Connect with us

Bihar

نتیش کی سیاسی وراثت پر این ڈی اے میں خانہ جنگی،پہلے خوداپنا گھر سنبھالیںاپیندر کشواہا ، جے ڈی یو کے ریاستی صدرامیش سنگھ کشواہا کی نصیحت

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:بہار کے سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی سیاسی وراثت کو لے کر این ڈی اے میں گھمسان شروع ہوگیا ہے۔ راشٹریہ لوک مورچہ (آر ایل ایم) کے قومی صدر اپیندر کشواہا نے نتیش کمار کی سیاسی وراثت کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری سنبھالنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔
وہیں اب نتیش کمار کی پارٹی جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) کے رہنما ان کے خلاف سخت برہم ہوگئے ہیں۔ جے ڈی یو کے ریاستی صدر امیش سنگھ کشواہا نے راشٹریہ لوک مورچہ کے سربراہ اپیندر کشواہا کو اپنا گھر سنبھالنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ دن میں خواب نہ دیکھیں۔
جے ڈی یو رہنما امیش سنگھ کشواہا نے اس سلسلے میں ہفتے کے روز سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کی۔ اس میں اپیندر کشواہا کا نام لیے بغیر انہوں نے کہا، ’’جتنی چادر ہو، پاؤں بھی اتنے ہی پھیلانے چاہئیں۔ لیکن کچھ حد سے زیادہ بلند عزائم رکھنے والے لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ خالی بیٹھے بیٹھے خیالی پلاؤ پکاتے رہیں اور کبھی پورے نہ ہونے والے خوابِ غفلت دیکھتے رہیں۔ ایسے لوگ کو ہمارا مشورہ ہے کہ جے ڈی یو کی فکر چھوڑ کر پہلے اپنے گھر کی فکر کریں۔ کیونکہ آپ کاخود اپنا کنبہ تو پنکچر گاڑی کی طرح وقتاً فوقتاً اپنا توازن کھوتا رہتا ہے۔‘‘
جے ڈی یو کے ریاستی صدر نے راشٹریہ لوک مورچہ کے سربراہ پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اصل بے چینی کی وجہ کچھ اور ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ نتیش کمار کے بیٹے نِشانت کمار بہار کا مستقبل ہیں۔ ان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور عوامی قبولیت کچھ لوگوں کو ہضم نہیں ہو رہی ہے۔نالندہ ضلع کے راج گیر میں منعقدہ راشٹریہ لوک مورچہ کے فکری اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے قومی صدر اپیندر کشواہا نے کہا تھا کہ نتیش کمار نے بہار کی سیاست سے سبکدوشی اختیار کرلی ہے۔ انہوں نے بہار کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے بہتر خدمات انجام دی ہیں۔ بہار اور ملک کے ایک بڑے طبقے میں یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ نتیش کمار کی سیاسی وراثت کو آگے کیسے بڑھایا جائے گا۔
کشواہا نے کہا کہ نتیش کمار کی سیاسی وراثت کو آگے بڑھانے کا دعویٰ بہت سے لوگ کریں گے، لیکن موجودہ وقت میں راشٹریہ لوک مورچہ کا دعویٰ ہے کہ یہ ذمہ داری اسے سنبھالنی چاہیے۔ بہار کا ایک بڑا طبقہ بھی یہی چاہتا ہے۔ راشٹریہ لوک مورچہ کے سربراہ نے یہ بھی کہا کہ وہ اس ذمہ داری کو نبھانے میں کس حد تک کامیاب ہوں گے، یہ وہ نہیں جانتے، لیکن نتیش کمار کی سیاسی وراثت کو آگے بڑھانے کے لیے وہ پوری طرح تیار ہیں۔
راجیہ سبھا کے رکن اپیندر کشواہا بہار کے سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے قریبی ساتھی رہ چکے ہیں۔ تاہم، دونوں کے درمیان کئی سیاسی اتار چڑھاؤ، اختلافات، علیحدگی اور پھر مفاہمت کے دور بھی دیکھنے کو ملے۔ نتیش کمار نے 90 کی دہائی میں بہار میں ’لو-کش‘ سیاسی مساوات کو مضبوط بناتے ہوئے سمتا پارٹی کی بنیاد رکھی تھی، اس وقت اپیندر کشواہا مضبوطی کے ساتھ ان کے ساتھ کھڑے تھے۔ نتیش کمار خود ’لو‘ یعنی کُرمی اور کشواہا ’کش‘ یعنی کوئری برادری کے بااثر رہنما کے طور پر ابھرے۔تاہم، سیاسی اختلافات کے باعث اپیندر کشواہا نے جے ڈی یو سے علیحدگی اختیار کرکے راشٹریہ لوک سمتا پارٹی (آر ایل ایس پی) تشکیل دی۔
2014 میں بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرکے اپیندر کشواہا آر ایل ایس پی کی جانب سے نریندر مودی کی کابینہ میں وزیر بھی بنے۔ سال 2021 میں نتیش کمار اور کشواہا کے درمیان تعلقات ایک بار پھر بہتر ہوئے اور آر ایل ایس پی کا جے ڈی یو میں انضمام کر دیا گیا۔ اس کے بعد اپیندر کشواہا کو جے ڈی یو کے پارلیمانی بورڈ کا چیئرمین مقرر کیا گیا۔
تاہم، 2023 میں دونوں کے تعلقات میں ایک بار پھر تلخی آگئی۔ اپیندر کشواہا نے جے ڈی یو سے علیحدگی اختیار کرکے نئی سیاسی جماعت راشٹریہ لوک مورچہ تشکیل دی۔ فی الحال جے ڈی یو اور راشٹریہ لوک مورچہ، دونوں ہی این ڈی اے کا حصہ ہیں۔ نتیش کمار کی سیاسی وراثت کو لے کر دونوں جماعتوں کے درمیان گھمسان چھڑنے کے بعد سیاسی حلقوں میں اس معاملے پر بحث شروع ہوگئی ہے۔

