دیش
وقف پورٹل پر وقف املاک کو اپلوڈ کرنے کے لئے ہر مقام پر کی جائیں گی وقف ہیلپ ڈیسک قائم:مسلم پرسنل لا بورڈ
(پی این این)
نئی دہلی:نئی دہلی میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی مجلس عاملہ کا ایک اہم اجلاس صدر بورڈ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں ملک و ملت کو درپیش متعدد اہم معاملات زیر بحث آئے- امید پورٹل پر وقف املاک کو درج کرانے کے معاملہ پر تفصیل سے گفتگو ہوئی۔ متعدد ریاستوں اور وقف متولیان کی جانب سے یہ شکایات بھی زیر بحث آئیں کہ امید پورٹل پر اپلوڈ کرنا آسان نہیں ہے، یہ ایک مشکل پورٹل ہے، دوران استعمال کئی کئی بار بند ہوجاتا ہے، ایک وقف املاک کے دستاویز کو اپلوڈ کرنے میں تقریباً 40 تا 45 منٹ لگ جاتے ہیں، بہت سارے دستاویزات طلب کئے جارہے ہیں، ایک بھی اہم اور لازمی دستاویز اپلوڈ نہ کرنے پر پورٹل رک جاتا ہے۔ اس سلسلے میں طے پایا کہ مسلم جماعتوں کے تعاون سے ہر ریاست اور ہر اہم مقام پر پروفیشنل اور ٹیکنیکل افراد کی مدد سے وقف ڈیسک قائم کی جائیں گی اور کوشش کی جائے گی کہ متعلقہ افراد اور متولیان کی رہنمائی اور مدد کی جائے۔ البتہ بورڈ نے سپریم کورٹ میں ایک درخواست دے کر پورٹل کی مدت میں توسیع اور اسے آسان و سہل بنانے کی اپیل بھی کی ہے۔ کورٹ میں پورٹل کے مسئلہ پر اب سماعت 28/اکتوبر کو ہوگی۔ بہرحال موجودہ حالات میں بورڈ نے جلد سے جلد پورٹل پر درج کرنے کی اپیل کی ہے۔
چونکہ وقف ایکٹ پر عبوری فیصلے کے بعد یہ پہلی فزیکل میٹنگ تھی، لہذا بورڈ کی لیگل ٹیم کے اہم رکن اور بورڈ کے وکیل سینئر ایڈوکیٹ ایم آر شمشاد نے عبوری فیصلے کی تفصیلات کو ارکان عاملہ کے سامنے رکھا۔ متعدد ارکان نے عبوری فیصلے پر عدم اطمینان کا اظہار کیا کہ سوائے ایک دو معاملات میں راحت دینے کے، عدالت عظمی نے کئی اہم اور متنازعہ شقوں پر عبوری فیصلے میں کوئی راحت نہیں دی۔
وقف ترمیمی قانون 2025 کے خلاف تحفظ اوقاف مہم کے دوسرے مرحلے کی تفصیلات سے مہم کے کنوینر ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے ارکان عاملہ کو واقف کرایا۔ طے پایا کہ 16/ نومبر کو دہلی کے رام لیلا میدان میں ہونے والے اجلاس کو کامیاب بنانے پر بھرپور توجہ دی جائے۔ اس سلسلےمیں تمام دینی و ملی جماعتوں سے بھرپور تعاون حاصل کیا جائے۔ روڈ میپ کے دیگر اجزاء میں معمولی حذف و اضافہ کے بعد اس کو باقی رکھا گیا۔ طے کیا گیا کہ جن جن ریاستوں میں بڑے اجلاس کرنا ممکن ہے وہاں اسے ضرور کیا جائے۔ ریاستی کنوینرس کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ اپنی ریاست کے حالات کے مطابق معمولی ردوبدل کرسکتے ہیں۔
اجلاس کی کاروائی جنرل سکریٹری مولانا محمد فضل الرحیم مجددی نے چلائی۔ اجلاس میں درج ذیل ارکان عاملہ نے شرکت فرمائی۔ نائبین صدور مولانا عبید اللہ خان اعظمی ، مولانا اصغرعلی امام مہدی سلفی اورسید سعادت اللہ حسینی، سکریٹریز میں مولانا سید بلال عبدالحی حسنی ندوی، مولانا ڈاکٹر یاسین علی عثمانی بدایونی ، خازن بورڈ پروفیسر ریاض عمر ، ترجمان بورڈ ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس، ویمن ونگ انچاج ایڈوکیٹ جلیسہ سلطانہ یسین ،بیرسٹر اسدالدین اویسی،مولانا سید محمود اسعد مدنی مولانا مفتی احمد دیولوی، مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی،عارف مسعود ایم ایل اے، ایڈوکیٹ ایم آر شمشاد، ایڈوکیٹ حافظ رشید احمد چودھری، مولانا خالد رشید فرنگی محلی، مولانا ڈاکٹر پروفیسر محمد سعود عالم قاسمی، مولانا عتیق احمد بستوی، مولانا انیس الرحمن قاسمی، مولانامحمد ابو طالب رحمانی، مولانا ارشد مختار، مولانا محموداحمد خان دریابادی،پروفیسر حسینہ حاشیہ،رحمت النساء اور ڈاکٹر ثمرہ سلطانہ وغیرہ۔ صدر کے اختتامی کلمات اور دعا پر نشست کا اختتام ہوا۔
