تازہ ترین
ایم ایل سی انتخابی نتائج پر جے ڈی یو میں کشمکش، منعقدہ جائزہ میٹنگ میں جے ڈی یوکی تمام ناراض لیڈران کو منانے اوراسے مطمئن کرکے معاملے کو ٹھنڈا کرنے کی کوششانکاؤنٹر کلچر کو فروغ دے کر آئین کی خلاف ورزی کر رہی ہے سمراٹ حکومت، منیر انکاؤنٹر پر میسا بھارتی کے بعد روہنی آچاریہ بھی سرگرم، بہار سرکارکو بنایا نشانہیونانی طب کے فروغ کے لیے جدید تحقیق اور قدیم طبی روایات کا امتزاج ضروری’کوئی بھی اہل شہری ووٹر لسٹ میں نام درج کرانے سے نہ رہے محروم‘، ارریہ میں خصوصی سمری ریویژن پروگرام کے حوالے سے تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے ساتھ میٹنگ منعقدپریاگ راج میں 250 کروڑ روپے کا زیورات کا کاروباراے ایم یو کے عبداللہ اسکول میں تقسیم انعامات تقریب کا انعقاددہلی فسادات: کرکرڈوما کورٹ سے چھ مسلمان باعزت بریکرایہ دار ہیں سب گھر بدلتے رہتے ہیں
بہار

ہار شریف کے بڑی پہاڑی منصور نگر قبرستان میں غلاظتوں کا انبار

2020 میں ضلع مجسٹریٹ اور دیگر افسران کو میمورنڈم دیا گیا مگر اب تک مسئلہ حل نہیں ہوا
(پی این این)
بہار شریف:شہر بہار شریف کا مشہور و معروف محلہ بڑی پہاڑی کے منصور نگر وارڈ 19 کے قبرستان میں غلاظتوں کا انبار ہے قبرستان ان دنوں گندگی سے لبالب بھرا ہوا ہے اور کوئی سننے دیکھنے والا نہیں ہے کہنے کو تو یہ وزیر اعلٰی نتیش کمار کا آبائی ضلع ہے مگر اس قبرستان کا مسئلہ حل کرنے والا کوئی نہیں ہے مقامی لوگوں نے 2020 میں ہی ضلع مجسٹریٹ دیگر افسران اور اس وقت کے وارڈ کاؤنسلر کو میمورنڈم دیا گیا تھا مگر اب تک قبرستان کا مسئلہ حل نہیں ہوا اور گندگی کا انبار جوں کا توں ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس قبرستان میں مگدھ کالونی اور چھوٹی پہاڑی کے گھروں سے گرنے والا گندہ پانی کی وجہ سے پورا سال قبرستان لبالب بھرا رہتا ہے جس کی وجہ سے میت دفنانے میں سخت دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے مقامی باشندہ محمد رئیس نے بتایا کہ قبرستان کے بغل سے نالا نہ ہونے کی وجہ سے گھروں سے گرنے والا گندہ پانی قبرستان میں جمع ہوجاتا ہے یوں تو سالوں بھر قبرستان میں پانی جمع رہتا ہے مگر بارش کا مہینہ ہونے کے سبب ان دنوں پورا قبرستان غلاظت اور گندگی کا ڈھیر بن گیا ہے اور سور کتوں جیسے جانوروں کا رہائش گاہ بن گیا ہے قبرستان سے متصل گھروں سے نکلنے والا نالے کا پانی اس قبرستان کی بے حرمتی کرتا ہے تو وہیں رہی سہی کسر بارش آنے کے بعد پوری ہو جاتی ہے ۔
بارش کے پانی کے بہاؤ کے ساتھ یہاں انسانی غلاظت کے ساتھ کچڑا بھی جمع ہو رہا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ یہاں کے مقامی افراد نے اس تعلق سے کچھ نہیں کیا۔ مقامی افراد محمد عقیل احمد، محمد شجاعت حسن ، محمد مناظر حسن، محمد راجا حسن، محمد سہیل احمد حاجی مختار کے مطابق کئی مرتبہ محکمہ ضلع افسران تک میمورنڈم دیا گیا مگر ان کے کانوں میں جوں تک نہیں رینگ رہی ہے۔ اسلام میں صفائی وپاکی کو نصف ایمان کہا گیا ہے۔ انتقال کے بعد جسد خاکی کو بھی پاک کرکے سپرد خاک کیا جاتا ہے۔
واضح ہوکہ جن کو پاک حالت میں دفن کیا گیا گیا تھا، اب ان کی قبریں ناپاکی کا شکار ہو رہی ہیں۔ بڑی پہاڑی منصور نگر قبرستان میں گندگی کے ڈھیر کی موجودگی ایک ناپسندیدہ صورتحال ہے جو صفائی اور نظم و نسق کے فقدان کی نشاندہی کرتی ہے، اور اس سے مختلف مسائل پیدا ہو سکتی ہیں جیسے بدبو، بیماریاں، اور ماحولیاتی آلودگی اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے جلد از جلد ضلع انتظامیہ سے گزارش ہے کہ باقاعدگی سے صفائی اور گھروں سے گرنے والا گندہ پانی کا مناسب انتظام کریں تاکہ یہاں کے عوام چین و سکون کی زندگی گذار سکیں۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