Connect with us

Bihar

مظفرپور-چھپرہ نئی ریلوے لائن کا منصوبہ تعطل کا شکار

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:بہار میں مظفرپور۔چھپرہ نئی ریلوے لائن کا منصوبہ تعطل کا شکار ہوگیا ہے۔ تعمیراتی ایجنسی نے صرف 15 فیصد کام مکمل کرنے کے بعد اس اہم اور طویل عرصے سے زیرِ بحث منصوبے کو بند کرنے کے لیے باضابطہ طور پر کلیوزر (اختتامی منظوری) کی درخواست دے دی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مشرقی وسطی ریلوے کی جانب سے نو برس گزرنے کے باوجود اب تک تفصیلی منصوبہ جاتی رپورٹ (ڈی پی آر) فراہم نہیں کی گئی۔ اس ریلوے لائن پر دریائے گنڈک کے ریوا پل سے مظفرپور تک متعدد چھوٹے پل، روڈ انڈر برج اور اپروچ سڑکوں کی تعمیر کی جانی تھی۔تعمیراتی ایجنسی کو یہ منصوبہ سال 2017 میں سونپا گیا تھا، جبکہ تعمیراتی کام کا آغاز 2018 میں ہوا۔ معاہدے کے مطابق اس منصوبے کو 2020 تک مکمل ہونا تھا، لیکن مقررہ مدت گزر جانے کے باوجود کام پایۂ تکمیل تک نہ پہنچ سکا۔ اب اس اہم ریلوے منصوبے کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔مشرقی وسطی ریلوے کے انجینئرنگ شعبے کے سی اے وی کے سکریٹری منٹو کمار کی رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، مشرقی وسطی ریلوے نو برس گزرنے کے باوجود تعمیراتی ایجنسی کو نئی ریلوے لائن کی تفصیلی منصوبہ جاتی رپورٹ (ڈی پی آر) فراہم کرنے میں ناکام رہا۔ڈی پی آر نہ ملنے کے باعث منصوبے پر مزید پیش رفت ممکن نہ ہو سکی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسی تاخیر سے ناراض ہو کر تعمیراتی ایجنسی نے اب منصوبے سے دستبردار ہونے اور کام بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ادھر ریلوے انتظامیہ نے بھی اس معاملے میں تعمیراتی ایجنسی کو ایک میمورنڈم جاری کیا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اب تک مکمل کیے گئے کام کی بلنگ کا عمل جاری ہے تاکہ انجام دیے گئے کام کی ادائیگی کی کارروائی مکمل کی جا سکے۔
اس نئی ریلوے لائن کی تکمیل سے مظفرپور اور چھپرہ کے درمیان سفر کا فاصلہ نمایاں طور پر کم ہو جاتا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ سال 2020 سے 2024 تک تعمیراتی ایجنسی کو بار بار مدت میں توسیع دی جاتی رہی، لیکن کام شروع ہونے کے آٹھ برس بعد بھی منصوبے کا صرف 15 فیصد حصہ ہی مکمل ہو سکا۔یعنی آٹھ سال کے طویل عرصے میں محض 15 فیصد کام ہی انجام دیا جا سکا۔ اب اس اہم ریلوے لائن کی تعمیر کے ذمہ دار ٹھیکیدار کی جانب سے منصوبے کے اختتام (کلیوزر) کی درخواست کیے جانے کے بعد اس کلیدی ریلوے منصوبے کا مستقبل غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہو گیا ہے۔
ادھر مظفرپور جنکشن سے گزرنے والی کئی ٹرینیں ہفتہ کے روز شدید تاخیر کا شکار رہیں، جس کے باعث مسافروں کو خاصی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔سب سے زیادہ تاخیر 12558 آنند وہار-مظفرپور سپت کرانتی ایکسپریس میں ہوئی، جو مقررہ وقت سے 10 گھنٹے 27 منٹ تاخیر سے مظفرپور جنکشن پہنچی۔ اس کے علاوہ 15706 چمپارن ہمسفر ایکسپریس 4 گھنٹے 7 منٹ، 04652 امرتسر-جئے نگر اسپیشل 6 گھنٹے 2 منٹ تاخیر سے چل رہی تھی۔
اسی طرح 15566 ویشالی ایکسپریس 2 گھنٹے 1 منٹ اور 13022 متھیلا ایکسپریس 2 گھنٹے 5 منٹ کی تاخیر سے منزل پر پہنچیں۔ ٹرینوں کی مسلسل تاخیر کے باعث مسافر شدید مشکلات اور اذیت سے دوچار نظر آئے۔

 

 

Bihar

بانکی پور میں بی جے پی کا قلعہ منہدم،نتن نوین کے مضبوط گڑھ میں بی جے پی کے نیرج کودی بری طرح سے شکست،پرشانت کشور کی این ڈی اے کی اعلیٰ قیادت سے بہار کے لیے’اہل اور ایماندار‘ وزیر اعلیٰ منتخب کرنے کی اپیل

