Connect with us

بہار

خانقاہ رحمانی مونگیر میں راہل گاندھی اور تیجسوی یادو کی امیر شریعت سے خصوصی ملاقات

Published

on

اقلیتوں کے مسائل، آئینی حقوق اور سماجی انصاف پر حزب اختلاف راہل گاندھی اور تیجسوی یادو سےامیر شریعت کی قیادت میں ملی تنظیموں کی تفصیلی گفتگو
(پی این این)
مونگیر:آج خانقاہ رحمانی مونگیر میں ملک کی موجودہ صورتِ حال اور اقلیتوں کو درپیش چیلنجز کے پیشِ نظر ایک اہم ملاقات عمل میں آئی، جس میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی اور تیجسوی یادو (اپوزیشن لیڈر، بہار اسمبلی) نےامیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر سے تقریبا ایک گھنٹے کی خصوصی ملاقات کی۔ اس ملاقات میں دیپانکر بھٹاچاریہ، بہار کانگریس کے صدر راجیش کمار، مکیش سہنی اور کرشنا الاورو سمیت انڈیا اتحاد کے متعدد دیگر رہنما شامل تھے۔ اس موقع پر امارت شرعیہ كے ناظم مفتی محمد سعید الرحمان قاسمی، قاضی القضاۃ مفتی محمد انظار عالم قاسمی، جمعیت علماء بہار م کے ناظم اعلی مولانا محمد ناظم قاسمی، جمعیت علماء بہار الف کے ناظم اعلی مولانا عباس قاسمی، جماعت اسلامی حلقہ بہار کے امیر مولانا رضوان احمد اصلاحی، جمعیت اہل حدیث کے امیر مولاخورشید مدنی، ادارہ شرعیہ کے سکریٹری ڈاکٹر فرید امان اللہ، جامعہ رحمانی کے ناظم الحاج مولانا محمد عارف رحمانی، ناظم تعلیمات مولانا جمیل احمد مظاہری، تنظیم ائمہ و خطباء مساجد کے ذمہ دار مولانا گوہر امام اور متعدد ملی، سماجی اور تعلیمی تنظیموں کے ذمہ داران و سربراہان بھی شریک تھے۔
یہ ملاقات نہایت خوشگوار، سنجیدہ اور بامقصد ماحول میں منعقد ہوئی، جس میں جمہوری اقدار اور ووٹ کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے انتخابی نظام میں شفافیت کی تحریک کو مزید مضبوط کرنے پر گفتگو کی گئی، اسی طرح اوقاف کی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے جد و جہد اور وقف ترمیمی ایکٹ 2025 کے خلاف لگاتار آواز اٹھاتے رہنے پر گفت و شنید کی گئی نیز بہار میں ایس آئی آر کے نام پر ووٹرس کے ناموں کے غیر ضروری اخراج پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا اور اس پورے عمل کے طریقہ کار پر شدید تکلیف کااظہار کیا گیا۔
گفتگو کے دوران اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ ملک کے مسلمانوں کو سیاست میں باوقار موقع اور بھرپور شراکت داری ملنی چاہئے جس کے ذریعے وہ مین اسٹریم سیاست کے مسائل کی قیادت کرسکیں اور روٹی، کپڑا، مکان، تعلیم و صحت اور امن جیسے بنیادی مسائل کو بھی پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں مؤثر طور پر پیش کرسکیں۔ مزید یہ کہ اس حقیقت کی بھی نشاندہی کی گئی کہ مسلمانوں کے مذہبی و تہذیبی معاملات کی نزاکت کو سیکولر سیاسی جماعتیں اس شدت اور حساسیت کے ساتھ نہیں سمجھ پاتیں جس طرح خود مسلمان محسوس کرتے ہیں۔ اس لیے ضرورت ہے کہ مسلمانوں کی دینی قیادت اور سیاسی جماعتوں کے درمیان ایک مضبوط رابطے اور مؤثر پل کا قیام عمل میں لایا جائے، تاکہ مسلمانوں کے مسائل کو صحیح تناظر میں سمجھا اور ان کے حل کی طرف سنجیدہ پیش رفت کی جاسکے۔ دوران گفتگو شرکاء نے جناب راہل گاندھی سے سوال کیا کہ آپ نے ووٹ چوری کے پانچ راستے گنائے ہیں آپ ان راستوں سے ووٹ چوری کو بہار اسمبلی الیکشن 2025 میں کیسے روکیں گے۔ انہوں نے جواب دیا کہ اس پر ہم مضبوطی سے کام کررہے ہیں ۔
امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی نے خانقاہ رحمانی میں آمد پر مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور فرمایا کہ ملک کی فضا کو پرامن، انصاف پر مبنی اور آئینی اقدار سے ہم آہنگ بنانا ہر ذی شعور شہری کی ذمہ داری ہے اور ہم سب اس کیلئے مل کر آواز بلند کرتے رہیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ قیادت اگر سنجیدگی سے اقلیتوں کے مسائل سمجھے اور انہیں حل کرنے کا عزم کرے، تو ملک کا ہر شہری خود کو محفوظ محسوس کرے گا۔
راہل گاندھی اور تیجسوی یادو نے یقین دہانی کرائی کہ وہ ملک کے آئینی ڈھانچے اور سماجی ہم آہنگی خاص طور پر اوقاف کی جائیداد و اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ ، اور ووٹ چوری کو بےنقاب کرنے کے لیے ہر سطح پر آواز بلند کرتے رہیں گے۔
خانقاہ رحمانی، مونگیر برصغیر کی ان ممتاز روحانی اور علمی خانقاہوں میں شمار ہوتی ہے، جنہوں نے صرف عبادت و ریاضت ہی نہیں بلکہ اصلاحِ امت، تعلیم و تربیت، ملی قیادت اور اجتماعی شعور کی بیداری میں غیر معمولی کردار ادا کیا ہے۔ اس عظیم خانقاہ کو 1901 میں حضرت مولانا محمد علی مونگیریؒ نے قائم کیا اور پھر یہاں سے خدمت خلق ، اصلاح معاشرہ اور تعلیمی بیداری میں اہم رول ادا کیا ان کے بعد حضرت مولانا لطف اللہ رحمانی، حضرت مولانا منت اللہ رحمانیؒ اور حضرت مولانا محمد ولی رحمانیؒ جیسے عبقری شخصیات نے اپنی قیادت، حکمت اور بصیرت سے اس خانقاہ کو رشد و ہدایت ، بیداری اور تحریکات کا مرکز بنا دیا۔ آج امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی، اپنے عظیم اسلاف کی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے، نہ صرف خانقاہ کی روحانی خدمات جاری رکھے ہوئے ہیں، بلکہ ملی، تعلیمی، سماجی اور سیاسی میدانوں میں بھی ایک فعال اور معتدل قیادت فراہم کر رہے ہیں۔
یہ ملاقات ملک میں رواداری، انصاف اور مساوات کے قیام کی طرف ایک مثبت پیش رفت ثابت ہوگی، اور امید کی جاتی ہے کہ اس سے ملت کے بنیادی مسائل کو اعلیٰ سطح پر سنجیدگی سے سنا اور سمجھا جائے گا۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Bihar

