تازہ ترین
محکمے سڑک کے سپرنٹنڈنگ انجینئر کے گھر پرچھاپے، پٹنہ سمیت 4 مقامات پر تلاشی، 10 لاکھ روپے نقد برآمدپٹنہ: ڈاک بنگلہ سے رُکن پورا تک چوڑی کی جائے گی سڑک ،توسیع کاری میں گرائی جائیں گی موریہ لوک اور کوتوالی تھانے کی دیواریںٹرین میں پیسے نہ دینے پر خواجہ سراؤں نے مسافرکو پیٹاجامعہ رحمانی کی علمی و دینی ساکھ کی حفاظت سب کی ذمہ داری، حضرت مولانا قاری سید حبیب احمد باندوی کی خانقاہ رحمانی، مونگیر حاضری، طلبہ و اساتذہ سے خصوصی خطابسہرسہ کے میونسپل کمشنر پربھات جھا معطل، بغیرکسی ٹینڈر کے کرا دیئے 8 کروڑ روپے کے کامیوپی کے مذہبی اقدار کو کچلنے کی ہورہی ہے سازش، مذہبی توہین کرنے والوں کا اتر پردیش کی سرزمین پرکوئی جگہ نہیں، باگیشور دھام کے بہانے اکھلیش یادو کاریاستی حکومت پر حملہرابطہ مدارس کے اجلاس میں منظور قرار دادیں مدارس کے لئے انتہائی اہمغیر ملکی ایپ کے ذریعے حوالہ کاری کا کاروبار، ٹھکانے لگائی گئی کروڑوں روپے کی کالی کمائی ، 15 افراد پولیس کی گرفت میں
بہار

ووٹر لسٹ پر نظر ثانی مہم میں سلطان حسین ادریسی کی انوکھی پہل

(پی این این)
چھپرہ :ووٹر لسٹ کی خصوصی نظر ثانی مہم کے تحت ووٹروں کو درپیش مسائل کے پیش نظر سماجی کارکن اور سماجی تنظیم نیائے کے بانی جنرل سکریٹری محمد سلطان حسین ادریسی نے عوامی فلاح کی ایک قابل ستائش پہل کی ہے۔ادریسی نے اپنے دفتر میں ایک ہیلپ ڈیسک قائم کیا ہے۔جہاں سے جن شہریوں کو ابھی تک انرومیشن فارم نہیں ملے ہیں انہیں ڈاؤن لوڈ کر مفت فارم فراہم کیے جا رہے ہیں۔اس کے علاوہ سال 2003 کی ووٹر لسٹ میں درج ووٹرز یا ان کے خاندان کے افراد کے نام فہرست سے تلاش کیے جا رہے ہیں اور بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جا رہے ہیں۔اس کیمپ سے فائدہ اٹھانے کے لیے لوگ دور دور سے پہنچ رہے ہیں۔
محمد سلطان حسین ادریسی نے کہا کہ مہم عجلت میں لیا گیا فیصلہ لگتا ہے۔2003 کی ووٹر لسٹ اور موجودہ فہرست میں بہت فرق ہے۔پرانے اور نئے بوتھ نمبروں میں بہت فرق ہے۔انتظامیہ کو چاہیے تھا کہ پہلے ان دونوں کو یکجا کر کے انہیں BLO یا ویب سائٹ پر واضح طور پر دستیاب کراتی۔لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔جس کی وجہ سے عام ووٹر اپنا یا رشتہ داروں کے نام فہرست میں تلاش نہیں کر پا رہے ہیں۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کئی علاقوں سے شکایات موصول ہورہی ہیں کہ بی ایل او کی جانب سے ابھی تک فارم تقسیم نہیں کیے گئے ہیں۔جس کی وجہ سے لوگ پریشان ہیں۔بیرون ملک رہنے والے ہندوستانی ووٹروں کے لیے کوئی واضح ہدایات جاری نہیں کی گئی ہیں کہ وہ اس عمل میں کس طرح حصہ لے سکتے ہیں۔
محمد ادریسی نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ جب بی ایل او خود کہہ رہا ہے کہ اگر آپ بغیر کسی دستاویز کے فارم پر دستخط کر کے جمع کرائیں تو نام حذف نہیں ہوگا۔تو پھر اتنے بڑے پیمانے پر اس مہم کی کیا ضرورت تھی اور اس میں اتنے وسائل کیوں خرچ کیے جا رہے ہیں۔نیائے کا یہ کوشش نہ صرف انتظامی غفلت کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ عام شہریوں کو ان کے حق رائے دہی سے آگاہ کرکے ایک مثبت سماجی مداخلت بھی ہے۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