(پی این این)
سیتاپور: اترپردیش کے سیتاپور سے ایک سنسنی خیز واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں سدھولی سے بہرائچ جانے کی بات کہہ کر گھر سے نکلنے والے تین دوستوں کی لاشیں پیر کی دیر رات کملاپور کے پنچنیر علاقے میں واقع تالاب میں ڈوبی ہوئی کار سے برآمد ہوئیں۔ تالاب میں کار دیکھ کر علاقے میں ہلچل مچ گئی۔
اطلاع ملنے پر موقع پر پہنچی پولیس نے کرین کی مدد سے کار کو باہر نکلوایا تو اس میں تین افراد موجود تھے، تاہم تینوں کی موت ہوچکی تھی۔پولیس کو شبہ ہے کہ کار بے قابو ہوکر تالاب میں جاگری، جس کے نتیجے میں ڈوبنے سے تینوں کی موت ہوگئی۔ تاہم موت کی اصل وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی واضح ہوسکے گی۔
سیتاپور کے سدھولی میں واقع سدھیشور نگر کے رہنے والے راکیش چورسیہ کے بیٹے موہن کا اتوار کے روز بہرائچ میں سڑک حادثہ ہوگیا تھا۔ اتوار کی دیر شام وہ اپنے دوست اور پڑوسی رامندر سنگھ اور سدھولی کے نروتم نگر کے رہائشی ستیش نرمل کے ساتھ کار سے بہرائچ کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ اس کے بعد تینوں گھر واپس نہیں لوٹے۔ کافی تلاش کے باوجود ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ کئی بار کوشش کرنے کے باوجود موبائل فون پر بھی ان سے رابطہ نہیں ہوپایا۔سدھیشور نگر کے رہائشی شوبھت سنگھ نے پیر کے روز سدھولی تھانے میں تحریری شکایت دی تھی کہ ان کے والد رامندر سنگھ کو پڑوسی راکیش اور ستیش نرمل اپنے ساتھ بہرائچ لے گئے تھے۔ اس کے بعد سے ان کا کوئی پتہ نہیں چل رہا ہے۔
پولیس اور اہل خانہ نے تینوں کی تلاش شروع کردی۔ تلاش کے دوران پیر کی شام تقریباً چار بجے سدھولی سے بسواں روڈ پر کندونی کے قریب ایک فیکٹری میں نصب سی سی ٹی وی کیمرے میں کار نظر آئی۔ دیر رات کملاپور کے پنچنیرعلاقے میں واقع تالاب میں ایک کار ڈوبی ہوئی دیکھ کر راہ گیروں نے پولیس کو اطلاع دی۔ موقع پر پہنچی پولیس نے کرین کی مدد سے کار کو باہر نکلوایا۔ کار کے اندر راکیش، رامندر اور ستیش کی لاشیں پڑی ہوئی تھیں۔اطلاع ملتے ہی کچھ ہی دیر میں تینوں کے اہل خانہ بھی موقع پر پہنچ گئے۔ لاشیں دیکھ کر اہل خانہ کا رو رو کر برا حال ہوگیا۔ پولیس کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی موت کی اصل وجہ واضح ہوسکے گی۔
سیتاپور:تالاب میں ڈوبی کار سے تین دوستوں کی لاشیں برآمد