بہار میں شفاف امتحانات کیلئے ہو گی کمیٹی کی تشکیل، کالجوں میں ہوگی ’پولیس دیدی‘ کی تعیناتی، وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے کیا اعلان

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے اعلان کیا کہ رکشا بندھن کے دن سے ریاست کے اسکولوں اور کالجوں میں طالبات کی حفاظت کے لیے ’پولیس دیدی‘ تعینات کی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ بہن بیٹیوں کی حفاظت اور ان کے عزت و احترام کو یقینی بنانا ہماری اولین ترجیح ہے۔ خواتین کی سلامتی کے پیش نظر ہم نے ’پولیس دیدی‘ کو پانچ ہزار اسکوٹی اور موٹر سائیکلیں فراہم کی ہیں۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بہار کو محفوظ اور خوشحال ریاست بنانے کے عزم کے ساتھ ریاستی حکومت مسلسل کام کر رہی ہے۔
انہوں نے کئی اہم اعلانات بھی کیے۔ انہوں نے کہا کہ امتحانات کے حوالے سے طلبہ کا اعتماد سب سے زیادہ اہم ہے۔
بہار میں امتحانات کو منظم، شفاف، غیر جانب دار اور جدید بنانے کے لیے ہائی کورٹ کے ایک جج کی سربراہی میں ریاستی سطح پر امتحانی اصلاحات کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ اسی طرح تعلیم کے معیار کو مزید مستحکم کرنے کے لیے بھی ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ریاست میں قائم 551 سرسوتی ودیا نکیتنوں میں آئی آئی ٹی، جے ای ای اور نیٹ سمیت مختلف اعلیٰ تعلیمی اداروں کے داخلہ امتحانات کی تیاری کے لیے مفت کوچنگ کا انتظام کیا جا رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کسان ہمارے صوبے کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور ان کی خوشحالی ہی ریاست اور ملک کی ترقی کی بنیاد ہے۔
سمراٹ چودھری نے کہا کہ بہار کو محفوظ اور خوشحال ریاست بنانے کے عزم کے ساتھ ریاستی حکومت مسلسل کام کر رہی ہے۔ بہن بیٹیوں کی حفاظت اور ان کے عزت و احترام کو یقینی بنانا ہماری اولین ترجیح ہے۔ خواتین کی سلامتی کے لیے ہم نے ’پولیس دیدی‘ کو پانچ ہزار اسکوٹی اور موٹر سائیکلیں فراہم کی ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ 17 اگست کو ’ودیارتھی سَہیوگ پورٹل‘ کا آغاز کیا جائے گا۔ اس کے ذریعے ریاست بھر کے اسکولوں، کالجوں اور کوچنگ سمیت دیگر تعلیمی اداروں میں طلبہ کی شکایات اور پریشانیوں کا ازالہ کیا جائے گا۔ پورٹل پر طلبہ کی جانب سے درج کرائی گئی شکایات کا زیادہ سے زیادہ 30 دن کے اندر نپٹارہ کیا جائے گا۔ ہماری حکومت شکایات کے ازالے کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔
بہار میں نوجوان پالیسی بنائی جائے گی: ریاستی حکومت نے 2030 تک ایک کروڑ نوجوانوں کو سرکاری ملازمت اور روزگار فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ نوجوانوں کی ہمہ جہت ترقی کے لیے بہار یوتھ پالیسی تیار کی جائے گی اور اس کی نگرانی ریاستی یوتھ کمیشن کرے گا۔بہار کی مالامال اور روحانی وراثت—نالندہ، بودھ گیا، وکرم شیلا، راج گیر اور ویشالی—کو کاروباری مواقع، ورثہ گائیڈ، ثقافتی سیاحت اور اسٹارٹ اپس سے جوڑتے ہوئے نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔

 

 

Continue Reading

Bihar

رام لکھن سنگھ یادو کالج بہار شریف’نالندہ‘ میں خون عطیہ کیمپ کا کامیاب انعقاد

Published

on

(پی این این)
بہارشریف:آج رام لکھن سنگھ یادو کالج بہار شریف “نالندہ” میں کالج کے سیکرٹری ڈاکٹر انیل کمار کی ہدایت پر ایک رضاکارانہ خون عطیہ کیمپ کا انعقاد کیا گیا۔ یہ کیمپ کالج انتظامیہ اور صدر اسپتال بہار شریف کے مشترکہ تعاون سے منعقد ہوا۔پروگرام کا افتتاح پروگرام کے افتتاح کنندہ کالج کے سیکرٹری ڈاکٹر انیل کمار اور کالج کے پرنسپل پروفیسر اودھیش کمار نے کیا۔اس موقع پر کالج کے این سی افسر لیفٹیننٹ گوپال کمار نے خون عطیہ کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ، “خون کا عطیہ سب سے بڑا عطیہ ہے۔ ہمارے ذریعے عطیہ کی گئی خون کی ایک بوند کسی ضرورت مند مریض کی جان بچا سکتی ہے۔ خون عطیہ کرنے سے صحت پر کوئی منفی اثر نہیں پڑتا، بلکہ یہ جسم کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔”
کالج کے اساتذہ پروفیسر ویریندر کمار اور پروفیسر شمبھو کمار کی ترغیب پر خون عطیہ کیمپ میں کالج کے اساتذہ، عملہ، این سی کیڈٹس اور طلبہ و طالبات نے بڑے جوش کے ساتھ حصہ لیا۔کالج کے پرنسپل پروفیسر اودھیش کمار نے صدر اسپتال بہار شریف نالندہ کے بلڈ ڈونیشن سیل اور ان کی پوری میڈیکل ٹیم کا شکریہ ادا کیا۔ تمام خون عطیہ کرنے والوں کو صحت کی جانچ کے بعد سرٹیفکیٹ اور چائے-ناشتے کے ساتھ اعزاز دیا گیا اور ترغیبی رقم دے کر حوصلہ افزائی کی گئی۔نالندہ کے یوتھ آئیکون رتیش کمار نے تمام خون عطیہ کرنے والوں کے تئیں اظہارِ تشکر کیا۔
اس موقع پر کالج کے پروفیسر دینیش مہتو، پروفیسر سنگیتا سنہا، پروفیسر پرتیما رائے، پروفیسر پریانکا کماری، پروفیسر ڈاکٹر دینیش چندرا، پروفیسر سیتا کماری، پروفیسر روی کمار، پروفیسر پربیلا کماری، پروفیسر پونم کماری، پروفیسر راہل راج، پروفیسر سنجو سنہا، پروفیسر سیما کماری، پروفیسر سنجے کمار نرالا، پروفیسر سورج کمار، پروفیسر بلویر کمار، ہیڈ کلرک خورشید عالم، کلرک منیش کمار، سمن ساو، پنکج کمار، منجولا کماری، لائبریرین نین کمار، لیب ٹیکنیشن پنکی کماری، کاجل کماری، رنکی کماری، سنجے کمار، ڈیٹا آپریٹر سمیر کمار، اکھلیش کمار، آرڈر پال وجے کمار یادو، کرشنانند پرساد، سہدیو پرساد، سمپری دیوی، انیتا کماری موجود رہے۔

