تازہ ترین
ایم ایل سی انتخابی نتائج پر جے ڈی یو میں کشمکش، منعقدہ جائزہ میٹنگ میں جے ڈی یوکی تمام ناراض لیڈران کو منانے اوراسے مطمئن کرکے معاملے کو ٹھنڈا کرنے کی کوششانکاؤنٹر کلچر کو فروغ دے کر آئین کی خلاف ورزی کر رہی ہے سمراٹ حکومت، منیر انکاؤنٹر پر میسا بھارتی کے بعد روہنی آچاریہ بھی سرگرم، بہار سرکارکو بنایا نشانہیونانی طب کے فروغ کے لیے جدید تحقیق اور قدیم طبی روایات کا امتزاج ضروری’کوئی بھی اہل شہری ووٹر لسٹ میں نام درج کرانے سے نہ رہے محروم‘، ارریہ میں خصوصی سمری ریویژن پروگرام کے حوالے سے تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے ساتھ میٹنگ منعقدپریاگ راج میں 250 کروڑ روپے کا زیورات کا کاروباراے ایم یو کے عبداللہ اسکول میں تقسیم انعامات تقریب کا انعقاددہلی فسادات: کرکرڈوما کورٹ سے چھ مسلمان باعزت بریکرایہ دار ہیں سب گھر بدلتے رہتے ہیں
Bihar

مرکزی حکومت کا بہار کو بڑا تحفہ،ریاست میں قائم ہوگا ملک کا تیسرا نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فوڈ ٹیکنالوجی، 100 ایکڑ اراضی پر تعمیر کیا جائے گایہ ادارہ

(پی این این)
پٹنہ:بہار میں ملک کے تیسرے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فوڈ ٹیکنالوجی، انٹرپرینیورشپ اینڈ مینجمنٹ (نِفٹیم) کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے کہا کہ بہار کو فوڈ پروسیسنگ کا قومی مرکز بنانے کی سمت میں ایک تاریخی قدم اٹھایا گیا ہے۔ملک کا پہلا نِفٹیم ہریانہ کے سونی پت ضلع کے کنڈلی میں قائم کیا گیا تھا، جبکہ دوسرا ادارہ تمل ناڈو کے تنجاؤر میں موجود ہے۔ اب مرکزی حکومت نے بہار میں تیسرے نِفٹیم کے قیام کو منظوری دے دی ہے۔سمراٹ چودھری نے کل سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ویشالی ضلع کے حاجی پور میں ملک کے تیسرے نِفٹیم کے قیام کی منظوری دے دی گئی ہے۔یہ ادارہ 100 ایکڑ اراضی پر تعمیر کیا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے کہا کہ یہ ادارہ فوڈ پروسیسنگ، ریسرچ، تکنیکی تعلیم اور انٹرپرینیورشپ کو نئی بلندیوں تک پہنچائے گا اور کسانوں، نوجوانوں اور صنعت کاروں کے لیے ترقی اور روزگار کے نئے مواقع کے دروازے کھولے گا۔انہوں نے اپنی پوسٹ میں مزید لکھا کہ ’نئے مواقع، نئی رفتار اور خوشحال بہار‘ کے لئےاین ڈی اے حکومت کا عزم بالکل واضح ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ دنوں وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کی صدارت میں منعقدہ ریاستی کابینہ کی میٹنگ میں اس ادارے کے لیے زمین الاٹ کرنے کی منظوری دی گئی تھی، جس کے بعد یہاں نِفٹیم کے قیام کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔
غورطلب ہے کہ نِفٹیم وزارتِ صنعت کے تحت چلنے والا ایک اعلیٰ تعلیمی ادارہ ہے۔ یہاں چار سالہ بیچلر آف ٹیکنالوجی (بی ٹیک)، دو سالہ ماسٹر آف ٹیکنالوجی (ایم ٹیک) اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں فراہم کی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ ادارے میں فوڈ اور ایگری بزنس مینجمنٹ کے شعبے میں ایم بی اے کورس بھی کرایا جاتا ہے۔بی ٹیک کورس میں داخلہ جے ای ای مینس کے ذریعے ہوتا ہے، جبکہ ایم ٹیک میں داخلہ انجینئرنگ میں گریجویشن اہلیت امتحان (گیٹ) اور ذاتی انٹرویو کی بنیاد پر دیا جاتا ہے۔
ادھر بہار میں اب بال گرہوں میں رہنے والے بچے بھی ہوٹل مینیجر اور صنعت کار بن سکیں گے۔ ریاستی حکومت نے بال گرہ کے بچوں اور نوجوانوں کو خود کفیل بنانے کی پہل کی ہے۔ سماجی بہبود محکمہ کی ریاستی بال تحفظ کمیٹی نے 14 مختلف پیشہ ورانہ شعبوں میں مفت رہائشی تربیت فراہم کرنے کی منصوبہ بندی تیار کی ہے۔مشن واتسلیہ کے تحت گھر اور خاندان سے بچھڑ کر بچوں کی نگہداشت کے اداروں (بال گرہ) میں رہنے والے 16 سے 18 سال کے نوجوانوں اور 18 سال کی عمر مکمل کر چکے کیئر لیورز کو ان کی دلچسپی کے مطابق پیشہ ورانہ تربیت دی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