنوں کے اندر 12 طلباء نے خودکشی کر لی ہے۔
انہوں نے اسے قتل قرار دیا اور حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ معصوم رضا نے کہا کہ ملک کے نوجوان روزگار، تعلیم اور مواقع کا مطالبہ کر رہے ہیں، لیکن مرکزی حکومت ان بنیادی سوالات کا جواب دینے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے اخلاقی ذمہ داری لیتے ہوئے وزیر اعظم اور مرکزی وزیر تعلیم سے فوری مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا اور تعلیمی نظام میں جامع اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔ اس موقع پر ضلعی ترجمان ششی بھوشن جھا، منوج جیسوال، امیتیش گڈو، سیوا دل کے ضلع صدر پون کشیپ، نوجوان لیڈر جے ڈی یادو، راجیش یادو، دھیرج، شیخ طالب، سرفراز، مسعود عالم، نوشاد عالم، سہراب عالم، اور صیب عالم کے علاوہ کانگریس کے متعدد عہدیداران اور کارکنان موجود تھے۔ تقریب میں سینکڑوں طلباء اور نوجوانوں کی شرکت نے واضح پیغام دیا کہ ملک کے نوجوان تعلیم اور روزگار سے متعلق مسائل پر مزید خاموش نہیں رہیں گے۔ طلباء نے تعلیمی نظام میں شفافیت، شفاف امتحانی نظام، پیپر لیک ہونے والوں کے خلاف سخت کارروائی اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مناسب مواقع کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔ پروگرام کے اختتام پر، کانگریس کارکنوں اور طلباء نے تعلیم اور روزگار کے مسائل پر اپنی جدوجہد جاری رکھنے اور ہر گاؤں اور ہر گھر تک “طالب علموں کی سنگھ” مہم کو لے جانے کا عزم کیا۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network