دہلی:قرآن کریم کو سیکھنا اور سکھانا دنیا کا سب سے محترم اور بابرکت عمل ہے اور اس کی تعلیم و تدریس سے وابستگان علی الاطلاق دنیا کے بہترین لوگ ہیں۔ اللہ جل شانہ نے اس قرآن مقدس کو اپنے سب سے پیارے رسول جناب محمد رسول اللہﷺ پر مقرب ترین فرشتے جبرئیل علیہ السلام کے ذریعہ نازل فرمایا۔ قرآن کریم ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم اسے روئے زمین پر موجود ہر ہر انسان تک پہنچائیں تاآں کہ زمین سے شرو فساد کا خاتمہ ہو اور انسان بھائی بھائی بن جائے۔ حاملین قرآن کریم اور طالبان علوم نبویہ نہایت معزز اور قابل رشک ہیں۔ یقینا قرآن کریم سے نسبت بہت اہم نسبت ہے۔ قرآن کریم جس طرح نازل ہوا اس کو اسی طرح پڑھنا اور اس پر عمل کرنا فرض ہے۔ ان خیالات کا اظہار مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر محترم مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے کیا۔ مولانا آج صبح مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیر اہتمام بائیسواں آل انڈیا مسابقہ حفظ و تجوید و تفسیر قرآن پاک کے افتتاحی اجلاس میں خطاب کررہے تھے۔
امیر محترم نے کہا کہ حاملین قرآن پاک دنیا کے سب سے امن پسند، انسانیت کے علمبردار اور اخوت و بھائی چارہ کے سب سے بڑے مناد ہیں۔ قرآن مفضلہ کے مسلمانوں نے اس حقیقت کو جان لیاتو انہیں دنیا جہاں میں عزت نصیب ہوئی۔ ہمیں اس حقیقت کو سمجھنا ہوگا اور قرآن پاک کے پیغام امن و آشتی، درس اخوت و بھائی چارگی اور انسانیت نوازی پر مبنی تعلیم کے پرچار و پرسار میں اپنا کردار نبھانا ہوگا۔
امیر محترم نے اپنے خطاب میں کہا کہ مسابقہ میں شریک قراء و حفاظ دلی شکریہ کے مستحق ہیں اور ان کے والدین، اساتذہ اور جن مدارس و جامعات اور اسکولوں نے ان کو نامزد کرکے یہاں بھیجا ہے وہ سب ہمارے شکریہ کے مستحق ہیں۔ مدارس و جامعات اسلام کے قلعے اور دینی تعلیم کے روحانی مراکز ہیں۔ ان مدارس و جامعات میں انسانیت کی تعمیر ہوتی ہے اور یہاں دین و شریعت اور وطن سے محبت کی تعلیم دی جاتی ہے اور انسان کو انسانیت کا درس دیا جاتا ہے۔
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی مولانا محمد ہارون سنابلی نے شرکاء مسابقہ و مہمانان گرامی کا والہانہ استقبال کیا اور کہا کہ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیر اہتمام اس پروگرام کے انعقاد کا مقصد یہ ہے کہ حفظ و تجوید اور تفسیر قرآن کا جذبہ پیدا ہو۔ اس مسابقے میں اتنی بڑی تعداد میں حفاظ و قراء کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ مرکزی جمعیت نے مسابقے کا جن مقاصد کے پیش نظر آغاز کیا تھا وہ بہر صورت پورے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی کی قیادت میں اپنی سرگرمیوں کو مہمیز دیتے ہوئے اس عظیم الشان پروگرام کا جس طرح مسلسل انعقاد کررہی ہے وہ اس کے لئے مبارک باد اور شکریہ کے مستحق ہے۔
ناظم اجلاس و کنوینر مسابقہ ڈاکٹر محمد شیث ادریس تیمی نے مرکزی جمعیت کی ہمہ جہت اور متنوع خدمات پر مختصراً روشنی ڈالتے ہوئے اس عظیم الشان مسابقے کو جمعیت کی خدمات کا اہم تسلسل اور سنہری کڑی قرار دیا اور شرکاء مسابقہ، حکم حضرات و شرکاء اجلاس کا والہانہ خیرمقدم کیا۔
نائب امیر صوبائی جمعیت اہل حدیث بہار، مولانا خورشید عالم مدنی نے قرآن کریم کے اس کامیاب مسابقے کے انعقاد پر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کو مبارک باد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ امیرمحترم مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی کی قیادت میں منعقد ہونے والا یہ مسابقہ ہرسال مزید حسن و خوبی کے ساتھ سامنے آتا ہے، جو امیر جمعیت اور ان کے رفقائے کار کی شبانہ روز محنتوں اور مخلصانہ کاوشوں کا ثمرہ ہے۔
دار العلوم دیوبند وقف کے استاذ شعبۂ قراء ت قاری علاء الدین قاسمی نے مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیر اہتمام منعقداس بائیسویں آل انڈیا مسابقہ حفظ و تجوید و تفسیر قرآن کریم چوتھی یا پانچویں مرتبہ شرکت کا موقع مل رہا ہے۔ دار العلوم کے مہتمم حضرت مولانا سفیان قاسمی صاحب نے دعوت نامہ ملتے ہی نہایت خوش دلی سے اس پروگرام میں شرکت کی اجازت مرحمت فرمائی اوراسی وقت نہایت اہتمام کے ساتھ مرکزی جمعیت کے دفتر کو خط لکھ کر اس کی اطلاع بھی دی۔میں مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر کا اس کامیاب پروگرام نے انعقاد پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
