(پی این این)
پٹنہ: پٹنہ کے 6.70 لاکھ سمیت بہار کے 15,69,122 صارفین نے اپنے سم کارڈ بند کروا دیے ہیں۔ ان نمبروں کا استعمال کوئی دوسرا شخص کر رہا تھا۔ سنچار ساتھی ایپ کے ذریعے اس کی اطلاع ملنے کے بعد سم کارڈ بند کروانے کے لیے درخواست دی گئی۔
دراصل، سائبر جرائم اور دھوکہ دہی کے معاملات کی تفتیش کے دوران ایسے کئی سم کارڈ سامنے آئے، جو کسی دوسرے شخص کے نام پر جاری کیے گئے تھے، لیکن ان کا استعمال کوئی اور کر رہا تھا۔ اصل سم کارڈ مالکان کو بھی اس بات کی اطلاع نہیں تھی۔ جب انہیں اس کا علم ہوا تو انہوں نے محکمۂ مواصلات سے رابطہ کرکے اپنے سم کارڈ بند کروا دیے۔
ریاست بھر میں 33 لاکھ 6 ہزار 298 موبائل صارفین نے سنچار ساتھی ایپ کے ذریعے اپنے نام پر جاری سم کارڈوں کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے درخواست دی تھی۔ ان میں سے 15 لاکھ 69 ہزار صارفین کو معلوم ہوا کہ ان کے نام پر جاری سم کارڈ استعمال کوئی دوسرا شخص کر رہا تھا۔ محکمۂ مواصلات کی جانچ میں بھی ان نمبروں کے دوسرے افراد کے زیرِ استعمال ہونے کی تصدیق ہوئی۔
ایک شخص کے نام پر زیادہ سے زیادہ نو سم کارڈ رکھنے کا ضابطہ نافذ ہے۔ سال 2024 سے اب تک 7 لاکھ 33 ہزار افراد نے اپنے نام پر جاری نو سے زائد سم کارڈ بند کروائے ہیں۔ اس کے لیے محکمۂ مواصلات نے پہلے ایسے افراد کی نشاندہی کی، جن کے نام پر نو سے زیادہ سم کارڈ جاری تھے۔ اس کے بعد متعلقہ ٹیلی کام کمپنیوں کے ذریعے موبائل صارفین کو اضافی سم کارڈ بند کروانے کے لیے پیغامات بھیجے گئے۔
اگر کوئی شخص کسی دوسرے کے نام پر جعلی طریقے سے سم کارڈ حاصل کرکے اس کا استعمال کرتا ہے تو اس پر 50 لاکھ روپے تک کا جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ تین سال تک قید کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔ محکمۂ مواصلات نے تمام ٹیلی کام کمپنیوں کے ذریعے صارفین کو اس ضابطے سے آگاہ کیا ہے۔
