تازہ ترین
محکمے سڑک کے سپرنٹنڈنگ انجینئر کے گھر پرچھاپے، پٹنہ سمیت 4 مقامات پر تلاشی، 10 لاکھ روپے نقد برآمدپٹنہ: ڈاک بنگلہ سے رُکن پورا تک چوڑی کی جائے گی سڑک ،توسیع کاری میں گرائی جائیں گی موریہ لوک اور کوتوالی تھانے کی دیواریںٹرین میں پیسے نہ دینے پر خواجہ سراؤں نے مسافرکو پیٹاجامعہ رحمانی کی علمی و دینی ساکھ کی حفاظت سب کی ذمہ داری، حضرت مولانا قاری سید حبیب احمد باندوی کی خانقاہ رحمانی، مونگیر حاضری، طلبہ و اساتذہ سے خصوصی خطابسہرسہ کے میونسپل کمشنر پربھات جھا معطل، بغیرکسی ٹینڈر کے کرا دیئے 8 کروڑ روپے کے کامیوپی کے مذہبی اقدار کو کچلنے کی ہورہی ہے سازش، مذہبی توہین کرنے والوں کا اتر پردیش کی سرزمین پرکوئی جگہ نہیں، باگیشور دھام کے بہانے اکھلیش یادو کاریاستی حکومت پر حملہرابطہ مدارس کے اجلاس میں منظور قرار دادیں مدارس کے لئے انتہائی اہمغیر ملکی ایپ کے ذریعے حوالہ کاری کا کاروبار، ٹھکانے لگائی گئی کروڑوں روپے کی کالی کمائی ، 15 افراد پولیس کی گرفت میں
Bihar

پٹنہ میں 11 تھانوں کے 72 پولیس اہلکاروں کی تنخواہیں روکنے کا حکم، مقررہ ہدف پورا نہ کرنے پر ایس پی کی بڑی کارروائی

(پی این این)
پٹنہ: مقررہ ہدف کے مطابق مقدمات کی تفتیش مکمل نہ کرنے پر پولیس سپرنٹنڈنٹ نے 11 تھانوں کے 72 پولیس افسران کی تنخواہیں تاحکمِ ثانی روکنے کا حکم دیا ہے۔ یہ کارروائی ستمبر ماہ کے دوران تفتیش اور مقدمات کے تصفیے کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے بعد کی گئی۔ متعلقہ افسران پر تفتیش میں سست روی، لاپروائی اور اعلیٰ افسران کی ہدایات کی خلاف ورزی کے الزامات ہیں۔
جائزے کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ متعلقہ تفتیشی افسران نے اپنے سپرد مقدمات کو نمٹانے میں مقررہ کم از کم ہدف بھی پورا نہیں کیا۔ اس کے بعد دیہی ایس پی کومل مینا نے ان کی تنخواہیں روکنے کا حکم جاری کردیا۔ اس کارروائی سے تھانوں میں تعینات پولیس افسران میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ کارروائی کی زد میں آنے والوں میں بختیارپور تھانے کے 13، باڑھ کے 11، اتھمل گولا کے 10، فتوحہ کے 8، خسروپور کے 7، پنڈارک کے 6، دیدارگنج اور سلیم پور کے پانچ پانچ، مرانچی کے 3 جبکہ موکاما اور ندی تھانے کے دو دو پولیس افسران شامل ہیں۔
بیک وقت 11 تھانوں کے 72 پولیس افسران کے خلاف کی گئی اس کارروائی کو زیرِ التوا مقدمات کی تفتیش اور تصفیے میں تیزی لانے کی ایک اہم پہل قرار دیا جا رہا ہے۔ دیہی ایس پی نے کہا کہ مقررہ ہدف پورا نہ کرنے اور تفتیش میں لاپروائی برتنے والے افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے اس لاپروائی کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے کہا کہ مقدمات کی تفتیش اور تصفیے میں سست روی اختیار کرنا اعلیٰ افسران کے احکامات کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے، جسے کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں