دلی این سی آر
اردو اکادمی دہلی کی اردو تھیٹر ورکشاپ کا شاندار اختتام
(پی این این)
نئی دہلی: اردو اکادمی، دہلی کی تھیٹر ورکشاپ اپنی نوعیت کا ایک منفرد اور مسلسل جاری رہنے والا پروگرام ہے۔ گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی اردو تھیٹر ورکشاپ کے دو مراکز قائم کیے گئے تھے کریسنٹ اسکول، موج پور اور اردو اکادمی دہلی کے دفتر کا احاطہ۔ ہندوستان میں شاید ہی کوئی دوسری ادبی و ثقافتی اکادمی ہو جو تقریباً تین دہائیوں سے مسلسل بچوں کے لیے باضابطہ ڈراما ورکشاپ کا انعقاد کرتی آ رہی ہو۔ اس ورکشاپ کے ذریعے بچوں کو اداکاری، مکالمہ ادائیگی، اسٹیج کے آداب اور اردو تھیٹر کی روایت سے عملی طور پر روشناس کرایا جاتا ہے۔وزیر برائے فن، ثقافت و السنہ اور چیئرمین اردو اکادمی ،دہلی کپل مشرا کی خصوصی توجہ، تعاون اور سرپرستی کے باعث ہی سمر کیمپ اور اردو تھیٹر ورکشاپ کا کامیاب انعقاد ممکن ہو سکا۔
منڈی ہاؤس کے سری رام سینٹر میں منعقدہ اختتامی پروگرام میں بڑی تعداد میں ایسے افراد بھی شریک ہوئے جن کا تعلق غیر اردو پس منظر سے تھا۔ اس موقع پر ایک خاتون نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’ ’یہ میری زندگی کا پہلا موقع ہے کہ میں اردو اکادمی کے کسی پروگرام میں شریک ہوئی ہوں۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ بچوں کی صلاحیتوں پر مبنی اتنا خوبصورت اور معیاری پروگرام بھی پیش کیا جا سکتا ہے۔‘‘دیگر حاضرین نے بھی بچوں کی شاندار کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ صرف بائیس دن کی محنت میں بچوں نے جس اعتماد اور مہارت کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا، وہ حیرت انگیز اور قابلِ ستائش ہے۔ ان کے مطابق اردو اکادمی، دہلی اس کامیاب کاوش پر مبارک باد کی مستحق ہے۔
دوسرے روز کا پروگرام اپنے مقررہ وقت پر ریشماں فاروق کی دلکش نظامت میں شروع ہوا۔ اردو اکادمی، دہلی کے سینئر اراکین محمد ہارون اور عزیز حسین قدوسی نے فنکاروں کو گلدستہ پیش کر کے استقبال کیا۔
پروگرام کا پہلا حصہ سمر کیمپ میں تیار کردہ داستان گوئی پر مشتمل تھا، جس میں نو بچوں نے جناب ساحل آغا اور محترمہ اسما رحمان کی رہنمائی میں اپنی داستانیں پیش کیں۔ افرا افتخار نے ’’چچا چھکن‘‘، سمرین نے ’’نیکی کا فرشتہ‘‘، محمد عمر نے ’’شیر اور خرگوش‘‘، افرح حریم نے ’’ایمانداری‘‘، زویا نے ’’بڑوں کی عزت‘‘، یاسین نوشاد نے ’’کپڑوں کی دعوت‘‘، انشا محبوب نے ’’دنیا کی سب سے قیمتی چیز کیا ہے؟‘‘، ایمن فاطمہ نے ’’محنتی کسان اور اس کے آلسی بیٹے‘‘ اور عنایہ عظیم نے ’’میں بچ گئی ماں‘‘ کے عنوانات سے اپنی داستانیں پیش کیں۔
پروگرام کا دوسرا حصہ سمر کیمپ میں تیار کردہ غزل گائیکی پر مشتمل تھا۔ جویریہ نے ’’بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے‘‘، تسمیہ نے ’’اگر ہم کہیں اور وہ مسکرا دیں‘‘ اور عامرہ نے ’’یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا‘‘ پیش کر کے سامعین سے خوب داد حاصل کی۔ ان کے ساتھ ہارمونیم پر ان کے موسیقی استاد جناب ذیشان ضمیر اور طبلے پر غلام صابر نے شاندار سنگت پیش کی۔
