Connect with us

uttar pradesh

دنیش کمار وششٹھ نے سماج سے جو لیا تھا وہ سماج کو لو ٹا دیا:پروفیسر اسلم جمشید پوری

Published

on

میرٹھ:بڑے دکھ اور افسوس کی بات ہے کہ آج ہم دنیش کمار جی کی یاد میں جلسہ منعقد کررہے ہیں۔ کل تک وہ ہمارے درمیان تھے۔ان کی باتیں، ان کی یادیں سب ہمارے ساتھ تھیں۔ آج بھی ایسا محسوس ہورہا ہے کہ جیسے وہ ابھی آ جائیں۔ میں ان کی ہمت و حوصلہ کو سلام کرتا ہوں۔ انہوں نے زندگی کی مشکلات کے باوجود خندہ پیشانی سے اس کا استقبال کیا اور ایک بھر پور زندگی جی۔ ان کے اندر جو حوصلہ اورہمت تھی وہ بہت کم لوگوں میں ہوتی ہے اور انہوں نے یہی ہمت اور حوصلہ اپنی بیٹی اور اپنی اہلیہ میں پیدا کی۔ وہ بیٹی سے بہت پیار کرتے تھے اور بالکل قریبی دوستوں کی طرح رہا کرتے تھے۔یہ الفاظ تھے معروف ادیب و ناقد اور صدر شعبہئ اردو پروفیسر اسلم جمشید پوری کے جو یہاں شعبہئ اردو کے پریم چند سیمینار ہال میں منعقد”آنجہانی شری دنیش کمار وششٹھ کی یاد میں تعزیتی جلسہ“ میں اپنی تقریر کے دوران ادا کررہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دنیش کمار صاحب نے اپنی زندگی کا ایک ایک پل بہت اچھی طرح سے گزارا۔ وہ بیما ری کے دوران بھی اسکوٹر سے یہاں آتے رہے۔ انہیں شعبے سے بہت لگاؤ تھا۔انہوں نے مختلف کام کیے۔ وہ ایک اچھے ڈاکٹر بھی تھے۔دنیش کمار وششٹھ نے سماج سے جو لیا تھا وہ سماج کو لو ٹا دیا۔ انہوں نے اپنی بیٹی اور اہلیہ کو آ گے بڑھا نے کا م کیا۔ان کا کہنا یہ ہی تھا کہ جو بھی اچھا کرو۔یہ نہ صرف ڈاکٹر الکا وششٹھ کا بلکہ ہمارا ذاتی نقصان ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی روح کو سکون دے۔
اس سے قبل پرو گرام کا آ غاز فاروق شیروانی نے تلا وت کلام پاک سے کیا اور نظا مت کے فرا ئض ڈاکٹر ارشاد سیانوی نے انجام دیے۔اس موقع پر اپنے خیال کا اظہار کرتے ہوئے معروف آرٹسٹ انل شرما نے کہا کہ دنیش کمار وششٹھ صاحب کے جانے سے میں بہت غمگین ہوں۔ اس دکھ کی گھڑی میں مجھے کچھ سجھائی نہیں دے رہا ہے۔ لیکن ڈاکٹر الکا وششٹھ نے اپنے شوہر کی بڑی جی جان سے بہت خد مت کی وہ جہاں بھی ہوں پر سکون ہوں اور ایشور ان کو شانتی دے اور بیٹی اور الکا جی کو اس دکھ کو برداشت کر نے کی ہمت عطا فر مائے۔
معروف فن کار بھا رت بھوشن شرما نے کہا کہ یہ بالکل حقیقت ہے کہ جو اس دنیا میں آ یا ہے اس کو جانا ہی ہے۔ ڈاکٹر الکا وششٹھ کے دکھ کا اندازہ ہم لگا سکتے ہیں۔ دنیش وششٹھ صاحب سے جب بھی میری ملا قات ہو ئی ہمیشہ میں نے انہیں خوش اخلاق پایا۔ نہایت مخلص انسان تھے۔شبھرا وششٹھ نے کہا کہ میں سب سے پہلے آپ تمام حضرات کا شکریہ ادا کرتی ہوں جومیرے پاپا کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے آئے۔ میرے پاپا میری طاقت تھے۔اب ایسا لگتا ہے کہ ہم سب کچھ ہار چکے ہیں۔ ان کے بغیر خالی پن تو ہمیشہ رہے گا۔میں پوری کوشش کروں گی کہ اپنے پاپا کے خوا بوں کو شرمندہئ تعبیر کرسکوں۔
آفاق احمد خاں نے کہاکہ جب کو انسان جدا ہوتا ہے تو اس کے بعد دکھ کے لمحات آ تے ہیں۔ باپ بیٹی کا اور میاں بیوی کا رشتہ کتنا مضبوط ہوتا ہے اور دونوں کے سروں سے گھنے سایہ کا اٹھ جانا واقعی بڑا تکلیف دہ مرحلہ ہوتا ہے لیکن یہ بھی حقیقت کہ آج ہما ری کل تمہاری باری ہے۔ ہم کو جانا ہی پڑے گا۔ کیو نکہ ہماری ڈور کسی اور کے ہاتھ ہے۔ ڈاکٹر الکا وششٹھ بہت با ہمت خاتون ہیں۔ شعبے سے ان کا لگاؤ، طالب علموں کے لیے ان کے جذبات، ان کی محنت اور خلوص تو ظا ہر سی بات ہے کہ ان کے شو ہر بھی ایسے ہی کردار کے مالک ہوں گے۔ میں شری دنیش کمار وششٹھ صاحب کو دل کہ گہرا ئیوں سے خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔
شعبے کے استاد ڈاکٹر آ صف علی نے کہا کہ یہ کہنا بہت آ سان ہوتا ہے کہ جو یہاں آ یا ہے اسے جانا ہی ہے۔لیکن اصل حال تو وہی جانتے ہیں جن کے گھر سے کوئی جاتا ہے۔دنیش کمار وششٹھ صاحب سے میری بارہا ملاقاتیں ہو ئیں وہ نہایت سادہ مزاج، سلیس انداز بیا ن اور صاف طبیعت رکھنے والے انسان تھے۔جو بات دل میں رکھتے تھے بہت جلد زبان پر لے آتے۔نہایت مخلص اور مہذب انسان تھے۔وہ طویل عرصے سے بیمار تھے لیکن اس کے باوجود نہایت پرسکون اور اس زمانے میں سکون انہی کو حاصل ہوسکتا ہے جس نے انسانیت کے لیے کام کیا ہو۔میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ انہیں شانتی دے اور ان کی بیٹی اور اہلیہ کو صبر دے۔ اس دکھ کی گھڑی میں ہم سب آپ کے ساتھ ہیں۔

