تازہ ترین
آج سے خواتین گلابی ٹکٹوںسے نہیں کر سکیں گی بسوں میں مفت سفرپی یو سی سرٹیفکیٹ کے بغیر گاڑیوں کونہیں ملے گا ایندھننعروں کی بحث میں دم توڑ گیاخواتین کی حفاظتپولیس کی غنڈہ گردی کے خلاف جائیں گےعدالت: سوربھ بھاردواجعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ’سوچھتا ہی سیوا 2026‘ کے تحت صفائی مِتر تحفظ کیمپ منعقدڈسٹرکٹ چائلڈ ویلفیئر اینڈ پروٹیکشن کمیٹی کا اجلاسخدمتِ عہد مہم 2026 کے تحت مہوا میں بلاک سطحی پینٹنگ اور تقریری مقابلہ منعقدوکست بھارت2047 کے تناظر میں ادبِ اطفال پر جے این یو میں اہم پروگرام کا انعقاد
دلی این سی آر

ای-20 پٹرول سے صنعت کاروںکو فائدہ پہنچا رہی ہے سرکار:بھاردواج

(پی این این)
نئی دہلی، 26 جولائی: عام آدمی پارٹی کے دہلی پردیش صدر سوربھ بھاردواج نے خالص پٹرول کی قیمت پر فروخت کیے جا رہے ای-20 پٹرول کو لے کر سوال اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ای-20 سے ملک کے عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہو رہا ہے۔
اس کا فائدہ صرف صنعت کاروں اور حکومت کو ہو رہا ہے۔ ای-20 سے مائلیج کم ہو رہی ہے، گاڑیاں خراب ہو رہی ہیں اور لوگوں کو قیمت بھی خالص پٹرول کی ادا کرنی پڑ رہی ہے۔ دوسری طرف صنعت کار ایتھنول تیار کر رہے ہیں اور حکومت زبردستی پورے ملک میں اسے مہنگے داموں فروخت کر رہی ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے دیسی گھی کی قیمت پر ڈالڈا دے کر کہا جائے کہ آپ کو ڈالڈا ہی کھانا پڑے گا۔ اتوار کو آپ کے دہلی پردیش صدر سوربھ بھاردواج نے ایکس پر کہا کہ ای-20 یعنی وہ پٹرول جس میں 20 فیصد ایتھنول ملایا جاتا ہے، آخر اس سے کس کو فائدہ ہو رہا ہے؟ کیا اس سے عوام کو کوئی فائدہ ہے؟ کوئی شخص یا وزیر یہ بتائے کہ اس میں عوام کا کیا فائدہ ہے؟ کیا اس سے گاڑیوں کی مائلیج بڑھ رہی ہے؟ جواب ہے، نہیں؛ بلکہ مائلیج کم ہو رہی ہے۔ کیا گاڑی کو کوئی فائدہ ہو رہا ہے؟ نہیں، الٹا گاڑی کو نقصان ہی ہو رہا ہے۔ کیا ای-20 پٹرول سستا مل رہا ہے؟ یہ بھی نہیں ہو رہا ہے، بلکہ اسے خالص پٹرول کی قیمت پر ہی فروخت کیا جا رہا ہے۔سوربھ بھاردواج نے کہا کہ اس سے عوام کو تو کوئی فائدہ نہیں ہو رہا ہے۔ اس کا براہِ راست فائدہ ان بڑے لوگوں اور سیاست دانوں سے وابستہ صنعت کاروں کو ہو رہا ہے جو ایتھنول تیار کر رہے ہیں، کیونکہ ان کا ایتھنول گھر بیٹھے کافی مہنگے داموں اور زبردستی فروخت ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ دوسرا بڑا فائدہ پٹرول کمپنیوں کو ہو رہا ہے، جو عوام کو خالص پٹرول کی قیمت پر 20 فیصد ملاوٹ والا پٹرول فروخت کر رہی ہیں۔ سوربھ بھاردواج نے اس کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے 24 قیراط سونے کی قیمت پر 18 قیراط سونا فروخت کیا جا رہا ہو، یا دیسی گھی کی قیمت پر ڈالڈا دے کر یہ کہا جائے کہ آپ کو ڈالڈا ہی کھانا پڑے گا اور قیمت دیسی گھی کی ادا کرنی پڑے گی۔
عوام اس موضوع پر غور کریں اور اپنے آس پاس کے لوگوں سے اس بارے میں پوچھیں۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