تازہ ترین
محکمے سڑک کے سپرنٹنڈنگ انجینئر کے گھر پرچھاپے، پٹنہ سمیت 4 مقامات پر تلاشی، 10 لاکھ روپے نقد برآمدپٹنہ: ڈاک بنگلہ سے رُکن پورا تک چوڑی کی جائے گی سڑک ،توسیع کاری میں گرائی جائیں گی موریہ لوک اور کوتوالی تھانے کی دیواریںٹرین میں پیسے نہ دینے پر خواجہ سراؤں نے مسافرکو پیٹاجامعہ رحمانی کی علمی و دینی ساکھ کی حفاظت سب کی ذمہ داری، حضرت مولانا قاری سید حبیب احمد باندوی کی خانقاہ رحمانی، مونگیر حاضری، طلبہ و اساتذہ سے خصوصی خطابسہرسہ کے میونسپل کمشنر پربھات جھا معطل، بغیرکسی ٹینڈر کے کرا دیئے 8 کروڑ روپے کے کامیوپی کے مذہبی اقدار کو کچلنے کی ہورہی ہے سازش، مذہبی توہین کرنے والوں کا اتر پردیش کی سرزمین پرکوئی جگہ نہیں، باگیشور دھام کے بہانے اکھلیش یادو کاریاستی حکومت پر حملہرابطہ مدارس کے اجلاس میں منظور قرار دادیں مدارس کے لئے انتہائی اہمغیر ملکی ایپ کے ذریعے حوالہ کاری کا کاروبار، ٹھکانے لگائی گئی کروڑوں روپے کی کالی کمائی ، 15 افراد پولیس کی گرفت میں
دلی این سی آر

عصمت دری کے الزام پر خواتین کمیشن سے ملا بی جے پی کا وفد

 

 

نئی دہلی: بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) مہیلا مورچہ کی قومی صدر روپ کماری چودھری کی قیادت میں پارٹی کارکنوں کے وفد نے بدھ کے روز کانگریس رکن پارلیمنٹ انگومچا بمول اکوئجم کے خلاف لگے عصمت دری کے الزام پر خاتون کمیشن سے ملاقات کی اور انہیں ایک میمورنڈم پیش کیا۔بی جے پی مہیلا مورچہ کی جانب سے سونپی گئی یاداشت میں مسٹر اکوئجم پر جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کی 11 طالبات کا جنسی استحصال کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ بی جے پی وفد نے کہا کہ جے این یو کی داخلی کمیٹی کی تحقیقات میں مسٹر اکوئجم کے خلاف لگائے گئے الزامات درست پائے گئے اور انہیں جے این یو میں پروفیسر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا، لیکن کانگریس کی اعلیٰ قیادت نے ابھی تک ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔وفد نے کہا، “اب کانگریس قیادت کو اپنی خاموشی توڑ کر کارروائی کرنی ہوگی۔ ہماری بیٹیوں کی سکیورٹی اور عزت سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ جب تک انصاف نہیں ملتا، بی جے پی خاموش نہیں بیٹھے گی!”
محترمہ چودھری نے نامہ نگاروں سے بات چیت میں کہا، “ہم نے آج قومی کمیشن برائے خواتین (این سی ڈبلیو) کی صدر سے ملاقات کی۔ اس دوران پانچ اراکین پارلیمنٹ اور مہیلا مورچہ کی عہدیدار بھی موجود تھیں۔ ہم نے ان سے جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں حال ہی میں پیش آئے واقعے کا نوٹس لینے کی درخواست کی۔ یہ معاملہ منی پور سے کانگریس رکن پارلیمنٹ اور جے این یو کے سابق پروفیسر ڈاکٹر بمول اکوئجم سے جڑا ہوا ہے۔”انہوں نے کہا کہ گیارہ طالبات نے ان کی مبینہ بدسلوکی کے خلاف تحریری شکایتیں دے کر بہت ہمت دکھائی تھی۔ یونیورسٹی کی داخلی کمیٹی نے تحقیقات کے بعد ان شکایتوں کو درست پایا۔ انہیں یونیورسٹی سے برطرف کر دیا گیا ہے، لیکن کانگریس پارٹی اور اس کے لیڈروں نے اس معاملے میں اب تک ایک لفظ بھی نہیں کہا ہے۔

 

متعلقہ خبریں