تازہ ترین
سیتامڑھی کےنانپور میں شراب مافیا پر پولیس کا بڑا وار، وِنود ٹریڈرس کے گودام سے 4,447.8 لیٹر غیر ملکی شراب ضبط،8 شاطرگرفتارارریہ:اسکولوں میں ’’محفوظ بچپن مہم‘‘ کے تحت بیداری پروگرام منعقدگیاجی: ایس آئی کے گھر سے 2 لاکھ نقد اور 12 لاکھ کے زیورات کی چوریتعلیمی بیداری اور معیار سے ہی ترقی کرے گامعاشرہ : منوری بیگم، دیوبند یونانی میڈیکل کالج میں ہونہار طلباکے اعزاز ی پروگرام کا انعقادمدارس کی خدمات کو منظر عام پر لانے کی ضرورت: پروفیسر خواجہ اکرام الدین, شعبہ اردو،سی سی ایس یو میں ادب نما کے تحت ”اردو کے فروغ میں مدارس کا کردار“ پرآن لائن پروگرام کا انعقادمنوج تیواری نے جمنا میںلگائی ڈبکی ،کیجریوال کو بھی دعوتمرحوم نارنگ ساقی کی یاد میں آل انڈیا مشاعرہتیجسوی یادو نے مرحوم حاجی شفیق خاں کو پیش کیا خراجِ عقیدت، مہسول قبرستان میں قبر پر چادر چڑھائی، مدنی مسافر خانہ میں تصویر پر گل پوشی کے بعد سوگوار اہل خانہ سے کی ملاقات
اتر پردیش

مدارس کی خدمات کو منظر عام پر لانے کی ضرورت: پروفیسر خواجہ اکرام الدین, شعبہ اردو،سی سی ایس یو میں ادب نما کے تحت ”اردو کے فروغ میں مدارس کا کردار“ پرآن لائن پروگرام کا انعقاد

