Connect with us

uttar pradesh

امروہہ: سماج وادی پارٹی نے انتخابات کی تیاریوں کابجایا بگل

Published

on

(پی این این)
امروہہ:سماج وادی پارٹی اسمبلی حلقہ امروہہ کا ایک اہم اور پرجوش کارکنان اجلاس شہر کے وسط میں واقع شہنائی اتسو منڈپ بینکٹ ہال میں منعقد ہوا، جس میں پارٹی عہدیداران، سیکٹر اور بوتھ سطح کے کارکنان، نوجوانوں اور حامیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اجلاس میں آئندہ 2027 اسمبلی انتخابات کی تیاریوں، تنظیمی مضبوطی اور عوامی رابطہ مہم کو مزید تیز کرنے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ پروگرام میں مہمانِ خصوصی رکن اسمبلی امروہہ و صدر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اتر پردیش حاجی محبوب علی اور نوجوان لیڈر و سابق ایم ایل سی پرویز علی نے خصوصی طور پر شرکت کرتے ہوئے کارکنان سے خطاب کیا۔
اجلاس کے آغاز پر پارٹی کارکنان نے مہمانان کا پُرجوش استقبال کیا۔ اس دوران “جئے سماج واد”، “اکھلیش یادو زندہ باد” اور “پی ڈی اے سماج کے حقوق کی آواز” جیسے نعروں سے پورا ہال گونج اٹھا۔ کارکنان میں خاصا جوش و خروش دیکھنے کو ملا اور نوجوان کارکنان کی بڑی تعداد اجلاس کا مرکز بنی رہی۔اپنے خطاب میں حاجی محبوب علی نے کارکنان کو سماج وادی پارٹی کی اصل طاقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی سیاسی جماعت کی کامیابی اس کے مخلص اور متحرک کارکنان سے وابستہ ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب اسمبلی انتخابات میں ایک سال سے بھی کم وقت باقی رہ گیا ہے، اس لیے ہر کارکن کو ابھی سے میدان میں اتر کر عوام کے درمیان جانا ہوگا۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے قومی صدر اور پی ڈی اے جن نائیک اکھلیش یادو کے پیغامات، سماج وادی پارٹی کی عوامی پالیسیوں اور موجودہ حکومت کی ناکامیوں کو گھر گھر پہنچایا جائے۔
حاجی محبوب علی نے موجودہ حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آج اتر پردیش کا عام آدمی شدید مشکلات کا شکار ہے۔ بجلی کی قلت، بڑھتی بے روزگاری، مہنگائی، کسانوں کے مسائل اور نوجوانوں کی مایوسی نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غریب، مزدور، کسان، تاجر اور متوسط طبقہ سبھی پریشان ہیں لیکن حکومت عوامی مسائل کے حل کے بجائے صرف تشہیر میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں عوام خود کو بے سہارا محسوس کر رہی ہے جبکہ سماج وادی پارٹی ہی ایک ایسی جماعت ہے جو ہر طبقہ کی حقیقی آواز بن کر سامنے آ رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اکھلیش یادو نے ہمیشہ ترقی، تعلیم، صحت، روزگار اور سماجی انصاف کی سیاست کو فروغ دیا ہے۔ سماج وادی حکومت کے دور میں سڑکیں، میڈیکل کالج، ایکسپریس وے، لیپ ٹاپ اسکیم، ایمبولینس سروس اور عوامی فلاح کے متعدد منصوبے شروع کیے گئے تھے، جنہیں آج بھی لوگ یاد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج ملک بھر کے غریب، پسماندہ، دلت، اقلیت اور محروم طبقات کی سب سے مضبوط آواز صرف اکھلیش یادو ہیں۔اس موقع پر نوجوان لیڈر اور سابق ایم ایل سی پرویز علی نے اپنے خطاب میں کہا کہ سماج وادی پارٹی کا ہر کارکن ایک مجاہد کی حیثیت رکھتا ہے جو ناانصافی، ظلم اور جبر کے خلاف ڈٹ کر کھڑا رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کارکنان نے ہمیشہ مشکل حالات میں بھی پارٹی کا پرچم بلند رکھا۔ پرویز علی نے کہا کہ موجودہ وقت میں نفرت اور تقسیم کی سیاست کو ختم کرنے کے لیے سماج وادی نظریہ کو مزید مضبوط کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کارکنان کو کسی بھی دباؤ یا خوف کے بغیر عوامی مسائل کے لیے آواز اٹھاتے رہنا چاہیے۔
اجلاس کے دوران متعدد مقامی عہدیداران اور کارکنان نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور تنظیم کو مزید مضبوط بنانے کا عزم دہرایا۔ بوتھ سطح پر تنظیم کو فعال کرنے، نوجوانوں اور خواتین کی زیادہ سے زیادہ شمولیت اور عوامی رابطہ مہم کو تیز کرنے پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔پروگرام کے اختتام پر پارٹی قیادت نے تمام کارکنان سے اتحاد، نظم و ضبط اور مستقل محنت کے ساتھ میدان میں کام کرنے کی اپیل کی۔ کارکنان نے بھی اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ آئندہ اسمبلی انتخابات میں سماج وادی پارٹی کو تاریخی کامیابی دلانے کے لیے پوری طاقت کے ساتھ کام کریں گے۔ اس موقع پر مسترام یادو ششیکانت گوئل ویربھان سنگھ یادو نرموج یادو نسیم۔خاں اقرار احمد انصاری ستار پردھان اقبال خاں نموج پوان ومپال سنگھ نفیس چودھری انذار حسین ساجد علی ریاض الحسن راجکمار یادو گڈو گھوسی رادھا لال ویر پال گرجر وغیرہ موجود رہی۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