Bihar

ٹرین کے اے سی کوچ سے نوجوان لڑکی 15.8 کلو گاگانجے کے ساتھ گرفتار

Published

on

(پی این این)
گیا جی: ٹرین میں سفر، اے سی-2 کوچ اور بیگ میں 15 کلو 800 گرام گانجا! گیا جنکشن پر پیر کی رات منشیات کی اسمگلنگ کے ایک ایسے معاملے نے ریلوے پولیس کو چونکا دیا، جس میں ایک نوجوان لڑکی کو مبینہ طور پر گانجے کی بڑی کھیپ کے ساتھ گرفتار کیا گیا۔ برآمد گانجے کی قیمت تقریباً سات لاکھ روپے بتائی گئی ہے۔ بھونیشور تیجس راجدھانی ایکسپریس کے اے سی-2 ٹائر کوچ میں مشتبہ انداز میں سفر کر رہی لڑکی پر خفیہ اطلاع کے بعد آر پی ایف، سی آئی بی اور جی آر پی کی مشترکہ ٹیم کی نظر پڑی۔ تلاشی کے دوران اس کے بیگ سے گانجے کی بھاری مقدار برآمد ہوتے ہی ٹرین میں ہلچل مچ گئی۔ پولیس نے گانجا ضبط کرکے لڑکی کو گرفتار کرلیا۔
آر پی ایف انسپکٹر بنارسی یادو کے مطابق گرفتار لڑکی جھاج پور سے نئی دہلی جا رہی تھی اور وہ گیا کی رہنے والی بتائی گئی ہے۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ 15.8 کلو گانجا کہاں سے آیا؟ کس نے دیا؟ دہلی میں کس کے حوالے ہونا تھا؟ اور اس پوری کھیپ کے پیچھے کون ہے؟ریلوے پولیس ان سوالات کے جواب تلاش کرنے میں مصروف ہے۔ گرفتار لڑکی سے پوچھ گچھ کے دوران ملنے والی معلومات کی بنیاد پر اسمگلنگ کے پورے نیٹ ورک تک پہنچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اس گرفتاری نے منشیات اسمگلنگ کے بدلتے انداز پر بڑا سوال کھڑا کردیا ہے۔ کیا اسمگلر اب عام کوچوں کے بجائے اے سی کوچ کو محفوظ راستہ سمجھنے لگے ہیں؟ کیا خواتین اور لڑکیوں کو پولیس کی نظروں سے بچنے کے لیے کوریئر کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے؟ گیا کی اس کارروائی نے ان سوالات کو مزید گہرا کردیا ہے۔حالیہ دنوں میں پٹنہ اور سمستی پور میں خواتین کے ذریعے شراب کی اسمگلنگ کے معاملات سامنے آ چکے ہیں۔ سمستی پور میں اے سی فرسٹ کلاس سے غیر ملکی شراب کے ساتھ ایک لڑکی اور اس کے بہنوئی کی گرفتاری، جبکہ پٹنہ جنکشن پر ایک طالبہ کے شراب کے ساتھ پکڑے جانے کے بعد اب گیا میں لڑکی کے ذریعے گانجے کی اتنی بڑی کھیپ پکڑے جانے سے خواتین کو ’کوریئر‘ بنانے کے ممکنہ رجحان پر تفتیشی ایجنسیوں کی نظر ٹک گئی ہے۔
15.8 کلو گانجا برآمد ہونا محض ایک گرفتاری نہیں، بلکہ اس کے پیچھے موجود سپلائی چین کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔ ریلوے پولیس اب یہ جاننے میں مصروف ہے کہ اس کھیپ کا اصل سپلائر کون تھا، اسے کس نے لڑکی کے حوالے کیا اور دہلی میں اسے کس کے حوالے کیا جانا تھا۔گیا جنکشن پر سات لاکھ روپے کی گانجے کی کھیپ کے ساتھ لڑکی کی گرفتاری نے ریلوے میں منشیات کی اسمگلنگ کے نئے راستوں، اے سی کوچ کے ممکنہ استعمال اور خواتین کو کوریئر بنائے جانے کے خدشے پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

