تازہ ترین
معمولی بات پر نوجوان کو گھیر چاقو سے قتلسیاسی دشمنی کا بدلہ بچوں سے لے رہی ہےبی جے پی: منیش سسودیامونارک سکینڈری سکول ہندوراہ میں متزکرہ بالا سوسائٹی کے زیر اہتمام محفل کا انعقادانسانی زندگی کو بہتر بناناہونا چاہیے ٹیکنالوجی کا مقصدبنہیڑہ ریلوے اسٹیشن پر سمینٹ کے مٹیریل اتارنے پر گائوں والوں کا احتجاجمولانا محمد مستقیم جمعیۃ علماء تحصیل نکوڑ کے کنوینر نامزد ، اصلاح معاشرہ کمیٹی کے ضلع کنوینر مولانا مشرف رشیدی نے لیٹر سونپابہارکو تعلیمی اور ترقی کے میدان میں آگے لے جاناضروری، ڈاکٹر شری کرشن سنگھ کے یومِ پیدائش پر بہار اسمبلی کے ایوان میں تقریب کا انعقاد،’بہار گورو سمان‘ تقریب میں مختلف شعبوں کی ممتاز شخصیات اعزاز سے سرفراز، تعلیم، طب، سماجی خدمت اور دیگر شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات کی شرکتفاربس گنج ایئرپورٹ سے جلد شروع ہوگی ہوائی سروس، ارریہ میں ایئرپورٹ کا خواب بھی جلد ہوگا شرمندۂ تعبیر: پردیپ کمار
دلی این سی آر

جامعہ کوملارسرچ اینڈ ٹریننگ کیلئے موقر ڈی ایچ آر گرانٹ

(پی این این)
نئی دہلی:جامعہ ملیہ اسلامیہ کو حکومتِ ہند کی وزارتِ صحت و بہبودِ خاندان کے زیر اہتمام محکمہ صحت تحقیق کی انسانی وسائل کی ترقی اسکیم کے جزواداروں اور سائنسی پیشہ ور افراد؍اداروں؍انجمنوں کی معاونت کے تحت ایک موقر گرانٹ منظور کی گئی ہے۔
اس اسکیم کے تحت، ڈی ایچ آر منتخب ملکی اداروں کو مخصوص ترجیحی شعبوں میں مصروف کار امیدواروں کے لیے خصوصی تربیتی پروگرام منعقد کرنے میں معاونت فراہم کرتا ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کو اس کے تجویز کردہ پروجیکٹ بعنوان “اینٹی مائکروبیل ریزسٹنس میں مالیکیولر اور ملٹی اومکس طریقہ کار: تشخیص سے علاج تک کے لیے پانچ سال کی مدت کے واسطے چھیاسٹھ اعشاریہ تیئس لاکھ روپے کی خطیر گرانٹ منظور کی گئی ہے۔
یونیورسٹی کے لیے یہ گرانٹ ایک نمایاں کامیابی ہے اور یہ اینٹی مائکروبیل ریزسٹنس جیسے اہم شعبے میں بائیو میڈیکل تحقیق، سائنسی تربیت اور صلاحیت سازی کو مضبوط بنانے میں نمایاں کردار ادا کرے گی۔ یہ پروگرام مالیکیولر اور ملٹی اومکس طریقہ کار میں خصوصی تربیت فراہم کرے گا، جس میں اے ایم آر کی تشخیص، ملٹی اومکس طریقہ کار اور علاج کی حکمت عملیوں کی تیاری جیسے شعبے شامل ہوں گے۔ یہ اقدام بائیو میڈیکل سائنس کے ایک اہم اور تیزی سے ارتقا پذیر شعبے میں ہنر مند افرادی قوت تیار کر کے حکومتِ ہند کے ‘اسکل انڈیا پروگرام کے مقاصد کے حصول میں بھی معاون ثابت ہوگا۔
اس پروجیکٹ کی پرنسپل انویسٹی گیٹر، ڈاکٹر شمع پروین، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی کے ‘سینٹر فار انٹرڈسپلنری ریسرچ اِن بیسک سائنسز میں پروفیسر ہیں۔ پروفیسر پروین کا تحقیقی دائرہ کار مالیکیولر بائیولوجی، وائرولوجی، متعدی امراض اور ٹرانسلیشنل بائیو میڈیکل ریسرچ پر محیط ہے۔ انھوں نے متعدد مالی معاونت فراہم کرنے والے اداروں، بشمول ڈی بی ٹی، سی ایس آئی آر، یو جی سی اور سی سی آر یو ایم۔آیوش کے تحت تحقیقی منصوبے مکمل کیے ہیں۔ پروفیسر پروین نے تحقیقی تربیت، رہنمائی اور تعلیمی اقدامات، کانفرنسوں اور ورکشاپ کے انعقاد میں بھی نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ منظور شدہ تجویز کے شریک محققین میں سی آئی آربی ایس سی،جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر امتیاز حسن، پروفیسر عاصم الاسلام، پروفیسر ایس این کاظم اور پروفیسر راجن پٹیل شامل ہیں۔
ان کی مشترکہ مہارت اس پروگرام کی بین علومی نوعیت کو مزید مستحکم کرے گی اور مالیکیولر بائیولوجی، کمپیوٹیشنل طریقہ کار اور ادویات کی دریافت وغیرہ پر محیط اے ایم آر(اینٹی مائکروبیل ریزسٹنس) تحقیق میں جدید تربیت کے لیے راہیں ہموار کرے گی۔
توقع ہے کہ اس اقدام سے اے ایم آر(اینٹی مائکروبیل ریزسٹنس) پر تحقیق میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کا کردار مزید مستحکم ہوگا اور بین شعبہ جاتی سائنسی تربیت کو فروغ ملے گا، جس کے نتیجے میں ایسے ماہر محققین اور پیشہ ور افراد تیار ہوں گے جو اینٹی مائکروبیل ریزسٹنس کے بڑھتے ہوئے عالمی چیلنج سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی،مسجل،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے پروفیسر شمع پروین اور ان کی ٹیم کو اس اہم کامیابی پر مبارکباد پیش کی۔ انھوں نے اینٹی مائکروبیل ریزسٹنس کے شعبے میں تحقیق کو پروان چڑھانے اور صلاحیت سازی میں ان کی خدمات کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ یہ اقدام جامعہ ملیہ اسلامیہ کی تحقیقی ساکھ اور بائیو میڈیکل سائنسز میں ابھرتے ہوئے چیلنجوں سے نمٹنے میں اس کے کردار کو مزید بہتر بنائے گا۔ یونیورسٹی،ڈی ایچ آر کی اس باوقار گرانٹ کو جدید ترین بائیو میڈیکل تحقیق کو آگے بڑھانے، بین علومی تعاون کو مضبوط بنانے اور اینٹی مائکروبیل ریزسٹنس کے شعبے میں تحقیق و تربیت کے ایک مستحکم نظام کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم پیش رفت تسلیم کرتی ہے۔

 

 

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