بعد ازاں اردو تھیٹر ورکشاپ میں تیار کردہ مزاحیہ ڈراما ’’گدھے کا گدھا‘‘ پیش کیا گیا۔ ڈرامے کی کہانی جمن میاں اور ان کے محبوب گدھے ’’جنّوں میاں‘‘ کے گرد گھومتی ہے، جسے وہ تعلیم دلا کر انسان بنانا چاہتے ہیں۔ مختلف مناظر پر مشتمل اس ڈرامے میں معاشرتی مسائل کی عکاسی کے ساتھ کئی اہم پیغامات بھی پیش کیے گئے۔تقریباً ایک گھنٹے پر مشتمل اس ڈرامے میں اٹھائیس ننھے اداکاروں نے اپنی شاندار اداکاری سے حاضرین کو محظوظ کیا اور بھرپور داد حاصل کی۔
دونوں روز کے پروگراموں نے ثابت کر دیا کہ اردو اکادمی، دہلی کا سمر کیمپ اور تھیٹر ورکشاپ ہر اعتبار سے کامیاب رہا۔ ان دو دنوں میں 17بچوں نے داستان گوئی،5 بچوں نے غزل گائیکی اور71 بچوں نے ڈراموں میں حصہ لیا۔پروگرام میں ڈراما اور ادب سے وابستہ شخصیات کے علاوہ ڈاکٹر شعیب رضا خاں وارثی، ڈاکٹر شاہنواز فیاض، ڈاکٹر فرمان چودھری، حبیب سیفی، عرفان راہی، شاکر دہلوی، مختلف اسکولوں کے اساتذہ و طلبہ اور بچوں کے والدین نے بھی شرکت کی۔
دلی این سی آر
ملک کو اب تعلیمی انقلاب کی سخت ضرورت: منیش سسودیا
نئی دہلی، 19 جولائی: دہلی میں تعلیمی انقلاب کے معمار اور سابق وزیرِ تعلیم منیش سسودیا اتوار کو سونم وانگچک کی حمایت میں جنتر منتر پہنچے، جہاں انہوں نے تعلیمی نظام میں انقلابی اصلاحات کا مطالبہ کرنے والے نوجوانوں کے حوصلے کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ اب ملک کو ایک حقیقی تعلیمی انقلاب کی اشد ضرورت ہے، اور اس انقلاب کا پہلا مرحلہ ملک کو پیپر مافیا سے نجات دلانا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آج صرف امتحانی پرچے ہی فروخت نہیں ہو رہے بلکہ ہمارے بچوں کا مستقبل بھی بازار میں نیلام کیا جا رہا ہے۔ یہ جدوجہد اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ ملک میں آگے وہ طالب علم بڑھے گا جو محنت کرتا ہے یا وہ شخص جو دولت اور رسوخ کے بل پر امتحانی پرچہ خرید لیتا ہے۔منیش سسودیا نے کہا کہ سونم وانگچک نے تعلیمی انقلاب کے لیے اپنی جان اور صحت کو داؤ پر لگا دیا ہے، مگر وزیرِ اعظم نے اپنے لوگوں کو بھیج کر “سفید چادر والا جادو” دکھایا اور سونم وانگچک کو وہاں سے ہٹا دیا۔ کاش! یہی جادو وزیرِ تعلیم کی کرسی پر دکھایا جاتا تو دھرمیندر پردھان اپنی کرسی سے غائب ہو جاتے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ یہ کسی سیاسی جماعت کی لڑائی نہیں بلکہ ہمارے بچوں کے مستقبل کی جنگ ہے۔ پیر کے روز ملک بھر کے نوجوان جنتر منتر سے پارلیمنٹ تک مارچ کریں گے، اس لیے تمام جماعتوں کے حامی اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے ضرور جنتر منتر پہنچیں۔