uttar pradesh
ابن سینا اکیڈمی اور حرف زار لٹریری سوسائٹی کے اشتراک سے پروقار ادبی مشاعرہ کا انعقاد
(پی این این)
علی گڑھ:ابن سینا اکیڈمی علی گڑھ اور حرف زار لٹریری سوسائٹی علی گڑھ کے زیرِ اہتمام ابن سینا اکیڈمی کے ہال میں ایک پروقار محفلِ مشاعرہ اور اعزازی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ یہ شام حیدرآباد سے تشریف لائے ممتاز شاعر و ادیب پروفیسر مسعود احمد اور اتراکھنڈ اردو اکیڈمی کے سابق وائس چیٔرمین و ممتاز شاعر افضل منگلوری صاحب کی علی گڑھ آمد کے سلسلے میں سجائی گئی تھی۔ تقریب کی صدارت ملک کے مایہ ناز اسکالر پدم شری پروفیسر حکیم سید ظل الرحمن صاحب نے فرمائی، جبکہ نظامت کے فرائض حرف زار لٹریری سوسائٹی کے سکریٹری اور ممتاز شاعر ڈاکٹر مجیب شہزر ؔنے اپنے مخصوص انداز میں انجام دیے۔ دیگر معزز مہمانان میں پٹنہ سے تشریف لائے بہترین لب و لہجے کے شاعر عالم خورشید صاحب اور ممتاز گلوکار و شاعر جانی فاسٹر صاحب شامل رہے۔
اس یادگار موقع پر حیدرآباد سے آئے مہمانِ گرامی پروفیسر مسعود احمد صاحب کو علی گڑھ کے ممتاز اور معتبر شاعر رئیس الدین رئیس کے نام سے منسوب باوقار ایوارڈ پیش کیا گیا۔ ساتھ ہی، اردو ادب کے لیے گراں قدر خدمات کے اعتراف میں افضل منگلوری صاحب کی خدمت میں بھی خصوصی ایوارڈ پیش کیا گیا۔محفل کے صدر، پدم شری پروفیسر حکیم سید ظل الرحمن صاحب نے اپنے صدارتی خطبے میں علی گڑھ شہر کی زمین کو علم و ادب کا گہوارہ قرار دیتے ہوئے ایک انتہائی فکر انگیز اور تفصیلی گفتگو فرمائی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا:’’علی گڑھ شہر محض ایک شہر کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ ایک تہذیب، ایک تحریک اور علم و ہنر کا ایک ایسا روشن منارہ ہے جس کی روشنی سے پوری دنیا فیضیاب ہو رہی ہے۔ اس شہر کی ادبی، سماجی اور مذہبی شخصیات نے نہ صرف برصغیر بلکہ عالمی سطح پر ایسے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں جنہیں تاریخ کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔‘‘
پروفیسر ظل الرحمن صاحب نے علی گڑھ شہر کی تاریخی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے یہاں کی نابغہ روزگار ہستیوںکا ذکر چھیڑا تو گویا پوری محفل کو منور کر دیا۔ انہوں نے موجودہ دور میں کتابوں اور کتب خانوں کی گرتی ہوئی روایت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تفصیلی روشنی ڈالی۔