Continue Reading

Bihar

گیاجی: شبھ کامنا اسپتال پر علاج میں غفلت کا الزام

Published

on

(پی این این)
گیا جی: شہر کے شبھ کامنا ہارٹ ہاسپٹل اینڈ میٹرنٹی سینٹر میں مریض کی موت کے بعد مبینہ طبی غفلت کو لے کر اہل خانہ کا غصہ پھوٹ پڑا۔ اہل خانہ نے ہاسپٹل کے ڈاکٹر پر علاج میں لاپروائی، غلط دوا دینے اور مبینہ طور پر اوور ڈوز کے باعث مریض کی حالت بگاڑنے جیسے سنگین الزامات عائد کئے۔ موت کے بعد اہل خانہ نے ہاسپٹل کے باہر زبردست ہنگامہ کیا۔ اطلاع ملنے پر رام پور تھانہ کی پولیس موقع پر پہنچی اور کافی مشقت کے بعد حالات کو قابو میں کیا۔ پولیس پورے معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔
موصولہ اطلاع کے مطابق مانپور بلاک کے نارائن نگر کے رہنے والے سابق پنچایت سکریٹری سدھیشور پرساد کی طبیعت تقریباً 20 روز قبل اچانک خراب ہوئی تھی۔ ان کے بیٹے وپن کمار نے انہیں شبھ کامنا ہارٹ ہاسپٹل اینڈ میٹرنٹی سینٹر میں داخل کرایا۔ اہل خانہ کے مطابق جانچ کے دوران دل میں بلاکیج کی بات سامنے آئی، جس کے بعد ڈاکٹروں نے آپریشن کرکے دو اسٹنٹ لگائے۔اہل خانہ کا الزام ہے کہ اسٹنٹ لگانے کے بعد ڈاکٹر امن سنہا نے اسٹنٹ صحیح طریقے سے لگ جانے کی بات کہتے ہوئے مریض کو گھر لے جانے کا مشورہ دیا اور تقریباً ایک ماہ بعد دوبارہ مشورے کے لئے بلایا۔ اس کے بعد مریض کی طبیعت مسلسل بگڑتی رہی۔ اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ وہ کئی مرتبہ ہاسپٹل پہنچے اور مریض کی حالت کے بارے میں معلومات لینے کے ساتھ بہتر علاج کے لئے دوسرے ہاسپٹل لے جانے کی اجازت بھی مانگی، لیکن انہیں مسلسل یہ کہہ کر مطمئن کیا جاتا رہا کہ اسٹنٹ لگ چکا ہے اور اب کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔
متوفی کے بیٹے وپن کمار نے الزام لگایا کہ ان کے والد کو ضرورت سے زیادہ دوائیں دی گئیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ دل کے مرض کے علاج کے لئے ضروری دواؤں کے بجائے دوسری دوائیں دی گئیں اور مبینہ اوور ڈوز کی وجہ سے مریض کی حالت مسلسل خراب ہوتی چلی گئی۔ اہل خانہ کے مطابق علاج کے نام پر اب تک تقریباً چار لاکھ روپے خرچ ہو چکے تھے، اس کے باوجود مریض کی حالت میں کوئی بہتری نہیں آئی۔
وپن کمار کے مطابق موت سے ایک روز قبل بھی وہ اپنے والد کو لے کر ہاسپٹل پہنچے تھے اور ان کی سنگین حالت کو دیکھتے ہوئے داخل کرنے کی درخواست کی تھی۔ الزام ہے کہ اس وقت بھی مریض کو داخل نہیں کیا گیا۔ اگلے ہی روز مریض کی موت ہوگئی۔ موت کی خبر ملتے ہی اہل خانہ مشتعل ہوگئے اور ہاسپٹل کے باہر ہنگامہ شروع کردیا۔
اہل خانہ نے محکمہ صحت سے پورے معاملے کی غیر جانب دار میڈیکل جانچ کرانے، علاج کے دوران دی گئی دواؤں اور ان کی مقدار کی جانچ کرنے اور اگر طبی غفلت ثابت ہو تو ہاسپٹل اور متعلقہ ڈاکٹروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ادھر ڈاکٹر امن سنہا کا موقف جاننے کے لئے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن ان کا فون نہیں لگا۔ ان کی بہن ڈاکٹر میگھا سنہا نے کہا کہ یہ ایمرجنسی ہاسپٹل ہے اور یہاں مریضوں کی اموات ہوتی رہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاملہ اب پُرسکون ہوچکا ہے اور اہل خانہ لاش لے کر چلے گئے ہیں۔رام پور تھانہ کے تھانیدار دنیش بہادر سنگھ نے بتایا کہ مریض کی موت کے بعد ہاسپٹل کے باہر اہل خانہ کے ہنگامے کی اطلاع ملی تھی۔ پولیس موقع پر پہنچی اور حالات کو پُرسکون کرایا۔ انہوں نے کہا کہ پورے معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہے۔

