تازہ ترین
یتیم خانہ اسلامیہ گیا نے پیش کی خدمت، ایثار اور انسان سازی کی روشن مثال، یتیم بچوں کی تعلیم و تربیت کے 109 سال:وزیر ڈاکٹر سنتوش کمار سمن سمیت اہم شخصیات کی شرکت، پانچ زبانوں میں طلبہ کی تقریروں نے حاصل کی توجہجامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر میں 40 روزہ تفہیم قرآن ورکشاپ کا آغاز14 سال بعد خاتون سپاہی کو 5سال کی قید, بڑی بدعنوانی معاملے میں عدالت نے سنایافیصلہ، 16.25 لاکھ روپے کا جرماعائدکھگڑیا کے ایس پی کیخلاف خواتین کمیشن میں معاملہ درج، آئی پی ایس افسر کو سمن جاری،کمیشن میںجلدحاضرہونے کی دی گئی ہدایت2 سال سے زائد عمر کے بچوں کا برتھ سرٹیفکیٹ نہ بننےسے والدین پریشانلکھنؤ میں اچھانک پلٹ گیا فارملین کیمیکل سے بھرا ٹینکر، رساؤ کے باعث آس پاس کے علاقوں میں کھانسی، خارش اور آنکھوں میں جلن کی شکایاتمدارس اسلامیہ کے تحفظ کیلئے خوف زدہ ہونے کے بجائے اختیار کی جائیں دعا، اصلاح اور ضروری احتیاطی تدابیر : حضرت مولانا مفتی ابو القاسم نعمانیمنھ میں جوتا ٹھونس دوں گا:ایم ایل اے، تاجرگرپوں کے درمیان تنازع حل کرانے پہنچے بی جے پی کے رکن اسمبلی ہوئے برہم
uttar pradesh

سیتاپور:تالاب میں ڈوبی کار سے تین دوستوں کی لاشیں برآمد

(پی این این)
سیتاپور: اترپردیش کے سیتاپور سے ایک سنسنی خیز واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں سدھولی سے بہرائچ جانے کی بات کہہ کر گھر سے نکلنے والے تین دوستوں کی لاشیں پیر کی دیر رات کملاپور کے پنچنیر علاقے میں واقع تالاب میں ڈوبی ہوئی کار سے برآمد ہوئیں۔ تالاب میں کار دیکھ کر علاقے میں ہلچل مچ گئی۔
اطلاع ملنے پر موقع پر پہنچی پولیس نے کرین کی مدد سے کار کو باہر نکلوایا تو اس میں تین افراد موجود تھے، تاہم تینوں کی موت ہوچکی تھی۔پولیس کو شبہ ہے کہ کار بے قابو ہوکر تالاب میں جاگری، جس کے نتیجے میں ڈوبنے سے تینوں کی موت ہوگئی۔ تاہم موت کی اصل وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی واضح ہوسکے گی۔
سیتاپور کے سدھولی میں واقع سدھیشور نگر کے رہنے والے راکیش چورسیہ کے بیٹے موہن کا اتوار کے روز بہرائچ میں سڑک حادثہ ہوگیا تھا۔ اتوار کی دیر شام وہ اپنے دوست اور پڑوسی رامندر سنگھ اور سدھولی کے نروتم نگر کے رہائشی ستیش نرمل کے ساتھ کار سے بہرائچ کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ اس کے بعد تینوں گھر واپس نہیں لوٹے۔ کافی تلاش کے باوجود ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ کئی بار کوشش کرنے کے باوجود موبائل فون پر بھی ان سے رابطہ نہیں ہوپایا۔سدھیشور نگر کے رہائشی شوبھت سنگھ نے پیر کے روز سدھولی تھانے میں تحریری شکایت دی تھی کہ ان کے والد رامندر سنگھ کو پڑوسی راکیش اور ستیش نرمل اپنے ساتھ بہرائچ لے گئے تھے۔ اس کے بعد سے ان کا کوئی پتہ نہیں چل رہا ہے۔
پولیس اور اہل خانہ نے تینوں کی تلاش شروع کردی۔ تلاش کے دوران پیر کی شام تقریباً چار بجے سدھولی سے بسواں روڈ پر کندونی کے قریب ایک فیکٹری میں نصب سی سی ٹی وی کیمرے میں کار نظر آئی۔ دیر رات کملاپور کے پنچنیرعلاقے میں واقع تالاب میں ایک کار ڈوبی ہوئی دیکھ کر راہ گیروں نے پولیس کو اطلاع دی۔ موقع پر پہنچی پولیس نے کرین کی مدد سے کار کو باہر نکلوایا۔ کار کے اندر راکیش، رامندر اور ستیش کی لاشیں پڑی ہوئی تھیں۔اطلاع ملتے ہی کچھ ہی دیر میں تینوں کے اہل خانہ بھی موقع پر پہنچ گئے۔ لاشیں دیکھ کر اہل خانہ کا رو رو کر برا حال ہوگیا۔ پولیس کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی موت کی اصل وجہ واضح ہوسکے گی۔

متعلقہ خبریں