uttar pradesh

کیمبرج یونیورسٹی میں اے ایم یو کی پروفیسر کی کتاب پر مذاکرہ منعقد

Published

on

علی گڑھ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ انگریزی کی پروفیسر سمیع رفیق کی حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب ”اِنّوسینٹ ریپچرز: اسٹوریز آن دی نان ہیومن“ (ہواکال، 2026) پر برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کے وولفسن کالج میں ایک مذاکرے کا اہتمام کیا گیا۔ یہ کتاب انسانوں اور غیر انسانی دنیا کے باہمی تعلقات پر روشنی ڈالتی ہے۔
ہائبرڈ انداز میں منعقد ہونے والے اس مذاکرے میں کیمبرج یونیورسٹی کے طلبہ، محققین اور اساتذہ نے شرکت کی، جبکہ دنیا کے مختلف حصوں سے متعدد شرکاء آن لائن شریک ہوئے۔
اپنی کتاب پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے پروفیسر سمیع رفیق نے بتایا کہ ان کی تحریروں پر بچپن کے تجربات اور چرند و پرند سے ان کے تعلق کا گہرا اثر رہا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ماحولیات کے تحفظ اور قدرتی ماحول کی دیکھ بھال کو اپنی ذمہ داری سمجھیں۔
کنگز کالج لندن کے پی ایچ ڈی اسکالر عبدالصبور قدوائی اور اے ایم یو کے شعبہ انگریزی کے ڈاکٹر آیوش گوڑ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
مذاکرے کی نظامت کیمبرج یونیورسٹی کی پی ایچ ڈی اسکالر مس مدیحہ نعمان نے کی۔ تقریب کا اختتام سوال و جواب کے سیشن اور کتاب پر دستخط کی تقریب کے ساتھ ہوا۔

