Bihar
بہار کے تمام ضلعی اسپتالوں میں7 دن کے اندر آئی سی یو قائم کرنے کا حکم
(پی این این)
پٹنہ:نشانت کمار کے وزیرِ صحت بننے کے بعد بہار کے محکمۂ صحت میں اصلاحات سے متعلق فیصلوں کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔ اب محکمۂ صحت نے ہدایت جاری کی ہے کہ آئندہ سات دنوں کے اندر ریاست کے تمام ضلعی اسپتالوں میں آئی سی یو (انتہائی نگہداشت یونٹ) کی سہولت یقینی بنائی جائے۔اس کے ساتھ ہی محکمہ نے مریضوں کو ایک اسپتال سے دوسرے اسپتال ریفر کرنے کے معاملے میں بھی اہم حکم نامہ جاری کیا ہے۔ نئی ہدایات کے مطابق مناسب اور معقول وجہ کے بغیر مریضوں کو اعلیٰ طبی اداروں میں ریفر نہیں کیا جائے گا۔حکم میں کہا گیا ہے کہ ضلعی اسپتالوں اور دیگر سرکاری اسپتالوں میں موجود وسائل، ماہر ڈاکٹروں اور جدید طبی سہولتوں سے بھرپور استفادہ کیا جائے، تاکہ عام شہریوں کو اپنے ہی ضلع کے قریبی اسپتال میں بہتر اور معیاری علاج کی سہولت میسر آ سکے۔
محکمۂ صحت نے ریاست کے تمام ضلعی اسپتالوں میں آئندہ سات دنوں کے اندر آئی سی یو اور 24 گھنٹے ہنگامی طبی خدمات شروع کرنا لازمی قرار دے دیا ہے۔ اس کے علاوہ ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل عملے کی بھویہ پورٹل پر رجسٹریشن، ڈیوٹی روسٹر کی آن لائن اندراج اور اسپتالوں میں دستیاب تمام طبی سہولتوں کی تازہ ترین معلومات درج کرنا بھی اب لازمی ہوگا۔وزیرِ صحت نشانت کمار کی مختلف جائزہ میٹنگوں میں دی گئی ہدایات کے بعد محکمۂ صحت کے سکریٹری کمار روی نے ریفرل نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تمام ضلع مجسٹریٹوں، سول سرجنوں اور چیف میڈیکل افسران کو تفصیلی رہنما ہدایات جاری کر دی ہیں۔
یہ اقدامات’سات نشچئے-3‘کے تحت چلائی جا رہی مہم “سہل صحت، محفوظ زندگی” کے عزم کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔نئی ہدایات کے مطابق کسی بھی مریض کو ریفر کرنے سے قبل متعلقہ معالج کے لیے یہ یقینی بنانا ضروری ہوگا کہ مطلوبہ طبی سہولت متعلقہ اسپتال میں دستیاب نہیں ہے۔ ہر ریفرل کی واضح اور تحریری وجہ درج کرنا لازمی ہوگا۔اس کے علاوہ مریض کے علاج سے متعلق مکمل ریکارڈ اور ریفرل کی تمام تفصیلات بھویہ پورٹل پر بروقت اپ ڈیٹ کی جائیں گی، جبکہ اس کی کمپیوٹرائزڈ نقل مریض یا اس کے اہلِ خانہ کو بھی فراہم کی جائے گی۔
محکمۂ صحت کے مطابق تمام سول سرجن اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ مریضوں کو صرف ناگزیر ضرورت پیش آنے پر ہی اعلیٰ طبی اداروں میں ریفر کیا جائے۔اس نظام کے تحت بھویہ (بہار ہیلتھ ایپلیکیشن وژنری یوجنا فار آل) پورٹل کے ذریعے او پی ڈی، آئی پی ڈی، حادثات اور ایمرجنسی وارڈ میں آنے والے تمام مریضوں کے علاج سے متعلق ہر مرحلے کا ریکارڈ ڈیجیٹل طور پر محفوظ کیا جائے گا۔مریضوں کی رجسٹریشن، ڈاکٹروں کا طبی مشورہ، مختلف طبی جانچ، ادویات، ریفرل اور علاج سے متعلق تمام تفصیلات بھویہ پورٹل پر دستیاب رہیں گی۔ اس کے علاوہ زیرِ علاج مریضوں کی آبھا آئی ڈی بنا کر ان کا الیکٹرانک ہیلتھ ریکارڈ تیار کیا جائے گا، تاکہ مستقبل میں ان کے علاج کو مزید مؤثر، منظم اور معیاری بنایا جا سکے۔
ریفرل نظام کی مؤثر نگرانی کے لیے ہر ضلع میں ضلع مجسٹریٹ کی سربراہی میں ضلعی سطح کی نگرانی و جائزہ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ یہ کمیٹی باقاعدگی سے ریفرل کے تمام معاملات کا جائزہ لے گی اور غیر ضروری ریفرل کی روک تھام کے لیے ضروری اقدامات کرے گی۔اس مقصد کے لیے ریاستی سطح پر بھی ایک نوڈل افسر نامزد کیا گیا ہے، جو تمام اضلاع کے ساتھ مسلسل جائزہ اجلاس منعقد کرے گا اور ریفرل نظام کی مؤثر نگرانی کو یقینی بنائے گا۔
