uttar pradesh
نرجلا ایکادشی کے موقع پر مختلف تنظیموں نے سبیل لگا کر ٹھنڈے مشروبات تقسیم کئے
دیوبند:نرجلا ایکادشی کے موقع پر جمعرات کے روز دیوبند میں جگہ جگہ سبیل لگا کر راہ گیروں کو شربت اور ٹھنڈا پانی پلایا گیا ۔دیوبند کے ریلوے روڑ پر واقع قدیم شیو مندر کے بڑے پجاری پنڈت کالیکاپرساد کی سرپرستی میں سبیل لگا کر ٹھنڈا شربت تقسیم کیا گیا ،انہوں نے کہا کہ سناتن تہذیب میں خدمت خلق کو سب سے اہم کام بتایا گیا ہے اس لئے انسانوں کو اپنی زندگی میں ہمیشہ خدمت خلق کے کام انجام دیتے رہنا چاہئے ۔بی جے پی کے شہر صدر ارون گپتا نے پنڈت کالیکا پرساد کو پگڑی پہنا کر اعزاز سے نوازا ۔اس موقع پر وطن گرگ پنڈت بھونیشور پرساد پروہت رام موہن سینی ،وپن پنڈت ،شبھم شرما ،وشال گرگ امیش سینی اور مانگے رام دھیمان وغیرہ موجود رہے ۔وہیں دوسری جانب وشنو چوک پر واقع شری وشنو بھگوان مندر سیوا ٹرسٹ کی جانب سے لگائی جانے والی سبیل کا افتتاح لوک جن شکتی پارٹی کی خواتین سیل کی صوبائی صدر پوجا گرگ نے شمع روشن کرکے کیا ۔اس سبیل سے بھی راہ گیروں کو ٹھنڈا پانی اور شربت تقسیم کیا گیا ۔اس موقع پر منجو شرما ،ریما بنسل ،چھوی بنسل ،ببلی ٹنڈن ،انیتا اگروال وغیرہ موجود رہے ۔اسی طرح گرودوارہ صاحب کی جانب سے لگائی جانے والی سبیل سے بھی بڑی تعداد میں لوگوں کو شربت پلایا گیا ۔ان مقامات کے علاوہ تلہیڑی ،چندینا کولی ،انبولی ،کھیڑی آسا اور دیگر دیہی علاقوں میں بھی عقیدت مندوں نے نرجلا ایکادشی سبیلیں لگاکر راہگیروں کو شربت اور ٹھنڈا پانی پلایا ۔
uttar pradesh
دیوبند کانگریس دفتر پر سنگٹھن سرجن میٹنگ کا انعقاد
دیوبند،:آنے والے اسمبلی الیکشن کی تیاروں کو لے جمعرات کے روز دیوبند میں واقع کانگریس کے دفتر پر ایک میٹکنگ منعقد کی گئی ۔اس میٹک نیائے پنچایت صدور کے رول اور پارٹی کوبوتھ سطح تک اور زیادہ مضبوط وفعال بنانے کے لئے پارٹی کارکنان کی ذمہ داریاں طے کرنے ،عوامی رابطے کی مہم چلانے اور آنے والے اسمبلی الیکشن میں کئے جانے والے اقدامات پر تفصیل کے ساتھ گفتگو کی۔میٹنگ میں موجود تمام مقررین نے ان میں پارٹی عہداران اور کارکنان سے متحد ہوکر پارٹی کو مضبوط کرنے اور کانگریس کی پالیسیوں اور خیالات پر اک نیک فرد تک پہچانے کی اپیل کی گئی ۔مقررین نے کہا کہ بوتھ سطح پر اپنے آپ کو مضبوط کرنا ہی الیکشن میں پارٹی کی کامیابی کی بنیاد بنے گا۔اس موقع پر خصوص طور سے حمزہ نعمان مسعود،سندیپ ورما ،ڈاکٹر امیر عالم ،راحت خلیل ،راغب انجم ،عبداللہ قریشی ،یوسف خلیل وریام خان ،شمشاد جنگ ،اشرف بھارتی ،حافظ شاہد ،راج پال کرن ،انوار صدیقی ،ریحان قریشی ،شازیہ ناز ،نبیل مسعودی ،جمیل شاہ ،عبدالرحمن ،عظیم قریشی ،وسیم مغل ،شہزاد عثمانی کے علاوہ سیکڑوں کی تعداد میں کانگریس پارٹی کے عہدیداران اور کارکنان موجود رہے ۔
uttar pradesh
عطر کے تاجر کی تلاش میں ای ڈی ٹیم کی دیوبند میں چھاپہ مار کارروائی