Continue Reading

uttar pradesh

قبرستان میں پہنچا بارش کا پانی ،باہر آئیںکئی لاشیں ، لوگوں کااظہارغم

Published

on

دیوبند:سہارنپور ضلع کے گاگلہیڑی علاقہ کے سونا سید ماجرا گاؤں میں دریا کا تیزی سے کٹاؤ قبرستان تک پہنچ گیا اور کئی لاشیں باہر نکل گئی، اس کی اطلاع ملتے ہی گاؤں والے جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور آنسو بہاتے ہوئے اپنے پیاروں کی لاشوں کو تلاش کرنے لگے۔ لاشوں کو مذہبی رسومات کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔
سونا سید ماجرا قبرستان ہنڈن ندی کے کنارے واقع ہے۔ پچھلے دو دنوں سے مسلسل بارش اور شیوالک علاقہ سے تیز دھارے کی وجہ سے ندی کی سطح آب میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ پانی قبرستان تک پہنچ گیا اور کٹاؤ شروع ہو گیا۔ دریں اثنا، تقریباً چھ ماہ قبل دفن کی گئی دو لاشیں ان کی قبروں سے نکلیں۔ اس کی اطلاع ملتے ہی گاؤں والے قبرستان پہنچ گئے اور اپنی قبریں تلاش کرنے لگے۔
گاؤں کے پردھان شاہ زیب حسین نے بتایا کہ ندی میں تجاوزات اور واٹر کورس میں تبدیلی کی وجہ سے دریا کا بہاؤ قبرستان کی طرف بڑھ گیا ہے۔ نتیجتاً ندی کا پانی قبرستان کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے جس سے مسلسل کٹاؤ ہو رہا ہے۔ اطلاع ملنے پر تھانہ انچارج دھرمیندر کمار اور محکمہ ریونیو کی ایک ٹیم نے صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے قبرستان اور ندی کے پانی کی سطح کا معائنہ کیا۔
نائب تحصیلدار ببلو کمار اور نائب تحصیلدار اسمرتی شکلا نے بتایا کہ دونوں لاشوں کو ریونیو ٹیم کی موجودگی میں دوبارہ دفنایا گیا ہے۔ پورے معاملے کی تفتیش جاری ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ تیار کرکے اعلیٰ حکام کو بھیجی جائے گی تاکہ ضروری کارروائی کی جاسکے۔
اس پورے واقعہ سے گاؤں میں تشویش اور غم کا ماحول ہے۔ دیہاتیوں کا کہنا ہے کہ دریا کے تیز بہاؤ سے قبرستان کا بڑا حصہ متاثر ہوا ہے جس سے خدشہ ہے کہ اگر پانی کی سطح مزید بلند ہوئی تو دیگر قبروں کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

Continue Reading

uttar pradesh

سہارنپور میں فوڈ سیفٹی محکمہ کی کارروائی

Published

on

دیوبند:ریاستی حکومت کی ہدایات اور ضلع مجسٹریٹ کے احکامات کے مطابق ضلع میں غذائی اشیاء کے معیار کو یقینی بنانے اور ملاوٹ پر مؤثر روک لگانے کے لیے فوڈ سیفٹی اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن محکمہ کی خصوصی مہم مسلسل جاری ہے۔
اسی سلسلے میں چیف فوڈ سیفٹی آفیسر پنکج کمار گپتا کی قیادت میں چھجوپورہ انڈسٹریل ایریا میں واقع شیو لوک فوڈ پروڈکٹ پر چھاپہ مار کارروائی کی گئی۔
معائنہ کے دوران ادارے میں اچار، ٹماٹو ساس، ریڈ چلی ساس، سویا ساس اور مصنوعی سرکہ فروخت کے لیے تیار حالت میں پائے گئے، جبکہ موقع پر اچار کی پیکنگ کا کام بھی جاری تھا۔ فوڈ سیفٹی ٹیم نے شبہ کی بنیاد پر فروخت کے لیے تیار رکھے گئے ٹماٹو ساس اور ریڈ چلی ساس کے دو نمونے حاصل کر کے فوڈ اینالیسس لیبارٹری بھیج دیے ہیں۔ محکمہ کے مطابق جانچ رپورٹ موصول ہونے کے بعد فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ معائنہ کے دوران ادارے میں پائی جانے والی بعض خامیوں کی بنیاد پر انتظامیہ کو امپروومنٹ نوٹس جاری کیا جا رہا ہے اور مقررہ مدت کے اندر ضروری اصلاحات مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
اس کارروائی میں فوڈ سیفٹی آفیسران جگدمبا پرساد، جواہر لال، ونود کمار، کلدیپ تیواری اور امت گوتم بھی شریک رہے۔ چیف فوڈ سیفٹی آفیسر پنکج کمار گپتا نے کہا کہ ضلع میں عوام کو معیاری اور خالص غذائی اشیاء کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے چھاپہ مار کارروائیاں اور سیمپلنگ کی مہم آئندہ بھی مسلسل جاری رہے گی۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network