Bihar
مظفرپور-چھپرہ نئی ریلوے لائن کا منصوبہ تعطل کا شکار
(پی این این)
پٹنہ:بہار میں مظفرپور۔چھپرہ نئی ریلوے لائن کا منصوبہ تعطل کا شکار ہوگیا ہے۔ تعمیراتی ایجنسی نے صرف 15 فیصد کام مکمل کرنے کے بعد اس اہم اور طویل عرصے سے زیرِ بحث منصوبے کو بند کرنے کے لیے باضابطہ طور پر کلیوزر (اختتامی منظوری) کی درخواست دے دی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مشرقی وسطی ریلوے کی جانب سے نو برس گزرنے کے باوجود اب تک تفصیلی منصوبہ جاتی رپورٹ (ڈی پی آر) فراہم نہیں کی گئی۔ اس ریلوے لائن پر دریائے گنڈک کے ریوا پل سے مظفرپور تک متعدد چھوٹے پل، روڈ انڈر برج اور اپروچ سڑکوں کی تعمیر کی جانی تھی۔تعمیراتی ایجنسی کو یہ منصوبہ سال 2017 میں سونپا گیا تھا، جبکہ تعمیراتی کام کا آغاز 2018 میں ہوا۔ معاہدے کے مطابق اس منصوبے کو 2020 تک مکمل ہونا تھا، لیکن مقررہ مدت گزر جانے کے باوجود کام پایۂ تکمیل تک نہ پہنچ سکا۔ اب اس اہم ریلوے منصوبے کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔مشرقی وسطی ریلوے کے انجینئرنگ شعبے کے سی اے وی کے سکریٹری منٹو کمار کی رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، مشرقی وسطی ریلوے نو برس گزرنے کے باوجود تعمیراتی ایجنسی کو نئی ریلوے لائن کی تفصیلی منصوبہ جاتی رپورٹ (ڈی پی آر) فراہم کرنے میں ناکام رہا۔ڈی پی آر نہ ملنے کے باعث منصوبے پر مزید پیش رفت ممکن نہ ہو سکی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسی تاخیر سے ناراض ہو کر تعمیراتی ایجنسی نے اب منصوبے سے دستبردار ہونے اور کام بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ادھر ریلوے انتظامیہ نے بھی اس معاملے میں تعمیراتی ایجنسی کو ایک میمورنڈم جاری کیا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اب تک مکمل کیے گئے کام کی بلنگ کا عمل جاری ہے تاکہ انجام دیے گئے کام کی ادائیگی کی کارروائی مکمل کی جا سکے۔
اس نئی ریلوے لائن کی تکمیل سے مظفرپور اور چھپرہ کے درمیان سفر کا فاصلہ نمایاں طور پر کم ہو جاتا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ سال 2020 سے 2024 تک تعمیراتی ایجنسی کو بار بار مدت میں توسیع دی جاتی رہی، لیکن کام شروع ہونے کے آٹھ برس بعد بھی منصوبے کا صرف 15 فیصد حصہ ہی مکمل ہو سکا۔یعنی آٹھ سال کے طویل عرصے میں محض 15 فیصد کام ہی انجام دیا جا سکا۔ اب اس اہم ریلوے لائن کی تعمیر کے ذمہ دار ٹھیکیدار کی جانب سے منصوبے کے اختتام (کلیوزر) کی درخواست کیے جانے کے بعد اس کلیدی ریلوے منصوبے کا مستقبل غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہو گیا ہے۔
ادھر مظفرپور جنکشن سے گزرنے والی کئی ٹرینیں ہفتہ کے روز شدید تاخیر کا شکار رہیں، جس کے باعث مسافروں کو خاصی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔سب سے زیادہ تاخیر 12558 آنند وہار-مظفرپور سپت کرانتی ایکسپریس میں ہوئی، جو مقررہ وقت سے 10 گھنٹے 27 منٹ تاخیر سے مظفرپور جنکشن پہنچی۔ اس کے علاوہ 15706 چمپارن ہمسفر ایکسپریس 4 گھنٹے 7 منٹ، 04652 امرتسر-جئے نگر اسپیشل 6 گھنٹے 2 منٹ تاخیر سے چل رہی تھی۔
اسی طرح 15566 ویشالی ایکسپریس 2 گھنٹے 1 منٹ اور 13022 متھیلا ایکسپریس 2 گھنٹے 5 منٹ کی تاخیر سے منزل پر پہنچیں۔ ٹرینوں کی مسلسل تاخیر کے باعث مسافر شدید مشکلات اور اذیت سے دوچار نظر آئے۔
Bihar
بانکی پورسیٹ سے نامزدگی کے بعد بی جے پی نے اچانک تبدیل کیا امیدوار، ابھیشیک کی جگہ نیرج کمار سنہا میدان میں
(پی این این)
پٹنہ: بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے بہار کی بانکی پور اسمبلی سیٹ پر ہونے والے ضمنی انتخاب کے لیے ابھیشیک کمار بنٹی کے نام واپس لینے کے اعلان کے بعد نیرج کمار سنہا کو اپنا نیا امیدوار قرار دیا ہے۔بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری ارون سنگھ نے جمعہ کو جاری بیان میں کہا کہ پارٹی کی مرکزی انتخابی کمیٹی نے بہار میں ہونے والے بانکی پور اسمبلی ضمنی انتخاب کے لیے 7 جولائی کو اعلان کیے گئے ابھیشیک کمار کی جگہ نیرج کمار سنہا کے نام کو منظوری دے دی ہے۔
نیرج کمار سنہا فی الحال نریندر بھارتی منڈل کے صدر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے تنظیم میں بوتھ صدر، جنرل سکریٹری اور بھارتیہ جنتا یووا مورچہ (بی جے وائی ایم) کے ضلعی نائب صدر سمیت مختلف ذمہ داریاں نبھائی ہیں۔ نیرج کمار سنہا کا خاندان بھی طویل عرصے سے جن سنگھ کی نظریاتی وابستگی سے جڑا رہا ہے۔ ان کے چچا مرحوم نریندر بھارتی جن سنگھ دور کے فعال کارکن تھے۔
ایک غیر متوقع فیصلے کے تحت بانکی پور اسمبلی ضمنی انتخاب میں بی جے پی امیدوار ابھیشیک کمار بنٹی نے آج اپنا نام واپس لینے کا اعلان کیا۔ مسٹر بنٹی نے جمعرات کو بانکی پور اسمبلی ضمنی انتخاب کے لیے بی جے پی امیدوار کے طور پر اپنا پرچہ نامزدگی داخل کیا تھا۔مسٹر بنٹی نے آج بہار بی جے پی دفتر میں منعقد پریس کانفرنس کے دوران پارٹی کے ریاستی صدر سنجے سروگی کو اس سلسلے میں ایک خط سونپا۔ اس کے بعد بی جے پی نے مسٹر بنٹی کی جگہ مسٹر سنہا کو بانکی پور اسمبلی انتخاب کے لیے امیدوار بنا دیا۔
بانکی پور اسمبلی ضمنی انتخاب کے لیے نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ 13 جولائی ہے۔ نامزدگی پرچوں کی جانچ 14 جولائی کو ہوگی، جبکہ نام واپس لینے کی آخری تاریخ 16 جولائی مقرر کی گئی ہے۔ اس سیٹ کے لیے ووٹنگ 30 جولائی کو ہوگی اور ووٹوں کی گنتی 3 اگست کو کی جائے گی۔ انتخابی عمل 4 اگست تک مکمل کر لیا جائے گا۔
بانکی پور اسمبلی سیٹ پر بی جے پی امیدوار کے مقابلے جن سوراج نے اپنے بانی پرشانت کشور کو میدان میں اتارا ہے۔ مقابلے کو سہ رخی بنانے کے لیے راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) نے ریکھا گپتا کو امیدوار بنایا ہے، جو گزشتہ انتخاب میں اس سیٹ پر کامیاب ہونے والے بی جے پی کے موجودہ قومی صدر نتن نوین کی قریبی حریف رہی تھیں۔
Bihar
بہار کو ترقی یافتہ ریاست بنانے کیلئے بہترتال میل ضروری،وزیراعلیٰ سمراٹ چودھری کی رہائش گاہ پر این ڈی اے کی اہم میٹنگ منعقد،نتیش کمار بھی ہوئے شریک،ریاست میںبلاک کی سطح پرمتحدہوکر کام کرنے کا کیا گیا عزم
(پی این این)
پٹنہ:بہار کے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کی پٹنہ میں واقع ایک اَنے مارگ رہائش گاہ پر این ڈی اے کی ایک اہم میٹنگ منعقد ہوئی۔ میٹنگ میں شرکت سے قبل جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) کے کارگزار صدر سنجے جھا نے کہا کہ اتحادی جماعتوں کے درمیان صرف پٹنہ ہی نہیں بلکہ ہر ضلع اور ہر بلاک کی سطح تک بہتر تال میل ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اسی مقصد کے تحت اس اجلاس کا انعقاد کیا گیا ہے۔
اس میٹنگ میں بہار این ڈی اے کی پانچوں اتحادی جماعتوںبھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)، جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو)، لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس)، ہندوستانی عوام مورچہ (ہم) اور راشٹریہ لوک مورچہ (رالومو)کے ضلعی صدور اور سینئر رہنما شریک ہوئے۔
جے ڈی یو کے کارگزار صدر سنجے جھا نے پٹنہ میں ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس اجلاس کا مقصد صرف آئندہ کی حکمتِ عملی تیار کرنا نہیں، بلکہ ضلع اور بلاک کی سطح تک بہتر ہم آہنگی قائم کرکے بہار میں ترقیاتی کاموں کو مزید مؤثر بنانا بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ اب تال میل صرف پٹنہ تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ ہر ضلع اور ہر بلاک کی سطح پر تنظیم اور حکومت کے درمیان مضبوط اور مؤثر ہم آہنگی ناگزیر ہے۔
جے ڈی یو کے لیڈرسنجے جھا نے کہا کہ اس اجلاس میں گزشتہ سال بہار میں ہونے والے انتخابات کے بعد موصول ہونے والے عوامی تاثرات کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ ضلعی صدور اپنے اپنے علاقوں کی زمینی صورتحال، جاری ترقیاتی منصوبوں، عوامی توقعات اور مقامی ضروریات سے متعلق تفصیلی معلومات پیش کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ان تجاویز اور آراء کی بنیاد پر آئندہ کی منصوبہ بندی کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔ سنجے جھا کے مطابق زمینی حقائق اور عوامی رائے کو مدنظر رکھ کر تیار کی جانے والی منصوبہ بندیاں زیادہ کامیاب ثابت ہوتی ہیں اور ان کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچتے ہیں۔
نتیش کمار کے وزیر اعلیٰ کے عہدے سے سبکدوش ہونے اور سمراٹ چودھری کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد این ڈی اے کا یہ پہلا بڑا اجلاس ہے۔ اس میں اتحاد کی تمام جماعتوں کے سینئر رہنماؤں کے ساتھ ساتھ پانچوں اتحادی جماعتوں کے ضلعی صدور کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری خود ضلعی سطح کے رہنماؤں اور عہدیداروں سے براہِ راست گفتگو کرکے مختلف اضلاع کی زمینی صورتحال اور عوامی آراء سے متعلق فیڈ بیک حاصل کر رہے ہیں۔جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) کے قومی صدر نتیش کمار بھی این ڈی اے کے اس اہم اجلاس میں شریک ہوئے۔ وہ پٹنہ کے ایک اَنے مارگ پر واقع وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کی سرکاری رہائش گاہ پہنچے۔
این ڈی اے کے اجلاس میں شرکت کے لیے پٹنہ پہنچے مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نتیانند رائے نے کہا کہ بہار کو ایک ترقی یافتہ ریاست بنانے کے لیے این ڈی اے کی حکومت اور اس کی اتحادی جماعتیں باہمی تال میل کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس اجلاس میں ریاست کی ترقیاتی اسکیموں کا جائزہ، آئندہ کی حکمتِ عملی اور تنظیمی امور سے متعلق اہم معاملات پر تفصیلی غور و خوض کیا جائے گا۔
بہار حکومت کے وزیر سنجے کمار سنگھ نے کہا کہ این ڈی اے کا یہ اجلاس نہایت اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ پہلی مرتبہ اتحاد میں شامل تمام جماعتوں کے ضلعی صدور کو ایک ساتھ مدعو کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تمام اتحادی جماعتوں کے ریاستی صدور اور کابینہ کے وزراء بھی اجلاس میں موجود ہیں، جو بہار این ڈی اے کے لیے ایک مثبت اور اہم پیش رفت ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری یہ جاننا چاہتے ہیں کہ مختلف اضلاع میں کن مسائل اور دشواریوں کا سامنا ہے، تاکہ ان کی نشاندہی کے بعد مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔
-
دلی این سی آر1 year agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
بہار8 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر1 year agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر1 year agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
دلی این سی آر11 months agoاردو اکادمی دہلی کے تعلیمی و ثقافتی مقابلے میں کثیر تعداد میں اسکولی بچوں نےلیا حصہ
