Connect with us

Bihar

شہید محمد امتیاز بعد از مرگ ویر چکر سے سرفراز

Published

on

چھپرہ ـ:قوم کے لیے عظیم قربانی دینے اور شہادت کا جام نوش فرمانے والے بی ایس ایف کے سب انسپکٹر محمد امتیاز کو بعد از مرگ ملک کے باوقار ویر چکر سے نوازا گیا۔صدر الہند دروپدی مرمو نے 9 جون کو راشٹرپتی بھون میں منعقدہ ایک پروقار تقریب میں شہید امتیاز کو ان کی بے مثال ہمت اور بہادری کے اعتراف میں ایوارڈ پیش کیا۔
ان کی اہلیہ نے ویر چکر حاصل کیا۔یہ لمحہ پوری قوم کے لیے فخر اور جذبات سے لبریز تھا۔ضلع کے نارائن پور گاؤں کے رہنے والے محمد امتیاز نے مادر وطن کا دفاع کرتے ہوئے عظیم قربانی دی۔10 مئی 2025 کو جموں و کشمیر میں آپریشن سندھ کے دوران بین الاقوامی سرحد پر پاکستان کی جانب سے شدید فائرنگ کی گئی۔اس مشکل وقت کے دوران سب انسپکٹر امتیاز نے اپنی سرحدی چوکی کی حفاظت کرتے ہوئے غیر معمولی ہمت اور قیادت کا مظاہرہ کیا۔
دشمن کی مسلسل فائرنگ کے درمیان انہوں نے اپنے ساتھیوں کے حوصلے بلند کیے اور بہادری سے لڑتے رہے۔ملک کی سلامتی کے لیے بہادری سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔
ان کی بہادری،لگن اور قربانی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔شہید محمد امتیاز نے اپنی جرات سے ثابت کر دیا کہ قوم کے سپاہی مادر وطن کی حفاظت کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔ان کی زندگی اور قربانی آنے والی نسلوں کو ہمیشہ متاثر کرتی رہے گی۔

Bihar

بہار کے تمام اسپتالوں میں دستیاب ہوں گی علاج کی تمام سہولتیں،تمام 36 ضلعی اسپتالوں کوجدید آلات سے لیس کرنے کی تیاریاں شروع، وزیراعلیٰ سمراٹ چودھری نے مقرر کر دی ڈیڈ لائن

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:بہار کے تمام ضلعی اسپتالوں کو 15 اگست سے پہلے سپر اسپیشلٹی اسپتالوں کے طور پر ترقی دینے کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔ وزیراعلیٰ سمراٹ چودھری کے اعلان اور وزیر صحت نشانت کے احکامات کے بعد محکمہ صحت نے ریاست کے تمام 36 ضلعی اسپتالوں کو سپر اسپیشلٹی اسپتال بنانے کے عمل کو تیز کر دیا ہے۔اس منصوبے کے تحت ماہر ڈاکٹروں کی تعیناتی، جدید طبی تشخیصی آلات کی فراہمی اور دیگر ضروری سہولیات کی دستیابی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کو غیر ضروری طور پر ریفر کرنے کے نظام کے انکشاف کے بعد حکومت نے یہ اہم قدم اٹھایا ہے۔
ان اسپتالوں میں سپر اسپیشلٹی سطح کی صحت سہولیات فراہم کی جائیں گی تاکہ ضلعی سطح پر ہی شدید مریضوں کا مؤثر علاج ممکن ہو سکے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ سنگین مریضوں کو میڈیکل کالج اسپتالوں کی طرف ریفر کرنے کے رجحان کو روکا جا سکے۔وسائل کی کمی کا بہانہ بنا کر مریضوں کو دوسرے اداروں میں بھیجنے کی ضرورت کم ہو جائے گی اور مقامی سطح پر ہی ہنگامی طبی علاج کی سہولت دستیاب ہو سکے گی۔
ضلعی اسپتالوں میں انڈین پبلک ہیلتھ اسٹینڈرڈز (آئی پی ایچ ایس) کے مطابق وسیع پیمانے پر تبدیلیاں کی جائیں گی۔ یہاں نیورولوجی، کارڈیالوجی، آنکولوجی اور نیفروالوجی جیسی طبی خصوصی شاخوں کے لیے اعلیٰ تربیت یافتہ ماہر ڈاکٹر تعینات کیے جائیں گے۔اس کے ساتھ جدید ترین تشخیصی ٹیکنالوجی، 24×7 کریٹیکل کیئر (آئی سی یو) اور پیچیدہ سرجری کے لیے ماڈیولر آپریشن تھیٹر جیسی سہولیات ایک ہی چھت کے نیچے دستیاب ہوں گی۔ ان اسپتالوں میں نہ صرف عام معالج بلکہ دل، سرطان اور دماغی امراض کے علاج میں مہارت رکھنے والے تجربہ کار سپر اسپیشلسٹ ڈاکٹر بھی خدمات انجام دیں گے۔
شدید مریضوں کی چوبیس گھنٹے نگرانی کے لیے وینٹی لیٹر، ڈائیلیسز یونٹ اور کارڈیک مانیٹر سے لیس جدید آئی سی یو قائم کیے جائیں گے۔ اسی طرح اعضا کی پیوند کاری (آرگن ٹرانسپلانٹ) یا دماغی سرجری جیسی پیچیدہ اور خطرناک جراحی کو جراثیم سے پاک اور محفوظ ماحول میں انجام دینے کے لیے جدید ترین ماڈیولر آپریشن تھیٹر کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔ان اسپتالوں میں کیتھ لیب کے علاوہ سرجری یا سنگین بیماری کے بعد مریضوں کی بحالی کے لیے فزیوتھراپی اور ری ہیبِلیٹیشن سینٹر بھی موجود ہوں گے۔ ہنگامی حالات میں چوبیس گھنٹے ادویات کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے گا، جبکہ محفوظ خون کی منتقلی کے لیے اسپتال کے احاطے میں ہی بلڈ بینک کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔
درحقیقت گزشتہ چند برسوں سے بہار کے سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کو ہائر سینٹر ریفر کرنے کی تعداد کافی بڑھ گئی ہے۔ ریفر کے نام پر پرائیویٹ اسپتالوں میں مریضوں کو زبردستی داخل کروا کر مبینہ طور پر وصولی اور غیر قانونی کمائی کا کاروبار چلایا جاتا ہے۔غریب مریضوں کے اہلِ خانہ دلالوں کے چکر میں پھنس جاتے ہیں۔ ان دلالوں کے ساتھ مبینہ طور پر سرکاری اسپتالوں کے کچھ ڈاکٹر بھی ملی بھگت میں شامل ہوتے ہیں۔

