uttar pradesh
عالمی یومِ ماحولیات پر اے ایم یو میں شجرکاری مہمات اور بیداری پروگراموں کا انعقاد
(پی این این)
علی گڑھ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات، مراکز، اسکولوں اور اداروں نے عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پر شجرکاری مہمات، بیداری پروگراموں اور ماحولیاتی سرگرمیوں کا اہتمام کیا اور ماحولیاتی پائیداری اور مثبت موسمیاتی اقدامات کے تئیں اپنے عزم کا اعادہ کیا۔سروجنی نائیڈو ہال کی جانب سے جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج میں شعبہ ریڈئیشن آنکولوجی، ایکو کلب، شعبہ آراضی و باغات اور سماجی تنظیم وِنگز آف ڈیزائر کے اشتراک سے شجرکاری مہم منعقد کی گئی۔ اس دوران کینسر او پی ڈی کے اطراف 50 پودے لگائے گئے۔
ہال کی پرووسٹ پروفیسر عروس الیاس کی نگرانی اور ڈاکٹر رقیہ افروز کی نظامت میں یہ پروگرام منعقد ہوا۔ پرنسپل و چیف میڈیکل سپرنٹنڈنٹ جے این میڈیکل کالج پروفیسر انجم پرویز مہمانِ خصوصی تھے، جبکہ شعبہ آراضی و باغات کے ممبر انچارج پروفیسر انور شہزاد نے مہمانِ اعزازی کی حیثیت سے شرکت کی۔ ڈین فیکلٹی آف میڈیسن پروفیسر محمد خالد، شعبہ وائلڈ لائف سائنسز کے پروفیسر عفیف اللہ خان اور شعبہ ریڈئیشن آنکولوجی کے چیئرمین محمد اکرم بھی بطور خاص موجود تھے۔ کینسر سے صحت یاب ہونے والے افراد نے بھی شجرکاری مہم میں حصہ لیا، جس سے اس مہم کو تقویت ملی۔نیشنل سروس اسکیم (این ایس ایس) نے ویمنس کالج کے اشتراک سے ایک لیکچر اور شجرکاری مہم کا انعقاد کیا۔
مہمانِ خصوصی ڈاکٹر فائزہ عباسی نے کچرے کے بندوبست اور ماحولیاتی اخلاقیات کے مسائل پر روشنی ڈالی، جبکہ ویمنس کالج کے پرنسپل پروفیسر مسعود انور علوی نے فطرت کے تئیں انفرادی ذمہ داری کی اہمیت پر زور دیا۔ پروفیسر رومانہ صدیقی، ڈاکٹر منصور عالم صدیقی، ڈاکٹر فوزیہ فریدی اور ڈاکٹر ندا فاطمہ نے بھی خطاب کیا۔ذاکر حسین کالج آف انجینئرنگ اینڈٹکنالوجی کے شعبہ سول انجینئرنگ نے دی انسٹی ٹیوشن آف انجینئرز (انڈیا) اور این ایس ایس کے تعاون سے شجرکاری مہم اور موسمیاتی اقدامات سے متعلق بیداری پروگرام منعقد کیا۔ پروگرام کی صدارت پروفیسر امجد مسعود نے کی۔ اس موقع پر پروفیسر اتل کمار متل، پروین گپتا، ڈاکٹر وشوناتھ شرما، پروفیسر عتیق احمد اور ڈاکٹر انور علی خان موجود تھے۔ پروفیسر سہیل ایوب، ڈاکٹر عبدالجبار، انجینئر اے کے جھنجھن والا اور پروفیسر ندیم خلیل نے پروگرام کو مربوط کیا، جبکہ ڈاکٹر محسنہ احمد نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔اسی کڑی میں شعبہ معاشیات میں صدر شعبہ پروفیسر شہروز عالم رضوی کی قیادت میں فضائی آلودگی کو کم کرنے میں مددگار پودے لگائے گئے۔ اس موقع پر پروفیسر ایس ایم جاوید اختر، پروفیسر محمد طارق، پروفیسر امتیاز حسنین اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کی پروفیسر لبنیٰ صدیقی موجود رہے۔ شعبہ کی جانب سے ماحولیاتی بیداری کے لیے پوسٹر سازی اور نعرہ نویسی کے مقابلے بھی منعقد کئے گئے۔
دوسری طرف شعبہ ارضیات نے پروفیسر راشد عمر کی قیادت میں، جب کہ کمیونٹی کالج نے پروفیسر مجیب احمد انصاری کی نگرانی میں، اور اے بی کے ہائی اسکول (گرلز) نے ڈاکٹر صبا حسن کی رہنمائی میں شجرکاری مہمات کا انعقاد کیا۔ طلبہ اور عملے کے اراکین نے حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، موسمیاتی ذمہ داری اور پائیدار طرزِ زندگی سے متعلق سرگرمیوں میں حصہ لیا۔کالج آف پیرا میڈیکل سائنسز نے بھی پرنسپل پروفیسر قاضی احسان علی کی قیادت میں شجرکاری اور ماحولیاتی بیداری پروگرام منعقد کیا، جبکہ شعبہ زولوجی نے پروفیسر قدسیہ تحسین کی صدارت میں اسی نوعیت کی سرگرمیوں کا اہتمام کیا، جن میں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور ماحولیاتی پائیداری کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
uttar pradesh
کیمبرج یونیورسٹی میں اے ایم یو کی پروفیسر کی کتاب پر مذاکرہ منعقد
علی گڑھ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ انگریزی کی پروفیسر سمیع رفیق کی حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب ”اِنّوسینٹ ریپچرز: اسٹوریز آن دی نان ہیومن“ (ہواکال، 2026) پر برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کے وولفسن کالج میں ایک مذاکرے کا اہتمام کیا گیا۔ یہ کتاب انسانوں اور غیر انسانی دنیا کے باہمی تعلقات پر روشنی ڈالتی ہے۔
ہائبرڈ انداز میں منعقد ہونے والے اس مذاکرے میں کیمبرج یونیورسٹی کے طلبہ، محققین اور اساتذہ نے شرکت کی، جبکہ دنیا کے مختلف حصوں سے متعدد شرکاء آن لائن شریک ہوئے۔
اپنی کتاب پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے پروفیسر سمیع رفیق نے بتایا کہ ان کی تحریروں پر بچپن کے تجربات اور چرند و پرند سے ان کے تعلق کا گہرا اثر رہا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ماحولیات کے تحفظ اور قدرتی ماحول کی دیکھ بھال کو اپنی ذمہ داری سمجھیں۔
کنگز کالج لندن کے پی ایچ ڈی اسکالر عبدالصبور قدوائی اور اے ایم یو کے شعبہ انگریزی کے ڈاکٹر آیوش گوڑ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
مذاکرے کی نظامت کیمبرج یونیورسٹی کی پی ایچ ڈی اسکالر مس مدیحہ نعمان نے کی۔ تقریب کا اختتام سوال و جواب کے سیشن اور کتاب پر دستخط کی تقریب کے ساتھ ہوا۔
uttar pradesh
قبرستان میں پہنچا بارش کا پانی ،باہر آئیںکئی لاشیں ، لوگوں کااظہارغم
دیوبند:سہارنپور ضلع کے گاگلہیڑی علاقہ کے سونا سید ماجرا گاؤں میں دریا کا تیزی سے کٹاؤ قبرستان تک پہنچ گیا اور کئی لاشیں باہر نکل گئی، اس کی اطلاع ملتے ہی گاؤں والے جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور آنسو بہاتے ہوئے اپنے پیاروں کی لاشوں کو تلاش کرنے لگے۔ لاشوں کو مذہبی رسومات کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔
سونا سید ماجرا قبرستان ہنڈن ندی کے کنارے واقع ہے۔ پچھلے دو دنوں سے مسلسل بارش اور شیوالک علاقہ سے تیز دھارے کی وجہ سے ندی کی سطح آب میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ پانی قبرستان تک پہنچ گیا اور کٹاؤ شروع ہو گیا۔ دریں اثنا، تقریباً چھ ماہ قبل دفن کی گئی دو لاشیں ان کی قبروں سے نکلیں۔ اس کی اطلاع ملتے ہی گاؤں والے قبرستان پہنچ گئے اور اپنی قبریں تلاش کرنے لگے۔