uttar pradesh

مہنگائی پر قابو پانے کا مطالبہ،تاجروں نے صدر جمہوریہ کے نام بھیجامیمورنڈم

Published

on

دیوبند:اتر پردیش ادیوگ ویاپار پرتی ندھی منڈل سہارنپور نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف پیر کے روز صدر جمہوریہ ہند کے نام ضلع مجسٹریٹ کے ذریعے ایک میمورنڈم پیش کرتے ہوئے پٹرول، ڈیزل، گھریلو و کمرشل ایل پی جی گیس کی قیمتوں میں کمی، اتر پردیش میں بجلی کے بلوں پر عائد 10 فیصد فیول سرچارج واپس لینے اور مہنگائی پر مؤثر کنٹرول کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔
میمورنڈم میں کہا گیا کہ ایندھن، گیس اور بجلی کی مسلسل بڑھتی قیمتوں نے تاجروں، چھوٹے صنعت کاروں اور عام صارفین کی مشکلات میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے۔ نقل و حمل کے اخراجات بڑھنے سے ضروری اشیائے خورد و نوش سمیت روزمرہ استعمال کی تمام چیزیں مہنگی ہو رہی ہیں، جس کا براہِ راست اثر عام شہریوں کے ماہانہ بجٹ پر پڑ رہا ہے۔ تاجر تنظیم نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ گھریلو ایل پی جی پر سبسڈی بحال کی جائے، کمرشل گیس سلنڈروں کی قیمتوں میں کمی لائی جائے، بجلی کے بلوں سے فیول سرچارج ختم کیا جائے اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات کم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں تاکہ مہنگائی پر قابو پایا جا سکے۔
تنظیم کے عہدیداروں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت عوام اور تاجر برادری کو ریلیف فراہم نہ کیا گیا تو اس کے منفی اثرات تجارت، روزگار اور عام شہریوں کی زندگی پر مزید گہرے ہوں گے۔ اس موقع پر تنظیم کے سینئر ریاستی نائب صدر دنیش مہیشوری، انیل تیاگی، سورو گَرگ، ہمانشو جین سمیت تنظیم کے متعدد عہدیداران موجود تھے۔

Continue Reading

uttar pradesh

سڑک حادثہ میں بائک سوار2نوجوان کی موت

Published

on

دیوبند:سہارنپور مظفر نگر ہائی وے پر منگل کے روز صبح سویرے ایک سڑک حادثہ میں بائک سوار 29؍ سالہ قمر عالم اور 27سالہ طیب علی کی دردناک موت ہوگئی ۔یہ حادثہ سڑک کنارہ کھڑے ہوئے ٹرک سے بائک کے ٹکراجانے کی وجہ سے ہوا ۔فوت ہونے والے دونوں نوجوان پیشہ سے کارپینٹر تھے اور کام کی غرض سے ہماچل پردیش جارہے تھے ۔موصولہ اطلاع کے مطابق گزشتہ رات کے آخر حصہ میں تقریباً 3؍ بجے کے بعد قمر عالم اور طیب علی مراد آباد سے بذریعہ بائک ہماچل پردیش جانے کے لئے اپنے گھر سے نکلے تھے لیکن صبح 8؍ بجے کے قریب وہ تلہیڑی بزرگ میں واقع بینک کے آس پاس پہنچے تو ان کی تیز رفتا ر بائک بے قابو ہو کر سڑک کنارہ کھڑے ٹرک کے پچھلے حصہ سے جاٹکرائی ۔ٹکر اتنی شدید تھی کہ ہیلمیٹ پہنے ہونے کے باوجود دونوں کے موقع پر ہی دردناک موت ہوگئی ۔اس حادثہ کے بعد ٹرک ڈرائیور اپنا ٹرک لے کر فرار ہوگیا ۔حادثہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور اس نے جائے حادثہ کا معائنہ کرنے کے بعد آس پاس کے لوگوں سے حادثہ سے متعلق تفصیلات معلوم کیں اور دونوں لاشوں کو اپنے قبضہ میں لے لیا ۔
جانچ افسر لوکیش سنگھ نے بتایا کہ حادثہ میں فوت ہونے والے دونوں نوجوانوں کی شناخت ان کے آدھار کارڈ سے ہوئی ہے انہوں نے بتایا کہ قمر عالم بندوشاہ احمد نگر کے گائوں جیت وارا مرادآباد اور طیب علی گووندر پور خورد گائوں تھانہ ویر پور مراد آباد کے باشندے تھے ۔جانچ افسر لوکیش سنگھ نے بتایا کہ ایک نوجوان کی جیب سے ملنے والے موبائل فون کی مدد سے ان کے اہل خانہ سے رابطہ کیا گیا اور انہیں حادثہ کے بارے میں اطلاع دی گئی ۔

