تازہ ترین
بہار میں 15 لاکھ سے زائد سم کارڈ بند، کوئی اور کر رہا تھا استعمالگیاجی: ورک تنظیم نے لگایا مفت طبی کیمپ، 300 افراد کا علاجخانقاہ رحمانی میں مدارسِ اسلامیہ کنونشن کی تیاری کے لیے مشاورتی نشستارریہ پولیس کی2 بڑی کارروائی، غیر قانونی اسلحہ اور 1734 گرام اسْمیک برآمد، 4افراد گرفتارشادی کے 10 ماہ بعد شوہر نے بیوی کوجلادیا زندہ2دنوں میں 5.59 لاکھ افرادنے جمع کئے فارم-6 , یوپی میں ووٹر لسٹ میں نام درج کرانے کے لیے چلائی گئی خصوصی مہم،چیف الیکشن آفیسرنے کی عوام کی ستائشکرکٹ میچ کے دوران مارپیٹ اور پتھر بازی،15 افراد گرفتار ، پولیس نے دونوں فریقوں کے زیرحراست افرادکو عدالت میں پیش کرنے کےبعدبھیجا جیلنظام تعلیم وتربیت کو بہتر بنائیں اربابِ مدارس ، اتحاد ویک جہتی کے ساتھ رہیںذمہ دارانِ مدارس ، برادرانِ وطن سے رکھیںخوش گوار اور برادرانہ تعلقات
بہار

