add_action('wp_footer', function () { echo ''; }, 99); add_action('wp_footer', function () { echo ''; }, 99); طلبا کے ساتھ بربریت بے حد شرمناک:کجریوال – sachkiawaz.com
Connect with us

دلی این سی آر

طلبا کے ساتھ بربریت بے حد شرمناک:کجریوال

Published

on

نئی دہلی: پیر کے روز جنتر منتر پر پُرامن مظاہرے کے باوجود لاٹھی چارج کے بعد نوجوانوں کو پریشان کرنے کے لیے ان کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کرنے کی کوششوں کے پیش نظر عام آدمی پارٹی ان کی مدد کے لیے آگے آئی ہے۔ آپ کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے خود سامنے آکر ان بچوں اور ان کے والدین کو قانونی اور طبی مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کے ساتھ کی گئی بربریت انتہائی شرمناک ہے۔ مودی حکومت کی بربریت کا شکار طلبہ کے ساتھ عام آدمی پارٹی کھڑی ہے۔ آپ سب ہمارے بچے ہیں۔ بالکل گھبرائیے نہیں، ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یہ لڑائی ہم مل کر لڑیں گے۔ قانونی یا طبی مدد کے لیے 8588833548 پر کال کریں۔ عام آدمی پارٹی کی قانونی اور طبی ٹیم فوری مدد کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم آپ کے لیے بہترین ممکنہ قانونی ٹیم دستیاب کرائیں گے۔ منگل کے روز آپ کے مرکزی دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے کہا کہ پیر کے روز مودی حکومت نے ہمارے ملک کے بچوں اور نوجوانوں پر جس طرح بربریت کے ساتھ حملہ کیا، مجھے لگتا ہے کہ تاریخ میں ایسا کبھی دیکھنے کو نہیں ملا۔ مودی جی نے تو انگریزوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ شاید انگریزوں نے بھی کبھی آزادی کے متوالوں پر اس طرح لاٹھی چارج یا حملہ نہیں کیا ہوگا، جس طرح مودی حکومت نے پیر کے روز اپنے ہی ملک کے بچوں پر کیا۔ اروند کیجریوال نے کہا کہ سوشل میڈیا پر ایسی بے شمار ویڈیوز موجود ہیں، جن میں بچے پولیس کے سامنے گڑگڑا رہے ہیں اور لڑکیاں ہاتھ جوڑ رہی ہیں، لیکن پولیس مسلسل ان کی پٹائی کر رہی ہے۔ کئی ویڈیوز میں دکھائی دے رہا ہے کہ نہتے بچوں پر بغیر کسی اشتعال کے حملہ کیا جا رہا ہے۔ میں نے دیکھا کہ دو تین پولیس اہلکار کھڑے ہیں اور وہاں سے گزرنے والے ہر بچے پر بلاوجہ لاٹھیاں برسا رہے ہیں۔ کئی مقامات پر جہاں اس کی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی اور صرف 20-25 بچے بیٹھے ہوئے تھے، وہاں بھی آنسو گیس کے گولے داغے گئے۔ اروند کیجریوال نے کہا کہ بچوں کے خلاف کئی جھوٹی ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ میں نے سوشل میڈیا پر دیکھا کہ کئی والدین لکھ رہے ہیں کہ ان کے بچے لاپتہ ہیں اور ان کا کچھ پتہ نہیں چل رہا۔ ممکن ہے پولیس انہیں اٹھا کر کسی جیل یا نامعلوم مقام پر لے گئی ہو اور کوئی کچھ بتانے والا نہ ہو۔ اس طرح کی بربریت آج تک کبھی دیکھنے کو نہیں ملی۔ ایسا لگتا ہے کہ مودی جی نے جلیانوالہ باغ کے جنرل ڈائر کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ کچھ لوگوں کا تو یہاں تک کہنا ہے کہ شاید جنرل ڈائر کی روح نے ہی مودی جی کے شکل میں جنم لیا ہے۔ اروند کیجریوال نے کہا کہ ابھی کچھ دیر پہلے مودی حکومت کی پولیس نے ایک پریس ریلیز جاری کرکے دھمکی دی ہے کہ پیر کے روز مظاہرے میں حصہ لینے والے تمام لوگوں کے خلاف سخت ایف آئی آر درج کی جائے گی۔ میں مودی جی سے کہنا چاہتا ہوں کہ یہ ملک آپ کے والد کا نہیں ہے، یہ 140 کروڑ لوگوں کا ملک ہے۔ اس طرح کی دھمکیاں دینا بند کیجیے، ورنہ ملک کے عوام آپ کو ایسا سبق سکھائیں گے کہ تاریخ یاد رکھے گی کہ اس ملک میں ایک آمر کا کیا حشر ہوا تھا۔ انہوں نے ملک کے بچوں اور ان کے والدین کو یقین دلاتے ہوئے کہا کہ آپ بالکل فکر نہ کریں، ہم سب ایک ساتھ ہیں۔ ہم آپ کے بچوں کو کچھ نہیں ہونے دیں گے۔اروند کیجریوال نے ہیلپ لائن نمبر 8588833548 جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی کو قانونی مدد کی ضرورت ہے، کسی کا بچہ نہیں مل رہا ہے، بچوں کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کر دیا گیا ہے یا انہیں گرفتار کر لیا گیا ہے، تو وہ اس نمبر پر رابطہ کر سکتے ہیں۔ عام آدمی پارٹی نے ایک قانونی ٹیم تشکیل دی ہے، جو آپ کی مدد کرے گی۔ ضرورت پڑنے پر ملک کے بڑے سے بڑے وکیل کو بھی آپ کے بچوں کے لیے کھڑا کریں گے۔ کسی کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ مودی جی اپنی دھمکیاں اپنی جیب میں رکھیں، یہ ملک آپ کی دھمکیوں سے ڈرنے والا نہیں ہے۔ ہم 140 کروڑ لوگ ایک ساتھ ہیں۔ آپ نے اس ملک کے نوجوانوں اور بچوں پر حملہ کرکے پورے 140 کروڑ لوگوں پر حملہ کیا ہے۔ اگر کسی کو طبی یا کسی بھی دوسری قسم کی مدد کی ضرورت ہے تو وہ ہیلپ لائن نمبر پر کال کرنے کے بجائے پیغام بھیجیں۔ پیغام ملتے ہی ہماری ٹیم فوری طور پر رابطہ کرے گی اور ہر ممکن مدد فراہم کرے گی۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

دلی این سی آر

دہلی ہوائی اڈے کا تیسرا رن وے 20 ستمبر سے ہوگا شروع

Published

on

نئی دہلی، 19 ستمبر (یو این آئی) دہلی انٹرنیشنل ایئرپورٹ لمیٹڈ (ڈائل) نے ہفتہ کو اعلان کیا کہ اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے تیسرے رن وے (11 آر/29 ایل) کو 20 ستمبر سے پھر آپریشن میں لایا جائے گا۔ڈائل نے بتایا کہ رن وے کے جامع بحالی پروگرام اور تمام ضروری ریگولیٹری منظوریوں کے ملنے کے بعد اسے دوبارہ آپریشن کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ بحالی کا یہ پروجیکٹ فروری 2026 میں شروع ہوا تھا، جس میں آپریشنل حفاظت، کارکردگی، صلاحیت اور طویل مدتی استحکام کو بڑھانے کے مقصد سے جامع کام کیے گئے۔
پروجیکٹ کے تحت رن وے کی سطح کی تجدید، رن وے 29 ایل کے مستقل تھریشولڈ میں تبدیلی، نئی ریپڈ ایگزٹ ٹیکسی وے (آر ای ٹی زیڈ 1) کی تعمیر، ہوائی اڈے کے گراؤنڈ لائٹنگ سسٹم کی اپ گریڈیشن، رن وے کی سطح کو مضبوط بنانے کے کام اور متعلقہ سول و الیکٹریکل بنیادی ڈھانچے میں اصلاحات کی گئیں۔ ڈائل کے مطابق، ان اصلاحات سے رن وے کی فعال صلاحیت کو بڑھانے، طیاروں کی آمد و رفت کو بہتر طریقے سے منظم کرنے، رن وے پر طیاروں کے رہنے کا وقت کم کرنے اور مختلف موسمی حالات میں آپریشنل اعتماد کو بڑھانے میں مدد ملے گی۔
پروجیکٹ کے دوران ڈائل نے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (ڈی جی سی اے)، ایئرپورٹس اتھارٹی آف انڈیا (اے اے آئی)، ایئر ٹریفک کنٹرول (اے ٹی سی)، ایئر لائنز اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ مل کر کام کیا۔ تمام مقررہ حفاظتی، آپریشنل اور ریگولیٹری مراحل مکمل ہونے کے بعد 20 ستمبر سے رن وے پر آپریشن دوبارہ شروع کرنے کی منظوری ملی ہے۔ ڈائل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر پردیپ پانیکر نے کہا کہ رن وے 11 آر/29 ایل کو دوبارہ چالو کیا جانا دہلی ہوائی اڈے کے مستقبل کے لیے تیار ہوا بازی کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کی سمت میں ایک اہم پیش رفت ہے۔
انہوں نے کہا کہ بحالی کے پروگرام کو کامیابی کے ساتھ مکمل کیا جانا حفاظت، آپریشنل عمدگی اور مسافروں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید رن وے کے ساتھ نئی ریپڈ ایگزٹ ٹیکسی وے نیز بہتر نیویگیشن اور لائٹنگ کا نظام دہلی ہوائی اڈے کی صلاحیت اور استحکام کو مزید بڑھائے گا اور ملک میں بڑھتی ہوئی ہوا بازی کی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد کرے گا۔ڈائل نے کہا کہ دوبارہ چالو ہونے والے رن وے دہلی ہوائی اڈے کی آپریشنل کارکردگی اور مستقبل میں بڑھنے والے ایئر ٹریفک کو سنبھالنے میں اہم کردار ادا کرے گا نیز عالمی ہوا بازی کی حفاظت اور بنیادی ڈھانچے کے معیار کے مطابق آپریشنز کو یقینی بنانے میں مدد کرے گا۔ یہ رن وے 2008 میں شروع کیا گیا تھا اور گزشتہ 17 سالوں سے مسلسل آپریشن میں تھا، جس کے دوران اس کی باقاعدہ دیکھ بھال کی گئی اور 2017 میں اس کی معمولی بحالی بھی کی گئی تھی۔

