تازہ ترین
ووٹ چوری کے خلاف کانگریس کاانوکھا احتجاج، بھجن گا کر جمہوری انداز میں کیامظاہرہ، مودی اور گیانیش کمار سے استعفیٰ کا مطالبہجینیس اکیڈمی فار بس گنج میں ندا فاضلی کی ادبی خدمات کا اعتراف ،پرنسپل نوشاد عالم کوملی ان کی شاعری کی شاندار سوغاتمحمد متفق احمد کواپنی شاندار خدمات کا ملا انعام,تفتیش، آپریشن اور سکیورٹی کے میدان میں نمایاں کارکردگی کے عوض آئی پی ایس میں دی گئی ترقیجامعہ ملیہ اسلامیہ میں یو پی ایس سی میلہ کے دوسرے ایڈیشن کا انعقاداولیوودیا گرلز اکیڈمی نیوز لیٹر کا رسم اجرا ء اور پیرنٹس ٹیچرز میٹنگ کا شاندار انعقاداے ایم یو کی جانب سے کل ہند مضمون نویسی مقابلہ 2026 کے نتائج کا اعلاناے ایم یو کے مختلف شعبوں کےتحت دماغی صحت سے متعلق بیداری پروگرامآیوروید اور ہربل طب کے شعبے میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں پرنس محبوب رحمانی کوڈاکٹریٹ کی ڈگری سےکیا گیا سرافراز
دلی این سی آر

سواتی مالیوال نے کہا- پاکستان کی زبان بول رہے ہیں کیجریوال

سواتی مالیوال

(پی این این)
نئی دہلی :پہلگام میں دہشت گردانہ حملے کے بعد ہندوستانی فوج نے آپریشن سندھ کے تحت پاکستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ اس کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی پائی جاتی ہے۔

اس دوران راجیہ سبھا کی رکن سواتی مالیوال نے عام آدمی پارٹی کے کنوینر اور سابق سی ایم اروند کیجریوال اور پارٹی لیڈروں کو گھیر لیا۔ سواتی نے اپنی ایکس پوسٹ میں الزام لگایا کہ کیجریوال اپنے لیڈروں کو جو کچھ کہہ رہے ہیں، وہی زبان پاکستان کے لیڈر اور فوج بول رہی ہے۔سواتی مالیوال نے اپنی پوسٹ میں لکھا کیجریوال جی، جو باتیں آپ مختلف لیڈر پریس کانفرنسوں میں کہہ رہے ہیں، وہی زبان پاکستان کے لیڈر اور فوج استعمال کر رہی ہے۔ آپ اپنی باتوں سے ایک بار پھر فوج اور ملک کے حوصلے پست کر رہے ہیں۔

آپ پاکستان کے پروپیگنڈے کو کیوں وزن دینے کی کوشش کر رہے ہیں؟ آپ کے بیانات پاکستانی میڈیا چلا رہے ہیں۔ سواتی نے کیجریوال کو مشورہ دینے والے لہجے میں کہا، یہ وقت ملک کے ساتھ کھڑے ہونے کا ہے۔ یہ معمولی سیاست کا وقت نہیں ہے۔ایکس پر پوسٹ کی گئی اس ٹویٹ پر دونوں طرح کے تبصرے موصول ہوئے۔ کچھ لوگ سواتی کی حمایت کرتے اور کچھ کیجریوال کی حمایت کرتے نظر آئے۔ The Citizen of India کے نام سے ایک اکاو ¿نٹ نے لکھا – آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ کیجریوال جی کے لیے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ جب بھی ملک کو اتحاد کی ضرورت ہوتی ہے تو ایسے بیانات دیتے ہیں جس سے ملک کی بجائے دشمن کے بیانیے کو تقویت ملتی ہے۔
اس کے ساتھ ہی کاویہ انڈیا نامی صارف نے لکھا – کم از کم آپ کو کچھ نہیں کہنا چاہیے۔ کیا پاکستان سے POK چھیننے کی بات پاکستان کی زبان ہے؟ حکومت سے سوال کرنا کہ جنگ کو درمیان میں کیوں چھوڑ دیا گیا یہ پاکستان کی زبان ہے۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