انٹر نیشنل
امریکہ کے بعدبرطانیہ میں بھی بھاگوت کی پرزور مخالفت
لندن:امریکہ کے بعد برطانیہ کی راجدھانی لندن کے میئر صادق خان کو سول سوسائٹی کے 20 تنظیموں نے مکتوب بھیج کر آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے پروگرام کے بائیکاٹ کی اپیل کی ہے۔
مکتوب میں آر ایس ایس کو ایک تانا شاہ اور ملٹری فکر والی تنظیم بتایا گیا ہے۔ اور ایسا ہی ایک خط برطانیہ کے وزارت خارجہ کو بھی بھیجا گیا ہے۔ غورطلب ہے کہ گزشتہ ہفتہ امریکہ میں کئی ہندو تنظیموں نے آر ایس ایس سربراہ کے ’یونیورسل ون نیس سیلیبریشن ‘پروگرام کی مخالفت کی تھی ، مظاہرہ کیا تھا۔
موہن بھاگوت کا یہ پروگرام نیویارک شہر کے میڈیسن اسکوائر گارڈن میں منعقد ہوا تھا۔ لندن کی سوسائٹی کے تنظیموں نے مکتوب میں میئر کو گریٹر لندن اتھارٹی سے اپیل کرنے کو کہا کہ وہ موہن بھاگوت کو برطانیہ دورے کے درمیان آر ایس ایس کے ذریعہ منعقد پروگراموں کا بائیکاٹ کرے۔ موہن بھاگوت ہفتہ کے اختتام میں برطانیہ میں ہندنژاد طبقات کے لئے منعقد ایک پروگرام کو خطاب کریں گے۔
ان تنظیموں نے میئر صادق خان سے یہ بھی اپیل کی ہے کہ وہ آر ایس ایس کے پروگرام کیلئے جگہ کی اجازت نہ دیں۔ آرا یس ایس کے سو سال پورے ہونے کے موقع پر چلائے جارہے انٹرنیشنل آئوٹ ریچ پروگرام کے تحت بھاگوت کا دورہ امریکہ اور کینڈا میں ہوچکا ہے۔ دا انڈیپنڈنٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق انھوں نے آر ایس ایس کو ایک تاناہی اور ملٹری فکر والی تنظیم قرار دیا ہے۔ جس سے یوروپین فاسی واد سے تحریک ملی تھی۔ اور تنظیم نے افسران سے یہ بھی کہا ہے کہ برطانیہ کے الگ الگ ثقافت والے سماج کی تحفظ کےلئے بھی نظم کیا جائے۔ اس مکتوب میں ہندوزفار ہیومن رائٹرس ، یوکے انڈین مسلم کونسل ، انڈیا لیبر سالیڈیٹری اور ساوتھ ایشیا سالیڈیٹری جیسی تنظیموں نے دستخط کئے ہیں۔ مکتوب میں خاص طبقات کی سیکورٹی کے لئے میٹروپولٹن پولیس کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں بھی جانکاری مانگی گئی ہے۔
دیش
ٹی ایم سی کے 22 باغیوں کی رکنیت پر لٹکی تلوار
نئی دہلی:ترنمول کانگریس کے 22 باغی ممبران پارلیمنٹ جو این سی پی میں چلے گئے ہیں، ان کی رکنیت پر تلوار لٹکی ہوئی ہے۔ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے انھیں نوٹس جاری کردیا ہے کہ وہ 22 ستمبر تک جواب دیں کہ کیسے وہ این سی پی آئی میں گئے۔ غورطلب ہے کہ ٹی ایم سی کے لیڈر ابھشیک بنرجی نے اپنی عرضی میں ان تمام باغی ارکان پارلیمنٹ کی رکنیت منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے جو غیر قانونی طور پر ایک گمنام جماعت این سی پی آئی میں چلے گئے ہیں۔ واضح ہو کہ گزشتہ 18 جون 2026 کو ٹی ایم سی کے جنرل سکریٹری اور ایم پی ابھشیک بنرجی نے اوم برلا سے ان تمام باغی ارکان پارلیمنٹ کے خلاف آئین کی دسویں شیڈیول کے تحت نااہل قرار دیتے ہوئے ان کی رکنیت منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق اسپیکر اوم برلا نے ان 20 این سی پی آئی ممبران پارلیمنٹ کو ٹی ایم سی اس عرضی کا جواب دینے کے لئے 22 ستمبر تک کا وقت دیا ہے۔