(پی این این)
میرٹھ:بہار، یوپی، ایم پی کے مدارس میں ملنے والی ڈگریوں کو جے این یو میں تسلیم کیا جاتا ہے۔ آج کے پروگرام سے تحریک ملنی چاہئے کہ مدارس میں اردو کی خدمات کو کیسے آگے بڑھایا جائے۔ مدارس میں ادب زیادہ ہے یا کم۔ہم کو اداس نہیں ہو نا چاہئے بلکہ مدارس کی خدمات کو منظر عام پر لانے کی ضرورت ہے۔ یہ الفاظ تھے معروف ناقد پروفیسر خواجہ اکرام الدین کے جو شعبہئ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی اور بین الاقوامی اردو اسکالرز انجمن (آیوسا) کے زیر اہتمام منعقد”اردو کے فروغ میں مدارس کا کردار“میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے اپنی تقریر کے دوران ادا کررہے تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ بہار مدرسہ اسٹیٹ بورڈ میں بہت سے مضامین شامل ہیں جن کے ذریعے سے اردو کی خدمات کو وسیع پیمانے پر انجام دیا جارہا ہے۔
اس سے قبل پرو گرام کا آغازسعید احمد سہارنپوری نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔ہدیہئ نعت محمد عیسیٰ رانا نے پیش کیا۔ پروگرام کی سرپرستی صدر شعبہئ اردو پروفیسر اسلم جمشید پوری نے فرمائی۔صدارت کے فرا ئض معروف ناقد اور سابق صدر شعبہئ اردو علی گڑھ مسلم یو نیورسٹی پروفیسر صغیر افراہیم نے انجام دیے۔مہمانِ خصوصی کے بطور معروف ناقداور سابق ڈائریکٹر قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین نے آن لائن شرکت کی اور مہمان ذی وقار کے بطورڈاکٹر مفتی محمد رضوان قاسمی] پرنسپل دارالعلوم عربک کالج، میرٹھ[ نے شرکت کی۔ جب کہ مقالہ نگار کے بطورجامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دہلی کے ریسرچ اسکالر مفتی راحت علی صدیقی اور سی سی ایس یونیورسٹی ایم اے کی طالبہ نایاب نے شرکت کی۔نظامت کے فرائض محمد عابد علی قاسمی اور شکریے کی رسم نمرہ نے اداکی۔ پروگرام کا تعارف کراتے ہوئے ڈاکٹر ارشاد سیانوی نے کہا کہ مکتب، مدارس اور جامعہ ہندوستان اور دیگر ممالک میں اردو کی خد مت انجام دے رہے ہیں۔ مدارس میں الفاظ کی صحیح ادائیگی، لب و لہجے میں اتار چڑھا ؤ کا فن سکھایا جاتا ہے۔ صحافت کے میدان میں بھی مدارس کا اہم کردار رہا ہے۔ یہ مدارس ہی ہیں جنہوں نے ملک کی آ زادی میں اہم کردار ادا کیا۔ بابائے اردو مولوی عبد الحق، مولانا عبد السلام ندوی، عبد الحلیم شرر، قاضی عبد الودود، فیض احمد فیض، حسن نظا می، راجہ رام موہن رائے وغیرہ مدارس ہی کی دین ہیں جنہوں نے علمی،ادبی، سماجی خدمات سے عوام کو متاثر کیا۔
موضوع کاتعارف کراتے ہوئے وفیسر اسلم جمشید پوری نے کہا کہ یہ الگ بات ہے کہ مدارس سے ملنے والی ڈگریوں کو بہت سی یونیورسٹی مانتی بھی ہیں اور نہیں بھی مانتیں مگر یہ بات ضرور ہے کہ مدارس کے بچے اردو پڑھتے ہیں مگر اردو ادب سے واقف نہیں ہوتے۔ ہم کو مدارس میں ادب کے ساتھ ساتھ زبان پر محنت کرنے کی کوشش کرنا ہوگی۔ مدارس میں ادب، تہذیب،، دینی علوم وغیرہ کی تعلیم سے ہمارے طالب علم بڑی سطح پر کامیاب ہورہے ہیں۔
مفتی رضوان احمد نے کہا کہ آزادی سے قبل اردو چاروں طرف پھیلی ہوئی تھی مگر آزادی کے بعد اس میدان میں کمی آئی اور یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ اردو ہندوستان کی زبان نہیں ہے۔ آج اردو کے ساتھ سوتیلا رویہ اپنایا جارہا ہے پھر بھی مدارس اپنی محدود وسعتوں کے باوجود اردو کے حوالے سے محنت کررہے ہیں۔ مذہبی تعلیم بھی اردو کے ذریعے طلبا کو دی جاتی ہے۔بہت سے رسائل بھی مدارس سے نکل رہے ہیں۔ مدارس کے اساتذہ ہوا پانی کی مانند اردو کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
اپنے صدارتی خطبے میں پروفیسر صغیر افراہیم نے کہا کہ مدارس کے بچے کمپیوٹر سے بڑے کارنامے انجام دے سکتے ہیں۔ مدارس کے بچوں کی نظر فارسی پر گہری ہو تی ہے۔اردو کے ساتھ عربی، فارسی کا علم طالب علم کی زندگی کو بہتر بناتا ہے۔ مدارس کی خدمات کو کوئی فراموش نہیں کرسکتا۔ عصر حاضر میں بھی مدارس بڑی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ آج کے دور میں جو مدارس سے نکل کر اردو کی خدمات انجام دے رہے ہیں ان میں آج بھی سید محمد اشرف، خواجہ اکرام الدین، حافظ صدیق، پروفیسر ثنا ء اللہ جیسی شخصیات ادب کی خوب خدمات کرتے ہیں۔اس موقع پر مفتی راحت علی صدیقی نے”اردو کے فروغ میں مدارس کا کردار“ عنوان سے اپنا بہترین مقالہ پیش کیا۔پروگرام سے ڈاکٹر آصف علی، ڈاکٹر شاداب علیم،فرحت اختر،محمد شمشاد،طلبہ و طالبات اور دیگر معززین آن لائن جڑے رہے۔

متعلقہ خبریں