تازہ ترین
نعتیہ مقابلے میں سینٹ روز نے جیتے 5 انعاممولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی کا انتقال ملت اسلامیہ کا عظیم خسارہایس آئی آر کے خلاف وزیرگنج میں احتجاج، الیکشن کمیشن کے خلاف نعرے بازیبرج بھوشن سے ملے وزیر سنجے سنگھ، 8 اکتوبر کی برسی تقریب میں شرکت کی دعوتسی یو ایس بی کی 3 طالبات کو آئی سی ایس ایس آر سے تین لاکھ روپے کا تحقیقی گرانٹدھوکہ دہی،ڈیجیٹل ہراسانی کے موضوع پربیداری پروگرام کا انعقادملک کی ترقی کے لیےنریندر مودی پرعزم:ریکھاپنک سہیلی کارڈ کھونے پرنہیں کر سکیںگے مفت بس سفر
دلی این سی آر

دھوکہ دہی،ڈیجیٹل ہراسانی کے موضوع پربیداری پروگرام کا انعقاد

(پی این این)
نئی دہلی :جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سائبر کلب نے،’ڈین، اسٹوڈنٹس ویلفیئر‘ کے دفتر کے زیرِ اہتمام سائبر دور کے موجودہ اور ابھرتے ہوئے خدشات سے نمٹنے کے لیے ’بیونڈ دی اسکرین: سائبر فراڈ، ڈیجیٹل ہراسانی اور اے آئی کے دور میں ڈیپ فیکس‘کے عنوان سے سائبر تحفظ اور بیداری پروگرام منعقد کیا۔
اس موقع پر دہلی پولیس کی جنوبی رینج کے جوائنٹ کمشنر آف پولیس، شری وجے کمار (آئی پی ایس) مہمانِ خصوصی تھے، جب کہ دہلی پولیس کے اے سی پی جناب منوج کمار نے کلیدی خطبہ دیا، جو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سائبر کلب کے بیرونی رکن بھی ہیں۔ پروگرام میں اعزازی مہمانان کے طور پر محترمہ ایشوریہ شرما(آئی پی ایس)، ڈی سی پی لائسنسنگ، دہلی اور ایشوریہ سنگھ(آئی پی ایس، ایڈیشنل ڈی سی پی، جنوبی ضلع، دہلی کی شرکت سے تقریب کی رونق میں چار چاند لگ گئے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے مسجل پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی تقریب کے سرپرست تھے۔ تقریب کی صدارت پروفیسر مظہر آصف،شیخ الجامعہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے کی۔
اپنے استقبالیہ خطاب میں، جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ بہبود کی ڈین اور سائبر کلب کی مشیر پروفیسر نیلوفر افضل نے علم کو بااختیار بنانے کا سب سے بڑا ذریعہ قرار دیا، اس کے ساتھ ہی حاضرین کی توجہ دھوکہ دہی کی تاریکی کی جانب بھی مبذول کرائی، جس کا مقابلہ ٹیکنالوجی اور اے آئی کے ذمہ دارانہ استعمال کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔ سائبر دنیا کے ساتھ تعامل کے حوالے سے ان کے تین نکاتی اصول ’کلک کرنے سے پہلے توقف کریں‘، ”یقین کرنے سے پہلے تصدیق کریں‘، اور”اگر کچھ غلط ہو تو آواز بلند کریں‘نے تقریب کے لیے بنیادی سمت متعین کی۔ ایشوریہ شرما نے ان تین اہم طریقوں پر روشنی ڈالی جن کے ذریعے دھوکہ باز صارفین کے ڈیجیٹل اعتماد کا غلط فائدہ اٹھاتے ہیں: سائبر فراڈ، ڈیجیٹل ہراسانی، اور ڈیپ فیکس۔
انھوں نے حاضرین کو آگاہ کیا کہ وہ اپنی آن لائن سرگرمیوں کے نشانات چھوڑنے کے معاملے میں محتاط رہیں، کیونکہ ایک بار بن جانے کے بعد انہیں مٹانا مشکل ہوتا ہے۔
ایشوریہ سنگھ نے سائبر تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اہم پہلوؤں کی وضاحت کی۔ انھوں نے خوف اور اضطراب کے جذبات میں مبتلا ہونے سے بچنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انھوں نے مزید ان عام طریقوں کا ذکر کیا جنہیں دھوکہ باز سادہ لوح لوگوں کو پھنسانے کے لیے استعمال کرتے ہیں جیسے کہ ڈیجیٹل گرفتاری، مالی سائبر فراڈ، ڈیپ فیکس، پاس ورڈ ہیکنگ، سائبر بدمعاشی و دھمکی، اور شناخت کی چوری۔
منوج کمار نے ڈیجیٹل رسائی میں اضافے کے ساتھ پیدا ہونے والے مصنوعی ذہانت پر مبنی کچھ عام خطرات سے متعلق گفتگو کی۔ انھوں نے ’ڈیجیٹل غلامی’کو خاص طور پر فوری تشویش کا باعث قرار دیا۔ انھوں نے محفوظ رہنے کے لیے چند مفید اور عملی حفاظتی اقدامات تجویز کیے جیسے موبائل سافٹ ویئر کو اپ ڈیٹ رکھنا، دھوکہ دہی کی صورت میں ثبوت محفوظ کرنا، اور فوری رپورٹنگ اور کاروائی کے لیے انیس سو تیس نمبر پر فون کرنا۔ انھوں نے شرکا کو چوکس اور باخبر رہنے اور خود کو واقف کار بنانے کی تلقین کی، کیونکہ محض بے گناہی کا دعویٰ قانون کی گرفت سے استثنیٰ نہیں دلا سکتا۔ انھوں نے شرکا کو سائبر تحفظ اور بہتری کو فروغ دینے والے اہم اقدامات جیسے کہ سنچار ساتھی، ’ایم-کواچ دو، اور ’ڈیجی کواچ‘ کے بارے میں آگاہ کیا۔ انھوں نے مشکوک ویب سائٹس پر جانے اور میلویئر (جیسے اے پی کے فائلیں) ڈاؤن لوڈ کرنے کے خطرناک نتائج کی تفصیل سے وضاحت کی۔
پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی نے محفوظ آن لائن رویے اور ممکنہ سائبر حملوں کے خلاف چوکنا رہنے سے متعلق اہم نکات کو اجاگر کرنے کے لیے کچھ ذاتی واقعات کا حوالہ دیا۔ انھوں نے حاضرین کو مشورہ دیا کہ وہ محفوظ رہیں اور سائبر کرائم کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اپنی عقل اور فہم پر انحصار کریں، اور ایسا صرف اپنی ذات کی خاطر نہیں کریں بلکہ پوری کمیونٹی کے فائدے کے لیے بھی کریں۔

متعلقہ خبریں