دیوبند:دیوبند میں صبح سویرے دارالعلوم کے آس پاس ای ڈی کی ٹیم نے ایک عطر تاجر کی تلاش میں کئی مقام پر پہنچ کر پوچھ تاچھ کی ۔بتایا جاتا ہے کہ ای ڈی ٹیم مشتبہ طور سے رقومات کی لین دین کی جانچ کے سلسلہ میں دیوبند پہنچی تھی حالانکہ کافی تلاش کے بعد عطر کا کاروبار کرنے والے کے بارے میں کوئی معلومات حاصل نہیں ہوسکی ۔تفصیل کے مطابق ای ڈی ٹیم نے جمعرات کے روز دیوبند میں کئی مقامات پر دبش دے کر عطر کے کاروبار کرنے والے ایک شخص کو تلاش کیا اور کچھ لوگوں سے معلومات بھی کی ۔ای ڈی ٹیم کے دیوبند پہنچنے کی اطلاع سے تاجروں اور مقامی لوگوں میں اضطرابی کیفیت پیدا ہوگئی ۔جبکہ ای ڈی ٹیم جس شخص کو تلاش کرنے کے لئے آئی تھی اس کے بارے میں اس کو کوئی پختہ جانکاری نہیں مل سکی ۔تفصیل کے مطابق ای ڈی کی ٹیم غیر ملکی لوگوں کی دراندازی اور ان کے نام نہاد مالی نیٹ ورک اور مشتبہ طور پر رقومات کی لین دین کی جانچ کرنے کے سلسلہ میں دارالعلوم کے قریب واقع محلہ محل پہنچی تھی ۔ای ڈی کی یہ ٹیم بنگال کے ایک باشندہ اور عطر کا کاروبار کرنے والے کی تلاش کررہی تھی جو کچھ سالوں پہلے دیوبند میں عطر کا کاروبار کیا کرتاتھا ۔بتایا جاتا ہے کہ عطرکا کاروبار کرنے والا یہ شخص تقریباً 3؍ سال پہلے دیوبند چھوڑ کر چلاگیا تھا ۔ای ڈی افسران نے دیوبند کے محلہ محل کے علاوہ شہر میں واقع عطر کی کئی دکانوں پر پہنچ کر مذکورہ عطر تاجر کے بارے میں معلومات حاصل کیں ۔ای ڈی افسران نے مقامی تاجروں سے اس کے ٹھکانے ،کاروبار اور اس کے تعلقات سے متعلق معلومات کیں ۔لیکن اس کے موجود ہ ٹھکانے یا سرگرمیوں کے بارے میں کوئی پختہ جانکار ی نہیں مل سکی ۔ای ڈی ٹیم نے روہنگیا اور بنگلہ دیشی درانداز کاروں کے نیٹ ورک اور ٹیررفنڈنگ معاملہ میں دیوبند میں چھاپہ ماری کی ،دیوبند کے علاوہ ای ڈی ٹیم نے اترپردیش دہلی ،ہریانہ اور مغربی بنگال میں ایک ساتھ 13؍ مقامات پر چھاپہ مارکارروائی کی بتایا جاتا ہے کہ کچھ چیریٹبل ٹرسٹ غیر قانونی طریقے سے غیر ممالک سے رقومات منگارہے تھے اور ان پیسوں سے در اندازی کرنے والوں کو فرضی دستاویزات تیار کرانے اور ان کی مالی مدد کرنے میں خر چ کی جاتی تھی ۔بتایا جاتا ہے کہ کچھ سالوںقبل اس عطر کے تاجر کا نا م ناجائز طریقہ سے در اندازی کرنے کے ایک معاملہ میں سامنے آیا تھا اس وقت بھی ای ڈی نے پوچھ تاچھ کے لئے اس کو حراست میں لیا تھا ؛لیکن پوچھ تاچھ کرنے کے بعد اس کو چھوڑ دیا گیا تھا ۔لوگوںکا کہنا ہے کہ اس واقعہ کے بعد وہ دیوبند سے چلا گیاتھا لیکن ای ڈی ٹیم اب بھی مذکورہ شخص کو رقومات کی لین دین اور اس کے ممکنہ نیٹ ورک کودیوبند میں تلاش کررہی ہے ۔
uttar pradesh
مدارس و مساجد کے خلاف کارروائی تشویشناک
دیوبند:جمعیۃ علماء راجستھان کے ناظم مولانا مفتی حبیب اللہ قاسمی اور راجستھان لیبر بورڈ کے سابق چیئرمین غفور احمد نے راجستھان کے سرحدی علاقہ میں حالیہ میں دنوں میں مساجد،مدارس اور درگاہوں کے خلاف جاری انہدامی کارروائی اور نوٹسوں پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے یکطرفہ اور منظم کارروائی قرار دیا اور ہائی کورٹ سے معاملہ خارج ہونے پر سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کی بات کہی ہے۔