انہوں نے زور دے کر کہاکتابیں انسانی شعور کو جلا بخشتی ہیں اور تہذیبوں کی امین ہوتی ہیں۔ کوئی بھی معاشرہ علم اور کتب سے کٹ کر مادی ترقی تو کر سکتا ہے، لیکن ذہنی اور اخلاقی طور پر بالیدہ نہیں ہو سکتا۔ ڈیجیٹل دور کی اپنی اہمیت سہی، مگر جو سکون، گہرائی اور فکرِ نو ایک مکتوب یا چھپی ہوئی کتاب کے صفحات پلٹنے سے حاصل ہوتی ہے، وہ کسی اسکرین پر ممکن نہیں۔ ہمیں اپنی نئی نسل میں مطالعے کا شوق بیدار کرنا ہوگا، کیونکہ کتابوں کی حفاظت دراصل ہماری اپنی تاریخ اور تہذیب کی حفاظت ہے۔ اعزازی تقریب اور صدارتی خطبے کے بعد مشاعرے کا دور شروع ہوا، جس میں ملک کے مختلف گوشوں سے آئے مہمان شعراء کے علاوہ علی گڑھ کے چیدہ چیدہ اور نمائندہ شعراء کرام نے اپنا تازہ کلام پیش کر کے سامعین سے خوب داد و تحسین حاصل کی۔
اپنے منفرد اسلوب اور بہترین کلام سے محفل کو گرمانے والے شعراء کے اسمائے گرامی درج ذیل ہیں:
جناب بابر الیاس ،ڈاکٹر اویس جمال شمسی ،جناب اشہد قدیر،ڈاکٹر راشد الاسلام راشد،جناب آفتاب عالم کامل،جناب شریف خان سامر،ڈاکٹر حسینہ چودھری ،جناب نصیر نادان، جناب انجم بدایونی،جناب سرور پٹیالوی ،جناب ظہیر الدین ساحل،پروفیسر وصی بیگ بلال،ڈاکٹر دولت رام شرمامحمد فراز مجیب اور ناظمِ مشاعرہ ڈاکٹر مجیب شہزر نے بھی اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا اور خوب داد وصول کی۔ تمام شعراء نے اپنے مخصوص لب و لہجے، غزلوں اور نظموں کے ذریعے اکیڈمی کے ہال کو ادبی خوشبو سے معطر کر دیا۔آخری سیشن میں کنوینر مشاعرہ پروفیسر سید ضیاء الرحمن صاحب نے تمام مہمانانِ کرام، شعراء اور سامعین کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اپنی شرکت سے اس شام کو تاریخی اور یادگار بنایا۔
uttar pradesh
ملا رونق لکھنوی کے شاگرد تھےجسٹس آنند نرائن : رضوان احمد فاروقی
لکھنؤ:رنج وغم کی کیفیت ایک فطری اور شدید انسانی ردعمل ہے۔ جو کسی بڑے نقصان، صدمے یا عزیزواقارب کی جدائی پر ہر کسی ہوتاہے۔ اس کیفیت حساس دل انسان شدید اداسی، ذہنی کش مکش، تناؤ اور دلی تکلیف محسوس کرتا ہے۔ لکھنؤ کے حساس دل شعراء نے ” رنج وغم” کو بطور ردیف برتا، تو رنج وغم کی تاریخی حقیقت بشکل اشعار سامنے آئی ۔ خوب خوب اشعار سننے میں آئے۔
موقع تھا ” مسرور ایجوکیشنل سوسائٹی کے ماہانہ مشاعرے کا، جو ہمیشہ کی طرح سینٹ روز پبلک اسکول گڑھی پیر خاں، میں ہوا۔ نظامت رضوان احمد فاروقی نے کی بحثیت صدر ممتاز صحافی وافسانہ نگار احمد ابراہیم علوی نے شرکت فرمائی اور اپنے پرجوش خطاب میں کہا۔ نوجوان شاعری کے ذریعے اردو میں دلچسپی لے رہے ہیں ۔ اچھے اشعار کہہ رہے ہیں ۔ انھیں دوسری زبانوں کے مطالعے کے ساتھ دنیا کے حالات کا بعینہ مشاہدہ کرنا چاہئے۔ بطور سرپرست محمد فاروق جاذب لکھنوی شریک مشاعرہ رہے۔ مہمانان خصوصی کی حیثیت سے مرزا شارق لاہر پوری اور محسن قدوائی نے شرکت کی اور مہمان اعزازی کے طور پر نجمی لکھنوی مشاعرے کا حصہ رہے ۔ جسٹس آنند نرائن کے استاد لکشمی نرائن رونق لکھنوی کے شعری مجموعے کا رسم اجراء بدست احمد ابراہیم علوی ہوا۔