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:بہار کے دارالحکومت پٹنہ کی بانکی پور اسمبلی نشست پر ہونے والے ضمنی انتخاب کے نتائج کی گونج پورے ملک میں سنائی دے رہی ہے۔ اس نشست سے انتخابی حکمتِ عملی ساز اور جن سوراج پارٹی کے بانی پرشانت کشور نے شاندار کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے مضبوط گڑھ سمجھی جانے والی اس نشست پر بی جے پی امیدوار نیرج کمار کو شکست دے دی۔
الیکشن کمیشن کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق، پرشانت کشور نے بی جے پی امیدوار نیرج کمار کو 19,324 ووٹوں کے فرق سے شکست دی۔ کمیشن کے مطابق 32وں مرحلوں کی ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد پرشانت کشور کو 64,151 ووٹ حاصل ہوئے، جبکہ بی جے پی کے نیرج کمار کو 44,827 ووٹ ملے۔ راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کی امیدوار ریکھا کماری 14,273 ووٹوں کے ساتھ تیسرے مقام پر رہیں۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر نتن نوین کے مضبوط سیاسی گڑھ بانکی پور میں جن سوراج پارٹی کے بانی پرشانت کشور نے بی جے پی امیدوار نیرج سنہا کو بھاری فرق سے شکست دے دی۔ ووٹوں کی گنتی کے آغاز ہی سے پرشانت کشور مسلسل سبقت بنائے رکھے، جو آخر تک برقرار رہی۔واضح رہے کہ بانکی پور اسمبلی ضمنی انتخاب کے لیے 30 جولائی کو ووٹنگ ہوئی تھی، جس میں تقریباً 35 فیصد رائے دہندگان نے اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کیا تھا۔
اسی دوران، اپنی تاریخی کامیابی کے بعد پرشانت کشور کے ایک بیان پر بھی خاصی توجہ دی جا رہی ہے۔ پیر کے روز انہوں نے کہا کہ’’بانکی پور ایک رات میں بنگلورو نہیں بن سکتا، تاہم میری جیت کے بعد اس اسمبلی حلقے میں واضح اور مثبت تبدیلی ضرور نظر آئے گی۔‘‘وہیں پرشانت کشور نے آج بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی اعلیٰ قیادت سے بہار کے لیے ایک “اہل، ایماندار اور ترقی پسند” شخص کو وزیر اعلیٰ مقرر کرنے کی اپیل کی۔ مسٹر کشور نے دعویٰ کیا کہ بانکی پور اسمبلی ضمنی انتخاب کے نتائج نے ریاست کی قیادت میں تبدیلی کے لیے عوام کی خواہش کو واضح کر دیا ہے۔
انہوں نے بانکی پور ضمنی انتخاب میں جیت کی طرف بڑھتے ہوئے گنتی مرکز کے باہر نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ عوام نے نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کو 202 ایم ایل ایز کا مینڈیٹ دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اب بی جے پی کی ذمہ داری ہے کہ وہ بہار کی قیادت کسی ایسے شخص کے سپرد کرے جس کا عکس بے داغ ہو اور جو تعلیم، روزگار اور گڈ گورننس کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ ہجرت (مائگریشن) کو روک سکے۔
مسٹر کشور نے کہا کہ بہار کو ایک ایسے اچھے اور اہل وزیر اعلیٰ کی ضرورت ہے جو معیاری تعلیم فراہم کرے، روزگار کے مواقع پیدا کرے اور بہاریوں کے وقار کو بحال کرے۔انہوں نے کسی متبادل لیڈر کا نام لیے بغیر کہا کہ ان کی مخالفت کسی فرد یا پارٹی سے نہیں بلکہ’’کمزور قیادت‘‘سے ہے۔ وزیر اعلیٰ مسٹر چودھری کا نام لیے بغیر ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ ان سے لوگ اچھی طرح واقف ہیں اور اگر ایسی ہی قیادت برقرار رہی تو بہار کی ترقی پر برا اثر پڑے گا۔

