Connect with us

Bihar

’پروفیسر احمد سجادنےاردو زبان کی ترقی میں انجام دیں بیش بہا خدمات‘

Published

on

(پی این این)
ارریہ: گزشتہ روز پروفیسر احمد سجاد کے سانحۂ ارتحال پرادارۂ ادب اسلامی ہند، ارریہ کے زیرِ اہتمام سرسید لائبریری میں تعزیتی و شعری نشست کا کامیاب انعقاد ہوا، تعزیتی نشست کی صدارت ادارہ کے سر پرست الحاج ماسٹر محمد محسن نے جبکہ شعری نشست کی صدارت ارریہ کے معروف شاعر اور مصور دین رضا اختر نے فرمائی جبکہ نظامت کے فرائض کو ادارہ ادب اسلامی ہند کے نائب صدر ڈاکٹر ضیاء الرحمن مدنی نے بحسن وخوبی انجام دیا۔
اس موقع پر ڈاکٹر تو حید انصاری ،جنھوں نے پروفیسر احمد سجاد مرحوم کی رہنمائی میں ” مائل خیر آبادی کی نثری خدمات” پر پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھا ہے، اپنے ذاتی تجربات و مشاہدات کی روشنی میں پروفیسر احمد سجاد کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی، انہوںنے بتایا کہ پروفیسر احمد بہت ذہین اور محنتی طالب علم تھے انھوں ریسرچ اسکالر کی حیثیت سے جو تحقیقی مقالہ لکھا تھا ، اس پر پٹنہ یونیورسٹی نے Ph.D کے بجائے انھیں D.Lit کی ڈگری تفویض کی تھی۔ وہ اپنے ریسرچ اسکالر کی عزت نفس کا بہت خیال رکھتے تھے۔
انہوں نے پروفیسر مرحوم کی اہم تصانیف کا تعارف بھی کرایا اور ڈاکٹر ضیاء الرحمن مدنی نے پروفیسر احمد سجاد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ تعمیر پسندادیبوں اور شاعروں کی بہت حوصلہ افزائی کرتے تھے۔علاوہ ازیں ان کی تحقیقی کتاب ( اقبال اور شوقی کا تقابلی مطالعہ ) پر بھی حوصلہ افزا تحریری عنایت فرمائی ۔ مدنی صاحب نے پروفیسر احمد سجاد کو اسلامی مفکر، مصنف، مقرر، دانشور، ادیب، نقاد اور مخلص ملی رہنما بتایا۔ انھوں نے تعمیری ادب کے فروغ اور اردو زبان کی ترقی میں بیش بہا خدمات انجام دیں۔ وہ جماعت اسلامی کی شوری کے رکن کے علاوہ مختلف ملی و سماجی تنظیموں سے وابستہ رہے۔ ادارۂ ادب اسلامی ہند کی دو میقات میں قومی صدر اور تاحیات تاسیسی رکن رہے۔ مدنی نے سجاد صاحب کے ہم مشرب اور ہم پیشہ پروفیسر عبد المغنی مرحوم سے ان کے روابط کا تذکرہ بھی فرمایا۔
اپنے صدارتی خطاب میں ماسٹر محمد محسن نے پاکیزہ شعر و ادب کی وراثت کو ایک مقدس امانت بتا کر اس کی حفاظت کی تلقین کیں۔ آپ نے اس طرح کے پروگرام سر سید لائبریری میں منعقد کرنے کی ستائش کی۔ سرسید لائبریری کی بقا اور تحفظ کے لئے ایسا کرنا اور وقتا فوقتالا ئبریری کی زیارت کرنے کا مشورہ بھی دیا اور ڈاکٹر ضیاء مدنی، ڈاکٹر تو حید انصاری اور دین رضا اختر نے جدید غزل کے معروف شاعر ڈاکٹر بشیر بدر کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی شاعری کو دل کی شاعری قرار دیا۔ دین رضا اختر نے کہا کہ بشیر بدر جیسے فنکار، جن کے اشعار زبان زد خاص و عام ہو جاتے ہیں، کبھی مرتے نہیں۔ بلکہ اپنے اشعار کی صورت میں زندہ رہتے ہیں۔
شعری نشست میں جن شعراء نے اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا ان میں صدر محفل دین رضا اختر ، ناظم محفل ضیاء مدنی کے علاوہ عبدالباری زخمی ، عنایت و صی ، خورشید قمر، ابوامامہ شاہین ، احسن عالم، احمد اللہ صدام اور دلنواز بلبل وغیرہ کے شامل ہیں۔ ڈاکٹر تو حید انصاری کے اظہار تشکر پر یہ خوب صورت محفل اختتام کو پہنچی۔