Continue Reading

Bihar

یوم آزادی کے موقع پر مدنی پبلک اسکول سنگرام میں ثقافتی پروگرام کا انعقاد

Published

on

(پی این این)
مدھوبنی(سنگرام):مدنی پبلک اسکول سنگرام میں یوم آزادی کا جشن نہایت ہی جوش وخروش کے ساتھ منایاگیا ، اسکول کے ڈائرکٹر محمد سعداللہ نے اسکول کے ٹیچرس ، معززین علاقہ اور بچوں کی موجودگی میںرسم پرچم کشائی سے پروگرام کا آغازکیا ۔
اسکول کے طالب علم ایان فریداوراعجازخاں نے قومی ترانہ اورقومی گیت پیش کیا ،رسم پرچم کشائی اورقومی ترانہ وگیت کے بعد یوم آزادی کی مناسبت سے مختلف کلاسوںکے بچوںنے مختلف موضوعات پر تقاریراورمکالمے پیش کئے ، جس کو حاضرین نے بے حدسراہا،چھوٹے چھوٹے بچوںکی پراعتمادپیش کش کو پروگرام کے مہمان خصوصی جھنجھارپوربلاک کے بی ڈی او نے اپنی تقریرکاموضوع بناتے ہوئے طلباکی خوب خوب حوصلہ افزائی فرمائی،انہوںنے بچوںکے سرپرستوںکو مخاطب کرتے ہوئے ہرحال میںتعلیم کی تئیں بیداررہنے اوربچوںکی روٹین چیک کی صلاح بھی دیئے ،انہوںنے کامیاب پروگرام کے انعقادپر اسکول انتظامیہ کی بھی سراہنا کی، بعدازاں پروفیسرقمرعالم خاں اورانظرعالم نے اپنی تقریرمیں یوم آزادی میںمجاہدین آزادی کی قربانی کو یادکرتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا ، انہوںنے خاص کر تعلیم کی اہمیت وضرورت پر بات کرتے ہوئے ہر ایک کومعاشرہ میں اپنی ذمہ داری کی تئیں مکمل ایمانداررہنے اورتعلیم کی روشنی جہاںکہیں سے بھی ملے اس کے حصول کے لئے کوشاںرہنے کا مطالبہ کیا ،انہوںنے یہ بھی کہاکہ آزادی اورجمہوریت کی حقیقی روح سے ہم سب اسی وقت فیضیاب ہوسکتے ہیں جب ہمارامعاشرہ پورے طورپر تعلیم یافتہ ہوگا۔اورہم میںکاہرایک تعلیم کو اپنے لئے اورسوسائٹی کے لئے ضروری تصورکریگا۔
پروگرام کے اخیر میں اسکول کے ڈائرکٹر محمد سعداللہ نے کہا کہ آج کا دن بزرگوں اور مجاہدین آزای کی بے لوث محنت وقربانی کے نتیجے میں ہمیں ملا ہے ، اس لئے ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم موجودہ دورکے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے ایسے ایجنڈے کو ترجیح دیںجو ملک کوآگے لے جانے اور اس کی تعمیر وترقی میں معاون ومفید ثابت ہوں ۔انہوںنے پروگرام میں آئے ہوئے تمام مہمانوں،بچوںکے والدین ،مہمان خصوصی جھنجھار پوربلاک کے بی ڈی او ، پروفیسر قمر عالم خان ، انظر عالم ، سابق مکھیا عبدالرشید ، سلمان خان ، مدرسہ عارفیہ سنگرام کے اساتذہ کرام، اور تمام حاضرین کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔پروگرام کی نظامت اسکول کے پرنسپل مولانا ظفراللہ قاسمی نے بخوبی انجام دیا وہیں پروگرام کو کامیاب بنانے میں محمد ارشادعالم ندوی کے ساتھ اساتذہ اسکول نے بھرپورکرداراداکیا ۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network