Connect with us

uttar pradesh

مراد آباد میں امروہہ کے کھلاڑیوں نے بلند کیاپرچم، عمر نے چاندی اور وانیہ نے جیتا کانسی کا تمغہ

Published

on

(پی این این)
امروہہ:مرادآباد تائیکوانڈو اسپورٹس ایسوسی ایشن نے مرادآباد کے کا نٹھ روڈ پر واقع سمر ولا اسکول میں انٹراسکول اوپن تائیکوانڈوچیمپئن شپ کا انعقاد کیا۔
امروہہ تائیکوانڈو فاؤنڈیشن کے کھلاڑیوں نے اپنی شاندار کارکردگی سے ضلع کا نام روشن کیا۔ امروہہ تائیکوانڈو فاؤنڈیشن کے ماسٹر اکبر الدین مغل کی قیادت میں کھلاڑیوں نے اپنی شاندار صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔
سب جونیئر زمرے میں سخت مقابلے کے درمیان عمر خان نے چاندی کا تمغہ جیتا۔ اس دوران وانیہ خان نے بھی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔ تائیکوانڈو کے ماسٹراکبر الدین مغل نےاس شاندار کامیابی پر کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کے کھیلوں کے مقابلوں سے کھلاڑیوں میں صحت مند مقابلے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور انہیں آگے بڑھنے کی ترغیب ملتی ہے۔کھلاڑیوں کی کامیابی پر کھیل سے محبت کرنے والوں اور اہل خانہ نے خوشی کا اظہار کیا۔

uttar pradesh

محرم الحرام خوشیوں، سعادت اور حق پر استقامت کا مہینہ: مفتی ابوالکلام حلیمی

Published

on

(پی این این)
لکھنؤ:آل انڈیا سنی موومنٹ کے زیرِ اہتمام جاری عظیم الشان دینی و اصلاحی ’جلسہ شہدائے اسلام ‘بَرف خانہ، مصاحب گنج، ٹھاکر گنج، لکھنؤ میں عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد ہوا۔ جلسے کی صدارت صدر آل انڈیا سنی موومنٹ سید بلال نورانی نے کی، جبکہ نظامت جنرل سیکریٹری ڈاکٹر محمد متین خان نے انجام دی۔
جلسے کا آغاز حافظ محمد احمد صاحب کی پرسوز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ شعرائے کرام محمد اسامہ، حافظ محمد سعد اور محمد عمران نے بارگاہِ رسالت میں نعت و منقبت کا نذرانہ پیش کیا۔ اس موقع پر علماء کرام، ائمہ مساجد، دانشوران اور عوام الناس کی بڑی تعداد موجود رہی۔
جلسے سے خطاب کرتے ہوئے معروف عالمِ دین مولانا مفتی ابوالکلام حلیمی نے فرمایا کہ محرم الحرام اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے، جو اپنے دامن میں بے شمار عظیم شہادتوں کی سعادت اور عزت سمیٹے ہوئے ہے۔ اگرچہ حضرت حسین کی شہادت اس مہینے کا عظیم ترین واقعہ ہے، لیکن یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا صرف حضرت حسین ہی کی شہادت ماہِ محرم میں ہوئی؟ اور کیا شہادت کا مفہوم رنج و الم اور آنسو بہانا ہے؟
انہوں نے کہا کہ اسلامی تاریخ اس کا واضح جواب دیتی ہے۔ حضرت عمر فاروق کی شہادت بھی ماہِ محرم میں ہوئی، جبکہ حضرت عثمان غنی، سید الشہداء حضرت حمزہ اور دیگر بے شمار جلیل القدر صحابہ کرام نے بھی راہِ خدا میں جامِ شہادت نوش کیا۔ اس لیے محرم کی عظمت صرف ایک تاریخی شہادت کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لیے بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ابتدا ہی سے حرمت والا مہینہ قرار دیا ہے۔مفتی حلیمی نے کہا کہ اسلام میں شہادت غم نہیں بلکہ عزت، سعادت اور دائمی کامیابی کی علامت ہے۔ حضرت حسین کی قربانی امت کو صبر، استقامت، حق پر ڈٹے رہنے اور ظلم کے سامنے نہ جھکنے کا درس دیتی ہے۔ کربلا کا پیغام مایوسی نہیں بلکہ عزم، حوصلہ، قربانی اور دین پر ثابت قدمی کا پیغام ہے۔
اپنے خطاب میں انہوں نے حضرت عمر فاروقؓ کی دعا کا بھی تذکرہ کیا اور کہا کہ رسول اکرم ؐ سے جنت کی بشارت پانے کے باوجود آپؐ کی سب سے بڑی آرزو شہادت تھی۔ آپ دعا فرمایا کرتے تھے۔یعنی: اے اللہ! مجھے اپنی راہ میں شہادت عطا فرما اور میری موت اپنے رسول کے شہر مدینہ میں مقدر فرما۔
انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی شانِ کریمی سے حضرت عمر فاروق کی دونوں دعائیں قبول فرمائیں اور انہیں مدینہ منورہ میں شہادت کی عظیم سعادت عطا فرمائی۔ یہ اس بات کی روشن دلیل ہے کہ اخلاص کے ساتھ مانگی گئی دعا کو اللہ تعالیٰ ایسے انداز سے قبول فرماتا ہے جس کا انسان تصور بھی نہیں کر سکتا۔آخر میں انہوں نے کہا کہ حضرت عمر فاروق کی شہادت اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ شہادت اہلِ ایمان کی آرزو، انبیاء و صالحین کی خواہش اور اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے۔

