دیش
21 جولائی کی ریلی پر سیاسی گھمسان، ترنمول نے کلکتہ ہائی کورٹ کا کھٹکھٹایادروازہ
کولکاتا: مغربی بنگال کی سیاست میں 21 جولائی کی روایتی یومِ شہداء ریلی اس بار شدید سیاسی اور قانونی کشمکش کا مرکز بن گئی ہے۔ کولکاتہ پولیس کی جانب سے دھرمتلہ میں جلسے کی اجازت نہ دینے کے فیصلے کے بعد ’’کالی گھاٹ ترنمول‘‘ نے کلکتہ ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا ہے، جبکہ دوسری جانب ریتوبرتا بنرجی کی قیادت والی خود کو ’’اصل ترنمول‘‘ کہنے والی تنظیم بھی اسی دن پروگرام کے انعقاد کے لیے سرگرم ہے۔ اس طرح 21 جولائی کی ریلی محض ایک سیاسی اجتماع نہیں بلکہ ترنمول کانگریس کے اندر جاری طاقت کی کشمکش کی علامت بنتی جا رہی ہے۔کولکاتہ پولیس پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ دھرمتلہ جیسے انتہائی مصروف علاقے میں 21 جولائی کو کسی بڑے جلسے کی اجازت دینا ممکن نہیں۔ اس فیصلے کے بعد ریتوبرتا بنرجی کے حامیوں نے ریاستی پولیس کے ڈائریکٹر جنرل سدھاناتھ گپتا سے ملاقات کر کے متبادل مقام کی درخواست کی اور گاندھی مجسمہ کے قریب جلسہ منعقد کرنے کی اجازت مانگی۔ ادھر ممتا بنرجی کی قیادت والی ’’کالی گھاٹ ترنمول‘‘ نے پولیس کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج کرتے ہوئے ہائی کورٹ سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔واضح رہے کہ ترنمول کانگریس گزشتہ کئی دہائیوں سے 21 جولائی کو یومِ شہداء کے طور پر مناتی آئی ہے۔ یہ دن 1993 میں اس وقت کے یوتھ کانگریس کارکنوں پر مہاکرن مارچ کے دوران پولیس فائرنگ میں 13 افراد کی ہلاکت کی یاد میں منایا جاتا ہے اور ہر سال دھرمتلہ اس تاریخی اجتماع کا مرکز رہا ہے۔ تاہم اس سال صورتحال یکسر مختلف ہے کیونکہ پارٹی کے اندر اختلافات اور قیادت کے بحران نے اس روایت کو بھی متاثر کر دیا ہے۔ پارٹی کے انتخابی نشان، تنظیمی اختیار اور مالی وسائل کو لے کر رسہ کشی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ متعدد ارکانِ پارلیمنٹ اور اسمبلی پارٹی قیادت سے ناراض بتائے جا رہے ہیں، جبکہ ممتا بنرجی اور ابھیشیک بنرجی کی قیادت کو لے کر بھی اختلافات کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ ایسے میں 21 جولائی کی ریلی کو پارٹی اپنی سیاسی طاقت اور تنظیمی اتحاد کے مظاہرے کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ذرائع کے مطابق ’’کالی گھاٹ ترنمول‘‘ اس مرتبہ ان تمام رہنماؤں اور کارکنوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش کر رہی ہے جو مشکل وقت میں پارٹی کے ساتھ کھڑے رہے لیکن انہیں مناسب سیاسی مقام یا ذمہ داری نہیں مل سکی۔ قیادت کو امید ہے کہ اس حکمت عملی سے پارٹی کے اندر اتحاد کو مضبوط کیا جا سکے گا، تاہم ریلی کے مقام پر تاحال غیر یقینی برقرار ہے۔
دیش
مدھیہ پردیش ،گجرات، یوپی ،بہار سمیت 16ریاستوں میں بھاری بارش
بھوپال/جے پور/پٹنہ:ملک بھر میں زبردست بارش کا دور جاری ہے۔ مدھیہ پردیش گجرات، اترپردیش، بہار سمیت 16 ریاستوں میں زبردست بارش ہورہی ہے۔ بستی مہاراشٹر، مراٹھاواڑہ، بیدر اور تلنگانہ میں ریڈ الرٹ جاری کردیا گیاہے۔ ریڈ الرٹ کا مطلب ہے کہ 24 گھنٹے میں حد سے زیادہ بارش۔
دریں اثنا اتراکھنڈ میں ردپریا کے گوری کنڈ کے پاس لینڈ سلائڈنگ سے کیدار ناتھ یاترا تیسرے دن بھی بند رہی ۔ اس دوران کئی گھروں میں پتھروں کا ملبہ گھس گیا۔ اور نصف درجن گاڑیوں کے بہنے کی خبریں ہیں۔ کانوڑیوں کو بچانے کے لئے ایس ڈی آر ایف ٹیم لگی ہوئی ہے۔ آسام میں سیلاب سے مرنے والوں کی تعداد اب سو سے پار کرگئی ہے۔ پانچ لاکھ سے زائد آبادی والے علاقے زیر آب ہیں۔ وہاں کے لوگ دوسرے محفوظ علاقوں میں منتقل کردیئے گئے ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق ایک اگست تک آسام اور دوسری ریاستوں میں بھاری بارش اور بجلی گرنے کے امکانات ہیں۔آسام میں تنسکویا، بھیما جی ، لکھیم پور، شیو ساگر، جورہارٹ اور گولہ گھاٹ جیسے سرحدی اضلاع کو الرٹ کردیا گیا ہے۔
گجرات میں دو دنوں کی بارش نے عام زندگی مفلوج کردی ہے یہاں بھی ہائی الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔ مدھیہ پردیش میں بھی بارش کا الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ وہاں کے 17 اضلع متاثر ہیں۔ یوپی ، بہار کے کئی اضلاع میں بھی انتظامیہ الرٹ ہے۔