Continue Reading

دلی این سی آر

خواتین کمیشن کا 100 پولیس اہلکاروں کے ساتھ ا سپا سنٹر پر چھاپہ

Published

on

گروگرام :گروگرام میں جائز کاروبار کی آڑ میں چلنے والی غیر اخلاقی سرگرمیوں کے خلاف ایک بڑی مشترکہ کارروائی میں گروگرام پولیس اور ہریانہ ریاستی خواتین کمیشن نے سیکٹر 90 کے سفائر 90 مال میں ایک بڑا مشترکہ آپریشن کیا۔ رات 10 بجے سے صبح 3 بجے تک جاری رہنے والی چھ گھنٹے کی سخت چیکنگ مہم کے دوران 18 اسپائر سنٹروں کے اندر چھاپے مارے گئے۔ آپریشن کے دوران جائے وقوعہ پر موجود تقریباً 30 خواتین اور 20 مردوں کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا۔ ابتدائی طور پر آٹھ سپا سنٹرز میں سنگین غیر قانونی سرگرمیوں کے پختہ ثبوت ملے۔پولیس کو سیفائر 90 مال میں واقع سپا سنٹرز میں غیر اخلاقی اور مشکوک سرگرمیوں کی شکایات موصول ہو رہی تھیں اور اس خفیہ آپریشن کی منصوبہ بندی از خود کی گئی تھی۔ 100 سے زیادہ پولیس افسران کی ایک ٹیم نے بیک وقت مال کو گھیر لیا اور چھاپہ مار کارروائی شروع کر دی، جس سے ہلچل مچ گئی۔ آپریشن کے دوران 18 سپا سنٹرز میں سے 8 سے اہم الیکٹرانک آلات، ڈیجیٹل ڈیٹا، مجرمانہ دستاویزات اور دیگر جسمانی ثبوت قبضے میں لیے گئے۔ اس ثبوت کو استعمال کرتے ہوئے، پولیس اب اسپا سینٹرز کے حقیقی مالکان، آپریٹرز، منیجرز اور اس نیٹ ورک کے سہولت کاروں کے کردار کی مکمل تفتیش کر رہی ہے۔
چھاپے کے دوران سپا سنٹرز سے تقریباً 30 خواتین اور 20 مرد پائے گئے۔ ہریانہ ریاستی خواتین کمیشن کی چیئرپرسن اوشا پریہ درشنی کی موجودگی میں ان خواتین سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ وہ کن حالات میں کام کر رہی تھیں اور کیا انہیں کسی گینگ نے ایسا کرنے پر مجبور کیا تھا۔ جائے وقوعہ سے ملنے والے افراد کے کردار، ان کی موجودگی کی وجوہات اور ان کی شہادتوں کی تصدیق کی جا رہی ہے۔ تحقیقات کی بنیاد پر ان کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔اس پورے آپریشن کی ابتدائی تفتیش اور ضبطی کا عمل ابھیلکش جوشی، اے سی پی ہیڈکوارٹر-1، غیر اخلاقی ٹریفک (روک تھام) ایکٹ 1956 کے تحت مقرر اسپیشل پولیس آفیسر کی نگرانی میں کیا گیا تھا۔ گروگرام پولیس انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی منظم جرم یا غیر اخلاقی سرگرمیوں کو تجارتی جگہوں کی آڑ میں کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ پولیس شہر میں ایسے دیگر مقامات پر بھی کڑی نظر رکھے ہوئے ہے اور آنے والے دنوں میں مزید سخت کارروائی کی جا سکتی ہے۔

Continue Reading

دلی این سی آر

مظاہرین پر مسکرانا بے ضابطگی نہیں، دہلی ہائی کورٹ

Published

on

نئی دہلی :دہلی ہائی کورٹ نے کہا کہ یونیورسٹی کے طلباء کو اختلاف رائے کا اظہار کرنے، احتجاج کرنے یا احتجاج کی حمایت میں جوش دکھانے کا اہم حق ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے کہا کہ مظاہرین کو دیکھ کر محض مسکرانا بے ضابطگی نہیں سمجھا جا سکتا۔ جسٹس جسمیت سنگھ کی بنچ نے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے آٹھ طلباء پر لگائے گئے 19,000 روپے کے جرمانے پر اگلی سماعت تک روک لگا دی ہے۔یونیورسٹی نے ہر ایک طالب علم کو بے ضابطگی پر جرمانہ کیا تھا۔ طلباء نے یونیورسٹی کے چیف پراکٹر کی طرف سے جاری شوکاز نوