تازہ ترین
گیانیش کمار کے استعفیٰ کامطالبہ کرتے ہوئے یوتھ کانگریس کا مارچعصمت دری کے الزام پر خواتین کمیشن سے ملا بی جے پی کا وفدگریٹر نوئیڈا میںشروع ہوئیں4نئے روٹس پر الیکٹرک بسیںدہلی کے باشندوں کو رہائش فراہم کرنے کی سمت میںسرکار کررہی ہے کام: ریکھاگپتاووٹ چوری کے خلاف کانگریس کاانوکھا احتجاج، بھجن گا کر جمہوری انداز میں کیامظاہرہ، مودی اور گیانیش کمار سے استعفیٰ کا مطالبہجینیس اکیڈمی فار بس گنج میں ندا فاضلی کی ادبی خدمات کا اعتراف ،پرنسپل نوشاد عالم کوملی ان کی شاعری کی شاندار سوغاتمحمد متفق احمد کواپنی شاندار خدمات کا ملا انعام,تفتیش، آپریشن اور سکیورٹی کے میدان میں نمایاں کارکردگی کے عوض آئی پی ایس میں دی گئی ترقیجامعہ ملیہ اسلامیہ میں یو پی ایس سی میلہ کے دوسرے ایڈیشن کا انعقاد
دلی این سی آر

عصمت دری کے الزام پر خواتین کمیشن سے ملا بی جے پی کا وفد

 

 

نئی دہلی: بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) مہیلا مورچہ کی قومی صدر روپ کماری چودھری کی قیادت میں پارٹی کارکنوں کے وفد نے بدھ کے روز کانگریس رکن پارلیمنٹ انگومچا بمول اکوئجم کے خلاف لگے عصمت دری کے الزام پر خاتون کمیشن سے ملاقات کی اور انہیں ایک میمورنڈم پیش کیا۔بی جے پی مہیلا مورچہ کی جانب سے سونپی گئی یاداشت میں مسٹر اکوئجم پر جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کی 11 طالبات کا جنسی استحصال کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ بی جے پی وفد نے کہا کہ جے این یو کی داخلی کمیٹی کی تحقیقات میں مسٹر اکوئجم کے خلاف لگائے گئے الزامات درست پائے گئے اور انہیں جے این یو میں پروفیسر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا، لیکن کانگریس کی اعلیٰ قیادت نے ابھی تک ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔وفد نے کہا، “اب کانگریس قیادت کو اپنی خاموشی توڑ کر کارروائی کرنی ہوگی۔ ہماری بیٹیوں کی سکیورٹی اور عزت سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ جب تک انصاف نہیں ملتا، بی جے پی خاموش نہیں بیٹھے گی!”
محترمہ چودھری نے نامہ نگاروں سے بات چیت میں کہا، “ہم نے آج قومی کمیشن برائے خواتین (این سی ڈبلیو) کی صدر سے ملاقات کی۔ اس دوران پانچ اراکین پارلیمنٹ اور مہیلا مورچہ کی عہدیدار بھی موجود تھیں۔ ہم نے ان سے جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں حال ہی میں پیش آئے واقعے کا نوٹس لینے کی درخواست کی۔ یہ معاملہ منی پور سے کانگریس رکن پارلیمنٹ اور جے این یو کے سابق پروفیسر ڈاکٹر بمول اکوئجم سے جڑا ہوا ہے۔”انہوں نے کہا کہ گیارہ طالبات نے ان کی مبینہ بدسلوکی کے خلاف تحریری شکایتیں دے کر بہت ہمت دکھائی تھی۔ یونیورسٹی کی داخلی کمیٹی نے تحقیقات کے بعد ان شکایتوں کو درست پایا۔ انہیں یونیورسٹی سے برطرف کر دیا گیا ہے، لیکن کانگریس پارٹی اور اس کے لیڈروں نے اس معاملے میں اب تک ایک لفظ بھی نہیں کہا ہے۔

 

متعلقہ خبریں