نائب امیر صوبائی جمعیت اہل حدیث مشرقی یوپی، و وکیل الجامعہ جامعہ خیر العلوم ڈومریا گنج مولانا محمد ابراہیم مدنی نے اس مسابقے کے انعقاد پر مرکزی جمعیت کی موجودہ قیادت کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ قرآن کریم سے وابستگی یقینا ایک نہایت معزز اور بابرکت عمل ہے، جسے مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند تسلسل کے ساتھ فروغ دے رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس مسابقے کے نتیجے میں پورے ملک میں قرآن کریم کے حوالے سے مسابقاتی جذبہ پروان چڑھا ہے، جو اس کی ایک اہم کامیابی ہے۔
ندوۃ المجاہدین، کیرالا کے سکریٹری اور کیرالا وقف بورڈ کے رکن ڈاکٹر عبدالمجید الصلاحی نے اپنے خطاب میں مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ذمہ داران کو مسابقے کے کامیاب انعقاد پر مبارک باد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ قرآن مجید سے وابستگی نہایت قابلِ رشک عمل ہے جو انسان کے اندر قرآن پر عمل کرنے کا جذبہ پیدا کرتی ہے اور یہی جذبہ ہر مسلمان سے مطلوب ہے۔
مولانا عبدالقدوس عمری، مدھیہ پردیش نے بائیسویں آل انڈیا مسابقۂ حفظ و تجوید و تفسیر قرآن کریم کے انعقاد پر مرکزی جمعیت کو مبارک باد پیش کی اور کہا کہ امیر جمعیت مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی اور ان کے رفقائے کارنے دور اندیشی اور مسلسل جدوجہد کے ساتھ اس مسابقے کے انعقاد کی روایت کو بائیس برس برقرار رکھا ہے۔ نامساعد حالات کے باوجود اس علمی و قرآنی سلسلے کو جاری رکھنا یقینا قابل تحسین اور لائق مبارک باد ہے۔
جامعہ ریاض العلوم دہلی اور مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے زیر اہتمام قائم اعلیٰ تعلیمی و تحقیقی ادارہ المعہد العالی للتخصص فی الدراسات الاسلامیہ کے موقر استاذ مولانا عبدالاحد مدنی نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ مجلس نہایت بابرکت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کا بنیادی مقصد کتاب و سنت کی تعلیمات کا فروغ ہے اور اسی مقصد کے تحت اس کے پلیٹ فارم سے مسلسل ایسے علمی و دینی پروگرام منعقد کئے جاتے ہیں۔
جامعہ فیض عام مئو کے استاذ مولانا محمد عامر مدنی نے جامعہ فیض عام کے ناظم محمد انس انصاری اور شیخ الجامعہ مولانا محمد مظہر مدنی کی جانب سے منتظمین کو پرخلوص مبارک باد پیش کی اور دعا کی کہ ایسے علمی و قرآنی پروگرام تسلسل کے ساتھ منعقد ہوتے رہیں۔
جامعۃ الفلاح حیدرآباد کے استاذ قاری شعیب مدنی نے اپنے خطاب میں کہا کہ قرآن مجید سے وابستگی دنیا و آخرت میں سربلندی اور کامیابی کا ذریعہ ہے۔ انہوں نے مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کو اس مسابقے کے انعقاد پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ جمعیت اس مبارک اقدام کے ذریعہ امت کو قرآن کریم سے جوڑنے کا اہم ذریعہ انجام دے رہی ہے، جو یقینا لائق تحسین اور صد مبارک باد ہے۔
ناظم صوبائی جمعیت اہل حدیث آسام مولانا حفظ الرحمن مدنی نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج ہم سب ایک نیک مقصد کے تحت جمع ہوئے ہیں۔ انہوں نے مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کو اس پروگرام کے انعقاد پر مبارک باد پیش کی اور بتایا کہ اس مسابقے میں صوبہ آسام کی بھی نمائندگی ہورہی ہے۔
جامعہ دار السلام عمرآباد کے استاذ حافظ عبدالقیوم مدنی صاحب نے اپنے خطاب میں کہا کہ قوموں کا عروج و زوال قرآن کریم سے وابستگی اور اس سے دوری پر منحصر ہے۔ انہوں نے اس مبارک مسابقے کے انعقاد پر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کو مبارک باد پیش کی۔
اقرا انٹرنیشنل اسکول کے ڈائریکٹر مولانا محمد اظہر مدنی نے صحابہ اور تابعین سے متعلق آثار ذکر فرمایا جس سے قرآن کریم اور معلم و متعلم قرآن کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے اور کہاکہ قرآنی مسابقے کے انعقاد پر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسابقہ نہ صرف طلبہ میں صحت مند مسابقت کا جذبہ پیدا کرتا ہے، بلکہ اسلاف کی علمی و قرآنی روایت کے تحفظ اور تسلسل کا بھی ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے مسابقے ہمارے لئے اکسیر حیات کی حیثیت رکھتے ہیں۔
