دیش
مہاراشٹر و یوپی حج کمیٹیوں میں غیر مسلم سی ای او کی تقرری پر مسلمانوں میں بے چینی، قانونی چیلنج کی تیاری
(پی این این)
ممبئی:مہاراشٹر اور اتر پردیش اسٹیٹ حج کمیٹیوں میں غیر مسلم افسران کو چیف ایگزیکٹیو آفیسر (سی ای او) مقرر کیے جانے پر مسلم حلقوں میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔ مہاراشٹر اسٹیٹ حج کمیٹی میں آئی اے ایس افسر منوج جادھو کی بطور سی ای او تقرری کے بعد مختلف دینی، سماجی اور ملی تنظیموں نے اس فیصلے کو متنازع، حساس اور تعصب پر مبنی قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مخالفت شروع کر دی ہے۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ممبئی سے تعلق رکھنے والے ارکان کی ایک اہم میٹنگ مسافر خانہ، ممبئی میں منعقد ہوئی، جس میں حج کمیٹی آف انڈیا اور ریاستی حج کمیٹیوں میں غیر مسلم سی ای او کی تقرری پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ میٹنگ میں اس فیصلے کو قانونی طور پر چیلنج کرنے پر اصولی اتفاق کیا گیا اور آئندہ لائحۂ عمل طے کیا گیا۔
میٹنگ میں بتایا گیا کہ پرسنل لاء بورڈ کی مرکزی قیادت نے بورڈ کے سکریٹری مولانا مجددی کے ذریعے ممبئی کے ارکان کو ہدایت دی ہے کہ وہ قانونی چیلنج کے لیے مکمل تیاری رکھیں۔ ذرائع کے مطابق ابتدائی مشاورت مکمل ہو چکی ہے اور مرکزی سطح سے سینئر وکلاء کی ایک ٹیم ممبئی پہنچنے والی ہے۔
اس قانونی ٹیم میں ایڈوکیٹ یوسف مچھالا،طاہر حکیم اور شمشاد شامل ہوں گے، جبکہ ضرورت پڑنے پر سینئر وکلاء جیسے ابھیشیک منوسنگوی اور کپل سبل کی خدمات بھی حاصل کی جا سکتی ہیں۔ ممبئی کے بورڈ ممبران کو کیس کی تیاری اور قانونی ٹریننگ کے لیے تیار رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ مہاراشٹر کے کنوینر مولانا محموددریابادی نے نمائندہ کے ذریعے ان تمام تفصیلات کی تصدیق کی ہے۔
دوسری جانب، مسلم علماء اور سماجی کارکنوں نے اس تقرری کو حج جیسے بنیادی مذہبی فریضے کی روح کے منافی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حج اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں شامل ہے اور اس سے متعلق اداروں کی نگرانی کسی ایسے شخص کے ہاتھ میں ہونا چاہیے جو اسلامی احکام، مناسکِ حج اور عازمین کے مذہبی تقاضوں سے پوری طرح واقف ہو۔
بامبے ہائی کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ یوسف ابراہانی نے ایک ویڈیو پیغام میں اس تقرری پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ جان کر صدمہ ہوا کہ حج کمیٹی جیسے حساس ادارے میں غیر مسلم افسر کو سی ای او بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سینٹرل و اسٹیٹ حج کمیٹی ایکٹ کے تحت حج کمیٹیوں کے ارکان اور انتظامی ڈھانچے کا بنیادی طور پر مسلم کمیونٹی سے ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے اس معاملے پر کانگریس کی خاموشی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور اعلان کیا کہ انتخابات کے بعد اس تقرری کو عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔
اس معاملے پر مہاراشٹر اسٹیٹ اردو ساہتیہ اکیڈمی کے سابق صدر ڈاکٹر احمد صدیقی رانا نے وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک مکتوب ارسال کیا ہے، جس میں انہوں نے حج کمیٹی کو مسلمانوں کا ایک مذہبی اور مقدس ادارہ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اس کا چیف ایگزیکٹیو آفیسر لازماً کسی مسلم افسر کو بنایا جائے۔
واضح رہے کہ مہاراشٹر اسٹیٹ حج کمیٹی سعودی عرب کی جانب سے تفویض کردہ حج کوٹے کو پورا کرنے اور ہندوستانی عازمینِ حج کے سفر، قیام، خوراک اور دیگر انتظامات میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ ہر سال تقریباً ایک لاکھ پچھتر ہزار ہندوستانی حج کے لیے روانہ ہوتے ہیں، جن میں اکثریت حج کمیٹی کے ذریعے جبکہ تقریباً ایک چوتھائی نجی ٹور آپریٹرز کے ذریعے فریضۂ حج ادا کرتی ہے۔
