تازہ ترین
ایم ایل سی انتخابی نتائج پر جے ڈی یو میں کشمکش، منعقدہ جائزہ میٹنگ میں جے ڈی یوکی تمام ناراض لیڈران کو منانے اوراسے مطمئن کرکے معاملے کو ٹھنڈا کرنے کی کوششانکاؤنٹر کلچر کو فروغ دے کر آئین کی خلاف ورزی کر رہی ہے سمراٹ حکومت، منیر انکاؤنٹر پر میسا بھارتی کے بعد روہنی آچاریہ بھی سرگرم، بہار سرکارکو بنایا نشانہیونانی طب کے فروغ کے لیے جدید تحقیق اور قدیم طبی روایات کا امتزاج ضروری’کوئی بھی اہل شہری ووٹر لسٹ میں نام درج کرانے سے نہ رہے محروم‘، ارریہ میں خصوصی سمری ریویژن پروگرام کے حوالے سے تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے ساتھ میٹنگ منعقدپریاگ راج میں 250 کروڑ روپے کا زیورات کا کاروباراے ایم یو کے عبداللہ اسکول میں تقسیم انعامات تقریب کا انعقاددہلی فسادات: کرکرڈوما کورٹ سے چھ مسلمان باعزت بریکرایہ دار ہیں سب گھر بدلتے رہتے ہیں
Bihar

یونانی طب کے فروغ کے لیے جدید تحقیق اور قدیم طبی روایات کا امتزاج ضروری

دربھنگہ:(پی این این)سلفیہ یونانی میڈیکل کالج اینڈ اسپتال میں ہفتہ کو تعلیمی سیشن 2026-31 کے نئے طلبہ کے لیے تعارفی پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ کالج کے پرنسپل حکیم سلیمان احمد کی سرپرستی میں منعقدہ اس پروگرام میں شعبۂ علم الصیدلہ کے صدر حکیم محمد شارق نے طلبہ کو یونانی طب کی تاریخ، بنیادی اصولوں اور علاج کے مختلف پہلوؤں سے روشناس کرایا۔اس موقع پر حکیم عدیل احمد، حکیم چودھری اسجد اللہ اور حکیم ابو اللیث شہاب الدین سمیت دیگر اساتذہ اور طبی ماہرین موجود تھے۔
حکیم محمد شارق نے اپنے خطاب میں کہا کہ یونانی طب ایک قدیم اور مستند طبی نظام ہے، جس کی بنیاد عربی و فارسی طبی روایات اور صدیوں کے علمی و تجرباتی مشاہدات پر قائم ہے۔ اس نظامِ طب میں صحت و مرض کے اسباب، انسانی مزاج، غذائی تدابیر، پرہیز اور طرزِ زندگی کی اصلاح کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونانی طریقۂ علاج میں محض مرض کے علاج کے بجائے مریض کی مجموعی صحت اور جسمانی کیفیت کو بھی پیش نظر رکھا جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکیم بقراط، جالینوس اور حکیم کبیر ابن الراضی سمیت قدیم اطبا کی علمی خدمات یونانی طب کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ موجودہ دور میں اس طبی ورثے کو محفوظ رکھنے کے ساتھ جدید سائنسی تحقیق اور تحقیقی معیار کے مطابق اس کی مزید ترقی ضروری ہے۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اپنے نصاب کے ساتھ قدیم طبی کتابوں کا بھی مطالعہ کریں اور عملی تربیت پر خصوصی توجہ دیں۔کالج کے پرنسپل حکیم سلیمان احمد نے بھی پروگرام کی سرپرستی کرتے ہوئے یونانی طبی تعلیم کی اہمیت اور طلبہ کی علمی و عملی تربیت پر زور دیا۔ وہیں حکیم عدیل احمد نے بھی یونانی طریقۂ علاج کی افادیت اور اس کے فروغ کے لیے معیاری طبی تعلیم کی ضرورت کو اہم قرار دیا۔پروگرام میں موجود دیگر اساتذہ نے بھی طلبہ کی رہنمائی کرتے ہوئے کہا کہ ایک کامیاب معالج بننے کے لیے صرف نصابی تعلیم کافی نہیں، بلکہ مریضوں کے ساتھ حسنِ سلوک، پیشہ ورانہ دیانت داری، مسلسل مطالعہ اور عملی تجربہ بھی ضروری ہے۔
پروگرام کا مقصد نئے طلبہ کو یونانی طب کی علمی روایات، تعلیمی تقاضوں اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں سے واقف کرانا تھا۔

متعلقہ خبریں