تازہ ترین
پٹنہ میں 11 تھانوں کے 72 پولیس اہلکاروں کی تنخواہیں روکنے کا حکم، مقررہ ہدف پورا نہ کرنے پر ایس پی کی بڑی کارروائیاےایم یو الومنائی ایسوسی ایشن، ارریہ کے زیرِ اہتمام منعقدہ مقابلہ میں ضلع کے 18اسکول کے طلبہ اور طالبات نے لیا حصہمجلس شعرادب کشن گنج کے زیرِ اہتمام تقریب تقسیم ایوارڈ کا انعقاد,پروفیسر انور ایرج، رضی احمد تنہا اور رضوان ندوی ایوارڈ سے سرفرازجنتر منتر اب ہوا خاموش،نہیں کر سکیں گے احتجاجدہلی ہائی کورٹ کا پولیس سے سوال، اے پی سی آر کے سکریٹری ندیم خان کی مبینہ حراست پر نوٹسجیور ہوائی اڈے سے بین الاقوامی پروازیںہوں گی شروعطالبات کی شکایات کا موثر ازالہ بنانا حکومت کی اولین ترجیح: ریکھاجمہوری نظام میں پُرامن احتجاج عوام کااختیار،چراغ پاسوان نے اپنے ہی اتحاد کے وزیر جیتن رام مانجھی کے بیان پرکیا جوابی حملہ
Bihar

پٹنہ میں 11 تھانوں کے 72 پولیس اہلکاروں کی تنخواہیں روکنے کا حکم، مقررہ ہدف پورا نہ کرنے پر ایس پی کی بڑی کارروائی

(پی این این)
پٹنہ: مقررہ ہدف کے مطابق مقدمات کی تفتیش مکمل نہ کرنے پر پولیس سپرنٹنڈنٹ نے 11 تھانوں کے 72 پولیس افسران کی تنخواہیں تاحکمِ ثانی روکنے کا حکم دیا ہے۔ یہ کارروائی ستمبر ماہ کے دوران تفتیش اور مقدمات کے تصفیے کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے بعد کی گئی۔ متعلقہ افسران پر تفتیش میں سست روی، لاپروائی اور اعلیٰ افسران کی ہدایات کی خلاف ورزی کے الزامات ہیں۔
جائزے کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ متعلقہ تفتیشی افسران نے اپنے سپرد مقدمات کو نمٹانے میں مقررہ کم از کم ہدف بھی پورا نہیں کیا۔ اس کے بعد دیہی ایس پی کومل مینا نے ان کی تنخواہیں روکنے کا حکم جاری کردیا۔ اس کارروائی سے تھانوں میں تعینات پولیس افسران میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ کارروائی کی زد میں آنے والوں میں بختیارپور تھانے کے 13، باڑھ کے 11، اتھمل گولا کے 10، فتوحہ کے 8، خسروپور کے 7، پنڈارک کے 6، دیدارگنج اور سلیم پور کے پانچ پانچ، مرانچی کے 3 جبکہ موکاما اور ندی تھانے کے دو دو پولیس افسران شامل ہیں۔
بیک وقت 11 تھانوں کے 72 پولیس افسران کے خلاف کی گئی اس کارروائی کو زیرِ التوا مقدمات کی تفتیش اور تصفیے میں تیزی لانے کی ایک اہم پہل قرار دیا جا رہا ہے۔ دیہی ایس پی نے کہا کہ مقررہ ہدف پورا نہ کرنے اور تفتیش میں لاپروائی برتنے والے افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے اس لاپروائی کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے کہا کہ مقدمات کی تفتیش اور تصفیے میں سست روی اختیار کرنا اعلیٰ افسران کے احکامات کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے، جسے کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں