Bihar
دربھنگہ میں ٹریفک جام سے عوام بے حال،مریضوں اور اسکولی بچوں کوسخت پریشانیوں کا سامنا، نظرعالم نے ضلع کے ڈی ایم، ڈی آئی جی اور ایس ایس پی کوبھیجا مکتوب
(پی این این)
دربھنگہ: شہر میں سڑکوں اور اوور بریج کی تعمیر کے باعث بڑھتی ہوئی ٹریفک جام کی مشکل کو لے کر جنتادل یونائیٹڈ، بہار کے رکن اور آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے قومی صدر نظرعالم نے ضلع مجسٹریٹ (ڈی ایم)، ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) اور سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) کو الگ الگ مکتوب لکھ کر فوری اور مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
اپنے مکتوب میں انہوں نے کہا ہے کہ شہر کی بیشتر اہم شاہراہوں پر روزانہ کئی کئی گھنٹے ٹریفک جام رہتا ہے۔ اس کا سب سے زیادہ اثر مریضوں، ایمبولینس، اسکولی بچوں، خواتین، بزرگوں اور عام شہریوں پر پڑ رہا ہے۔ خاص طور پر اسپتال اور میڈیکل علاقے کی طرف جانے والے راستوں پر مریضوں کو بروقت علاج اور لوگوں کو دوائیں لانے لے جانے میں شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
نظرعالم نے کہا کہ ترقیاتی کام ضروری ہیں، لیکن اس کے ساتھ بہتر ٹریفک نظام بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تعمیراتی مقامات اور اہم چوراہوں پر مناسب تعداد میں ٹریفک پولیس تعینات کی جائے اور ون وے نظام پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ چالان کاٹنے کے وقت چوراہوں پر بڑی تعداد میں پولیس اہلکار نظر آتے ہیں، لیکن جب ایمبولینس ٹریفک جام میں پھنسی ہوتی ہے، اسکولی بچے گھنٹوں بھوک، پیاس اور گرمی میں پریشان رہتے ہیں، اور مریضوں سمیت عام لوگوں کو طویل وقت تک ٹریفک جام میں پھنسے رہنا پڑتا ہے، اس وقت کئی مقامات پر ٹریفک انتظامات مؤثر نظر نہیں آتے۔ اس سے عوام میں ناراضگی بڑھ رہی ہے۔
نظرعالم نے اپنے مکتوب میں مطالبہ کیا ہے کہ جام سے متاثرہ علاقوں میں اضافی ٹریفک پولیس تعینات کی جائے، اسپتال جانے والے راستوں پر ایمبولینس کی بلا رکاوٹ آمد و رفت کو یقینی بنایا جائے، اسکول کے اوقات میں خصوصی ٹریفک انتظامات کیے جائیں اور تعمیراتی ایجنسیوں اور ٹریفک پولیس کے درمیان بہتر تال میل قائم کر کے ٹریفک نظام کو ہموار بنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ترقی کا مقصد عام لوگوں کی زندگی کو آسان بنانا ہے۔ اسی لیے انہوں نے ڈی ایم، ڈی آئی جی اور ایس ایس پی سے اپیل کی ہے کہ اس سنگین عوامی مسئلے پر فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں، تاکہ شہر کے لوگوں، مریضوں، اسکولی بچوں اور عام شہریوں کو روزانہ لگنے والے ٹریفک جام سے راحت مل سکے۔
Bihar
مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی ترقی کا سب سے بڑا وسیلہ،اے آئی سے بہار کے ارکانِ اسمبلی اورقانون ساز کونسلروں کی استعداد کار ہوگا میں اضافہ: سمراٹ چوہدری
(پی این این)
پٹنہ:بہار کے وزیراعلیٰ سمراٹ چوہدری نے جمعرات کو کہا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے بہار کے ارکانِ اسمبلی اور قانون ساز کونسلرز کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا۔ مسٹرچوہدری نے آج بہار مقننہ کے ارکان کے لیے اے آئی کو حساس بنانے اور چیف منسٹر ایریا ڈیولپمنٹ اسکیم کے نفاذ کے سلسلے میں منعقدہ تربیتی پروگرام میں شرکت کی۔ بہار قانون ساز اسمبلی کے توسیعی ایوان میں منعقدہ پروگرام کا مسٹرچوہدری نے شمع روشن کر کے باضابطہ افتتاح کیا۔
پروگرام کے دوران انہوں نے چیف منسٹر ایریا ڈیولپمنٹ اسکیم کے تحت پروجیکٹ مانیٹرنگ سسٹم ویب پورٹل کا ریموٹ کے ذریعے افتتاح کیا۔پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے مسٹرچوہدری نے کہا کہ آج کا یہ پروگرام انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ 20-25 سال قبل کمپیوٹر کا استعمال محدود تھا، لیکن آج مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی حکومت، انتظامیہ اور ترقی کی سب سے بڑی ضرورت بن چکی ہے۔ تمام وزراء، ارکانِ اسمبلی اور قانون ساز کونسلر ان ٹیکنالوجیز کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں تاکہ عوام سے بہتر رابطہ قائم ہو سکے اور علاقے کی مناسب ترقی یقینی بنائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی اسکیموں کے تخمینے (ایسٹیمیٹ) تیار کرنے میں بھی اے آئی کا استعمال کیا جانا چاہیے۔ محکمہ تعمیرات عامہ کے ایک تخمینے کی مصنوعی ذہانت سے جانچ کرنے پر 5 سے 7 فیصد تک لاگت میں بچت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ بچائی گئی رقم کا استعمال دیگر ترقیاتی کاموں میں کیا جا سکتا ہے۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں اگر ہم اے آئی کا استعمال نہیں کریں گے تو ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بہار میں سہیوگ پروگرام کے انعقاد اور ایک کروڑ مستحق افراد کو راشن کارڈ فراہم کرنے کے عمل میں ریاستی حکومت مصنوعی ذہانت کا استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بہار میں کسانوں کا ڈیجیٹل سروے کرایا جا رہا ہے اور 60 لاکھ کسانوں کو ڈیجیٹل آئی ڈی سے جوڑنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ عوامی نمائندوں کو ٹیکنالوجی پر مبنی نگرانی کے نظام کا استعمال کر کے اسکیموں کے مؤثر نفاذ پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔
اسکولوں میں کمپیوٹر کی تعلیم دی جا رہی ہے، لیکن ڈیجیٹل دور کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے مزید مضبوط کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مظفر پور میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور کمپیوٹر سائنس یونیورسٹی قائم کی جا رہی ہے۔مسٹر چوہدری نے کہا کہ تمام وزراء، ارکانِ اسمبلی اور قانون ساز کونسلرز کے ساتھ ساتھ ان کے معاونین کو بھی وقت وقت پر مصنوعی ذہانت، کمپیوٹر اور سوشل میڈیا کے استعمال کی تربیت دی جانی چاہیے، تاکہ وہ ٹیکنالوجی کے ساتھ مسلسل باخبر رہ سکیں اور عوام کی بہتر خدمت کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ بہار کی تمام پنچائتوں میں موسمی مراکز فعال ہیں اور موسم کی پیشگوئی 70 سے 80 فیصد تک درست ثابت ہو رہی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی زراعت اور دیہی ترقی کے لیے انتہائی مفید ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہار جمہوریت کی ماں ہے اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے جمہوری نظام کو مزید طاقتور بنایا جا سکتا ہے۔
پروگرام میں بہار قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر ڈاکٹر پریم کمار نے وزیراعلیٰ کا پھولوں کا گلدستہ اور شال پیش کر کے استقبال کیا۔ اس موقع پر نائب وزیراعلیٰ بجیندر پرساد یادو، بہار قانون ساز کونسل کے چیئرمین اودھیش نارائن سنگھ، بہار اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر نریندر نارائن یادو، بہار حکومت کے وزراء، ارکانِ اسمبلی، ارکانِ قانون ساز کونسل، محکمہ منصوبہ بندی و ترقی کی ایڈیشنل چیف سکریٹری ڈاکٹر این وجئے لکشمی، وزیراعلیٰ کے سکریٹری سنجے کمار سنگھ سمیت دیگر سینئر حکام اور بہار مقننہ کے ملازمین موجود تھے۔
Bihar
پیپر لیک اور امتحان میں دھاندلی کے سنگین الزامات معاملے میںآئی جی آئی ایم ایس کے 6 ایم بی بی ایس طلبہ معطل
(پی این این)
پٹنہ:سوالیہ پرچہ لیک معاملے میں اندرا گاندھی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (آئی جی آئی ایم ایس) کے چھ ایم بی بی ایس طلبہ کو چار ہفتوں کے لیے معطل کر دیا گیا ہے۔ معطل کیے گئے طلبہ میں 2022 بیچ کے ابھیجیت کمار، انکیت چندرا اور یش راج سنہا، جبکہ 2023 بیچ کے امت کمار، اویناش پرکاش اور سمیت کمار شامل ہیں۔
طلبہ کی نظم و ضبط کمیٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر یہ کارروائی عمل میں آئی ہے۔ ان طلبہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ معطلی کی مدت کے دوران ہاسٹل سے باہر رہیں۔ اگر یہ طلبہ ایم بی بی ایس کے امتحانات میں نمایاں پوزیشن یا ٹاپ رینک بھی حاصل کریں گے تو انہیں کسی بھی قسم کے انعام سے محروم رکھا جائے گا۔ تاہم، اسپتال انتظامیہ نے اس معاملے میں اب تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں کرائی ہے۔ تفتیشی کمیٹی نے ضمنی امتحان میں دھاندلی سے متعلق اپنی رپورٹ 27 اپریل کو ہی اسپتال انتظامیہ کے حوالے کر دی تھی۔
تفتیشی کمیٹی کی جانب سے ایم بی بی ایس امتحان میں دھاندلی کے الزامات درست پائے جانے کے بعد 27 اپریل کو آئی جی آئی ایم ایس انتظامیہ نے ایم بی بی ایس دوسرے سال کے ضمنی امتحان کو منسوخ کر دیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی شعبۂ امتحانات کے تمام ملازمین اور ایم بی بی ایس کے سات طلبہ کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیے گئے تھے۔ ان طلبہ کی نشاندہی کرکے انہیں انفرادی طور پر نوٹس تھمائے گئے تھے اور اپنا مؤقف پیش کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ مزید برآں، آئی جی آئی ایم ایس انتظامیہ نے شعبۂ امتحانات میں بھی اہم انتظامی تبدیلیاں عمل میں لائی تھیں۔
ایم بی بی ایس کے ضمنی امتحان میں دھاندلی کے معاملے کی تفصیلی جانچ کے لیے 5 مئی کو تین کمیٹیاں تشکیل دی گئی تھیں۔ ان میں سے ایک کمیٹی طلبہ کو جاری کیے گئے وجہ بتاؤ نوٹسوں پر موصول ہونے والے جوابات کا جائزہ لے کر اپنی رپورٹ تیار کرے گی۔ دوسری کمیٹی بدعنوانی اور بے ضابطگی سے پاک امتحانات کے انعقاد کے لیے رہنما اصول مرتب کرے گی، جبکہ تیسری کمیٹی پورے امتحانی نظام اور اس کے طریقۂ کار کا تفصیلی مطالعہ کرے گی۔
Bihar
گورنر کی شفقت نے بچائی دیپک پرکاش کی کرسی، بہار حکومت کی سفارش پر لیا گیا فیصلہ،اب 16 مارچ 2027 تک رہے گی دیپک پرکاش کی مدت کار
(پی این این)
پٹنہ:بہار کے پنچایتی راج کے وزیر دیپک پرکاش کو گورنر نے بہار قانون ساز کونسل کے رکن (ایم ایل سی) کے طور پر نامزد کر دیا ہے۔ اس حوالے سے محکمہ الیکشن نے نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق بہار حکومت کی سفارش پر گورنر نے بدھ (5 اگست) کو یہ فیصلہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ دیپک پرکاش راشٹریہ لوک مورچہ (آر ایل ایم) کے صدر اور راجیہ سبھا رکن اپیندر کشواہا کے بیٹے ہیں۔ دیپک پرکاش کو ایم ایل سی بنائے جانے کا قدم ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب سپریم کورٹ نے دیپک پرکاش کے وزیر بنے رہنے پر سوال اٹھایا تھا۔
دیپک پرکاش کو بہار قانون ساز کونسل کا رکن بنائے جانے پر اپیندر کشواہا نے کہا کہ ’’ یہ تو این ڈی اے کا ایک پرانا اور طے شدہ فیصلہ تھا، جس پر اب عمل درآمد کیا گیا ہے۔ بی جے پی اور این ڈی اے کے تمام لیڈران کے درمیان باہمی مشاورت سے یہ امور پہلے ہی طے پا چکے تھے۔ چونکہ دیپک پرکاش کسی بھی ایوان کے رکن بنے بغیر وزیر بن رہے تھے، اس لیے اسی وقت یہ طے کر لیا گیا تھا کہ انہیں ایوان میں بھیجنا ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ مجھے کامل یقین ہے کہ دیپ پرکاش مکمل لگن اور عوامی خدمت ک جذبے کے ساتھ بہار کی ترقی اور عوام کے مفادات کو نئی مضبوطی دیں گے۔
بہار گزٹ میں شائع محکمہ الیکشن کے نوٹیفکیشن کے مطابق آئین کی دفعہ 171 کی شق (3) کی ذیلی شق (ای) اور شق (5) کے تحت حاصل اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے گورنر نے دیپک پرکاش کو بہار قانون ساز کونسل کا رکن نامزد کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ دیپک پرکاش کی نامزدگی بی جے پی کے ایم ایل سی دیویش کمار کے استعفیٰ کے بعد خالی ہوئی سیٹ کے لیے کی گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق دیپک پرکاش کی مدت کار 16 مارچ 2027 تک رہے گی۔قابل ذکر ہے کہ حال ہی میں سپریم کورٹ نے بہار حکومت سے یہ واضح کرنے کو کہا تھا کہ ’’دیپک پرکاش کسی ایوان کے رکن نہ ہونے کے باوجود وزیر کے عہدے پر کیسے فائز ہیں۔‘‘ دراصل آئین کے مطابق اگر کوئی شخص وزیر بنتا ہے تو 6 مہینے کے اندر اس کا اسمبلی یا قانون ساز کونسل کا رکن بننا لازمی ہے۔ ایسا نہ ہونے پر متعلقہ شخص کو وزارتی عہدہ چھوڑنا پڑ سکتا ہے۔
-
دلی این سی آر2 years agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
بہار8 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر2 years agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر2 years agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