Continue Reading

Bihar

تنظیمی قوت سے ہی مسائل و مشکلات کا حل ممکن:مفتی محمد سہراب ندوی،تنظیم امارت ضلع شیوہر کے عہدہ داران و ارکان کو اسناد کی تفویض اور ہدایات و اختیارات سے آگاہی

Published

on

(پی این این)
پھلواری شریف:اس وقت بدلتے ہوئے حالات نے ملت کے سامنے جتنے مسائل و مشکلات کھڑے کر دئیے ہیں قریب کی تاریخوں میں اس کی نظیر کم ملتی ہے ،بات صرف شہریت کے تحفظ و بقاء کی نہیں ؛بلکہ ایمان اور ایمان کے بنیادی تقاضوں پر عمل اور ایمانی شناخت کی حفاظت بھی سنگین خطرات کے گھیرے میں ہے ، دن کے اجالے میں جس طرح دستور کو نظر انداز کیا جا رہا ہے اور بنیادی حقوق کی پامالی کی جا رہی ہے وہ ہر حساس صاحب ایمان کو بے چین کر دینے کے لئے کافی ہے۔
حالات کی تفصیلات آپ حضرات سے مخفی نہی ہیں ،کیا ایسی صورت حال میں باعزت ،باضمیر اور مومنانہ شناخت کے ساتھ زندگی گذارنے کے لئے فکرمند ہونا ہم سب کی ذمہ داری نہیں ہے ؟مشکلات سے گھبرانا اور حالات کے سامنے بلا سوچے سمجھے سرنگوں ہو جانا نہ ایمان کا تقاضہ ہے اور نہ انصاف کا ،ضرورت ہے کہ ملک کے دستور و آئین کو سامنے رکھتے ہوئے قدم کو آگے بڑھایا جائے اور حوصلہ مندی کے ساتھ حسن تدبیر کو کام میں لایا جائے ،حالات سے مایوسی اگر کفر ہے تو خوف و ہراس میں مبتلا ہونا بھی ایمان کے منافی ہے ،امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ پھلواری شریف ،پٹنہ نے ہمیشہ ایسے مواقع پر مختلف پہلوؤں سے ملت کو بیدار رکھنے اور ملی وجود کی بقاء کے لئے جدوجہد کرنے کے سلسلہ میں عملی کردار نبھایا ہے ،آج بھی مختلف تدبیروں کو رو بہ عمل لانے کے ساتھ امارت شرعیہ چاہتی ہے کہ کلمہ گو افراد نظم و اتحاد کی ایسی راہ اختیار کریں جس سے نہ صرف اندرونی استحکام حاصل ہو ؛بلکہ اس کے ذریعہ مسائل و مشکلات حل ہو سکیں ۔
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ تنظیمی قوت سے ہی مسائل ومشکلات حل ہوئے ہیں اور آج بھی اسی راہ سے مشکلات کے حل کی امید کی جا سکتی ہے ،امارت شرعیہ کے تحت بہار،اڈیشہ ،جھارکھنڈ و مغربی بنگال چاروں صوبوں کی اکثر مسلم آبادیوں میں تنظیم امارت قائم ہے ،ضرورت تھی کہ اس تنظیمی ڈھانچہ کو ان چاروں صوبوں میں گاؤں سے لے کر پنچایت ،پنچایت سے لے کر بلاک اور بلاک سے لے کر ضلع کی سطح پر تنظیمی کڑی کے ذریعہ منظم کیا جائے،چنانچہ اس تنظیمی کڑی کو مکمل کرنے کا کام جاری ہے ،ضلع شیوہر میں ضلع کمیٹی کی تشکیل کے بعد اسناد کی تفویض اور ہدایات و اختیارات سے آگاہی کے لئے منعقد یہ میٹنگ در اصل اسی سرگرمی کا ایک اہم حصہ ہے ،ان خیالات کا اظہار امارت شرعیہ کے نائب ناظم جناب مولانا مفتی محمد سہراب ندوی قاسمی انچارج شعبۂ تبلیغ و تنظیم امارت شرعیہ نے مدرسہ اسلامیہ عربیہ ڈومری شیوہر کے وسیع جامع مسجد میں منعقد تنظیم امارت شرعیہ ضلع شیو ہر کے عہدہ داران و ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے اپنے صدارتی گفتگو میں کیا۔
