Connect with us

uttar pradesh

مرزا شارق کے کارناموں سے لکھنؤ اور لاہر پور کا نام ہواروشن: رضوان فاروقی

Published

on

(پی این این)
لکھنؤ: بزم احساس ادب کے حساس دل شعراء نے حسب سابق بہاریہ مشاعرے کا اہتمام کیا ‘کاشانہ شارق، مشعلچی ٹولہ کھدرہ، شعراء کی واہ واہ سے گونج اٹھا۔ بارش کے سبب شعراء کی تعداد ومقدرے کم مگر اشعار خوب خوب سننے میں ائے۔ نظامت رضوان احمد فاروقی اور صدارت استادالشعراء مرزا شارق لاہر پوری نے کی۔ مہمان خصوصی ڈاکٹر زبیر انصاری رہے ۔
اس موقع پر ڈاکٹر زبیر انصاری نے کہا’’ وقت اور تاریخ کے تعین سے جو لوگ مشاعروں کا اہتمام و انصرام کرتے ہیں وہ بہت اہم ہیں۔ ان کی خدمات ہر جگہ ہر محفل میں نمایاں رہنے والوں سے کہیں زیادہ ہیں۔ ہمیں ان خادمان ادب کی دل سے قدر کرنا چاہئے۔
رضوان احمد فاروقی کے مطابق تعمیری ذہن رکھنے والے مشاق و زور گو شاعر ہیں مرزا شارق’ خدمت ادب کے جذبے سے سرشار ہیں‘ ۔انھوں نے لکھنؤ اور لاہر پور کے نام کو روشن رکھا ہے۔ حمدیہ دیوان کے حوالے سے وہ ممتاز و منفرد ہیں۔ مرزا شارق لاہر پوری نے کہا۔ جو پروگرام ہر ماہ ہوتے ہیں ان میں ترجیحی بنیاد پر شرکت کرنا چاہئے۔منتخب کلام درج ذیل ہے:
میرے بیٹے کوئی ساعت ہو خوشی کی غم کی
موت کے بعد کے عالم پہ ترا دھیان رہے
مرزا شارق لاہر پوری
یاد کرو تم پیار کی وہ رنگیں باتیں
میرا بازو اپنا تکیہ بھول گئے
عرفان لکھنوی
کچھ لوگ سر بچاکے یہاں خوش ہوئے بہت
کچھ لوگ سر کٹاکے وہاں سرخرو ہوئے
رضوان احمد فاروقی
محبت کی ڈگر پر چل کے دیکھا
مرا ہی نقش پا ہے اور میں ہوں
ڈاکٹر زبیر انصاری
غم ہزاروں ہوں پھر بھی اے اکرم
تجھ کو ہنسنا ہے مسکرانا ہے
افروز اکرم
تیری باتوں میں جھوٹ اتنا ہے
سچ کو یارو جگہ نہیں ملتی
نیر بسوانی
مذکورہ شعراء کے علاوہ ماجد نثار آشتی، رضوان بسوانی، محمد رفیق، محمد خلیق، محمد وثیق اور ابوبکر مشاعرے کا حصہ رہے۔

 

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

uttar pradesh

جرائم پیشہ افراد پر قابو پانا پولیس کی اولین ترجیح

Published

on

دیوبند:دیوبند میں آنے والے نئے کوتوالی انچارج سندیپ بالیان نے اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد قانونی نظم ونسق سے متعلق اپنا موقف واضح کیا اور جرائم پیشہ افراد کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ دیوبند میں کسی بھی طرح کی مجرمانہ سرگرمیوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ جرائم پر قابو پانے کے لئے پولیس پوری سنجیدگی کے ساتھ کارروائی کرے گی ۔
کوتوالی انچارج سندیپ بالیان نے کہا کہ دیوبند اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں جوا ،سٹہ ،نشہ خوری اور گئوکشی سمیت تمام مجرمانہ سرگرمیوں پر پولیس کی خصوصی نظر رہے گی ۔انہوں نے واضح کیا کہ قانون سے کھلواڑ کرنے یا جرائم میں اضافہ کرنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ پولیس اصل مقصد علاقہ میں امن وامان قائم رکھنا ،حفاظتی انتظامات کو درست رکھنا اور قانون کی بالادستی کو قائم رکھنا ہے ۔
اسی لئے جرائم پیشہ افراد ،غیر سماجی عناصر کی سرگرمیوں پر خاص نظر رکھی جائے گی ۔اور ضرورت کے اعتبار سے کارروائی بھی کی جائے گی ،نیز کسی بھی شخص کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔کوتوالی انچارج سندیپ بالیان نے عوام سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جرائم پر قابو پانے کے لئے عوامی تعاون بڑی اہمیت کا حامل ہوتا ہے ،انہوں نے کہا کہ علاقہ میں کسی بھی طرح کی مجرمانہ سرگرمیوں کی اطلاع فوراً پولیس کو دیں ۔انہوں نے دیوبند کے باشندوں کو یقین دلاتے ہوئے کہا کہ ان کے مسائل کو سنجیدگی کے ساتھ سنا جائے گا اورقانونی اعتبار سے کارروائی کی جائے گی۔
،انہوں نے کہا عوام اور پولیس کے باہمی تعاون سے علاقہ میں مضبوط قانونی نظم ونسق قائم کیا جاسکتا ہے ،سندیپ بالیان کے اس سخت پیغام کے بعد جرائم پیشہ افراد میں افراتفری پیدا ہوگئی ہے ۔