Continue Reading

Bihar

ضلع مجسٹریٹ سے سیمانچل یوا سنگٹھن جوکی ہاٹ کی ملاقات

Published

on

ارریہ:سوموار کو سیمانچل یوتھ آرگنائزیشن، جوکی ہاٹ کے ایک وفد نے ضلع مجسٹریٹ، ارریہ سے ملاقات کرکے +2 سرکاری امداد یافتہ ہائی اسکول، جوکی ہاٹ کے احاطے میں تعمیر شدہ اقلیتی طلبہ ہاسٹل کو فوری طور پر فعال کرنے اور ہائی اسکول کے میدان نیز اس سے متصل عوامی سڑک پر برسوں سے قائم غیر قانونی تجاوزات اور سبزی منڈی کے مسئلے سے متعلق ایک تفصیلی عرضداشت پیش کی۔ وفد نے ضلع مجسٹریٹ کو بتایا کہ اقلیتی طلبہ ہاسٹل کی عمارت مکمل ہونے کے باوجود آج تک اسے طلبہ کے لیے نہیں کھولا گیا، جس کے باعث سیمانچل کے غریب اور اقلیتی طبقے سے تعلق رکھنے والے طلبہ اس بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔
اس سلسلے میں مختلف محکموں اور متعلقہ حکام کو پہلے بھی متعدد بار درخواستیں دی جا چکی ہیں، جن کی تفصیلات بھی ضلع مجسٹریٹ کے سامنے پیش کی گئیں۔ اس موقع پر وفد نے جوکی ہاٹ ہائی اسکول کے میدان اور اس سے گزرنے والی عوامی سڑک پر قائم غیر قانونی سبزی منڈی اور تجاوزات کا معاملہ بھی اٹھایا۔ وفد نے کہا کہ اس تجاوز کی وجہ سے روزانہ ہزاروں طلبہ، اساتذہ اور سرپرستوں کو اسکول آنے جانے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سڑک پر ہر وقت ٹریفک جام رہتا ہے، حادثات کا خدشہ برقرار رہتا ہے، جبکہ اسکول کا واحد کھیل کا میدان بھی بری طرح متاثر ہو چکا ہے، جس سے طلبہ کی کھیل، ثقافتی اور دیگر تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔
ضلع مجسٹریٹ نے دونوں معاملات کو سنجیدگی سے سنتے ہوئے وفد کو یقین دلایا کہ اقلیتی طلبہ ہاسٹل کو جلد از جلد فعال بنانے کے لیے متعلقہ محکموں اور ذمہ دار افسران کو ضروری ہدایات جاری کی جائیں گی۔ ساتھ ہی اسکول مینجمنٹ کمیٹی سے بھی وضاحت طلب کی جائے گی کہ اب تک ہاسٹل کے آغاز میں تاخیر کیوں ہوئی۔ مزید برآں ضلع مجسٹریٹ نے ہائی اسکول میدان اور عوامی سڑک پر قائم تجاوزات کی فوری جانچ کرا کر ضروری کارروائی کرنے اور متعلقہ محکموں کو تجاوزات ہٹانے کے لیے مناسب ہدایات جاری کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی۔
، تاکہ طلبہ اور عام شہریوں کو محفوظ اور آسان آمد و رفت کی سہولت میسر آ سکے۔
سیمانچل یوتھ آرگنائزیشن نے ضلع مجسٹریٹ کے مثبت اور سنجیدہ رویے کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ انتظامیہ کی مؤثر کارروائی سے اقلیتی طلبہ ہاسٹل جلد فعال ہوگا اور ہائی اسکول کا میدان اور عوامی سڑک تجاوزات سے پاک ہو کر دوبارہ طلبہ اور عوام کے لیے مفید ثابت ہوں گے۔
تنظیم نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ وہ تعلیم، طلبہ کے حقوق اور عوامی مفاد سے وابستہ مسائل کو آئندہ بھی آئینی، جمہوری اور پرامن طریقے سے انتظامیہ کے سامنے اٹھاتی رہے گی۔

Continue Reading

Bihar

کربلا کی قربانی آج بھی انسانیت کیلئے مشعل راہ: مولانا ناصر حسین

Published

on

بھاگلپور:شہادتِ کربلا کی عظیم یاد میں 19 چہلم کے موقع پر پیر کے روز میر امام بخش وقف اسٹیٹ، قصبہ گولاغاٹ نیا بازار واقع تاریخی امام باڑے میں عقیدت، احترام اور رنج و غم کے ماحول میں مجلس کا انعقاد کیا گیا۔ مجلس میں شہدائے کربلا کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا، جبکہ شہر کی مختلف انجمنوں نے درد بھری نوحہ خوانی اور سینہ زنی کے ذریعے حضرت امام حسینؓ اور ان کے وفادار ساتھیوں کی بے مثال قربانی کو یاد کیا۔مجلس سے خطاب کرتے ہوئے عالی جناب مولانا ناصر حسین صاحب نے فرمایا کہ کربلا محض تاریخ کا ایک باب نہیں، بلکہ انسانیت، انصاف، صبر اور حق کی حفاظت کا ایسا پیغام ہے جو قیامت تک ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے والوں کے حوصلوں کو تقویت دیتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ حضرت امام حسینؓ نے اپنے اہلِ بیت اور جاں نثار ساتھیوں کے ساتھ کربلا کے تپتے ہوئے ریگستان میں اپنا سر تو قربان کر دیا، مگر ظلم و جبر کی علامت یزید کی بیعت قبول نہیں کی۔ یہی وجہ ہے کہ کربلا کی شہادت آج بھی سچائی، انصاف اور خودداری کی بلند ترین مثال سمجھی جاتی ہے۔

مجلس کے دوران امام باڑا ماتمی نوحوں، “یا حسینؑ” کی صداؤں اور اشک بار فضا سے گونج اٹھا۔ عزاداروں نے نم آنکھوں کے ساتھ امام حسینؓ اور شہدائے کربلا کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کی بتائی ہوئی سچائی، انصاف اور انسانیت کی راہ پر چلنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

اس موقع پر امام باڑے کے متولی سید مہدی علی، سید امبر علی، سید محمد علی، جامین علی، نزاکت علی، دانش، اظہر، افروز، وکٹر، بابر، ارشد علی، اظہر سمیت بڑی تعداد میں عقیدت مند موجود تھے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network