تازہ ترین
مالیگاؤں کی ڈاکٹر ثانیہ خان کی تاریخی کامیابی پرکی گئی حوصلہ افزائیقرآن کریم ابدی ہدایت و سعادت کا پیامبر اور امن و آشتی اور اخوت و انسانیت کا علمبردار: اصغر امام مہدیجالے:مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کی طلبہ کی حوصلہ افزائی، دارالعلوم سبیل الفلاح میںتعلیمی و تربیتی سرگرمیوں کالیا جائزہ، اساتذہ کو دیے اہم مشورے، دارالطعام کی زیر تعمیر عمارت کاکیا بھی معائنہبی جے پی کارکنوں نے نو منتخب ایم ایل سی ڈاکٹر راہل راج کا کیا استقبالناظم امارت شرعیہ کی عمر ہ سے واپسی پر امارت شرعیہ میں دعائیہ نشست منعقدطلبہ کیلئے خوداعتمادی ، محنت اور معاشرتی ذمہ داریوں کو سمجھنا ضروری ، تعلیم کے ساتھ ساتھ طالب علم کی ہونی چاہیے کردارسازی ،مدنی پبلک اسکول سنگرام میں منعقد حوصلہ افزائی تقریب سے مولانا سیدحسن اسجدمدنی کا خطابوقت بدلتے ہی بدل جاتا ہے تخت، اعظم کے خلاف ای ڈی کی کارروائی پرسخت برہم ہوئے اکھلیش یادو،برسراقتدار پارٹی کو بنایا نشانہاے ایم یو کے ذاکر حسین کالج آف انجینئرنگ اینڈٹکنالوجی میں بین الاقوامی تعلیمی میلے کا انعقاد، 14 اساتذہ ایوارڈ سے سرفراز
دیش

21 جولائی کی ریلی پر سیاسی گھمسان، ترنمول نے کلکتہ ہائی کورٹ کا کھٹکھٹایادروازہ
کولکاتا: مغربی بنگال کی سیاست میں 21 جولائی کی روایتی یومِ شہداء ریلی اس بار شدید سیاسی اور قانونی کشمکش کا مرکز بن گئی ہے۔ کولکاتہ پولیس کی جانب سے دھرمتلہ میں جلسے کی اجازت نہ دینے کے فیصلے کے بعد ’’کالی گھاٹ ترنمول‘‘ نے کلکتہ ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا ہے، جبکہ دوسری جانب ریتوبرتا بنرجی کی قیادت والی خود کو ’’اصل ترنمول‘‘ کہنے والی تنظیم بھی اسی دن پروگرام کے انعقاد کے لیے سرگرم ہے۔ اس طرح 21 جولائی کی ریلی محض ایک سیاسی اجتماع نہیں بلکہ ترنمول کانگریس کے اندر جاری طاقت کی کشمکش کی علامت بنتی جا رہی ہے۔کولکاتہ پولیس پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ دھرمتلہ جیسے انتہائی مصروف علاقے میں 21 جولائی کو کسی بڑے جلسے کی اجازت دینا ممکن نہیں۔ اس فیصلے کے بعد ریتوبرتا بنرجی کے حامیوں نے ریاستی پولیس کے ڈائریکٹر جنرل سدھاناتھ گپتا سے ملاقات کر کے متبادل مقام کی درخواست کی اور گاندھی مجسمہ کے قریب جلسہ منعقد کرنے کی اجازت مانگی۔ ادھر ممتا بنرجی کی قیادت والی ’’کالی گھاٹ ترنمول‘‘ نے پولیس کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔واضح رہے کہ ترنمول کانگریس گزشتہ کئی دہائیوں سے 21 جولائی کو یومِ شہداء کے طور پر مناتی آئی ہے۔ یہ دن 1993 میں اس وقت کے یوتھ کانگریس کارکنوں پر مہاکرن مارچ کے دوران پولیس فائرنگ میں 13 افراد کی ہلاکت کی یاد میں منایا جاتا ہے اور ہر سال دھرمتلہ اس تاریخی اجتماع کا مرکز رہا ہے۔ تاہم اس سال صورتحال یکسر مختلف ہے کیونکہ پارٹی کے اندر اختلافات اور قیادت کے بحران نے اس روایت کو بھی متاثر کر دیا ہے۔ پارٹی کے انتخابی نشان، تنظیمی اختیار اور مالی وسائل کو لے کر رسہ کشی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ متعدد ارکانِ پارلیمنٹ اور اسمبلی پارٹی قیادت سے ناراض بتائے جا رہے ہیں، جبکہ ممتا بنرجی اور ابھیشیک بنرجی کی قیادت کو لے کر بھی اختلافات کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ ایسے میں 21 جولائی کی ریلی کو پارٹی اپنی سیاسی طاقت اور تنظیمی اتحاد کے مظاہرے کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ذرائع کے مطابق ’’کالی گھاٹ ترنمول‘‘ اس مرتبہ ان تمام رہنماؤں اور کارکنوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش کر رہی ہے جو مشکل وقت میں پارٹی کے ساتھ کھڑے رہے لیکن انہیں مناسب سیاسی مقام یا ذمہ داری نہیں مل سکی۔ قیادت کو امید ہے کہ اس حکمت عملی سے پارٹی کے اندر اتحاد کو مضبوط کیا جا سکے گا، تاہم ریلی کے مقام پر تاحال غیر یقینی برقرار ہے۔

 

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