دیش
سپریم کورٹ نے بھوج شالہ درگاہ میں نماز کی دی اجازت
نئی دہلی:سپریم کورٹ نے مسلم فریق کو متنازعہ بھوج شالہ احاطہ سے منسلک درگاہ کی زمین پر جمعہ کی نماز کی ادائیگی کی اجازت دی ہے۔ کورٹ نے کہا کہ مذہبی حقوق کی ادائیگی ہمارا فرض ہے۔ اسے سلب نہیں کیا جاسکتا۔
سپریم کورٹ نے مدھیہ پردیش حکومت کو ہدایت دی ہے کہ کل کی جمعہ کی نماز کے لئے بھوج شالہ احاطہ کے بغل میں زمین فراہم کی جائے۔کورٹ نے واضح کیا کہ مسلم فریق نے خسرہ نمبر596جسے درگاہ کی زمین بتایا گیا ہے وہاں پر جمعہ کی نماز ادا کرنے کی اجازت مانگی ہے۔یہ جگہ متنازعہ احاطہ سے بالکل نزدیک ہے ۔
عدالتِ عظمیٰ نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی کہ وہ ہر جمعہ دوپہر ایک بجے سے تین بجے کے درمیان مسلمانوں کو مذکورہ مقام پر نماز ادا کرنے کی اجازت یقینی بنائے۔
چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل بنچ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس حکم سے ریاستی حکومت اور مسلم فریق باہمی رضامندی سے جمعہ کی نماز کے لیے کسی متبادل مقام پر غور کرنے سے محروم نہیں ہوں گے۔ 14 جولائی کو سپریم کورٹ نے عبوری حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ مقدمے کے حتمی فیصلے تک ہر جمعہ دوپہر ایک بجے سے تین بجے کے درمیان نماز کے لیے متنازع مقام سے متصل ایک علیحدہ کھلی جگہ فراہم کی جائے۔بعد ازاں حاجی منیر احمد کی قیادت میں مسلم فریق نے سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے الزام لگایا کہ عدالت کے حکم پر عمل نہیں کیا گیا، کیونکہ ضلعی انتظامیہ نے جو متبادل جگہ فراہم کی ہے وہ متنازع بھوج شالا کمپلیکس سے تقریباً 1.3 کلومیٹر دور ہے۔مسلم فریق کا مؤقف تھا کہ نماز کے لیے ایسی جگہ دی جانی چاہیے جہاں سے مسجد نظر آتی ہو، تاکہ نماز کی ادائیگی ممکن ہو سکے۔
واضح رہے کہ 15 مئی کو مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ دھار ضلع میں واقع متنازع بھوج شالا-کمال مولہ مسجد کمپلیکس دراصل دیوی سرسوتی کا مندر ہے۔ اسی فیصلے میں عدالت نے آثارِ قدیمہ کے سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کے کئی دہائیوں پرانے اس حکم کو بھی منسوخ کر دیا تھا، جس کے تحت مسلم برادری کو اس مقام پر جمعہ کی نماز ادا کرنے کی اجازت حاصل تھی۔
دیش
آسام میں سیلاب سے 61 ہلاک،8لاکھ افراد متاثر،گجرات میں بھار ی بارش سے 8کی موت،تمام تعلیمی ادارے بند
گوہاٹی/احمد آباد:آسام میں سیلاب کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد 61 سے تجاوز کرگئی ہے۔چوبیس گھنٹے میں 15 لوگوں کی موت کی خبریں ہیں۔ ریاست کے بارہ اضلاع زیر آب ہیں۔8 لاکھ سے زائد کو دوسری جگہ منتقل کرایا گیا ہے۔ادھر گجرات میں بھی بارش نے تباہی مچائی ہے۔ وہاں مسلسل بارش ہورہی ہے۔ 50 ہزار سے زائد لوگوں کو دوسری جگہ منتقل کیا گیا ہے۔بارش سے جڑے حادثات میں 8 لوگوں کی موت کی خبریں ہین۔ احمد آباد میں تمام اسکول ، کالج، آنگن باڑی ودیگر تعلیمی ادارے بند کردیے گئے۔ادھر اترپردیش اور راجستھان میں بھی بارش کا الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔اترپردیش میں گزشتہ پندرہ دنوں سے لگاتار بارش ہورہی ہے،آج تیس اضلاع میں زبردست بارش کا الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ راجستھان میں بھی بارش کا دور جاری ہے۔محکمہ موسمیات نے ریاست کے مختلف حصوں کے لئے الرٹ جاری کردیا ہے۔ حالانکہ جموں وکشمیر میں لینڈ سلائڈنگ کی وجہ سے آمدورفت ٹھپ تھی لیکن اب چھ دنوں کے بعد آمدورفت جاری ہوئی ہے۔ امرناتھ یاترا بھی شروع کردی گئی ہے۔
-
دلی این سی آر2 years agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
بہار8 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر2 years agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر2 years agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
دلی این سی آر11 months agoاردو اکادمی دہلی کے تعلیمی و ثقافتی مقابلے میں کثیر تعداد میں اسکولی بچوں نےلیا حصہ