منیش سسودیا نے کہا کہ وہ آج جنتر منتر اس لیے آئے ہیں تاکہ تعلیمی انقلاب کے سپاہیوں کو سلام پیش کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں کئی طرح کے انقلابات آ چکے ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ ایک تعلیمی انقلاب بھی برپا ہو۔ انہیں فخر ہے کہ آج نوجوان اور طلبہ اس انقلاب کی قیادت کر رہے ہیں۔ اگر تین ماہ پہلے کوئی کہتا کہ تعلیمی اصلاحات اور امتحانی گھوٹالوں کے خلاف انقلاب آئے گا تو شاید لوگ مذاق اڑاتے، مگر آج نئی نسل نے ثابت کر دیا ہے کہ تعلیمی انقلاب بھی ممکن ہے۔ ملک کو واقعی ایک تعلیمی انقلاب کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ تعلیمی انقلاب کی سب سے پہلی ضرورت ملک کو پیپر مافیا سے آزادی دلانا ہے۔ اسی مقصد کے لیے بڑی تعداد میں نوجوان جنتر منتر پر دھرنا دیے ہوئے ہیں۔ اگرچہ یہ دھرنا “کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی)” کے بینر تلے جاری ہے اور مختلف سیاسی جماعتوں کے لوگ یہاں آ رہے ہیں، لیکن درحقیقت یہ تحریک ملک کو پیپر مافیا سے نجات دلانے کی ایک تعلیمی تحریک ہے۔ اس تحریک کا بوجھ ابھیجیت دیپکے، آشوتوش رانکا، سوربھ داس، ہماری بیٹیوں اور سونم وانگچک نے اپنے کندھوں پر اٹھایا ہے، جنہوں نے اپنی جان تک داؤ پر لگا دی۔ منیش سسودیا نے کہا کہ وہ ہفتہ کے روز سوشل میڈیا پر ویڈیوز دیکھ رہے تھے اور حیران تھے کہ وزیرِ اعظم مسلسل بیس دن تک سونم وانگچک کو نظر انداز کرتے رہے۔ جب انہیں محسوس ہوا کہ نوجوانوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے تو انہوں نے “سفید چادر والا جادو” دکھایا۔ بچپن میں جیسے جادوگر سفید چادر لہرا کر کسی شخص کو غائب کر دیتا تھا، ویسے ہی سفید چادر اوڑھے افراد کو بھیج کر سونم وانگچک کو اسٹیج سے ہٹا کر اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ سوچ رہے تھے کہ اگر وزیرِ اعظم یہی جادو وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کی کرسی کے سامنے دکھا دیتے تو وہ بھی اپنی کرسی سے غائب ہو جاتے۔ اگر واقعی وزیرِ اعظم کو یہ جادو آتا ہے تو وہ دھرمیندر پردھان کی کرسی کے سامنے جا کر ایک بار ضرور دکھائیں۔ سونم وانگچک کو جنتر منتر سے ہٹا دینے سے یہ تحریک ختم نہیں ہوگی بلکہ ہفتہ کی صبح کے بعد سے یہ تحریک مزید مضبوط اور وسیع ہو گئی ہے۔ منیش سسودیا نے کہا کہ ہمارے ملک میں یہ نظام ہے کہ طالب علم نے صحیح تعلیم حاصل کی یا نہیں، اس کے لیے امتحان لیا جاتا ہے، جبکہ امتحان شفاف طریقے سے منعقد ہوا یا نہیں، یہ حکومت کا امتحان ہوتا ہے۔ اگر کوئی طالب علم امتحان میں ناکام ہو جائے تو اسے اگلی جماعت میں جانے سے روک دیا جاتا ہے، لیکن وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان خود امتحانات کے انعقاد میں ناکام ہو چکے ہیں، اس لیے عوام چاہتے ہیں کہ وہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔ اگر ایک طالب علم امتحان میں ناکام ہونے پر کلاس چھوڑ دیتا ہے تو پورے ملک کے امتحانات میں ناکام ہونے والے وزیرِ تعلیم کو بھی اپنی کرسی چھوڑ دینی چاہیے۔ موجودہ نظام میں طالب علم کی ناکامی پر اس کی تعلیم متاثر ہوتی ہے، مگر وزیرِ تعلیم کی ناکامی پر ان کی کرسی محفوظ رہتی ہے، جو بچوں کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ جدوجہد طویل ہوگی کیونکہ تعلیمی اصلاحات کوئی معمولی معاملہ نہیں۔ فی الحال نوجوان امتحانات اور پیپر لیک کے خلاف لڑ رہے ہیں، لیکن تعلیم کے شعبے میں کئی اور بنیادی اصلاحات کی بھی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی اور سیاست کو تعلیم کے لیے وقف کر رکھا ہے اور ان کا واحد نظریہ یہ ہے کہ ملک کے ہر بچے کو بہترین تعلیم ملنی چاہیے۔ گزشتہ بیس دن سے وہ دیکھ رہے تھے کہ وزیرِ اعظم سونم وانگچک اور دیگر نوجوانوں کو مسلسل نظر انداز کر رہے تھے، لیکن جب تحریک زور پکڑ گئی تو انہیں نظر بند کرا دیا گیا۔ منیش سسودیا نے کہا کہ وزیرِ اعظم کی یہ نظر بندی کی سیاست کامیاب نہیں ہوگی۔ پیر کے روز ملک کے نوجوان اور عوام جنتر منتر سے پارلیمنٹ تک مارچ کریں گے۔ یہ کسی سیاسی جماعت یا اس کے رہنما کو آگے بڑھانے کی تحریک نہیں بلکہ ہر بچے کو دیانت دارانہ تعلیم، شفاف امتحانات اور منصفانہ روزگار دلانے کی تحریک ہے۔ انہوں نے سی جے پی کے اسٹیج سے تمام سیاسی جماعتوں، حتیٰ کہ بھارتیہ جنتا پارٹی سے بھی اپیل کی کہ اگر وہ اپنے بچوں سے محبت کرتے ہیں تو جنتر منتر آئیں اور پارلیمنٹ کی طرف مارچ میں شریک ہوں۔آخر میں منیش سسودیا نے کہا کہ یہ صرف سی جے پی، عام آدمی پارٹی، کانگریس یا سماجوادی پارٹی کی لڑائی نہیں بلکہ بی جے پی کے کارکنوں کے بچوں کی بھی لڑائی ہے، کیونکہ وہ بھی اسی ملک کے اسکولوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ انہوں نے بی جے پی کارکنوں سے بھی اپیل کی کہ پیر کی صبح سیاست کو ایک طرف رکھ کر اپنے بچوں کا چہرہ دیکھیں اور عہد کریں کہ آج وہ کسی جماعت کے لیے نہیں بلکہ اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے جنتر منتر جائیں گے، پارلیمنٹ کا گھیراؤ کریں گے اور مطالبہ کریں گے کہ ملک کے وزیرِ تعلیم کو استعفیٰ دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وہ 20 جولائی (پیر) کو تمام عوام کے ساتھ اس مارچ میں شریک ہوں گے۔
دلی این سی آر
ابھیجیت ڈپکے نے میری چھاتی پکڑی، سیاہی پھینکنے والی برکھا ترہان کا الزام
نئی دہلی :جنتر منتر پر بھوک ہڑتال پر بیٹھے جنتا پارٹی کے سربراہ ابھیجیت ڈپکے پر سیاہی پھینکنے والی برکھا تریہن کا بیان جاری کیا گیا ہے۔ اس نے ابھیجیت ڈپکے اور ان کے حامیوں کے خلاف کئی سنگین الزامات لگائے، اور دعویٰ کیا کہ وہ صرف سونم وانگچک کو استعمال کر رہے ہیں، جیسا کہ انا ہزارے تھے۔ اس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ابھیجیت ڈپکے بھگوان رام کا مذاق اڑا رہے تھے، اس لیے اس نے احتجاج کرنے کے لیے ان پر سیاہی پھینکی۔ اس نے ابھیجیت ڈپکے کے حامیوں پر اسے شدید مار پیٹ کا الزام بھی لگایا۔