Bihar

بہار میں بی جے پی کے راج میں غیر قانونی سرگرمیاں عروج پر،جرائم پیشہ عناصر، شراب مافیا اور جسم فروشی سے وابستہ گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام ثابت ہو رہی ہےسمراٹ حکومت:تیجسوی یادو

Published

on

(پی این این)
پٹنہ: پٹنہ کے کوتوالی تھانہ علاقے کے کربگھیا سے اغوا کیے گئے تاجر بنٹی کمار کے قتل کے بعد بہار کی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے۔قائدِ حزبِ اختلاف تیجسوی یادو نے اس معاملے پر بہار حکومت اور پولیس انتظامیہ کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ پولیس نے بروقت کارروائی نہیں کی، جس کے باعث اغوا شدہ نوجوان کی جان چلی گئی۔
یورپ کے دورے پر موجود تیجسوی یادو نے اتوار کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ 25 سالہ بنٹی کمار کو 6 جولائی کو پٹنہ جنکشن کے قریب سے اغوا کیا گیا تھا۔انہوں نے پولیس کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج دستیاب ہونے کے باوجود اغوا کاروں کی تلاش کرنے کے بجائے پولیس نے متاثرہ خاندان کو ہی ڈانٹ پھٹکار لگائی۔
تیجسوی نے بتایا کہ ہفتہ کے روز راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے ایک وفد نے بنٹی کمار کی اہلیہ سے ملاقات کی تھی اور ان کی خود بھی فون پر گفتگو ہوئی تھی۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ اپوزیشن کے دباؤ کے بعد ہی پولیس نے پٹنہ دیہی کے اتھمل گولا تھانہ علاقے سے برآمد ہونے والی مسخ شدہ لاش کی اطلاع اہلِ خانہ کو دی۔تیجسوی یادو نے اپنی پوسٹ میں کربگھیا علاقے میں مبینہ طور پر چلائے جا رہے سیکس ریکیٹ کا بھی ذکر کیا۔ ان کا الزام ہے کہ بنٹی کمار نے اس غیر قانونی سرگرمی کی مخالفت کی تھی، جس کے بعد انہیں اغوا کر لیا گیا۔انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ مقامی لوگوں کے مطابق سیکس ریکیٹ چلانے والے عناصر کھلے عام سیاسی سرپرستی حاصل ہونے کی بات کرتے ہیں۔
تیجسوی یادو نے وزیرِ اعلیٰ سمراٹ چودھری سے سوال کیا کہ ان جرائم پیشہ افراد اور مبینہ گینگ کے سرغنہ کون ہیں اور ان کے خلاف اب تک کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔قائدِ حزبِ اختلاف نے مزید الزام لگایا کہ ریاست میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت بننے کے بعد پٹنہ جنکشن کے اطراف غیر قانونی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے حکومت پر یہ بھی الزام عائد کیا کہ وہ جرائم پیشہ عناصر، شراب مافیا اور جسم فروشی سے وابستہ گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔

Continue Reading

Bihar

بہار کے تمام ضلعی اسپتالوں میں7 دن کے اندر آئی سی یو قائم کرنے کا حکم

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:نشانت کمار کے وزیرِ صحت بننے کے بعد بہار کے محکمۂ صحت میں اصلاحات سے متعلق فیصلوں کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔ اب محکمۂ صحت نے ہدایت جاری کی ہے کہ آئندہ سات دنوں کے اندر ریاست کے تمام ضلعی اسپتالوں میں آئی سی یو (انتہائی نگہداشت یونٹ) کی سہولت یقینی بنائی جائے۔اس کے ساتھ ہی محکمہ نے مریضوں کو ایک اسپتال سے دوسرے اسپتال ریفر کرنے کے معاملے میں بھی اہم حکم نامہ جاری کیا ہے۔ نئی ہدایات کے مطابق مناسب اور معقول وجہ کے بغیر مریضوں کو اعلیٰ طبی اداروں میں ریفر نہیں کیا جائے گا۔حکم میں کہا گیا ہے کہ ضلعی اسپتالوں اور دیگر سرکاری اسپتالوں میں موجود وسائل، ماہر ڈاکٹروں اور جدید طبی سہولتوں سے بھرپور استفادہ کیا جائے، تاکہ عام شہریوں کو اپنے ہی ضلع کے قریبی اسپتال میں بہتر اور معیاری علاج کی سہولت میسر آ سکے۔
محکمۂ صحت نے ریاست کے تمام ضلعی اسپتالوں میں آئندہ سات دنوں کے اندر آئی سی یو اور 24 گھنٹے ہنگامی طبی خدمات شروع کرنا لازمی قرار دے دیا ہے۔ اس کے علاوہ ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل عملے کی بھویہ پورٹل پر رجسٹریشن، ڈیوٹی روسٹر کی آن لائن اندراج اور اسپتالوں میں دستیاب تمام طبی سہولتوں کی تازہ ترین معلومات درج کرنا بھی اب لازمی ہوگا۔وزیرِ صحت نشانت کمار کی مختلف جائزہ میٹنگوں میں دی گئی ہدایات کے بعد محکمۂ صحت کے سکریٹری کمار روی نے ریفرل نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تمام ضلع مجسٹریٹوں، سول سرجنوں اور چیف میڈیکل افسران کو تفصیلی رہنما ہدایات جاری کر دی ہیں۔
یہ اقدامات’سات نشچئے-3‘کے تحت چلائی جا رہی مہم “سہل صحت، محفوظ زندگی” کے عزم کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔نئی ہدایات کے مطابق کسی بھی مریض کو ریفر کرنے سے قبل متعلقہ معالج کے لیے یہ یقینی بنانا ضروری ہوگا کہ مطلوبہ طبی سہولت متعلقہ اسپتال میں دستیاب نہیں ہے۔ ہر ریفرل کی واضح اور تحریری وجہ درج کرنا لازمی ہوگا۔اس کے علاوہ مریض کے علاج سے متعلق مکمل ریکارڈ اور ریفرل کی تمام تفصیلات بھویہ پورٹل پر بروقت اپ ڈیٹ کی جائیں گی، جبکہ اس کی کمپیوٹرائزڈ نقل مریض یا اس کے اہلِ خانہ کو بھی فراہم کی جائے گی۔
محکمۂ صحت کے مطابق تمام سول سرجن اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ مریضوں کو صرف ناگزیر ضرورت پیش آنے پر ہی اعلیٰ طبی اداروں میں ریفر کیا جائے۔اس نظام کے تحت بھویہ (بہار ہیلتھ ایپلیکیشن وژنری یوجنا فار آل) پورٹل کے ذریعے او پی ڈی، آئی پی ڈی، حادثات اور ایمرجنسی وارڈ میں آنے والے تمام مریضوں کے علاج سے متعلق ہر مرحلے کا ریکارڈ ڈیجیٹل طور پر محفوظ کیا جائے گا۔مریضوں کی رجسٹریشن، ڈاکٹروں کا طبی مشورہ، مختلف طبی جانچ، ادویات، ریفرل اور علاج سے متعلق تمام تفصیلات بھویہ پورٹل پر دستیاب رہیں گی۔ اس کے علاوہ زیرِ علاج مریضوں کی آبھا آئی ڈی بنا کر ان کا الیکٹرانک ہیلتھ ریکارڈ تیار کیا جائے گا، تاکہ مستقبل میں ان کے علاج کو مزید مؤثر، منظم اور معیاری بنایا جا سکے۔
ریفرل نظام کی مؤثر نگرانی کے لیے ہر ضلع میں ضلع مجسٹریٹ کی سربراہی میں ضلعی سطح کی نگرانی و جائزہ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ یہ کمیٹی باقاعدگی سے ریفرل کے تمام معاملات کا جائزہ لے گی اور غیر ضروری ریفرل کی روک تھام کے لیے ضروری اقدامات کرے گی۔اس مقصد کے لیے ریاستی سطح پر بھی ایک نوڈل افسر نامزد کیا گیا ہے، جو تمام اضلاع کے ساتھ مسلسل جائزہ اجلاس منعقد کرے گا اور ریفرل نظام کی مؤثر نگرانی کو یقینی بنائے گا۔