سعودی حکام کے مطابق 2026 کا حج عارضی طور پر 25 سے 30 مئی کے درمیان متوقع ہے، جو چاند کی رویت سے مشروط ہوگا۔ اس سلسلے میں عازمین کے لیے نئے قواعد بھی جاری کیے گئے ہیں، جن میں کیمپوں میں کھانا پکانے اور برقی آلات لانے پر پابندی شامل ہے۔ حجاج کو ضروری ادویات، چھتری، دھوپ سے بچاؤ کا سامان، پلاسٹک چٹائیاں اور غذائی سپلیمنٹس ساتھ رکھنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
مسلم حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسے نازک وقت میں حج کمیٹیوں کے انتظامی فیصلوں میں حساسیت، شفافیت اور مذہبی تقاضوں کا لحاظ رکھنا نہایت ضروری ہے، بصورت دیگر یہ معاملہ محض انتظامی نہیں بلکہ ایک بڑے آئینی و سماجی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
انٹر نیشنل
امریکہ کے بعدبرطانیہ میں بھی بھاگوت کی پرزور مخالفت
لندن:امریکہ کے بعد برطانیہ کی راجدھانی لندن کے میئر صادق خان کو سول سوسائٹی کے 20 تنظیموں نے مکتوب بھیج کر آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے پروگرام کے بائیکاٹ کی اپیل کی ہے۔
مکتوب میں آر ایس ایس کو ایک تانا شاہ اور ملٹری فکر والی تنظیم بتایا گیا ہے۔ اور ایسا ہی ایک خط برطانیہ کے وزارت خارجہ کو بھی بھیجا گیا ہے۔ غورطلب ہے کہ گزشتہ ہفتہ امریکہ میں کئی ہندو تنظیموں نے آر ایس ایس سربراہ کے ’یونیورسل ون نیس سیلیبریشن ‘پروگرام کی مخالفت کی تھی ، مظاہرہ کیا تھا۔
موہن بھاگوت کا یہ پروگرام نیویارک شہر کے میڈیسن اسکوائر گارڈن میں منعقد ہوا تھا۔ لندن کی سوسائٹی کے تنظیموں نے مکتوب میں میئر کو گریٹر لندن اتھارٹی سے اپیل کرنے کو کہا کہ وہ موہن بھاگوت کو برطانیہ دورے کے درمیان آر ایس ایس کے ذریعہ منعقد پروگراموں کا بائیکاٹ کرے۔ موہن بھاگوت ہفتہ کے اختتام میں برطانیہ میں ہندنژاد طبقات کے لئے منعقد ایک پروگرام کو خطاب کریں گے۔
ان تنظیموں نے میئر صادق خان سے یہ بھی اپیل کی ہے کہ وہ آر ایس ایس کے پروگرام کیلئے جگہ کی اجازت نہ دیں۔ آرا یس ایس کے سو سال پورے ہونے کے موقع پر چلائے جارہے انٹرنیشنل آئوٹ ریچ پروگرام کے تحت بھاگوت کا دورہ امریکہ اور کینڈا میں ہوچکا ہے۔ دا انڈیپنڈنٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق انھوں نے آر ایس ایس کو ایک تاناہی اور ملٹری فکر والی تنظیم قرار دیا ہے۔ جس سے یوروپین فاسی واد سے تحریک ملی تھی۔ اور تنظیم نے افسران سے یہ بھی کہا ہے کہ برطانیہ کے الگ الگ ثقافت والے سماج کی تحفظ کےلئے بھی نظم کیا جائے۔ اس مکتوب میں ہندوزفار ہیومن رائٹرس ، یوکے انڈین مسلم کونسل ، انڈیا لیبر سالیڈیٹری اور ساوتھ ایشیا سالیڈیٹری جیسی تنظیموں نے دستخط کئے ہیں۔ مکتوب میں خاص طبقات کی سیکورٹی کے لئے میٹروپولٹن پولیس کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں بھی جانکاری مانگی گئی ہے۔
دیش
ٹی ایم سی کے 22 باغیوں کی رکنیت پر لٹکی تلوار
نئی دہلی:ترنمول کانگریس کے 22 باغی ممبران پارلیمنٹ جو این سی پی میں چلے گئے ہیں، ان کی رکنیت پر تلوار لٹکی ہوئی ہے۔ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے انھیں نوٹس جاری کردیا ہے کہ وہ 22 ستمبر تک جواب دیں کہ کیسے وہ این سی پی آئی میں گئے۔ غورطلب ہے کہ ٹی ایم سی کے لیڈر ابھشیک بنرجی نے اپنی عرضی میں ان تمام باغی ارکان پارلیمنٹ کی رکنیت منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے جو غیر قانونی طور پر ایک گمنام جماعت این سی پی آئی میں چلے گئے ہیں۔ واضح ہو کہ گزشتہ 18 جون 2026 کو ٹی ایم سی کے جنرل سکریٹری اور ایم پی ابھشیک بنرجی نے اوم برلا سے ان تمام باغی ارکان پارلیمنٹ کے خلاف آئین کی دسویں شیڈیول کے تحت نااہل قرار دیتے ہوئے ان کی رکنیت منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق اسپیکر اوم برلا نے ان 20 این سی پی آئی ممبران پارلیمنٹ کو ٹی ایم سی اس عرضی کا جواب دینے کے لئے 22 ستمبر تک کا وقت دیا ہے۔
