(پی این این)
گیا جی: زمین کی آن لائن پیمائش کے بعد رپورٹ فراہم کرنے کے عوض سات ہزار روپے رشوت طلب کرنا دو خصوصی سروے امینوں کو مہنگا پڑ گیا۔ نگرانی تحقیقاتی بیورو کی ٹیم نے منگل کے روز گیا شہر کے اے پی آر مال کے قریب جال بچھا کر دونوں سرکاری ملازمین کو رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔ گرفتار امینوں کی شناخت ابھیشیک کمار اور دیپک کمار عرف دیپو کے طور پر کی گئی ہے۔ گرفتاری کے دوران دونوں نے فرار ہونے کی کوشش بھی کی، لیکن پہلے سے تیار نگرانی ٹیم نے گھیرابندی کرکے انہیں دبوچ لیا۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق، مقامی باشندہ روہت کمار نے اپنی زمین کی آن لائن میپنگ اور پیمائش کے لیے درخواست دی تھی۔ الزام ہے کہ پیمائش کی رپورٹ فراہم کرنے کے عوض دونوں امینوں نے ان سے سات ہزار روپے رشوت کا مطالبہ کیا تھا۔
سرکاری کام کے لیے رشوت طلب کیے جانے سے پریشان ہوکر روہت کمار نے نگرانی محکمہ سے تحریری شکایت کی۔ شکایت موصول ہونے کے بعد محکمہ کی ٹیم نے معاملے کی جانچ اور تصدیق کرائی، جس میں رشوت طلب کیے جانے کی بات سامنے آئی۔
اس کے بعد پٹنہ سے نگرانی محکمہ کی خصوصی ٹیم گیا جی پہنچی۔ ڈی ایس پی وسیم فیروز کی قیادت میں دونوں ملزمین کو گرفتار کرنے کے لیے منصوبہ تیار کیا گیا۔ طے شدہ منصوبے کے تحت شکایت کنندہ کو رشوت کی رقم لے کر اے پی آر مال کے قریب بلایا گیا۔ جیسے ہی دونوں امینوں نے سات ہزار روپے وصول کیے، پہلے سے گھات لگائے نگرانی ٹیم کے اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے انہیں موقع پر ہی گرفتار کر لیا۔
اس کارروائی کے بعد محکمۂ مال اور سروے سے وابستہ ملازمین میں ہلچل مچ گئی ہے۔ نگرانی ٹیم دونوں گرفتار امینوں کو اپنے ساتھ لے جاکر پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ ان کے خلاف انسدادِ بدعنوانی قانون کے تحت قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔ ساتھ ہی اس پہلو سے بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ رشوت خوری کے اس مبینہ معاملے میں دونوں کے علاوہ محکمہ کے کسی دوسرے ملازم یا شخص کا بھی کوئی کردار تو نہیں ہے۔
