تازہ ترین
’مہاتما گاندھی ہندوستان کی روح اور گنگا جمنی تہذیب کے روشن مینار‘ارریہ میں مضمون نویسی مقابلے کا انعقاد، ہندوستان کی علمی، سیاسی وملی شخصیات نے ملک ہندوستان کو بام عروج تک پہنچانے میں اداکیا اہم کردار: مقررینپریہار میں اقلیتی ووٹر ملن تقریب کاپروقار انعقاد، جے ڈی یو رہنماؤں اور تعلیم یافتہ ووٹروں نے کی ابھشیک جھا کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنانے کی اپیلیاترا پر پابندی اور قابل اعتراض نعرے لگانے والوں کیخلاف کارروائی کا مطالبہ،مسلم سیوا سنگٹھن کے وفد نے ایس پی سے کی ملاقات،ظاہر کیافرقہ وارانہ کشیدگی کا خدشہ، کارروائی نہ ہونے پر دہرادون سے سہارنپور تک ’جمہوریت بچاؤ یاترا‘ نکالنے کی وارننگ’اردو اشعار سے ہم زبان کیساتھ ادب، سلیقہ اور تربیت بھی سیکھتے ہیں‘میرٹھ میں سہ روزہ جشن سر سید کا مقابلہ بیت بازی سے شاندار اختتاماسلامیہ انٹر کالج دیوبند کی طالبہ صوفیہ ایک دن کے لئے پرنسپل بنائی گئیںپتھروں کو دے رہے ہیں آئینے کھل کر جوابسی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے کو ضمانت، نیہا بورا بھی رہا،رات بھر حراست سے رہائی کے بعد نیہا نے قانون اور انتظامیہ پر اٹھائے سوال
دیش

پروفیسر شاہد اختر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی ایگزیکٹو کونسل میں نامزد

(پی این این)
نئی دہلی:صدر جمہوریہ ہند دروپدی مرمو نے پروفیسر (ڈاکٹر) شاہد اختر کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کی ایگزیکٹو کونسل میں نامزد کیا ہے۔ اس اقدام کو علمی حلقوں میں خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے اور مختلف طبقات کی جانب سے مبارکباد کا سلسلہ جاری ہے۔پروفیسر شاہد اختر جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ انتظامیات سے وابستہ ہیں اور انتظامی علوم، پیشہ ورانہ تعلیم اور اخلاقی نظم و نسق میں گہری مہارت رکھتے ہیں۔ وہ قومی اقلیتی تعلیمی ادارہ جات کمیشن (این سی ایم ای آئی) کے رکن اور قائم مقام چیئرمین کے طور پر اپنے نمایاں دورِ کار سے بھی جانے جاتے ہیں۔ ان کے وسیع تجربے نے انہیں اقلیتی تعلیمی حقوق اور اعلیٰ تعلیمی اداروں کو شکل دینے والے قانونی و آئینی ڈھانچے کی عملی سمجھ سے آراستہ کیا ہے۔اس عہد میں جب تعلیمی اقدار، انتظامی موثریت اور روزگار سے وابستگی کے درمیان توازن کی ضرورت شدت اختیار کرچکی ہے، پروفیسر شاہد اختر کا دوراندیش نقطہ نظر انتظامی نظام کو مؤثر بنانے، اے ایم یو کے متنوع تعلیمی پروگراموں میں پیشہ ورانہ معنویت بڑھانے اور حکمت عملی پر مبنی نظم و نسق کو مضبوط سمت فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
پروفیسر شاہد اختر علمی، انتظامی اور سماجی میدانوں میں ایک ہمہ جہت اور باوقار شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ علمی اعتبار سے وہ انتظامی علوم، کاروباری تعلیم اور اخلاقی نظم و نسق کے شعبوں میں گہری بصیرت رکھتے ہیں، اور ان کی تدریسی و تحقیقی خدمات نے طلبہ کی فکری تربیت اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ قیادت کی پرورش میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔انتظامی سطح پر ان کے فیصلوں میں آئینی شعور، قانونی فہم اور زمینی حقائق کا متوازن امتزاج نظر آتا ہے، جس کے باعث اقلیتی تعلیمی اداروں کے حقوق کے تحفظ اور ادارہ جاتی استحکام کو تقویت ملی۔ سماجی خدمات کے اعتبار سے، وہ تعلیم کو سماجی انصاف، شمولیت اور بااختیار بنانے کا مؤثر ذریعہ سمجھتے ہیں۔ نوجوانوں کی رہنمائی، اقلیتی طبقات کی تعلیمی ترقی اور ادارہ جاتی شفافیت کے فروغ میں ان کی کاوشیں قابلِ ستائش ہیں۔ پروفیسر شاہد اختر کی علمی، انتظامی اور سماجی خدمات کا امتزاج انہیں عصر حاضر کے ممتاز ماہرین میں نمایاں مقام عطا کرتا ہے، اور اے ایم یو کے انتظامی اور تعلیمی معیار کو مزید مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