برکھا ٹریہان نے کہا کہ میں پرامن احتجاج کے بالکل خلاف نہیں ہوں، میرا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا، “ابھی جو واقعہ ہو رہا ہے، جس میں وہ کاکروچ اور کاکروچ پارٹی شامل ہے، اس کا اصل NEET کے معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہ NEET کے بارے میں بالکل بات نہیں کر رہے ہیں۔ یہ ایک سیاسی ایجنڈے سے چل رہا ہے۔” اس نے مزید کہا، “آپ سوچ بھی نہیں سکتے کہ ابھیجیت کے غنڈوں نے میرے ساتھ کیا سلوک کیا۔ ابھیجیت اور اس کے ساتھی اسٹیج پر ہی بھگوان رام اور ماں سیتا کا مذاق اڑا رہے تھے۔ ابھیجیت ڈپکے ہنس رہے تھے۔” میں نے احتجاج کرنے کے لیے ابھیجیت پر سیاہی پھینک دی۔ مجھے ایسا کرنے پر مجبور کیا گیا۔ میں ایک کٹر ہندو ہوں۔ میں ایسی چیزوں کو کبھی برداشت نہیں کرتی ہوں، چاہے وہ دیوی درگا، دیوی کالی، یا بھگوان شری رام کے بارے میں ہوں۔
برکھا ٹریہان نے مزید کہا، “انہوں نے مجھے بہت مارا، میرے بال کھینچے، انہوں نے مجھے نوچا، میری چھاتیوں کو نچوڑا، میرے ہاتھ اور انگلیاں سوجی ہوئی ہیں، انہوں نے میری کمر توڑ دی، میری ٹانگیں توڑ دیں اور میری انگلیاں توڑ دیں۔ مجھے بچانے اور محفوظ مقام پر لے جانے کے لیے میں دہلی پولیس کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔ میں نے کچھ غلط نہیں کیا، میں نے ایسا تشدد نہیں کیا، تم نے مجھ پر تشدد نہیں کیا۔”
انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ سونم وانگچک کو استعمال کر رہے ہیں۔ میں وہاں سونم وانگچک کو یہ بتانے گیا تھا کہ وہ اسے استعمال کر رہے ہیں، جیسے انہوں نے انا ہزارے کو استعمال کیا۔ اگر دہلی پولیس نے مجھے تحفظ نہ دیا ہوتا تو یہ لوگ مجھے مار ڈالتے۔ میں نے ابھیجیت کے سامنے کھڑے ہو کر پوچھا، “آپ سونم کا استعمال کیوں کر رہی ہیں؟” انہوں نے میرے “جے شری رام” کہنے پر اعتراض کیا۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب دیپک اپنے حامیوں سے خطاب کر رہے تھے اور غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کرنے کا اعلان کر رہے تھے۔ اس سے چند گھنٹے قبل، سماجی کارکن سونم وانگچک کو ان کے انشن کے 21 ویں دن دہلی پولیس نے زبردستی صفدر جنگ اسپتال لے جایا تھا۔پولیس کے مطابق دیپک کے خطاب کے دوران برکھا ترہان نامی خاتون اسٹیج کے قریب پہنچی اور اس پر نیلی سیاہی پھینک دی۔ اس سے کچھ دیر کے لیے پروگرام میں خلل پڑا، جس کے بعد رضاکاروں اور حامیوں نے اسے پکڑ لیا۔واقعہ کے بعد جب کچھ حامی اسٹیج کی طرف بڑھے تو دیپک نے ان سے بار بار اپیل کی کہ وہ بیٹھے رہیں اور مشتعل نہ ہوں۔ اس واقعے کے بعد دیپک نے کہا، “نیلے رنگ میرا ہے۔ جئے بھیم۔” پولیس نے برکھا تریہان کو تقریب کے مقام سے اسکور کیا۔ اپنی حفاظت کے دوران، ٹریہان نے الزام لگایا کہ اس پر حملہ کیا گیا اور مذہبی نعرے لگائے گئے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمXپر اپنے بائیو میں ٹریہن نے خود کو مردوں کے حقوق کے کارکن اور “مرش آیوگ” کی چیئرپرسن کے طور پر بیان کیا۔