واضح رہے کتاب کے مرتب بزرگ شاعر نجمی لکھنوی ہیں، جنھیں سبھی نے مبارک باد پیش کی۔ ڈاکٹر منصور حسن خاں نے ان کے جذبے کو سراہا۔ رضوان احمد فاروقی نے کہا۔ 99 برس عمر پانے والے تعلیم یافتہ شاعر کا شعری اثاثہ شائع کرنے والا شخص بجا طور پر لائق تحسین و ستائش ہے۔
انھوں نے مزید کہا۔ لکشمی نرائن رونق لکھنوی جیسے بے لوث خادمین ادب پر تحقیقی مقالات لکھے جانے چاہئے۔
مشاعرے میں پڑھا گیا منتخب کلام درج ذیل ہے :
پیار جب اس کا اس سے سنبھلتا نہیں
کیسے دیکھے گی بیٹے کی ماں رنج وغم
جاذب لکھنوی
دوستوں کی محفل میں جب بھی مسکراتا ہوں
مجھ پہ ٹوٹ پڑتا ہے آسمان رنج وغم
مرزا شارق لاہر پوری
ہر حقیقت کے ہیں ترجماں رنج وغم
یوں ہی جاتے نہیں رائیگاں رنج وغم
نجمی لکھنوی
تونے چاہا بہت زیر کرلے ہمیں
سر نہ ہونے دیا ہم نے خم رنج وغم
محسن قدوائی
اٹھ گیا ہے زمانے سے میرا بھرم
رنج وغم رنج وغم رنج وغم رنج وغم
شیدا صدیقی
مسرور اس خیال سے مغموم ہے بہت
لائے کہاں سے ڈھونڈکے اشعار رنج وغم
مسرور شاہ جہاں پوری
جب سے ہوا ہے باعث عرفان رنج وغم
میرے لئے ہے عیش کا سامان رنج وغم
اشعر علیگ
ایک دل سیکڑوں ہیں الم، رنج وغم
تیری زلفوں کے ہیں پیچ سخن، رنج وغم
حیدر علوی
روپڑیں جو بیاں کردیں ہم
رنج وغم، رنج وغم، رنج وغم
رضوان احمد فاروقی
ہمارے حوصلوں کو یہ نئی پرواز دیتے ہیں
سبق دیتے ہیں ہم کو اک نیا ہربار رنج وغم
ناظم بریلوی
مولا کبھی تو بھیج مسرت کی بارشیں
بڑھتے ہی جارہے ہیں غریبوں کے رنج وغم
ڈاکٹر اقبال حسین
لے جاتے ہیں یہ اوج ثریا سے بھی پرے
فکر بشر کو دیتے ہیں رفتار رنج وغم
کاوش شوکتی
دشمنوں نے سازشیں ایسی بنی ہیں ہر طرف
زندگانی ہوگئی ہے کربلائے رنج وغم
ڈاکٹر منصور حسن خاں
سرخی چشم فلک یہ کہہ رہی ہے بار بار
سن رہے ہیں عرش والے بھی صدائے رنج وغم
ضیا تقوی
حساب رکھیں گے کب تک فضول باتوں کا
یہ زندگی ہے ملیں گے تمام رنج وغم
سریواستوا باہم
مذکورہ شعراء کے علاوہ ڈاکٹر عتیق فاروقی، نیلو فر، اعظم قریشی، ڈاکٹر عرش لکھنوی، فیضان خان وغیرہ مشاعرے کا کردار رہے۔ نجمی لکھنوی نے ڈاکٹر منصور حسن خاں کاشکریہ ادا کیا اور منصور خاں نے جملہ شعراء کا۔ نیز آئندہ ردیف ” مسرت” کا اعلان کیا ۔ یہ مشاعرہ اگست کے تیسرے ہفتے ہوگا۔ ان شااللہ
uttar pradesh
بڈھانہ علاقہ میں مکان منہدم ہونے سے چار بچوں سمیت 5کی موت
دیوبند:مظفرنگر ضلع کے بڈھانہ علاقے کے گاؤں حبیب پور سیکری میں مسلسل بارش کے باعث ایک مکان منہدم ہونے سے ایک ہی خاندان کے پانچ افراد جاں بحق ہونے کے المناک واقعہ پر جمعیۃ علماء ہند بڈھانہ نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔
جمعیۃ علماء ہند بڈھانہ کے ذمہ داران نے سینئر ضلع نائب صدر محمد آصف قریشی بڑھانوی کے ہمراہ گاؤں حبیب پور سیکری پہنچ کر جائے حادثہ کا معائنہ کیا اور مرحومین کے اہل خانہ سے ملاقات کرکے تعزیت و ہمدردی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ یہ حادثہ نہایت دردناک اور دل دہلا دینے والا ہے۔ مکان کے مالک اسلام الدین اور ان کے چار معصوم بچوں کی المناک وفات سے پورا علاقہ سوگوار ہے۔ جمعیۃ علماء ہند کے ذمہ داران نے مرحومین کی مغفرت، درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی۔
