تازہ ترین
جمہوری نظام میں پُرامن احتجاج عوام کااختیار،چراغ پاسوان نے اپنے ہی اتحاد کے وزیر جیتن رام مانجھی کے بیان پرکیا جوابی حملہگیا جی:کلال اور عراقی کو ایک ہی ذات قرار دینے کا مطالبہبروقت مسئلہ حل نہ ہوا تو ہم دوبارہ احتجاج کرنے پرہوں گے مجبور:سنگھرش سمیتی،ایس ڈی ایم ارریہ کی یقین دہانی پر شہر کے بنیادی مسائل کو لے کر 6 روزہ احتجاجی مظاہرہ ملتوینئی نسل کی اخلاقی و تعلیمی تربیت اساتذہ کی اولین ذمہ داری: قاری ذاکر حسین قاسمی،جمعیت علماء شہر و ضلع مظفر نگر کے تحت تنظیم ائمہ و علمائے مساجدکے زیرِ انتظام اجلاس کا انعقاد11 نومبر کو ’’ تعلیمی کانفرنس‘‘ و تقریب تقسیم انعامات,این سی آر میں نمو بھارت ٹرین پروجیکٹ کو منظوری ملنے کا امکاناحتجاج کے درمیان پولیس کی سخت کارروائی،20پر ایف آئی درجنریندر مودی نے ہٹلر کو بھی چھوڑ دیاہے پیچھے:کجریوال
دلی این سی آر

پانی کیلئے ترس رہے ہیں دہلی کے لوگ :سوربھ بھاردواج

(پی این این)
نئی دہلی: دہلی میں چار انجن والی بی جے پی حکومت تہواروں کے موسم میں بھی دہلی والوں کو پینے کا صاف پانی فراہم کرنے میں ناکام ہے۔ منگل کے روز دہلی کے چھترپور علاقے میں پینے کے پانی کی شدید قلت کے سبب عوام کا غصہ پھوٹ پڑا۔ یہاں سیکڑوں مکینوں نے عام آدمی پارٹی کی مقامی کونسلر پنکی تیاگی کی قیادت میں دہلی جل بورڈ کے خلاف زبردست مظاہرہ کیا۔خالی مٹکوں اور پوسٹروں کے ساتھ لوگوں نے نعرے لگائے اور بی جے پی حکومت سے پینے کے صاف پانی کا مطالبہ کیا۔

موقع پر آپ دہلی کے کنوینر سوربھ بھاردواج نے کہا کہ دہلی میں تہواروں کے اس موسم میں بھی پانی کی شدید قلت ہے۔ دہلی کے چھترپور، مہرولی، دیولی، کالکاجی جیسے علاقوں میں پانی کی سخت کمی سے لوگ پریشان ہیں۔
سوربھ بھاردواج نے کہا کہ چھترپور، مہرولی، دیولی، کالکاجی کی طرح مشرقی اور شمال مشرقی دہلی کے علاقوں میں بھی عوام پینے کے پانی کے لیے ترس رہے ہیں۔ جنوبی دہلی میں خاص طور پر پانی کے ٹینکروں کی تقسیم میں بدانتظامی اور بدعنوانی عروج پر ہے۔ جہاں پانی آرہا ہے وہاں بھی شکایات مل رہی ہیں کہ نلوں میں سیور کا پانی مل رہا ہے۔ چند دن پہلے دیولی کے لوگوں نے جل بورڈ کے خلاف احتجاج کیا تھا اور آج چھترپور کے لوگوں نے احتجاج کیا ہے۔ دہلی میں چار انجن کی حکومت ہونے کے باوجود وسنت کنج کے علاقے میں دہلی کے تین بڑے شاپنگ مال بند ہونے کے دہانے پر ہیں کیونکہ وہاں پانی نہیں ہے۔ کیا آپ یقین کر سکتے ہیں کہ یہ حالت ملک کی دارالحکومت کی ہے؟ دوسری طرف، پانی کی قلت کے خلاف احتجاج کے دوران آپ کی کونسلر پنکی تیاگی نے کہا کہ چھترپور اسمبلی حلقے میں پانی کی صورتحال اس قدر سنگین ہوچکی ہے کہ ہر گھر کا فرد سڑکوں پر بالٹیاں لے کر پانی کے لیے بھٹک رہا ہے۔ اگر کہیں سے کسی کو خبر مل جائے کہ کسی گھر میں پانی آرہا ہے تو لوگ وہاں قطار میں کھڑے ہوجاتے ہیں۔ مقامی لوگ ایک ایک گلاس پانی کے لیے ترس رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ پہلے کم از کم پرائیویٹ ٹینکر دستیاب ہوجاتے تھے، مگر اب وہ بھی نہیں مل رہے۔ پیسے دے کر پانی منگوانے پر ٹینکر ایک گھنٹے میں پہنچ جاتا ہے لیکن بار بار شکایت کے باوجود سرکاری ٹینکر نہیں آتے۔ پنکی تیاگی نے کہا کہ آج تک کبھی ستمبر-اکتوبر میں پانی کی ایسی خراب حالت نہیں دیکھی گئی۔ اگر سب کے گھروں میں پانی آ رہا ہوتا تو لوگ سڑکوں پر احتجاج نہ کرتے۔ انہوں نے کہا کہ عموماً پانی کی کمی اپریل سے شروع ہوتی ہے اور جولائی تک ختم ہوجاتی ہے لیکن اس بار یہ مسئلہ دن بہ دن بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ آج تو پانی کی صورتحال گرمیوں سے بھی بدتر ہے۔ جب تک جل بورڈ کے سینئر افسران یا منتخب نمائندے یہ سو فیصد یقین دہانی نہیں کراتے کہ ہر حال میں ہر گھر کے نل تک پانی پہنچے گا، تب تک ہمارا احتجاج جاری رہے گا۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