گاؤں کے پردھان شاہ زیب حسین نے بتایا کہ ندی میں تجاوزات اور واٹر کورس میں تبدیلی کی وجہ سے دریا کا بہاؤ قبرستان کی طرف بڑھ گیا ہے۔ نتیجتاً ندی کا پانی قبرستان کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے جس سے مسلسل کٹاؤ ہو رہا ہے۔ اطلاع ملنے پر تھانہ انچارج دھرمیندر کمار اور محکمہ ریونیو کی ایک ٹیم نے صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے قبرستان اور ندی کے پانی کی سطح کا معائنہ کیا۔
نائب تحصیلدار ببلو کمار اور نائب تحصیلدار اسمرتی شکلا نے بتایا کہ دونوں لاشوں کو ریونیو ٹیم کی موجودگی میں دوبارہ دفنایا گیا ہے۔ پورے معاملے کی تفتیش جاری ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ تیار کرکے اعلیٰ حکام کو بھیجی جائے گی تاکہ ضروری کارروائی کی جاسکے۔
اس پورے واقعہ سے گاؤں میں تشویش اور غم کا ماحول ہے۔ دیہاتیوں کا کہنا ہے کہ دریا کے تیز بہاؤ سے قبرستان کا بڑا حصہ متاثر ہوا ہے جس سے خدشہ ہے کہ اگر پانی کی سطح مزید بلند ہوئی تو دیگر قبروں کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
uttar pradesh
سہارنپور میں فوڈ سیفٹی محکمہ کی کارروائی
دیوبند:ریاستی حکومت کی ہدایات اور ضلع مجسٹریٹ کے احکامات کے مطابق ضلع میں غذائی اشیاء کے معیار کو یقینی بنانے اور ملاوٹ پر مؤثر روک لگانے کے لیے فوڈ سیفٹی اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن محکمہ کی خصوصی مہم مسلسل جاری ہے۔
اسی سلسلے میں چیف فوڈ سیفٹی آفیسر پنکج کمار گپتا کی قیادت میں چھجوپورہ انڈسٹریل ایریا میں واقع شیو لوک فوڈ پروڈکٹ پر چھاپہ مار کارروائی کی گئی۔
معائنہ کے دوران ادارے میں اچار، ٹماٹو ساس، ریڈ چلی ساس، سویا ساس اور مصنوعی سرکہ فروخت کے لیے تیار حالت میں پائے گئے، جبکہ موقع پر اچار کی پیکنگ کا کام بھی جاری تھا۔ فوڈ سیفٹی ٹیم نے شبہ کی بنیاد پر فروخت کے لیے تیار رکھے گئے ٹماٹو ساس اور ریڈ چلی ساس کے دو نمونے حاصل کر کے فوڈ اینالیسس لیبارٹری بھیج دیے ہیں۔ محکمہ کے مطابق جانچ رپورٹ موصول ہونے کے بعد فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ معائنہ کے دوران ادارے میں پائی جانے والی بعض خامیوں کی بنیاد پر انتظامیہ کو امپروومنٹ نوٹس جاری کیا جا رہا ہے اور مقررہ مدت کے اندر ضروری اصلاحات مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
اس کارروائی میں فوڈ سیفٹی آفیسران جگدمبا پرساد، جواہر لال، ونود کمار، کلدیپ تیواری اور امت گوتم بھی شریک رہے۔ چیف فوڈ سیفٹی آفیسر پنکج کمار گپتا نے کہا کہ ضلع میں عوام کو معیاری اور خالص غذائی اشیاء کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے چھاپہ مار کارروائیاں اور سیمپلنگ کی مہم آئندہ بھی مسلسل جاری رہے گی۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
بہار8 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
دلی این سی آر11 months agoاردو اکادمی دہلی کے تعلیمی و ثقافتی مقابلے میں کثیر تعداد میں اسکولی بچوں نےلیا حصہ