غورطلب ہے کہ مغربی بنگال اسمبلی انتخاب کے نتیجے آنے کے بعد 14 جون ٹی ایم سی کے 20 ارکان پارلیمنٹ نے بغاوت کردی تھی اور نیشنلسٹ سٹیزن پارٹی آف انڈیا (این سی پی آئی ) کا دامن تھام لیا تھا۔ اس کے بعد انھوں نے این ڈی اے کو حمایت دینے کا اعلان کردیا تھا، مگر اب ان کی رکنیت پر آئینی سوال کھڑا ہوگیا ہے۔ ان باغی ارکان کی قیادت پارٹی کے سینئر رہنماؤں سدپ بندیوپادھیائے اور کاکولی گھوش دستیدار کر رہے ہیں۔ ان ارکان نے انتخابی شکست کے بعد پارٹی میں پیدا ہونے والی اندرونی کشمکش کے دوران جون میں پارٹی سے الگ راہ اختیار کی تھی۔دسویں شیڈول یعنی پارٹی بدلنے سے متعلق قانون سے بچنے کے لیے، باغی گروپ نے، جو ٹی ایم سی کے 28 لوک سبھا ارکان میں سے دو تہائی سے زیادہ ارکان پر مشتمل ہے، تریپورہ میں قائم نیشنلسٹ سٹیزنس پارٹی آف انڈیا (این سی پی آئی) میں انضمام کا اعلان کیا تھا۔
اس دوران اسپیکر اوم برلا نے 20 باغی ارکان کے لیے ایوان میں الگ نشستوں کی منظوری دے دی ہے، تاہم ان کے انضمام کی ابھی توثیق نہیں کی ہے۔ ابھشیک بنرجی نے اسپیکر اوم برلا سے باغی ارکان کے خلاف نااہلی کی درخواستوں پر کارروائی تیز کرنے اور ٹی ایم سی کے باقی 8 وفادار ارکان کے لیے نشستوں کے انتظام میں تبدیلی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔
بنرجی نے اس معاملے میں سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا تھا۔ سماعت کے دوران لوک سبھا اسپیکر اور ایوان کے سکریٹری جنرل کی جانب سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے بنچ کو بتایا تھا کہ اسپیکر نے دسویں شیڈول کے تحت ٹی ایم سی کی جانب سے دائر نااہلی کی درخواستوں پر 20 ارکان کو پہلے ہی نوٹس جاری کر دیے ہیں۔بہرحال باغیوں میں حجان کی کیفیت ہے جبکہ ممتا بنرجی خیمہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔اطلاع یہ بھی ہے کہ یوسف پٹھان سمیت چار ممبران پارلیمنٹ ممتا بنرجی کے رابطہ میں ہیں۔
دیش
بی سی آئی کو قانون کے طلبا کے خلاف کارروائی کا اختیار نہیں
نئی دہلی:سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ بار کونسل آف انڈیا (بی سی آئی) قانون کے طلبہ کو ان کے کالج یا یونیورسٹی کے اندر کیے گئے کسی طرز عمل پر سزا نہیں دے سکتی۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ بی سی آئی کے پاس قانون کی تعلیم حاصل کر رہے طلبہ کے خلاف تادیبی کارروائی کرنے کا اختیار نہیں ہے۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ قانون کے طلبہ کے طرز عمل اور ان کے نظم و ضبط سے متعلق فیصلہ ان کی یونیورسٹی یا تعلیمی ادارہ ہی کر سکتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ بی سی آئی نے چیف جسٹس کی کانووکیشن تقریب میں شرکت کی مخالفت کرنے والے نلسار کے طلبہ کے خلاف کارروائی کے لیے جو خطوط بھیجے تھے، وہ اس کے دائرہ اختیار سے باہر تھے۔یہ عرضی نالسار کے سابق طلبہ مہر سود اور ابھشیک تیواری نے دائر کی تھی۔ عرضی میں بی سی آئی کے چیئرمین منن کمار مشرا کے 13 اگست کے اس سرکلر کو چیلنج کیا گیا تھا، جس میں انہوں نے نالسار کے طلبہ کے کسی بھی بار کونسل میں وکیل کی حیثیت سے رجسٹریشن پر پابندی عائد کرنے کا حکم دیا تھا۔ تاہم مخالفت کے بعد منن مشرا نے یہ سرکلر واپس لے لیا تھا۔
دراصل نالسار کے طلبہ نے چیف جسٹس سوریہ کانت کے ہاتھوں کانووکیشن تقریب میں ڈگری حاصل کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کے بعد منن کمار مشرا نے یہ سرکلر جاری کیا تھا۔
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
بہار9 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر2 years agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر2 years agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
