دربھنگہ:(پی این این)سلفیہ یونانی میڈیکل کالج اینڈ اسپتال میں ہفتہ کو تعلیمی سیشن 2026-31 کے نئے طلبہ کے لیے تعارفی پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ کالج کے پرنسپل حکیم سلیمان احمد کی سرپرستی میں منعقدہ اس پروگرام میں شعبۂ علم الصیدلہ کے صدر حکیم محمد شارق نے طلبہ کو یونانی طب کی تاریخ، بنیادی اصولوں اور علاج کے مختلف پہلوؤں سے روشناس کرایا۔اس موقع پر حکیم عدیل احمد، حکیم چودھری اسجد اللہ اور حکیم ابو اللیث شہاب الدین سمیت دیگر اساتذہ اور طبی ماہرین موجود تھے۔
حکیم محمد شارق نے اپنے خطاب میں کہا کہ یونانی طب ایک قدیم اور مستند طبی نظام ہے، جس کی بنیاد عربی و فارسی طبی روایات اور صدیوں کے علمی و تجرباتی مشاہدات پر قائم ہے۔ اس نظامِ طب میں صحت و مرض کے اسباب، انسانی مزاج، غذائی تدابیر، پرہیز اور طرزِ زندگی کی اصلاح کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یونانی طریقۂ علاج میں محض مرض کے علاج کے بجائے مریض کی مجموعی صحت اور جسمانی کیفیت کو بھی پیش نظر رکھا جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکیم بقراط، جالینوس اور حکیم کبیر ابن الراضی سمیت قدیم اطبا کی علمی خدمات یونانی طب کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ موجودہ دور میں اس طبی ورثے کو محفوظ رکھنے کے ساتھ جدید سائنسی تحقیق اور تحقیقی معیار کے مطابق اس کی مزید ترقی ضروری ہے۔ انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اپنے نصاب کے ساتھ قدیم طبی کتابوں کا بھی مطالعہ کریں اور عملی تربیت پر خصوصی توجہ دیں۔کالج کے پرنسپل حکیم سلیمان احمد نے بھی پروگرام کی سرپرستی کرتے ہوئے یونانی طبی تعلیم کی اہمیت اور طلبہ کی علمی و عملی تربیت پر زور دیا۔ وہیں حکیم عدیل احمد نے بھی یونانی طریقۂ علاج کی افادیت اور اس کے فروغ کے لیے معیاری طبی تعلیم کی ضرورت کو اہم قرار دیا۔پروگرام میں موجود دیگر اساتذہ نے بھی طلبہ کی رہنمائی کرتے ہوئے کہا کہ ایک کامیاب معالج بننے کے لیے صرف نصابی تعلیم کافی نہیں، بلکہ مریضوں کے ساتھ حسنِ سلوک، پیشہ ورانہ دیانت داری، مسلسل مطالعہ اور عملی تجربہ بھی ضروری ہے۔
پروگرام کا مقصد نئے طلبہ کو یونانی طب کی علمی روایات، تعلیمی تقاضوں اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں سے واقف کرانا تھا۔
یونانی طب کے فروغ کے لیے جدید تحقیق اور قدیم طبی روایات کا امتزاج ضروری