غورطلب ہے کہ مغربی بنگال اسمبلی انتخاب کے نتیجے آنے کے بعد 14 جون ٹی ایم سی کے 20 ارکان پارلیمنٹ نے بغاوت کردی تھی اور نیشنلسٹ سٹیزن پارٹی آف انڈیا (این سی پی آئی ) کا دامن تھام لیا تھا۔ اس کے بعد انھوں نے این ڈی اے کو حمایت دینے کا اعلان کردیا تھا، مگر اب ان کی رکنیت پر آئینی سوال کھڑا ہوگیا ہے۔ ان باغی ارکان کی قیادت پارٹی کے سینئر رہنماؤں سدپ بندیوپادھیائے اور کاکولی گھوش دستیدار کر رہے ہیں۔ ان ارکان نے انتخابی شکست کے بعد پارٹی میں پیدا ہونے والی اندرونی کشمکش کے دوران جون میں پارٹی سے الگ راہ اختیار کی تھی۔دسویں شیڈول یعنی پارٹی بدلنے سے متعلق قانون سے بچنے کے لیے، باغی گروپ نے، جو ٹی ایم سی کے 28 لوک سبھا ارکان میں سے دو تہائی سے زیادہ ارکان پر مشتمل ہے، تریپورہ میں قائم نیشنلسٹ سٹیزنس پارٹی آف انڈیا (این سی پی آئی) میں انضمام کا اعلان کیا تھا۔
اس دوران اسپیکر اوم برلا نے 20 باغی ارکان کے لیے ایوان میں الگ نشستوں کی منظوری دے دی ہے، تاہم ان کے انضمام کی ابھی توثیق نہیں کی ہے۔ ابھشیک بنرجی نے اسپیکر اوم برلا سے باغی ارکان کے خلاف نااہلی کی درخواستوں پر کارروائی تیز کرنے اور ٹی ایم سی کے باقی 8 وفادار ارکان کے لیے نشستوں کے انتظام میں تبدیلی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔
بنرجی نے اس معاملے میں سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا تھا۔ سماعت کے دوران لوک سبھا اسپیکر اور ایوان کے سکریٹری جنرل کی جانب سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے بنچ کو بتایا تھا کہ اسپیکر نے دسویں شیڈول کے تحت ٹی ایم سی کی جانب سے دائر نااہلی کی درخواستوں پر 20 ارکان کو پہلے ہی نوٹس جاری کر دیے ہیں۔بہرحال باغیوں میں حجان کی کیفیت ہے جبکہ ممتا بنرجی خیمہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔اطلاع یہ بھی ہے کہ یوسف پٹھان سمیت چار ممبران پارلیمنٹ ممتا بنرجی کے رابطہ میں ہیں۔
دیش
بی سی آئی کو قانون کے طلبا کے خلاف کارروائی کا اختیار نہیں
نئی دہلی:سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ بار کونسل آف انڈیا (بی سی آئی) قانون کے طلبہ کو ان کے کالج یا یونیورسٹی کے اندر کیے گئے کسی طرز عمل پر سزا نہیں دے سکتی۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ بی سی آئی کے پاس قانون کی تعلیم حاصل کر رہے طلبہ کے خلاف تادیبی کارروائی کرنے کا اختیار نہیں ہے۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ قانون کے طلبہ کے طرز عمل اور ان کے نظم و ضبط سے متعلق فیصلہ ان کی یونیورسٹی یا تعلیمی ادارہ ہی کر سکتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ بی سی آئی نے چیف جسٹس کی کانووکیشن تقریب میں شرکت کی مخالفت کرنے والے نلسار کے طلبہ کے خلاف کارروائی کے لیے جو خطوط بھیجے تھے، وہ اس کے دائرہ اختیار سے باہر تھے۔یہ عرضی نالسار کے سابق طلبہ مہر سود اور ابھشیک تیواری نے دائر کی تھی۔ عرضی میں بی سی آئی کے چیئرمین منن کمار مشرا کے 13 اگست کے اس سرکلر کو چیلنج کیا گیا تھا، جس میں انہوں نے نالسار کے طلبہ کے کسی بھی بار کونسل میں وکیل کی حیثیت سے رجسٹریشن پر پابندی عائد کرنے کا حکم دیا تھا۔ تاہم مخالفت کے بعد منن مشرا نے یہ سرکلر واپس لے لیا تھا۔
دراصل نالسار کے طلبہ نے چیف جسٹس سوریہ کانت کے ہاتھوں کانووکیشن تقریب میں ڈگری حاصل کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کے بعد منن کمار مشرا نے یہ سرکلر جاری کیا تھا۔
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
بہار9 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر2 years agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر2 years agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
