Connect with us

دیش

چیف جسٹس کو گالی دینے والے پر نہیں ہوگی کارروائی

Published

on

نئی دہلیسپریم کورٹ میں جمعہ کے دن ایک غیر معمولی واقعہ دیکھنے کو ملا، جب ایک عرضی دہندہ وکیل نے ہوا میں فائلیں چھالیں اور سی جے آئی سوریہ کانت کو گولی دی، یہ پورا واقعہ سوشل میڈیا پر وائرل ہورہا ہے۔ جس پر شدید ردعمل کا اظہار ہورہا ہے اور وکیل پر کارروائی کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ اس کے باوجود سپریم کورٹ نے ملزم کے خلاف کوئی ایکشن لینے سے انکار کردیا ہے۔
دراصل جمعہ کے روز سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران ایک درخواست گزار نے ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ اس نے عدالت میں نازیبا الفاظ کہے اور کورٹ روم میں کیس کی فائل پھینک دی۔ اس وقت سی جے آئی سوریہ کانت کورٹ روم میں موجود نہیں تھے۔ جسٹس کے وی وشوناتھن اور جسٹس آلوک ارادھے کی بنچ اس درخواست پر سماعت کر رہی تھی۔ عرضی گزار بغیر کسی وکیل کے خود ہی اپنا کیس لڑ رہا تھا۔
سپریم کورٹ نے کورٹ روم میں ہنگامہ آرائی کرنے، کیس سے متعلق دستاویزات ہوا میں اچھالنے اور ہندوستان کے چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرنے والے عرضی گزار پربل پرتاپ کے خلاف فی الحال کوئی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم عدالت عظمیٰ نے درخواست گزار کے رویے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اس کی درخواست بھی خارج کر دی۔ جسٹس کے وی وشوناتھن اور جسٹس آلوک ارادھے پر مشتمل بنچ کے سامنے عرضی گزار نے ایسی حرکت کی تھی، جس کے بعد سیکورٹی اہلکار اسے حراست میں لے کر کورٹ روم سے باہر چلے گئے۔
سپریم کورٹ کا ماننا ہے کہ سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے بھی ایسے واقعات کو انجام دیا جاتا ہے۔ ایسے میں کوئی قانونی قدم اٹھانے سے متعلقہ شخص اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائے گا۔ رجسٹرار کی جانب سے جب چیف جسٹس کو اس واقعے کے بارے میں مطلع کیا گیا تو انہوں نے بھی اس معاملے میں آگے کوئی قدم نہ اٹھانے کی ہدایت دی۔
دراصل جمعہ کے روز سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران ایک درخواست گزار نے ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ اس نے عدالت میں نازیبا الفاظ کہے اور کورٹ روم میں کیس کی فائل پھینک دی۔ اس وقت سی جے آئی سوریہ کانت کورٹ روم میں موجود نہیں تھے۔ جسٹس کے وی وشوناتھن اور جسٹس آلوک ارادھے کی بنچ اس درخواست پر سماعت کر رہی تھی۔ عرضی گزار بغیر کسی وکیل کے خود ہی اپنا کیس لڑ رہا تھا۔
سماعت کے دوران اس نے خود کو ’خود مختار‘ بتایا اور کیس کی فائل کے کاغذات ہوا میں اچھال دیے۔ عرضی گزار کے اس رویے سے کورٹ روم میں کچھ دیر کے لیے خاموشی چھا گئی اور سیکیورٹی اہلکاروں نے فوری طور پر اسے کورٹ روم سے باہر نکال دیا۔ جیسے ہی سماعت شروع ہوئی عرضی گزار نے کہا کہ ’’یور آنر، میں آپ کو لکھنؤ کے اے سی پی کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیتا ہوں۔‘‘ جسٹس کے وی وشوناتھن نے حیرت کا اظہار کیا اور پوچھا کہ ’’کیا آپ مجھے حکم دے رہے ہیں؟‘‘ عرضی گزار نے جواب دیا ’’میری طرف سے بس اتنا ہی، سب کچھ ریکارڈ پر ہے۔‘‘ پھر اس نے کیس کی فائل ہوا میں پھینک دی اور نازیبا الفاظ کا استعمال کرنے لگا۔ سیکورٹی اہلکاروں نے فوری مداخلت کرتے ہوئے اسے کورٹ روم سے باہر لے گئے۔