واضح رہے مورخہ ۱۳؍ستمبر ۲۰۲۶ ء کو امیر شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی مدظلہ کی ہدایت اور ناظم امارت شرعیہ جناب مولانا مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی صاحب کے مشورہ سے تقسیم اسناد اور تفویض اختیارات کے عنوان سے تنظیم امارت ضلع شیوہر کے عہدہ داران و ارکان کی باوقار تقریب اور شاندار میٹنگ منعقد ہوئی ،ضلع تنظیم شیوہر میں مختلف طبقے سے تعلق رکھنے والے ایک سو چھیاسٹھ (۱۶۶) افراد کو شامل کیا گیا ہے ،میٹنگ میں شریک تمام عہدہ دران و ذمہ داران کو محترم نائب ناظم مولانا مفتی محمد سہراب ندوی ،مولانا قمر انیس قاسمی معاون ناظم اور قاضی شریعت شیوہر مولانا فخرالدین قاسمی کے ہاتھوں حضرت امیر شریعت مدظلہ کی طرف سے جاری عہدے کی سند دی گئی اور ہدایات و اختیارات پر مشتمل تحریر سپرد کی گئی ۔جناب ماسٹر فخرالحسن صاحب ڈومری شیوہر کو بحیثیت صدر اور جناب مولانا مفتی اعجاز احمد قاسمی صاحب سوگیا کو بحیثیت سکریٹری سند سے نوازا گیا۔ایسے تمام اضلاع جہاں تنظیمی ڈھانچے کی تکمیل یا تجدید کی ضرورت ہے اسے پورا کیا جا رہا ہے اور ان اضلاع میں بھی اس طرح کی میٹنگوں کے انعقاد کی تیاری جاری ہے ،حضرت امیر شریعت مدظلہ اور ناظم امارت شرعیہ بھی اس سلسلہ میں بے حد فکر مند ہیں اور ان کی منشاء ہے کہ ہر ضلع میں ایسے متحرک افراد کی ٹیم تیار ہو جو ہر وقت ملی خدمت کے لئے مستعد و تیار رہے ،اس میٹنگ کو خطاب کرتے ہوئے معاون ناظم امارت شرعیہ جناب مولاناقمر انیس قاسمی صاحب نے کہاکہ امارت شرعیہ کی سو سالہ روشن تاریخ گواہ ہے کہ ہر مشکل موقع پر امارت شرعیہ کی طرف سے فکری اور عملی رہنمائی ملت کو حاصل رہی ہے ،انہوں نے امارت شرعیہ کی فکر اور اس کی تحریکی سرگرمیوں پر بھی روشنی ڈالی ،قاضی شریعت جناب مولانا فخرالدین قاسمی صاحب نے میٹنگ کی نظامت کی اور افتتاحی خطاب کیا،میٹنگ کا آغاز مفتی فیاض قاسمی کی تلاوت سے ہوا ،نعت پاک مولانا جلال الدین ندوی نے پیش کی ،نومنتخب صدر ماسٹر فخرالحسن صاحب نے اپنے تأثرات کے اظہار کے ساتھ شکریہ کے کلمات کہے ، مولانا محمد نوشاد عالم مظاہری اور مولانا احمد حسین قاسمی مبلغین امارت شرعیہ نے قاضی صاحب کے تعاون سے میٹنگ کو کامیاب بنایا ،میٹنگ میں شریک تمام عہدہ داران و ارکان نے حضرت امیر شریعت کی ہدایات اور مفوضہ ذمہ داریوں کو نبھانے کے سلسلے میں مضبوط عزم کا اظہار کیا ۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network