تازہ ترین
بہار میں 15 لاکھ سے زائد سم کارڈ بند، کوئی اور کر رہا تھا استعمالگیاجی: ورک تنظیم نے لگایا مفت طبی کیمپ، 300 افراد کا علاجخانقاہ رحمانی میں مدارسِ اسلامیہ کنونشن کی تیاری کے لیے مشاورتی نشستارریہ پولیس کی2 بڑی کارروائی، غیر قانونی اسلحہ اور 1734 گرام اسْمیک برآمد، 4افراد گرفتارشادی کے 10 ماہ بعد شوہر نے بیوی کوجلادیا زندہ2دنوں میں 5.59 لاکھ افرادنے جمع کئے فارم-6 , یوپی میں ووٹر لسٹ میں نام درج کرانے کے لیے چلائی گئی خصوصی مہم،چیف الیکشن آفیسرنے کی عوام کی ستائشکرکٹ میچ کے دوران مارپیٹ اور پتھر بازی،15 افراد گرفتار ، پولیس نے دونوں فریقوں کے زیرحراست افرادکو عدالت میں پیش کرنے کےبعدبھیجا جیلنظام تعلیم وتربیت کو بہتر بنائیں اربابِ مدارس ، اتحاد ویک جہتی کے ساتھ رہیںذمہ دارانِ مدارس ، برادرانِ وطن سے رکھیںخوش گوار اور برادرانہ تعلقات
بہار

ووٹر لسٹ پر نظر ثانی مہم میں سلطان حسین ادریسی کی انوکھی پہل

(پی این این)
چھپرہ :ووٹر لسٹ کی خصوصی نظر ثانی مہم کے تحت ووٹروں کو درپیش مسائل کے پیش نظر سماجی کارکن اور سماجی تنظیم نیائے کے بانی جنرل سکریٹری محمد سلطان حسین ادریسی نے عوامی فلاح کی ایک قابل ستائش پہل کی ہے۔ادریسی نے اپنے دفتر میں ایک ہیلپ ڈیسک قائم کیا ہے۔جہاں سے جن شہریوں کو ابھی تک انرومیشن فارم نہیں ملے ہیں انہیں ڈاؤن لوڈ کر مفت فارم فراہم کیے جا رہے ہیں۔اس کے علاوہ سال 2003 کی ووٹر لسٹ میں درج ووٹرز یا ان کے خاندان کے افراد کے نام فہرست سے تلاش کیے جا رہے ہیں اور بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جا رہے ہیں۔اس کیمپ سے فائدہ اٹھانے کے لیے لوگ دور دور سے پہنچ رہے ہیں۔
محمد سلطان حسین ادریسی نے کہا کہ مہم عجلت میں لیا گیا فیصلہ لگتا ہے۔2003 کی ووٹر لسٹ اور موجودہ فہرست میں بہت فرق ہے۔پرانے اور نئے بوتھ نمبروں میں بہت فرق ہے۔انتظامیہ کو چاہیے تھا کہ پہلے ان دونوں کو یکجا کر کے انہیں BLO یا ویب سائٹ پر واضح طور پر دستیاب کراتی۔لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔جس کی وجہ سے عام ووٹر اپنا یا رشتہ داروں کے نام فہرست میں تلاش نہیں کر پا رہے ہیں۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کئی علاقوں سے شکایات موصول ہورہی ہیں کہ بی ایل او کی جانب سے ابھی تک فارم تقسیم نہیں کیے گئے ہیں۔جس کی وجہ سے لوگ پریشان ہیں۔بیرون ملک رہنے والے ہندوستانی ووٹروں کے لیے کوئی واضح ہدایات جاری نہیں کی گئی ہیں کہ وہ اس عمل میں کس طرح حصہ لے سکتے ہیں۔
محمد ادریسی نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ جب بی ایل او خود کہہ رہا ہے کہ اگر آپ بغیر کسی دستاویز کے فارم پر دستخط کر کے جمع کرائیں تو نام حذف نہیں ہوگا۔تو پھر اتنے بڑے پیمانے پر اس مہم کی کیا ضرورت تھی اور اس میں اتنے وسائل کیوں خرچ کیے جا رہے ہیں۔نیائے کا یہ کوشش نہ صرف انتظامی غفلت کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ عام شہریوں کو ان کے حق رائے دہی سے آگاہ کرکے ایک مثبت سماجی مداخلت بھی ہے۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