Continue Reading

uttar pradesh

اردو کے فروغ میں دہلی کالج کی انفرادی خصوصیات کو نہیں کیا جاسکتا نظر انداز:پروفیسر اے آر فتیحی

Published

on

میرٹھ:وہ مدرسہ جو مغلوں کے دور میں قائم ہوا اور آہستہ آہستہ مدرسہ سے کالج میں تبدیل ہوگیا۔ دہلی کالج نے ایسا ذخیرہ اکٹھا کیا جس سے اردو کو فروغ ملا۔ مولوی ذکا ء اللہ نے ترجمہ کے حوالے سے ایک بڑا کام کیا۔1857ء کے ہنگامے کے بعد بہت سی چیزیں ادھر اُدھر ہوگئیں اور یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ دہلی کالج کی ادبی خدمات سے ہمارے اسکالرز نے بڑی تعداد میں استفادہ حاصل کیا۔یہ الفاظ تھے معروف ماہر لسانیات پرو فیسر اے۔ آر فتیحی کے جو شعبہئ اردو اور ایو ساکے زیر اہتمام منعقد ”دہلی کالج کی ادبی خدمات“ موضوع پر مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے اپنی تقریر کے دوران ادا کررہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اردو کے فروغ میں دہلی کالج کی انفرادی خصوصیات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
اس سے قبل پرو گرام کا آغازسعید احمد نے تلا وت کلام پاک سے کیا۔پروگرام کی سرپرستی بین الاقوامی شہرت یافتہ ناقدڈاکٹر تقی عابدی]کناڈا[ اور معروف ناقد و افسانہ نگار اور صدر شعبہئ اردو پروفیسر اسلم جمشید پوری نے فرمائی اور صدارت کے فرائض سابق صدر شعبہئ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پروفیسر صغیر افراہیم نے انجام دیے۔ مہمانان خصوصی کے بطور معروف ماہر لسانیات اے آر فتیحی]شعبہئ لسانیات، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی[ اورجہان ِاردو، دربھنگہ کے مدیر پروفیسر مشتاق احمد نے آن لائن شر کت فرمائی۔مہمانِ اعزازی کے بطور معروف ناقد پروفیسر سر ور ساجد]علی گڑھ مسلم یو نیورسٹی[ شریک ہو ئے۔پروگرام میں ایوسا کی صدر پروفیسر ریشما پروین موجود رہیں۔ مقالہ نگار کے بطور ریسرچ اسکالر اطہر خان نے شر کت کی۔استقبالیہ ڈاکٹر ارشاسیانوی اورنظامت کے فرائض لکھنؤ یونیورسٹی کی شاذیہ خان نے بحسن و خوبی انجام دیے اور شکریے کی رسم محمد عابد نے ادا کی۔
صدر شعبہئ اردو پروفیسر اسلم جمشید پوری نے موضوع کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ دہلی کالج میں غالبؔ بھی پڑھانے کے لیے گئے تھے مگر جس طرح سے دہلی کالج میں غالبؔ کا استقبال ہونا چاہئے تھا اس طرح نہیں ہوا۔ اس لیے غالبؔ وہاں سے واپس آ گئے۔ ماسٹر رام چندر، مولوی ذکا ء اللہ، امام بخش صہبائی، پیارے لال آ شوب وغیرہ نے اردو کو عربی و فارسی کے دائرے سے نکالنے کا کام کیا۔ اردو ادب کی خدمات میں ان کو فرا موش نہیں کیا جاسکتا۔
پروفیسر ریشما پروین نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً تمام کالجز اور یونیورسٹیز کے نصاب میں دہلی کالج کی ادبی خدمات کو شامل کیا گیا ہے۔
آج کے موضوع سے یقینا ہمارے اسکالرز کو کافی فائدہ ہوگا اور ہمارے طلبا بھی اس سے کافی فیض اٹھائیں گے۔
پروفیسر مشتاق احمد نے کہا کہ ہم اردو والوں کے اعتبار سے اس کالج کی بڑی اہمیت ہے۔ مغلیہ عہد میں اس ادارے کا قیام عمل میں آ یا تھا۔یہ کالج صرف ادب کے لیے نہیں تھا۔ اس وقت یورپ میں انقلاب کے بعد جو جدید تعلیم کا آ غاز ہوا اس وقت یورپ تک مغربی ادبیات کو دہلی کالج نے عام کیا اگر دہلی میں کالج کا قیام عمل میں نہ آ تا تو سرسید علی گڑھ میں یونیورسٹی کی بنیاد نہیں ڈال پا تے۔ دہلی کالج کی طرز پر انہوں نے یو نیورسٹی بنائی۔ آج نئی نسل کے لیے یہ ادارہ ایک مثال ثابت ہو سکتا ہے۔
ڈا کٹر تقی عابدی]کناڈا[ نے کہا کہ ادب نما کے پروگرام میں بہت سے مضامین پر بات ہوتی ہے۔ اسلم صاحب نئے نئے موضو عات کا انتخاب کرتے ہیں اور ڈاکٹر ارشاد صاحب تو سدا بہار ہیں الگ الگ موضو عات پر خوب بات کرتے ہیں۔ رام چندر نے ریاضی کو ترجموں کے ذریعے پیش کیا۔ اس حوالے سے انہیں ادب کا پلر یا ستون کہہ سکتے ہیں۔ ہماری قوم کی ترقی تعلیم سے جڑی ہوئی ہے۔ دہلی کالج علوم سائنس کے ساتھ ورنا کلر کی مدد سے سائنس، اردو اور ریاضی کی تعلیم کو فروغ دینے میں آگے رہا۔یہ کالج کچھ سال بند ہوجانے کے بعد سے کسی شکل میں چلا لیکن ہمارے ادیبوں نے اس کے چلانے میں جو اہم خدمات انجام دیں ان کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ دہلی کالج نے دلوں اور دماغوں پر حکومت کی ہے۔
Continue Reading