Continue Reading

Bihar

سرکاری خزانے پر آفت زدہ خاندان کا پہلا حق: شراون کمار،متاثرین کی مدد کے لیے ہمیشہ تیار ہےحکومت، آفت میں موت کے بعد تھانے میں ضرور کرائی جائے ایف آئی آر اور پوسٹ مارٹم بھی ضروری: وزیر

Published

on

(پی این این)
بہار شریف:بہار حکومت کے دیہی ترقی و اطلاعات و عام رابطہ کے وزیر شروان کمار نے کہا کہ سرکاری خزانے پر پہلا حق آفت زدہ خاندان کا ہے۔ حکومت آفت زدگان کی مدد کے لیے ہمیشہ تیار ہے، لیکن اس کا فائدہ لینے کے لیے تھانے میں ایف آئی آر درج کرائیں اور پوسٹ مارٹم ضرور کرائیں۔ یہ باتیں وزیر کمار نے نورسرائے بلاک آفس میں آفت زدگان کے درمیان 12 لاکھ چالیس ہزار روپے کا چیک تقسیم کرنے کے دوران کہیں۔
واضح رہے کہ دروارا گاؤں کے سنٹو کمار، اجنورا گاؤں کی رنکو کماری اور بڑارا گاؤں کے نتیش کمار کو چار چار لاکھ روپے کا چیک دیا گیا۔ وہیں نادیونا گاؤں کے روپیش کمار اور ممورآباد کے امیش پرساد کو خاندانی فائدہ کے تحت بیس بیس ہزار روپے کا چیک دیا گیا۔اس موقع پر عوام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بہار میں انصاف کے ساتھ ترقی ہو رہی ہے۔ ترقی میں ہر طبقے کی شراکت داری دی جا رہی ہے۔ بہار میں جو ترقی کا کام ہوا ہے، اس کا مقابلہ ملک کی کوئی ریاست نہیں کر سکتی۔ بہار کے نوجوانوں کو ملک میں سب سے زیادہ سرکاری نوکری دی گئی، جیویکا دیدیوں کو روزگار کے مواقع مل رہے ہیں۔
اس موقع پر بلاک جے ڈی یو صدر راکیش کمار، بلاک پرمکھ ریکھا دیوی، بی ڈی او ضیاء الحق، سی او دیپک کمار، پی او سنجے کمار، جے ڈی یو رہنما ڈاکٹر سنیل دت، نائب پرمکھ اویناش کمار موریہ، بارہ خورد کے سابق مکھیا اویناش کمار عرف سکّو، مکھیا امیت کمار، نادیونا پنچایت کے مکھیا وِشُنی پاسوان، منوج کمار، پنچایت سمیتی ممبر منوج کمار عرف بھولا مہتو وغیرہ موجود تھے۔

