تازہ ترین
ایم ایل سی انتخابی نتائج پر جے ڈی یو میں کشمکش، منعقدہ جائزہ میٹنگ میں جے ڈی یوکی تمام ناراض لیڈران کو منانے اوراسے مطمئن کرکے معاملے کو ٹھنڈا کرنے کی کوششانکاؤنٹر کلچر کو فروغ دے کر آئین کی خلاف ورزی کر رہی ہے سمراٹ حکومت، منیر انکاؤنٹر پر میسا بھارتی کے بعد روہنی آچاریہ بھی سرگرم، بہار سرکارکو بنایا نشانہیونانی طب کے فروغ کے لیے جدید تحقیق اور قدیم طبی روایات کا امتزاج ضروری’کوئی بھی اہل شہری ووٹر لسٹ میں نام درج کرانے سے نہ رہے محروم‘، ارریہ میں خصوصی سمری ریویژن پروگرام کے حوالے سے تسلیم شدہ سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے ساتھ میٹنگ منعقدپریاگ راج میں 250 کروڑ روپے کا زیورات کا کاروباراے ایم یو کے عبداللہ اسکول میں تقسیم انعامات تقریب کا انعقاددہلی فسادات: کرکرڈوما کورٹ سے چھ مسلمان باعزت بریکرایہ دار ہیں سب گھر بدلتے رہتے ہیں
دلی این سی آر

گجرات یکساں سول کوڈ کے خلاف جمعیۃ عدالت سےکرے گی رجوع : مولانا محمود اسعد مدنی

(پی این این)
نئی دہلی:جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے گجرات اسمبلی کی جانب سے منظور کردہ یکساں سول کوڈ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ قانون مسلمانوں کے اُن عائلی و شخصی قوانین بالخصوص حق وراثت کی واضح شکلوں کو عملاً ختم کرنے کی کوشش ہے جو آئینِ ہند کے تحت تسلیم شدہ ہیں اور قرآن و سنت سے ماخوذ ہونے کی بنا پر محض سماجی ضابطے نہیں بلکہ لازمی دینی احکام کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ کسی بھی حکومت کو مذہبی عقائد اور شرعی احکام میں مداخلت کا کوئی آئینی اختیار حاصل نہیں۔ مزید برآں یکساں سول کوڈ کے نام پر مذہبی شخصی قوانین کا خاتمہ legislative overreach ہے جو ملک کی بڑی عدالت میں سخت آئینی جانچ پر پورا نہیں اترتا۔ جمعیۃ علماء ہند کے صدرمحترم نے یہ بیان جمعیۃ کے وکلاء پینل کے ذریعہ اس قانون کے مطالعے کے بعد دیا ہے۔
جمعیۃ کے وکلاء پینل کی جانب سے بل کے جامع مطالعے کے بعد یہ بات واضح طور پر سامنے آئی ہے کہ اس قانون میں خاص طور پر تین ایسے بنیادی پہلو شامل ہیں جو صریح طور پر اسلامی احکام کی واضح ہدایات سے متصادم ہیں۔ ان میں سرفہرست اسلامی نظامِ وراثت ہے، جس کے حصے قرآنِ کریم میں نہایت صراحت کے ساتھ متعین اور ناقابلِ ترمیم قرار دیے گئے ہیں۔ہر ایک وارث کا حصہ علیحدہ طور پر بیان کیا گیا ہے اور اسے حدود اللہ قرار دے کر تجاوز کرنے والوں کو ظالم کہا گیا ہے۔ اس اعتبار سے یہ محض مسلم پرسنل لا کا حصہ نہیں بلکہ صریح احکامِ الٰہی ہیں، جن پر عمل ہر مسلمان پر فرض ہے۔ لہٰذا اس قانون کے ذریعے ان احکام کو ختم یا غیر مؤثر بنانے کی کوشش نہ صرف قابلِ مذمت ہے بلکہ عدل کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی اور مسلمانوں کے ساتھ آئین سازوں کے کیے گئے عہد کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
اسی طرح تعددِ ازدواج پر کلی پابندی عائد کر کے ایک مسلمہ شرعی اجازت کو غیر قانونی قرار دینا بھی مذہبی آزادی میں مداخلت ہے۔ مزید برآں، عدالت سے ماورا طلاق کی تمام صورتوں پر مکمل پابندی عائد کرنا اور اس پر تین سال تک کی سزا مقرر کرنا، نیز ساٹھ دن کے اندر نکاح کی رجسٹریشن نہ کرنے پر ساٹھ ہزار روپے جرمانہ عائد کرنے سے متعلق دفعات نہ تو آئینی اصولوں سے ہم آہنگ ہیں اور نہ ہی اخلاقی و قانونی معیارات پر پورا اترتی ہیں۔ یہ اقدامات غیر متناسب ہیں بلکہ شہری (سول) معاملات کو بلا جواز فوجداری دائرے میں لے آنے کی ایک سنگین مثال بھی ہیں۔
مولانا مدنی نے گجرات کے وزیر اعلیٰ کے اس بیان کو بھی مضحکہ خیز قرار دیا کہ’’ ایک ملک ہے تو ایک قانون ہونا چاہیے‘‘، اور کہا کہ اگر ایسا ہے تو پھر شیڈولڈ ٹرائبس کو اس قانون سے مستثنیٰ کیوں رکھا گیا؟ کیا وہ ملک کا حصہ نہیں ہیں؟ انہوں نے کہا کہ اس طرح کا عملی امتیاز آئین کے آرٹیکل 14 (حقِ مساوات) کی سنگین خلاف ورزی ہے۔مولانا مدنی نے اعلان کیا کہ جمعیۃ علماء ہند اس قانون کو عدالت میں چیلنج کرے گی اور اس مقصد کے لیے تمام آئینی و قانونی ذرائع اختیار کیے جائیں گے تاکہ مسلمانوں کے مذہبی و آئینی حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور شریعتِ اسلامی کے لازمی احکام کو کسی بھی صورت میں متاثر نہ ہونے دیا جائے۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