uttar pradesh

نرجلا ایکادشی کے موقع پر مختلف تنظیموں نے سبیل لگا کر ٹھنڈے مشروبات تقسیم کئے

Published

on

دیوبند:نرجلا ایکادشی کے موقع پر جمعرات کے روز دیوبند میں جگہ جگہ سبیل لگا کر راہ گیروں کو شربت اور ٹھنڈا پانی پلایا گیا ۔دیوبند کے ریلوے روڑ پر واقع قدیم شیو مندر کے بڑے پجاری پنڈت کالیکاپرساد کی سرپرستی میں سبیل لگا کر ٹھنڈا شربت تقسیم کیا گیا ،انہوں نے کہا کہ سناتن تہذیب میں خدمت خلق کو سب سے اہم کام بتایا گیا ہے اس لئے انسانوں کو اپنی زندگی میں ہمیشہ خدمت خلق کے کام انجام دیتے رہنا چاہئے ۔بی جے پی کے شہر صدر ارون گپتا نے پنڈت کالیکا پرساد کو پگڑی پہنا کر اعزاز سے نوازا ۔اس موقع پر وطن گرگ پنڈت بھونیشور پرساد پروہت رام موہن سینی ،وپن پنڈت ،شبھم شرما ،وشال گرگ امیش سینی اور مانگے رام دھیمان وغیرہ موجود رہے ۔وہیں دوسری جانب وشنو چوک پر واقع شری وشنو بھگوان مندر سیوا ٹرسٹ کی جانب سے لگائی جانے والی سبیل کا افتتاح لوک جن شکتی پارٹی کی خواتین سیل کی صوبائی صدر پوجا گرگ نے شمع روشن کرکے کیا ۔اس سبیل سے بھی راہ گیروں کو ٹھنڈا پانی اور شربت تقسیم کیا گیا ۔اس موقع پر منجو شرما ،ریما بنسل ،چھوی بنسل ،ببلی ٹنڈن ،انیتا اگروال وغیرہ موجود رہے ۔اسی طرح گرودوارہ صاحب کی جانب سے لگائی جانے والی سبیل سے بھی بڑی تعداد میں لوگوں کو شربت پلایا گیا ۔ان مقامات کے علاوہ تلہیڑی ،چندینا کولی ،انبولی ،کھیڑی آسا اور دیگر دیہی علاقوں میں بھی عقیدت مندوں نے نرجلا ایکادشی سبیلیں لگاکر راہگیروں کو شربت اور ٹھنڈا پانی پلایا ۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network