Continue Reading

uttar pradesh

سہارنپور میں قبر کھود کر بچی کا لیا گیا ڈی این اے نمونہ

Published

on

دیوبند:اتراکھنڈ پولس کی ایک ٹیم منگل کو دوپہر 12 بجے سہارنپور پہنچی تاکہ ایک نابالغ لڑکی کی عصمت دری کی تحقیقات کی جاسکے۔ ڈاکٹروں کے ہمراہ ٹیم سڑک دودھلی کے علاقے میں گیس گودام کے قریب قبرستان پہنچی۔ ٹیسٹ کے لیے چھ ماہ کی بچی کی قبر سے ڈی این اے کے نمونے لیے گئے۔ پولیس اور میڈیکل ٹیم کو دیکھ کر گاؤں والے اور کنبہ کے لوگ جائے وقوعہ پر جمع ہوگئے۔ سیکورٹی کے لیے پولیس اہلکار بھی تعینات تھے۔
سڑک دودھلی گیس گودام کے قریب رہنے والے انس ولد منورپر الزام ہے کہ اس نے اتراکھنڈ کے منگلور علاقے کی ایک نابالغ لڑکی کو سہارنپور لے جا کر اس کی عصمت دری کی۔ جب لڑکی کے گھر والوں کو اس واقعہ کا علم ہوا تو وہ لڑکی کو واپس اپنے ساتھ لے گئے۔ انس کے اہل خانہ کے مطابق لڑکی کچھ وقت کے بعد انس کے پاس واپس آگئی۔ بتایا گیا ہے کہ لڑکی تقریباً دو سال قبل متعدد بار انس کے ساتھ گئی تھی۔ دونوں نے بعد میں شادی کر لی۔ دسمبر 2025 میں انس نے لڑکی کو طلاق دے دی۔ اس دوران اس جوڑے کے ہاں ایک بیٹی پیدا ہوئی، جو کچھ دنوں کے بعد فوت ہوگئی۔
لڑکی کے خاندان کی شکایت پر اتراکھنڈ پولیس نے ملزم انس کے خلاف پروٹیکشن آف چلڈرن فرام سیکسوئل آفنس (پاکسو) ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ تقریباً چار ماہ قبل پولیس نے اسے گرفتار کر کے جیل بھیج دیا تھا۔ پولیس نے اس معاملے میں چارج شیٹ بھی داخل کر دی ہے۔ اب تفتیش کے دوران اضافی شواہد اکٹھے کرنے کے لیے بچی کا ڈی این اے نمونہ لیا گیا ہے۔

Continue Reading

uttar pradesh

تخلیقی صلاحیتوں کے فروغ کے لیے راکھی و تھال سجاوٹ مقابلے کا انعقاد

Published

on

لکھنؤ:خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی کے شعبۂ ہوم سائنس کی جانب سےوائس چانسلر پروفیسر اجے تنیجا کی سرپرستی اور پروفیسر تطہیر فاطمہ کی رہنمائی میں طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں کو پلیٹ فارم فراہم کرنے اور ہندوستانی فن، ثقافت و روایات کے تئیں ان کی دلچسپی کو فروغ دینے کے مقصد سے ’’راکھی سازی و تھال سجاوٹ مقابلے‘‘ کا انعقادکیا گیا۔
اس مقابلے میں طلبہ نے اپنی تخلیقی سوچ اور فنکارانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے خوبصورت اور دلکش راکھیوں کی تیاری کی۔ اس کے ساتھ ہی پھولوں، رنگوں، آرائشی اشیا اور روایتی سامان کا استعمال کرتے ہوئے خوبصورت اور فنکارانہ تھالیاں بھی سجائیں۔مقابلے کا مقصد طلبہ میں تخلیقی فکر، جمالیاتی ذوق، دستکاری کی مہارت اور ہندوستانی روایتی فنون کے تئیں بیداری و دلچسپی پیدا کرنا تھا۔ اس مقابلے کے ذریعے طلبہ کو اپنی صلاحیتوں کو تخلیقی انداز میں پیش کرنے کے ساتھ ساتھ صحت مند مسابقت کے ماحول میں اپنی فنکارانہ صلاحیتوں اور ہنر کو نکھارنے کا موقع ملا۔
اس مقابلے میں شریک طالبات کی حوصلہ افزائی اور ہندوستانی روایت و ثقافت میں راکھی کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ راکھی محض ایک دھاگا نہیں بلکہ یہ بھائی اور بہن کے درمیان محبت، اعتماد، خلوص اور تحفظ کے مقدس رشتے کی علامت ہے۔ ہندوستانی تہذیب و ثقافت میں رکشا بندھن کی روایت کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ اس طرح کے مقابلوں کے ذریعے طلبہ نہ صرف اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کرتے ہیں بلکہ انہیں اپنی شاندار تہذیبی و ثقافتی روایات سے جڑنے کا بھی موقع ملتا ہے۔انھوںنے کہا کہ طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ اس طرح کی غیر نصابی اور ثقافتی سرگرمیوں کا انعقاد بھی ضروری ہے۔
ایسی سرگرمیاں طلبہ میں خود اعتمادی، فنکارانہ ذوق، ہنرمندی اور ٹیم ورک کے جذبے کو فروغ دیتی ہیں۔ انہوں نے مقابلے میں حصہ لینے والی تمام طالبات کو مبارکباد دیتے ہوئے ان کے روشن مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔اس مقابلے میںبہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے شرکاء کو انعامات سے نوازا گیا۔ مقابلے میں طلبہ نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network