دیش

Published

on

21 جولائی کی ریلی پر سیاسی گھمسان، ترنمول نے کلکتہ ہائی کورٹ کا کھٹکھٹایادروازہ
کولکاتا: مغربی بنگال کی سیاست میں 21 جولائی کی روایتی یومِ شہداء ریلی اس بار شدید سیاسی اور قانونی کشمکش کا مرکز بن گئی ہے۔ کولکاتہ پولیس کی جانب سے دھرمتلہ میں جلسے کی اجازت نہ دینے کے فیصلے کے بعد ’’کالی گھاٹ ترنمول‘‘ نے کلکتہ ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا ہے، جبکہ دوسری جانب ریتوبرتا بنرجی کی قیادت والی خود کو ’’اصل ترنمول‘‘ کہنے والی تنظیم بھی اسی دن پروگرام کے انعقاد کے لیے سرگرم ہے۔ اس طرح 21 جولائی کی ریلی محض ایک سیاسی اجتماع نہیں بلکہ ترنمول کانگریس کے اندر جاری طاقت کی کشمکش کی علامت بنتی جا رہی ہے۔کولکاتہ پولیس پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ دھرمتلہ جیسے انتہائی مصروف علاقے میں 21 جولائی کو کسی بڑے جلسے کی اجازت دینا ممکن نہیں۔ اس فیصلے کے بعد ریتوبرتا بنرجی کے حامیوں نے ریاستی پولیس کے ڈائریکٹر جنرل سدھاناتھ گپتا سے ملاقات کر کے متبادل مقام کی درخواست کی اور گاندھی مجسمہ کے قریب جلسہ منعقد کرنے کی اجازت مانگی۔ ادھر ممتا بنرجی کی قیادت والی ’’کالی گھاٹ ترنمول‘‘ نے پولیس کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔واضح رہے کہ ترنمول کانگریس گزشتہ کئی دہائیوں سے 21 جولائی کو یومِ شہداء کے طور پر مناتی آئی ہے۔ یہ دن 1993 میں اس وقت کے یوتھ کانگریس کارکنوں پر مہاکرن مارچ کے دوران پولیس فائرنگ میں 13 افراد کی ہلاکت کی یاد میں منایا جاتا ہے اور ہر سال دھرمتلہ اس تاریخی اجتماع کا مرکز رہا ہے۔ تاہم اس سال صورتحال یکسر مختلف ہے کیونکہ پارٹی کے اندر اختلافات اور قیادت کے بحران نے اس روایت کو بھی متاثر کر دیا ہے۔ پارٹی کے انتخابی نشان، تنظیمی اختیار اور مالی وسائل کو لے کر رسہ کشی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ متعدد ارکانِ پارلیمنٹ اور اسمبلی پارٹی قیادت سے ناراض بتائے جا رہے ہیں، جبکہ ممتا بنرجی اور ابھیشیک بنرجی کی قیادت کو لے کر بھی اختلافات کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ ایسے میں 21 جولائی کی ریلی کو پارٹی اپنی سیاسی طاقت اور تنظیمی اتحاد کے مظاہرے کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ذرائع کے مطابق ’’کالی گھاٹ ترنمول‘‘ اس مرتبہ ان تمام رہنماؤں اور کارکنوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش کر رہی ہے جو مشکل وقت میں پارٹی کے ساتھ کھڑے رہے لیکن انہیں مناسب سیاسی مقام یا ذمہ داری نہیں مل سکی۔ قیادت کو امید ہے کہ اس حکمت عملی سے پارٹی کے اندر اتحاد کو مضبوط کیا جا سکے گا، تاہم ریلی کے مقام پر تاحال غیر یقینی برقرار ہے۔

 

Continue Reading

دیش

طلبا کو بارش سے بچانے کیلئے دیپکے نے ٹینٹ لگانے کی مانگی اجازت

Published

on

نئی دہلی:نیٹ پیپر لیک معاملے اور دیگر بدعنوانیوں کے خلاف کاکروچ جنتا پارٹی(سی جے پی ) کے جنتر منتر پر مظاہرہ کا بیسواں دن ہے۔ اس دوران دہلی میں بارش بھی ہورہی ہے ، بتایا جاتا ہے کہ سی جے پی کے بانی دیپکے نے پولیس والوں کے سامنے ہاتھ جوڑے کہ انھیں ٹینٹ لگانے کی اجازت دے، کیونکہ طلبا بارش میں بھیگ رہے ہیں۔ انھوں نے ایک ویڈیو پر پولیس میں ترپال لگانے کی کوشش کرنے والے طلبا کے ساتھ پولیس پر بدسلوکی کا بھی الزام لگایا، انھوں نے لکھا ہے کہ خاتون طلبا کو پولیس والوں نے دھکا دیا۔
غورطلب ہے کہ جنتر منتر کے مظاہرے میں معروف سماجی خدمت گار وانگچک بھی بھوک ہڑتال پر ہیں۔ ان کے یہ بھوک ہڑتال کا بارہ واں دن ہے۔ سی جے پی امتحانات میں بدعنوانیوں کے خلاف وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفیٰ مانگ رہی ہے۔ اس مظاہرے میں کئی نامی گرامی سوشل ایکٹوسٹ بھی شامل ہیں، وانگچک 28 جون سے بھوک ہڑتال کررہے ہیں ان کا وزن تیزی سے گرتا جارہا ہے۔