Continue Reading

Bihar

گیاجی اور بودھ گیا میں آج کئی راستے رہیں گے بند، وزیراعلیٰ کے دورے کے پیش نظر کنونشن سینٹر میں نئے فوجداری قوانین کے نفاذ سے متعلق 2 روزہ ریاستی سطحی کانفرنس کے انعقاد سے متعلق ضلع انتظامیہ نے جاری کی خصوصی ٹریفک ایڈوائزری

Published

on

(پی این این)
گیاجی : اگر آپ ہفتہ 4 جولائی کو گیا یا بودھ گیا جانے کا ارادہ رکھتے ہیں تو گھر سے نکلنے سے پہلے اپنا راستہ ضرور طے کرلیں، کیونکہ وزیراعلیٰ بہار کے دورۂ گیا اور بودھ گیا کنونشن سینٹر میں نئے فوجداری قوانین کے نفاذ سے متعلق دو روزہ ریاستی سطحی کانفرنس کے انعقاد کے پیشِ نظر ضلع انتظامیہ نے خصوصی ٹریفک ایڈوائزری جاری کی ہے۔انتظامیہ کی جانب سے جاری ہدایت کے مطابق صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک شہر اور بودھ گیا کے کئی اہم راستوں پر ٹریفک کی آمد و رفت محدود یا مکمل طور پر بند رہے گی۔ اس دوران سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جائیں گے تاکہ وزیراعلیٰ کی نقل و حرکت اور سرکاری پروگرام پرامن اور منظم انداز میں مکمل ہو سکے۔
ضلع انتظامیہ کے مطابق مان پور سے بائی پاس کے راستے بودھ گیا جانے والی تمام بھاری گاڑیوں کی آمد و رفت مکمل طور پر ممنوع رہے گی۔ اس کے علاوہ کھٹک چک، بیپارڈ (BIPARD)، گیٹ نمبر 5، ایئرپورٹ موڑ، دھنواں موڑ (ٹیکونا فارم) اور دوموہان سے بودھ گیا کنونشن سینٹر جانے والے تمام راستوں پر ہر قسم کی گاڑیوں کے داخلے پر پابندی عائد رہے گی۔
انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ ایمبولینس، فائر بریگیڈ، پولیس اور دیگر ہنگامی خدمات سے وابستہ گاڑیوں کو ان پابندیوں سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے تاکہ کسی بھی ایمرجنسی صورتحال میں عوام کو دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے ضلع انتظامیہ نے سکریا موڑ – مگدھ میڈیکل کالج – چیرکی روڈ کو متبادل راستے کے طور پر مختص کیا ہے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اسی راستے کا استعمال کریں تاکہ غیر ضروری ٹریفک جام سے بچا جا سکے اور سفر آسان رہے۔پولیس اور ٹریفک محکمہ کے افسران نے شہریوں، سیاحوں اور دیگر مسافروں سے درخواست کی ہے کہ وہ ڈیوٹی پر تعینات پولیس اہلکاروں کی ہدایات پر عمل کریں، متبادل راستوں کا استعمال کریں اور ٹریفک قوانین کی پابندی کرتے ہوئے انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔
قابلِ ذکر ہے کہ بودھ گیا کنونشن سینٹر میں منعقد ہونے والی دو روزہ ریاستی کانفرنس میں ریاست بھر کے سینئر پولیس افسران، انتظامی حکام، عدالتی شعبے سے وابستہ نمائندگان اور دیگر اعلیٰ افسران شرکت کریں گے، جبکہ وزیراعلیٰ بھی اس اہم پروگرام میں شریک ہوں گے۔
اسی وجہ سے بودھ گیا اور اس سے ملحقہ علاقوں میں سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں اور ٹریفک نظام میں عارضی تبدیلیاں نافذ کی گئی ہیں۔ضلع انتظامیہ نے کہا ہے کہ یہ پابندیاں صرف عوامی تحفظ، وی آئی پی سیکیورٹی اور ٹریفک کے منظم نظام کو برقرار رکھنے کے مقصد سے عائد کی گئی ہیں۔ شہری اگر پیشگی منصوبہ بندی کے ساتھ سفر کریں اور متبادل راستوں کا استعمال کریں تو انہیں کسی بڑی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network