Continue Reading

uttar pradesh

تعلیم، صحت اور خواتین کے بااختیار ہونے پر زور؛ راجہ مہندر پرتاپ سنگھ یونیورسٹی کے کانووکیشن میں گورنر آنندی بین پٹیل کا اہم خطاب

Published

on

علی گڑھ:راجہ مہندر پرتاپ سنگھ اسٹیٹ یونیورسٹی کے تیسرے جلسۂ تقسیمِ اسناد (کانووکیشن) کا انعقاد پیر کے روز شیلا گوتم لرننگ سینٹر آڈیٹوریم میں نہایت پروقار ماحول میں انجام پایا۔ تقریب کی صدارت اتر پردیش کی گورنر اور یونیورسٹی کی چانسلر آنندی بین پٹیل نے کی، جبکہ ملک کے نامور سائنس داں، ممتاز ماہرِ حیاتیات اور ماہرِ تعلیم پروفیسر شیخر سی مانڈے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شریک ہوئے۔ اس موقع پر انہیں یونیورسٹی کی جانب سے اعزازی ڈی لِٹ (ڈی ایل آئی آئی ٹی) کی ڈگری سے سرفراز کیا گیا۔

تقریب کے آغاز میں وائس چانسلر پروفیسر نریندر بہادر سنگھ نے معزز مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے یونیورسٹی کی گزشتہ ایک سال کی تعلیمی، تحقیقی اور انتظامی کامیابیوں کا تفصیلی جائزہ پیش کیا، جبکہ رجسٹرار پربدھ سنگھ نے فارغ التحصیل طلبہ و طالبات کو حلف دلایا۔

اس موقع پر گورنر آنندی بین پٹیل نے بٹن دبا کر 51 ہزار 547 طلبہ کی ڈگریوں کو ڈیجی لاکر سے منسلک کرنے کے عمل کا آغاز کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس جدید سہولت سے طلبہ کو اپنی ڈگریاں اور اسناد حاصل کرنے کے لیے یونیورسٹی کے چکر نہیں لگانے پڑیں گے بلکہ وہ دنیا کے کسی بھی مقام سے انہیں بآسانی حاصل کر سکیں گے۔

اپنے خطاب میں گورنر نے کہا کہ “حقیقی جدیدیت انسان کے لباس میں نہیں بلکہ اس کے افکار، کردار اور اخلاقی اقدار میں پوشیدہ ہوتی ہے۔” انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اپنی تہذیب و ثقافت سے وابستہ رہتے ہوئے تعلیم کو قوم کی خدمت اور سماجی ترقی کا ذریعہ بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف ڈگری حاصل کرنا کامیابی نہیں بلکہ معاشرے کے لیے مفید اور باکردار شہری بننا ہی تعلیم کا اصل مقصد ہے۔

انہوں نے کہا کہ راجہ مہندر پرتاپ سنگھ نے آزادی کی جدوجہد اور تعلیم کے فروغ کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں، اس لیے نوجوان نسل کو ان کی زندگی، نظریات اور قومی خدمات سے روشناس کرانا ہر تعلیمی ادارے کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے یونیورسٹیوں میں عظیم شخصیات پر مباحثوں، تقریری مقابلوں اور علمی سرگرمیوں کے انعقاد پر زور دیا۔

گورنر نے کہا کہ اس سال گولڈ میڈل حاصل کرنے والے 50 طلبہ میں 33 طالبات اور 17 طلبہ شامل ہیں، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بیٹیاں ہر میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں۔