Continue Reading

Bihar

مظفرپور-چھپرہ نئی ریلوے لائن کا منصوبہ تعطل کا شکار

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:بہار میں مظفرپور۔چھپرہ نئی ریلوے لائن کا منصوبہ تعطل کا شکار ہوگیا ہے۔ تعمیراتی ایجنسی نے صرف 15 فیصد کام مکمل کرنے کے بعد اس اہم اور طویل عرصے سے زیرِ بحث منصوبے کو بند کرنے کے لیے باضابطہ طور پر کلیوزر (اختتامی منظوری) کی درخواست دے دی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مشرقی وسطی ریلوے کی جانب سے نو برس گزرنے کے باوجود اب تک تفصیلی منصوبہ جاتی رپورٹ (ڈی پی آر) فراہم نہیں کی گئی۔ اس ریلوے لائن پر دریائے گنڈک کے ریوا پل سے مظفرپور تک متعدد چھوٹے پل، روڈ انڈر برج اور اپروچ سڑکوں کی تعمیر کی جانی تھی۔تعمیراتی ایجنسی کو یہ منصوبہ سال 2017 میں سونپا گیا تھا، جبکہ تعمیراتی کام کا آغاز 2018 میں ہوا۔ معاہدے کے مطابق اس منصوبے کو 2020 تک مکمل ہونا تھا، لیکن مقررہ مدت گزر جانے کے باوجود کام پایۂ تکمیل تک نہ پہنچ سکا۔ اب اس اہم ریلوے منصوبے کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔مشرقی وسطی ریلوے کے انجینئرنگ شعبے کے سی اے وی کے سکریٹری منٹو کمار کی رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، مشرقی وسطی ریلوے نو برس گزرنے کے باوجود تعمیراتی ایجنسی کو نئی ریلوے لائن کی تفصیلی منصوبہ جاتی رپورٹ (ڈی پی آر) فراہم کرنے میں ناکام رہا۔ڈی پی آر نہ ملنے کے باعث منصوبے پر مزید پیش رفت ممکن نہ ہو سکی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسی تاخیر سے ناراض ہو کر تعمیراتی ایجنسی نے اب منصوبے سے دستبردار ہونے اور کام بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ادھر ریلوے انتظامیہ نے بھی اس معاملے میں تعمیراتی ایجنسی کو ایک میمورنڈم جاری کیا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اب تک مکمل کیے گئے کام کی بلنگ کا عمل جاری ہے تاکہ انجام دیے گئے کام کی ادائیگی کی کارروائی مکمل کی جا سکے۔
اس نئی ریلوے لائن کی تکمیل سے مظفرپور اور چھپرہ کے درمیان سفر کا فاصلہ نمایاں طور پر کم ہو جاتا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ سال 2020 سے 2024 تک تعمیراتی ایجنسی کو بار بار مدت میں توسیع دی جاتی رہی، لیکن کام شروع ہونے کے آٹھ برس بعد بھی منصوبے کا صرف 15 فیصد حصہ ہی مکمل ہو سکا۔یعنی آٹھ سال کے طویل عرصے میں محض 15 فیصد کام ہی انجام دیا جا سکا۔ اب اس اہم ریلوے لائن کی تعمیر کے ذمہ دار ٹھیکیدار کی جانب سے منصوبے کے اختتام (کلیوزر) کی درخواست کیے جانے کے بعد اس کلیدی ریلوے منصوبے کا مستقبل غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہو گیا ہے۔
ادھر مظفرپور جنکشن سے گزرنے والی کئی ٹرینیں ہفتہ کے روز شدید تاخیر کا شکار رہیں، جس کے باعث مسافروں کو خاصی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔سب سے زیادہ تاخیر 12558 آنند وہار-مظفرپور سپت کرانتی ایکسپریس میں ہوئی، جو مقررہ وقت سے 10 گھنٹے 27 منٹ تاخیر سے مظفرپور جنکشن پہنچی۔ اس کے علاوہ 15706 چمپارن ہمسفر ایکسپریس 4 گھنٹے 7 منٹ، 04652 امرتسر-جئے نگر اسپیشل 6 گھنٹے 2 منٹ تاخیر سے چل رہی تھی۔
اسی طرح 15566 ویشالی ایکسپریس 2 گھنٹے 1 منٹ اور 13022 متھیلا ایکسپریس 2 گھنٹے 5 منٹ کی تاخیر سے منزل پر پہنچیں۔ ٹرینوں کی مسلسل تاخیر کے باعث مسافر شدید مشکلات اور اذیت سے دوچار نظر آئے۔

 

 

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network