خانقاہ رحمانی میں مدارسِ اسلامیہ کنونشن کی تیاری کے لیے مشاورتی نشست

(پی این این)
مونگیر:امارتِ شرعیہ کے زیر اہتمام 11 نومبر 2026ء کو باپو سبھاگار، پٹنہ میں منعقد ہونے والے ناموسِ مدارسِ اسلامیہ کنونشن کو کامیاب بنانے کے لیے خانقاہ رحمانی، مونگیر میں امیر شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر کی ہدایت پر ایک اہم مشاورتی میٹنگ ہوئی۔ میٹنگ کی صدارت جامعہ رحمانی، خانقاہ مونگیر کے ناظمِ تعلیمات اور استاذِ حدیث مولانا جمیل احمد مظاہری نے کی۔ اپنے خطاب میں مولانا موصوف نے کہا کہ مدارس پر حملوں اور ان کے خلاف پیدا ہونے والی مشکلات کو سمجھنے کے لیے ان کے اسباب پر غور ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مدارس میں قرآن و حدیث کی تعلیم اور دینی بیداری کا سلسلہ جاری رہنے سے مسلمانوں کی دینی شناخت مضبوط رہتی ہے، اس لیے ان اداروں کا تحفظ نہایت اہم ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ تحفظِ مدارس کے لیے صرف حکومت سے امید لگانے کے بجائے قوم کو خود بھی ذمہ داری اٹھانی ہوگی اور منظم انداز میں کوشش کرنی ہوگی۔
جامعہ رحمانی کے ناظم الحاج مولانا محمد عارف رحمانی نے کہا کہ میٹنگ کا بنیادی مقصد 11 نومبر کے پروگرام کی کامیابی کے لیے عملی منصوبہ بندی کرنا ہے۔ انہوں نے شرکاء سے اپیل کی کہ وہ اپنے اپنے محلوں میں لوگوں سے رابطہ کریں، مسجدوں میں مشورے کریں، ٹیمیں بنائیں اور بڑی تعداد میں لوگوں کی کنونشن میں شرکت کو یقینی بنائیں اور وہاں پہنچنے کے لیے مناسب انتظامات کریں۔ سفر کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ جمال پور کے علاوہ کھگڑیا سے بھی پٹنہ کے لیے ٹرین دستیاب ہے، جبکہ کوسی ایکسپریس سے بھی جایا جا سکتا ہے جو صبح 10 بجے پٹنہ پہنچا دیتی ہے۔جامعہ رحمانی کے نائب ناظمِ تعلیمات مفتی محمد صالحین ندوی نے کہا کہ مدارسِ اسلامیہ کا تحفظ سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے تمام لوگوں سے 11 نومبر کے کنونشن میں شرکت اور اسے کامیاب بنانے میں کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔
نائب ناظمِ تعلیمات اور استاذ جامعہ رحمانی مونگیر مولانا سیف الرحمن ندوی نے کہا کہ مدارس دینی زندگی اور شناخت کے تحفظ کا اہم ذریعہ ہیں۔ ان کے مطابق اسلامی تاریخ میں اجتماعی زندگی کی تشکیل کے ساتھ ہی تعلیم و تربیت کے مراکز کو بنیادی اہمیت حاصل رہی ہے، اس لیے مدارس کا باقی رہنا دینی اور اجتماعی زندگی کے لیے ضروری ہے۔جامعہ رحمانی کے استاذ مولانا عبدالعظیم رحمانی نے کہا کہ کنونشن میں شرکت کے لیے لوگوں کو بروقت اطلاع دی جائے اور نظم و ضبط کے ساتھ آنے کی ہدایت کی جائے۔
انہوں نے خاص طور پر زور دیا کہ شرکاء اپنے لباس، وضع قطع اور طرزِ عمل کا خیال رکھیں تاکہ وہ ایک مہذب، سنجیدہ اور تعلیم یافتہ قوم کی نمائندگی کرتے نظر آئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف بڑی تعداد میں لوگوں کا جمع ہونا کافی نہیں، نظم و ضبط، شائستگی اور ذمہ دارانہ رویہ بھی ضروری ہے۔
میٹنگ کی نظامت کرنے والے قاضیِ شریعت مونگیر مفتی رضی احمد ندوی نے افتتاحی کلمات میں کہا کہ مضبوط اور منظم ترتیب بنانی ہے تاکہ آمد و رفت میں سہولت رہے اور مونگیر سے زیادہ سے زیادہ لوگ پہنچ سکیں۔ ان کے مطابق مدارسِ اسلامیہ پر منڈلانے والے خطرات کے پیشِ نظر امیرِ شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی دامت برکاتہم نے یہ کنونشن منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اور مدارس کے نظام کی کمیوں کو جاننے کے لیے بہار، اڑیسہ، جھارکھنڈ اور مغربی بنگال کے مدارس کے باضابطہ سروے کا حکم بھی دیا ہے۔ قاضی صاحب نے کہا کہ اتراکھنڈ، اتر پردیش، آسام اور دیگر علاقوں میں مدارس کے خلاف کارروائی، تالا بندی اور بلڈوزر چلانے جیسے واقعات لمحۂ فکریہ ہیں، اور اگر امیرِ شریعت کی آواز پر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو ایسی صورتِ حال یہاں بھی پیش آ سکتی ہے۔
دیگر مقررین میں سردار محمد عین الحق (بنودھا، مونگیر) نے کہا کہ مدارس کا تحفظ پوری قوم کا مسئلہ ہے، اس لیے سب کو متحد ہو کر کوشش کرنی چاہیے اور اکابر و قائدین کی رہنمائی میں ان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ مولانا قمر الزماں رحمانی (شترخانہ، مونگیر) نے امیرِ شریعت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مدارس کو درپیش مسائل پر قوم کو بیدار کیا ہے؛ انہوں نے محلوں میں مشورے کرکے جماعت کی شکل میں لوگوں کو کنونشن کے لیے تیار کرنے اور اہلِ مونگیر سے بڑی تعداد میں شرکت کی اپیل کی۔
مدرسہ شاہی حویلی، کھڑکپور کے ناظم حافظ محمد ناصر نے کہا کہ خانقاہ رحمانی ابتدا سے دینی اداروں کے مسائل پر لوگوں کو آگاہ اور متحد کرتی رہی ہے، اور مساجد، مکاتب، مدارس اور قبرستانوں سمیت تمام دینی اداروں کے تحفظ پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے۔ مدرسہ رشیدیہ، مونگیر کے ناظم مولانا نجیب اللہ نے کہا کہ مساجد، مدارس اور مکاتب کے ذمہ داران اپنے علاقوں میں گھر گھر اور محلے محلے رابطہ کرکے لوگوں کو شرکت کی ترغیب دیں۔ مدرسہ خیرالانام، باقرپور کے ذمہ دار خالد سیف اللہ نے تجویز پیش کی کہ بہار کے ہر علاقے میں مدارس کے ذمہ داران پر مشتمل تین چار افراد کی ایک منظم ٹیم بنائی جائے جو کوئی مسئلہ پیش آنے پر مشورے سے لائحۂ عمل طے کرکے اسے اپنے علاقوں میں نافذ کرے۔
مدرسہ الشفاء، چورنبہ کے ناظم حافظ رحمت اللہ نے کہا کہ امیرِ شریعت نے بروقت اقدامات کی تیاری شروع کی ہے، اور انہوں نے یقین دلایا کہ کنونشن سے ملنے والی ہدایات پر عمل کی کوشش کی جائے گی۔ مولانا اسامہ مظاہری نے بھی کنونشن کو کامیاب بنانے کے عزم کا اظہار کیا اور کہا کہ مدارس کے ذمہ داران اپنے اداروں کی زمین، کاغذات اور مالی معاملات درست اور منظم رکھیں تاکہ کسی قانونی یا انتظامی مشکل کی صورت میں ادارے کا دفاع کیا جا سکے۔میٹنگ میں عزم ظاہر کیا گیا کہ 11 نومبر کے کنونشن کی کامیابی کے لیے محلہ وار رابطہ مہم چلائی جائے گی، مساجد و مدارس کے ذمہ داران کو متحرک کیا جائے گا اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کی شرکت یقینی بنانے کی کوشش کی جائے گی۔نشست کا آغاز جامعہ رحمانی کے استاذ قاری جوہر نیازی رحمانی کی تلاوتِ قرآن سے ہوا، جبکہ جامعہ کے طالب علم محمد سمیر عالم نے نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کی۔ جامعہ رحمانی کے اساتذہ کے علاوہ شہرِ مونگیر اور اطراف سے بڑی تعداد میں ائمۂ مساجد، علماء، حفاظ، دانشوران اور مختلف شعبوں سے وابستہ ذمہ داران نے شرکت کی۔ میٹنگ کا اختتام جامعہ رحمانی کے استاذ مولانا عبدالعظیم رحمانی کی دعا پر ہوا۔

متعلقہ خبریں