دلی این سی آر
گریٹر نوئیڈا میں اسپا سنٹروں پر چھاپہ ماری
نوئیڈا: اینٹی ہیومن ٹریفکنگ یونٹ (اے ایچ ٹی یو)، مقامی پولیس اور ایک این جی او کی ایک مشترکہ ٹیم نے گریٹر نوئیڈا کے بیٹا-2 تھانہ علاقے میں چار سپا سینٹروں پر چھاپہ مارا۔ چھاپے کے دوران 28 لڑکیوں کو بازیاب کرایا گیا جب کہ 15 لڑکوں کو حراست میں لے لیا گیا جن سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ پولیس کو شبہ ہے کہ کچھ سپا سنٹرز کی آڑ میں غیر اخلاقی سرگرمیاں کی جارہی تھیں۔پولس کمشنر لکشمی سنگھ کی ہدایت اور ڈی سی پی ویمنس سیفٹی سنیتی کی نگرانی میں وینس مال کے قریب ایک شاپنگ کمپلیکس میں چار سپا سنٹرس پر یہ کارروائی کی گئی۔ پولیس کے مطابق، دہلی کی ایک این جی او نے شکایت کی تھی کہ بیٹا-2 علاقے کے کچھ سپا سنٹروں میں جسم فروشی جیسی سرگرمیاں چلائی جا رہی ہیں۔ شکایت کی بنیاد پر ایک مشترکہ ٹیم نے جائے وقوعہ پر چھاپہ مارا اور نوجوان خواتین اور نوجوانوں کو حراست میں لے لیا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تمام افراد سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے اور پورے معاملے کی مکمل تفتیش کی جا رہی ہے۔ اگر تفتیش میں جسم فروشی، انسانی سمگلنگ یا دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے شواہد سامنے آئے تو سپا چلانے والوں اور دیگر ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔گریٹر نوئیڈا کی ایک سوسائٹی میں رہنے والے ایک نوجوان نے اپنی بیوی اور سسرال والوں پر اسے ہنی ٹریپ کرنے اور تقریباً 70 لاکھ روپے کے زیورات، کپڑے اور دیگر اشیاء چرانے کا الزام لگایا ہے۔ عدالتی حکم کے بعد بیٹا 2 تھانے نے اس کی بیوی سمیت چار لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔متاثرہ ارجن نے عدالت میں اپنی درخواست میں کہا کہ اس نے 29 اپریل 2025 کو دیکشا سے ہندو رسم و رواج کے مطابق شادی کی۔ اس نے الزام لگایا کہ شادی کے بعد اس کی بیوی کا رویہ غیر معمولی تھا۔ وہ اپنا زیادہ تر وقت اپنے کمرے میں گزارتی تھی اور گھر والوں سے بات چیت سے گریز کرتی تھی۔ اگست 2025 میں، ایک امتحان کے بہانے، وہ اپنے والد اور بھائی کے ساتھ اپنے والدین کے گھر چلی گئی۔ جاتے وقت، اس نے زیورات، کپڑے، اور تقریباً 70 لاکھ روپے کے دیگر سامان بھی لے لیا جو اس کے گھر والوں نے اسے دیا تھا۔ اس کے بعد اس نے اپنے سسرال واپس جانے سے انکار کر دیا۔ اسے منانے اور گھر لانے کی کئی کوششیں کی گئیں لیکن اس نے انکار کر دیا۔ جب اس نے اپنے زیورات اور سامان واپس مانگا تو ملزم نے اسے مبینہ طور پر دھمکی دی۔ متاثرہ کا دعویٰ ہے کہ اسے ایک منصوبہ بند ہنی ٹریپ میں پھنسایا گیا۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
بہار8 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