جمعیۃ علماء ہند بڈھانہ نے حادثے میں زخمی بچوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کرتے ہوئے ضلع انتظامیہ، پولیس اور محکمہ صحت کی جانب سے فوری راحت و بچاؤ کے کام شروع کرنے اور زخمیوں کو بروقت اسپتال منتقل کرکے علاج فراہم کرنے کے اقدامات کو سراہا۔ ساتھ ہی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ زخمیوں کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ برتی جائے اور انہیں بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔وفد نے حکومت اور ضلع انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ متاثرہ خاندان کو حکومت کی جانب سے مقررہ مالی امداد، رہائشی سہولت اور دیگر تمام ضروری امدادی وسائل بلا تاخیر فراہم کیے جائیں۔اس موقع پر حافظ عبدالغفار، حافظ تحسین، مولانا عمر، شاہد قریشی، قاری قطب الدین سمیت دیگر ذمہ داران بھی موجود رہے۔
uttar pradesh
ٹریکٹر ٹرالی کی زد میں آکر بائک سوار صفائی ملازم کی دردناک موت
دیوبند:دیوبند تحصیل کے تحت آنے والے گائوں مرگ پور ۔دودھلی کے ایک بے قابو تیز رفتار ٹریکٹر ٹرالی کی زد میں آکر ایک صفائی ملازم کی موقع پر ہی دردناک موت ہوگئی جبکہ اس کا دوسرا ساتھی شدید طور پرزخمی ہوگیا ۔
فوت ہوجانے والا صفائی ملازم پیر کے روز صبح کے وقت اپنے ساتھی کے ساتھ کانوڑ گزرنے والی سڑکوں کی صفائی کرنے کے لئے جارہا تھا ۔تفصیل کے مطابق مظفر نگر کے گائوں ریتا نگلی کا باشندہ 37سالہ سنجیو کمار تیگھری گائوں میں بطور صفائی ملازم تعینات تھا ۔پیر کی صبح سنجیو کمار کانوڑ گزرنے والے راستوں کی صفائی کرنے کے لئے اپنے ساتھی وریرندر کے ساتھ بذریعہ بائک مرگ پور دودھلی روڑ سے ہوتے ہوئے جارہا تھا ۔
اسی دوران جب وہ راجباہے کے قریب پہنچا تو سامنے سے آنے والی ایک تیز رفتار اور بے قابو ٹریکٹر ٹرالی نے اس کی بائک کو اپنی زد میں لے لیا اس حادثہ میں سنجیو کمار کی موقع پر ہی دردناک موت ہوگئی جبکہ اس کا ساتھی وریرند شدید طور پر زخمی ہوگیا ۔حادثہ کی اطلاع ملتے ہی گائوں کے باشندہ موقع پر جمع ہوگئے انہوں نے سنجیو کمار اور وریرندر کو دیوبند کے سرکاری اسپتال پہنچایا ۔جہاں ڈاکٹر وں نے سنجیو کمار کو مردہ قرار دیدیا ۔
اس کے اہل خانہ کے آنے کے بعد پولیس نے لاش کا پنچنامہ کرنے کے بعد پوسٹ مارٹم کے لئے بھیجدیا ۔اس دوران اسپتال میں اے ڈی او پنچایت سمیت علاقائی ترقیاتی بلاک آفس کے دیگر افسران اور ملازمین موجود رہے ۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
بہار8 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