انہوں نے صحت کے حوالے سے خطاب کرتے ہوئے 9 سے 14 سال کی بچیوں کے لیے ایچ پی وی ویکسین کو انتہائی ضروری قرار دیا اور کہا کہ بروقت ویکسینیشن کے ذریعے مستقبل میں سروائیکل کینسر جیسے خطرناک مرض سے بچاؤ ممکن ہے۔ انہوں نے اینیمیا کے خاتمے، ٹی بی کے انسداد، خواتین کی تعلیم، کم عمری کی شادی کی روک تھام، معیاری تعلیم، مطالعے کی عادت، شمسی توانائی کے فروغ اور خواتین کو معاشی و سماجی طور پر بااختیار بنانے پر بھی زور دیا۔

تقریب کے دوران آنگن واڑی مراکز کے لیے 200 کھیل اور صحت کٹس تقسیم کی گئیں، جبکہ علی گڑھ، کاس گنج، ہاتھرس اور ایٹہ کی دس آنگن واڑی کارکنان کو علامتی طور پر یہ کٹس پیش کی گئیں۔ گورنر نے ضلع انتظامیہ کی جانب سے ٹی بی کے خاتمے اور دیگر عوامی فلاحی منصوبوں میں انجام دی جانے والی خدمات کو سراہا۔

اس موقع پر دھرم سماج کالج کے ڈاکٹر سریندر پال، ڈاکٹر اجے کمار اور شری وارشنیہ کالج کی پروفیسر گنجن اگروال کو تدریس کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دینے پر اعزازات سے نوازا گیا۔ گورنر نے انہیں اپنی تصنیف “چیلنجز مجھے پسند ہیں” بھی بطور تحفہ پیش کی۔

تقریب میں یونیورسٹی کے زیرِ سرپرستی گود لیے گئے دیہات کی طالبات نے ماحولیات کے تحفظ اور آبی ذخائر کی حفاظت پر مبنی ثقافتی پروگرام پیش کیا، جبکہ لودھا سنولین ودیالیہ کی طالبہ کشش نے “میری ماں” کے عنوان پر تقریر اور نغمہ پیش کر کے سامعین کی بھرپور داد حاصل کی۔

مختلف شعبوں میں گولڈ میڈل حاصل کرنے والوں میں آفرین خان، پراچی اگروال، پریانشی اپادھیائے، شلپی، شروتی گوئل، پرشانت راجپوت، کشاگر گپتا، تیج پال سنگھ، سیا، انوج کمار، شریا مہیشوری، انشیکا وارشنیہ، سوربھی چودھری، کرن شرما، بھونیش تیواری، ابھیشیک تالان، عدنان احمد، انو کماری، ببلی سینگر، دیپالی وارشنیہ، گریما سنگھ، خوشی گپتا، غزل خان، اماں شی شرما، مانوی پاراشر، مسویٰ علی، نیہا چودھری، پرتیبھا، پریانکا بھاردواج، رچا گرگ، شالوی بالیان، شکھر یادو، اُدتیش کماری، یوگیتا سنگھ، سواتی، منجول چودھری، آدرش پرتاپ پنڈیر، مونا، عارف خان، نیتو ورما، انجلی شاکیہ، لَوی مہاجن، انکیتا سنگھ، ایشوریہ سنگھ، ستوتی پرساد، بھوپیندر، جتیندر یادو، وجے کمار مینا اور دیپک ناگر شامل ہیں، جبکہ بی اے کے طالب علم نتن کمار کو گولڈ میڈل کے ساتھ چانسلر میڈل سے بھی نوازا گیا۔

گورنر آنندی بین پٹیل نے گولڈ میڈل حاصل کرنے والے تمام طلبہ کے والدین اور متعلقہ کالجوں کے پرنسپلز کو بھی اسٹیج پر مدعو کیا اور ان کی کامیابی کو سراہتے ہوئے کہا کہ طلبہ کی اس کامیابی میں والدین اور اساتذہ کا کردار بھی قابلِ تحسین ہے۔

اس تقریب میں رکنِ پارلیمنٹ ستیش گوتم، ضلع پنچایت کی چیئرپرسن وجئے سنگھ، رکن اسمبلی انل پراشر، ایم ایل سی ڈاکٹر مانویندر سنگھ، میئر پرشانت سنگھل، بی جے پی ضلع صدر کرشن پال سنگھ، ضلع جنرل سکریٹری شیو نارائن شرما، محکمہ پرچارک گووند جی، ضلع مجسٹریٹ اونیناش کمار، ایس ایس پی نیرج کمار جادون، چیف ڈیولپمنٹ آفیسر یوگیندر کمار، رجسٹرار پربدھ سنگھ، فائنانس کنٹرولر دھیریندر سنگھ، اساتذۂ کرام، انتظامی افسران، عوامی نمائندوں اور طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network