تازہ ترین
یتیم خانہ اسلامیہ گیا نے پیش کی خدمت، ایثار اور انسان سازی کی روشن مثال، یتیم بچوں کی تعلیم و تربیت کے 109 سال:وزیر ڈاکٹر سنتوش کمار سمن سمیت اہم شخصیات کی شرکت، پانچ زبانوں میں طلبہ کی تقریروں نے حاصل کی توجہجامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر میں 40 روزہ تفہیم قرآن ورکشاپ کا آغاز14 سال بعد خاتون سپاہی کو 5سال کی قید, بڑی بدعنوانی معاملے میں عدالت نے سنایافیصلہ، 16.25 لاکھ روپے کا جرماعائدکھگڑیا کے ایس پی کیخلاف خواتین کمیشن میں معاملہ درج، آئی پی ایس افسر کو سمن جاری،کمیشن میںجلدحاضرہونے کی دی گئی ہدایت2 سال سے زائد عمر کے بچوں کا برتھ سرٹیفکیٹ نہ بننےسے والدین پریشانلکھنؤ میں اچھانک پلٹ گیا فارملین کیمیکل سے بھرا ٹینکر، رساؤ کے باعث آس پاس کے علاقوں میں کھانسی، خارش اور آنکھوں میں جلن کی شکایاتمدارس اسلامیہ کے تحفظ کیلئے خوف زدہ ہونے کے بجائے اختیار کی جائیں دعا، اصلاح اور ضروری احتیاطی تدابیر : حضرت مولانا مفتی ابو القاسم نعمانیمنھ میں جوتا ٹھونس دوں گا:ایم ایل اے، تاجرگرپوں کے درمیان تنازع حل کرانے پہنچے بی جے پی کے رکن اسمبلی ہوئے برہم
Bihar

سنجے یادو کا کولیجیم نظام کو ختم کرنے اور ججوں کی تقرری میں ریزرویشن نافذ کرنے کامطالبہ

مظفرپور:راجیہ سبھا میں سپریم کورٹ (ججوں کی تعداد) ترمیمی بل 2026پر بحث کے دوران راشٹریہ جنتا دل (آرجے ڈی) کے نوجوان اور شعلہ بیاں رکن پارلیمنٹ سنجے یادو نے مودی حکومت اور موجودہ عدالتی نظام کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری کے طریقے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جس ملک میں ایک چپراسی کی نوکری کے لیے بھی غریب کے بچے کو کٹھن امتحانات سے گزرنا پڑتا ہے، وہاں اتنے بڑے اور اہم عہدوں پر ججوں کی تقرری بنا کسی امتحان کے کیسے ہو جاتی ہے؟ انہوں نے مروجہ کولیجیم نظام کو جمہوریت کے خلاف قرار دیتے ہوئے اسے فوری ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
راجیہ سبھا میں اپنی مدلل اور تیکھی تقریر کے دوران آرجے ڈی ایم پی نے ملک کے سماجی ڈھانچے اور عدالتی نمائندگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ سنجے یادو نے ایوان کو بتایا کہ “یہ کتنی بڑی ناانصافی ہے کہ ملک کی 85 فیصد آبادی دلت، آدیواسی اور پسماندہ طبقات (او بی سی ایس سی ٹی) پر مشتمل ہے، لیکن جب ہم اعلیٰ عدلیہ (ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ) کی طرف دیکھتے ہیں تو وہاں ان مظلوم طبقات کے ججوں کی تعداد ایک فیصد بھی نہیں ہے۔” انہوں نے زور دے کر کہا کہ عدلیہ میں سماجی انصاف کو یقینی بنانے کے لیے ججوں کی تقرری میں ریزرویشن (آرکشن) کا نظام فوری طور پر نافذ کیا جانا چاہیے۔
سنجے یادو نے عدالتی نظام میں شفافیت اور عوامی جوابدہی کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے حکومت کے سامنے پانچ اہم مطالبات رکھے۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی بھرتی کے لیے آل انڈیا جوڈیشل سروس (اے آئی جے ایس) کے تحت سول سروسز کی طرز پر ملک گیر امتحان کا انعقاد ہونا چاہیے تاکہ غریب اور پسماندہ طبقے کے قابل نوجوانوں کو جج بننے کا موقع مل سکے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو یہ جاننے کا پورا حق ہے کہ کس جج کو کس بنیاد پر ترقی دی گئی یا مقرر کیا گیا ہے، لہٰذا تقرری کی تمام وجوہات اور دستاویزات کو پبلک کیا جائے۔
پارلیمنٹ میں سنجے یادو کے اس تیکھے تیور اور جرات مندانہ موقف کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی تیزی سے وائرل ہو رہی ہے اور سیاسی حلقوں میں اس پر گہما گہمی شروع ہو گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