معہد عبداللہ بن مسعود لتحفیظ القرآن الکریم کے استاذ قاری عبدالقیوم عثمانی نے اپنے خطاب میں اس مفید اور بابرکت مسابقے کے انعقاد پر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کو مبارک باد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے قرآنی مسابقوں کے نہایت مثبت اور دوررس اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
جامعہ محمدیہ منصورہ مالیگاؤں کے صدر شعبۂ قراء ت قاری امان اللہ سلفی نے اپنے خطاب میں کہا کہ قرآن کریم سیکھنے اور سکھانے والے نہایت معزز و مکرم ہیں۔ انہوں نے اپنے ادارے اور اس کے صدر مولانا ارشد مختار صاحب کی جانب سے مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کو اس بابرکت مسابقے کے انعقاد پر مبارک باد پیش کی۔
ڈاکٹر فواز عبدالعزیز سلفی مدرس مدرسہ دارالتعلیم مئو نے مسلسل بائیس برس سے اس مسابقے کے انعقاد پر مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیر محترم کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ پورے ہندوستان کے طلبہ اس مسابقے کا شدت سے انتظار کرتے ہیں اور سال بھر اس میں شرکت کے لئے بے تاب رہتے ہیں۔ یہ شوق و انتظار اس مسابقے کی کامیابی، مقبولیت اور افادیت کا واضح ثبوت ہے۔
جامعہ ریاض العلوم دہلی کے استاذ قاری ہاشم صاحب نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس مسابقے کا جماعتی و ملی حلقے میں ایک نمایاں مثبت اثر یہ مرتب ہوا ہے کہ تجوید کے ساتھ قرآن کریم کی تلاوت کا شعور عام ہوا ہے اور اس جانب لوگوں کی توجہ میں اضافہ ہوا ہے۔
جامعہ ابوہریرہ الاسلامیہ لال گوپال گنج کے استاذ قاری نوشاد احمد نے اپنے خطاب میں مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جمعیت ہر سال یہ قیمتی موقع فراہم کرتی ہے، جہاں ملک بھر کے حاملین قرآن ایک جگہ جمع ہوکر قرآن کریم کے اس اہم مسابقے میں شرکت کرتے ہیں۔
ان کے علاوہ قاری صلاح الدین مظاہری استاذ شعبہ قراء ت مدرسہ مظاہر العلوم سہارن پور نے بھی اپنی تائیدات سے نوازا۔
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم مالیات الحاج وکیل پرویز صاحب نے تمام متسابقین ، ان کے سرپرستوں، معزز حکم صاحبان اور پروگرام میں شریک دیگر مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ اور انہوں نے یقین دلایا کہ مرکزی جمعیت اور اس کے امیر محترم مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی آپ حضرات کی خدمت اور تعاون کے لئے ہمہ وقت حاضر ہیں۔
اس اجلاس کا آغاز حافظ دلشاد احمد کی پرسوز تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔ اس مسابقہ میں کشمیر سے کنیاکماری تک سے تقریباً چھ سو سے زائد حفاظ و قراء اس کے کل چھ زمروں میں شریک ہیں اور مسابقہ میں حکم کی ذمہ داری ملک کے بلا امتیاز مسلک و مشرب نامور دینی مدارس و جامعات کے اپنے فن میں ماہر ترین اساتذہ انجام دے رہے ہیں۔ اس افتتاحی پروگرام میں مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ذمہ داران و اراکین ، شرکاء مسابقہ، حکم حضرات اور ذمہ داران جمعیات و معززین جماعت اور مدارس و جامعات کے اساتذہ اور طلبہ کے سرپرست حضرات نے شرکت کی جن میں مولانا ریاض احمد سلفی نائب ناظم مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند، مولانا عبدالغنی مدنی استاذ المعہد العالی للتخصص فی الدراسات الاسلامیہ،جناب محمد انس انصاری ناظم جامعہ فیض عام مئو وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
پریس ریلیز کے مطابق کل بعد نماز مغرب پورے ملک سے آئے ہوئے مدارس اسلامیہ اور عصری جامعات کے طلباء کے درمیان تقسیم اسناد و انعامات کا پروگرام منعقد ہوگا جس میں ملک و ملت اور جماعت کی اہم شخصیات شریک ہوں گی۔
جاری کردہ
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند
قرآن کریم ابدی ہدایت و سعادت کا پیامبر اور امن و آشتی اور اخوت و انسانیت کا علمبردار: اصغر امام مہدی