آج یہاں دارالعلوم چوک پرواقع میڈیا سینٹر میں اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے مفتی حبیب اللہ قاسمی اور غفور احمد نے کہاکہ راجستھان کے جیسلمیر، باڑمیر، بیکانیر اور دیگر سرحدی اضلاع میں سرحد سے پچاس کلو میٹر تک کے دائرہ میں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران متعدد مساجد، مدارس اور درگاہوں کے خلاف کارروائیاں کی گئی ہیں، درجن بھر سے زائد مساجد و مدارس اور مذہبی مقامات کو منہدم کیا جا چکا ہے جبکہ سیکڑوں عبادت گاہوں کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں، جس سے متاثرہ علاقوں کے مسلمانوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔یہ کارروائی نیشنل سکیوریٹی کا حوالہ دے کر صرف مساجد، مدارس اور درگاہوں کے خلاف کی جارہی ہے۔
غفور احمد نے بتایا کہ اس معاملے پر جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی سے تفصیلی ملاقات ہوئی ہے اور ہم نے قانونی محاذ پر پوری قوت کے ساتھ جدوجہد جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ غفور احمد نے الزام عائد کیا کہ مرکزی وزارت داخلہ کے2021 کے نوٹیفکیشن کا سہارا لے کر سرحدی علاقوں میں صرف مسلم مذہبی اداروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ اسی دائرے میں واقع دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں کے خلاف ایسی کارروائیاں نہیں کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر واقعی قومی سلامتی کا کوئی مسئلہ ہے تو قانون کا اطلاق بلا امتیاز تمام متعلقہ مقامات پر ہونا چاہیے، صرف ایک طبقے کو نشانہ بنانا انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ مفتی حبیب اللہ نعمانی نے کہا کہ مدارس اور مساجد کی صدیوں پر محیط روشن تاریخ ہے اور آج تک ان اداروں سے قومی سلامتی کو کسی قسم کا خطرہ ثابت نہیں ہوا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر حکومت قومی سلامتی کا حوالہ دے رہی ہے تو اسے واضح کرنا چاہیے کہ ان مذہبی اداروں سے کس نوعیت کا خطرہ لاحق ہے۔ غفور احمد نے تجویز پیش کی کہ اگر اراضی یا تعمیر سے متعلق کسی قانونی ضابطے کی خلاف ورزی پائی جاتی ہے تو متاثرین کو جرمانہ یا دیگر قانونی تقاضے پورے کرنے کا موقع دیا جائے، نہ کہ براہ راست انہدامی کارروائی کی جائے۔ ان کے مطابق یہ کارروائیاں نہ صرف مذہبی جذبات کو مجروح کرنے والی ہیں بلکہ اس سے مسلمانوں میں عدم تحفظ کا احساس بھی پیدا ہو رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت کی یہ یک طرفہ کارروائی مسلمانوں کو معاشی، سماجی اور مذہبی طور پر کمزور کرنے کی منظم کوشش معلوم ہوتی ہے اور اس کے خلاف اب سپریم کورٹ سے رجوع کرینگے۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
بہار8 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