Continue Reading

دیش

سناتن کو بچانے کیلئے شنکراچاریہ اور اکھلیش ساتھ ساتھ

Published

on

لکھنؤ:سناتن دھرم کو ادھرمیوں سے بچانے کے لئے شنکراچاریہ اومکتیشورانند اور اکھلیش یادو میدان میں آگئے ہیں۔سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے جمعرات کو جیوتر مٹھ کے شنکراچاریہ سوامی اویمکتیشورانند سرسوتی سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد انہوں نے رام مندر میں مبینہ عطیہ چوری، گائے کے تحفظ، سناتن دھرم اور امن و امان جیسے مسائل پر بی جے پی حکومت کو گھیرا۔ شنکراچاریہ نے بھی گائے کے تحفظ اور رام مندر سے وابستہ واقعات پر تشویش کا اظہار کیا۔ اکھلیش یادو نے کہا کہ انہیں ’پوجیہ‘ شنکراچاریہ کے درشن اور آشیرواد کا شرف حاصل ہوا۔
سابق وزیراعلیٰ اترپردیش اکھلیش یادو نے بتایا کہ دونوں کے درمیان سناتن پر آنے والے بحران اور ’دھرم‘ کو ’ادھرمیوں‘ کے چنگل سے آزاد کرانے کے حوالے سے تفصیلی تبادلۂ خیال ہوا۔ شنکراچاریہ ’گؤماتا‘ کی حالت زار کو لے کر انتہائی فکر مند ہیں اور گائے کے تحفظ پر سنجیدہ اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ مندر کے احاطے میں جن ملازمین کو کم ادائیگی کی گئی تھی، ان سب کے کال ڈیٹیل ریکارڈ (سی ڈی آر) کی جانچ کرائی جانی چاہیے۔ 99.9 فیصد لوگ بی جے پی کے نکلیں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے لیڈران کے خلاف مسلسل مقدمات درج کیے جاتے ہیں، لیکن اپوزیشن کی شکایات پر ایف آئی آر تک درج نہیں ہوتی۔
رام مندر معاملے کی تحقیقات کرنے والی ایس آئی ٹی پر سوال اٹھاتے ہوئے اکھلیش یادو نے کہا کہ پوری تحقیقات محض ’لیپا پوتی‘ ہے۔ ایس آئی ٹی کی غیر جانبداری پر بھی سوالات کھڑے ہو گئے ہیں اور اس کے ایک رکن پر دھوکہ دہی کا معاملہ درج ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔ اس پورے واقعے کو اکھلیش یادو نے دہلی اور لکھنؤ کی لڑائی قرار دیا۔
اکھلیش یادو نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی اپنے سیاسی مفادات کے مطابق نظریات بدلتی ہے۔ بی جے پی کے لیے مذہب نہیں بلکہ دولت زیادہ اہم ہے۔ ان کے مطابق رام مندر معاملے میں ’مہاپاپ‘ (عظیم گناہ) ہوا ہے اور اس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔ بی جے پی ایسی سیاسی روایت قائم کر رہی ہے جس میں اپوزیشن کے لیڈران کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔
، یہ جمہوریت کے لیے ٹھیک نہیں ہے اور مستقبل میں بی جے پی بھی اپوزیشن میں ہوگی۔
ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ صرف ’سانچہ‘ ہی نہیں بلکہ پورا ’ڈھانچہ‘ بدلنے کی ضرورت ہے۔ ملک کا ’سناتن‘ معاشرہ موجودہ حالات سے دکھی ہے اور حکومت کی پالیسیوں کے باعث عوام مہنگائی اور دیگر مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔
اکھلیش یادو سے ملاقات کے دوران شنکراچاریہ سوامی اویمکتیشورانند نے ’گؤماتا‘ کے تحفظ اور رام مندر سے منسلک مسائل پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ رام مندر عطیات چوری پر شنکراچاریہ نے کہا کہ ’’اس پورے معاملے میں بڑے لوگ قصوروار ہیں… جس طرح سے بے ضابطگی سامنے آئی، اس کے بعد مذہبی رہنماؤں کو شامل کر کے حکومت کی نگرانی میں ٹرسٹ تشکیل دیا جانا چاہیے… ٹرسٹ کو تحلیل کر کے چاروں شنکراچاریوں کو اس میں شامل کیا جائے۔ اس کے علاوہ ایودھیا کے سادھو سنت بھی ٹرسٹ میں شامل ہوں۔‘‘
شنکراچاریہ سوامی اویمکتیشور آنند نے کہا کہ ’’ٹرسٹ میں انتظامی افسران کی ضرورت نہیں ہے اور یہ رویہ بھی اچھا نہیں ہے۔‘‘ خزانچی گووند دیوگیری کو ہدف تنقید بناتے ہوئے شنکراچاریہ نے کہا کہ ’’اصل قصوروار تو وہی ہے، کیونکہ وہ خزانچی ہے اور ٹرسٹ کا پورا حساب کتاب ان کے پاس ہے، خزانچی گووند دیو گیری پر بھی کارروائی ہونی چاہیے۔‘‘ چمپت رائے کے حوالے سے شنکراچاریہ نے کہا کہ سب سے بڑا قصوروار وہی ہے۔ اب وہ کیا بولے گا؟ چمپت رائے اصل گنہگار ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network