تازہ ترین
یتیم خانہ اسلامیہ گیا نے پیش کی خدمت، ایثار اور انسان سازی کی روشن مثال، یتیم بچوں کی تعلیم و تربیت کے 109 سال:وزیر ڈاکٹر سنتوش کمار سمن سمیت اہم شخصیات کی شرکت، پانچ زبانوں میں طلبہ کی تقریروں نے حاصل کی توجہجامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر میں 40 روزہ تفہیم قرآن ورکشاپ کا آغاز14 سال بعد خاتون سپاہی کو 5سال کی قید, بڑی بدعنوانی معاملے میں عدالت نے سنایافیصلہ، 16.25 لاکھ روپے کا جرماعائدکھگڑیا کے ایس پی کیخلاف خواتین کمیشن میں معاملہ درج، آئی پی ایس افسر کو سمن جاری،کمیشن میںجلدحاضرہونے کی دی گئی ہدایت2 سال سے زائد عمر کے بچوں کا برتھ سرٹیفکیٹ نہ بننےسے والدین پریشانلکھنؤ میں اچھانک پلٹ گیا فارملین کیمیکل سے بھرا ٹینکر، رساؤ کے باعث آس پاس کے علاقوں میں کھانسی، خارش اور آنکھوں میں جلن کی شکایاتمدارس اسلامیہ کے تحفظ کیلئے خوف زدہ ہونے کے بجائے اختیار کی جائیں دعا، اصلاح اور ضروری احتیاطی تدابیر : حضرت مولانا مفتی ابو القاسم نعمانیمنھ میں جوتا ٹھونس دوں گا:ایم ایل اے، تاجرگرپوں کے درمیان تنازع حل کرانے پہنچے بی جے پی کے رکن اسمبلی ہوئے برہم
Bihar

سی یو ایس بی کی 3 طالبات کو آئی سی ایس ایس آر سے تین لاکھ روپے کا تحقیقی گرانٹ

گیا : جنوبی بہار مرکزی یونیورسٹی (سی یو ایس بی) کے طلبہ نے اعلیٰ تعلیم کے ساتھ تحقیق کے میدان میں بھی نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔
بھارتی سماجی سائنس تحقیقی کونسل (آئی سی ایس ایس آر)، نئی دہلی نے ’یوا شَوَدھ پرتیبھا یوجنا: یوا اور نوآبادیاتی ذہنیت سے آزادی‘ کے تحت سی یو ایس بی کے چار سالہ بی اے-بی ایڈ کورس کی تین طالبات کے لیے تین لاکھ روپے کا تحقیقی گرانٹ منظور کیا ہے۔
بی اے-بی ایڈ کے ساتویں سمسٹر کی طالبات سانیہ انصاری، شبھانگی سنگھ اور بنیتا سنگھ ’تدریس سے قبل اساتذہ میں نوآبادیاتی ذہنیت سے آزادی: ثقافتی شناخت اور اجتماعی خود اعتمادی سے تعلق‘ کے موضوع پر تحقیق کریں گی۔ اس منصوبے کے تحت نوآبادیاتی ذہنیت سے آزادی اور اس کے ثقافتی شناخت و اجتماعی خود اعتمادی کے ساتھ تعلق کا مطالعہ کیا جائے گا۔
یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر کامیشور ناتھ سنگھ نے اس کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے مواقع طلبہ میں تجسس، تنقیدی فکر اور تحقیق کے تئیں دلچسپی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے پوری تحقیقی ٹیم اور نگران پروفیسر روی کانت کو مبارکباد دی۔
یونیورسٹی کے پی آر او محمد مدثر عالم نے بتایا کہ قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تحت ملنے والی یہ معاونت طلبہ کو محض کلاس روم کی تعلیم تک محدود رہنے کے بجائے تحقیق، علم کی تخلیق اور اختراع کی سمت میں کام کرنے کے لیے حوصلہ دے گی۔
تحقیقی ٹیم کے نگران پروفیسر روی کانت نے کہا کہ اساتذہ کی تعلیم کے نقطۂ نظر سے یہ منصوبہ اہم ہے۔ اس میں نوآبادیاتی ذہنیت سے آزادی کے ابھرتے ہوئے مباحث کو ثقافتی شناخت اور اجتماعی خود اعتمادی سے جوڑ کر مطالعہ کیا جائے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس تحقیق سے دیگر انڈرگریجویٹ طلبہ میں بھی تحقیقی رجحان کو فروغ ملے گا۔

متعلقہ خبریں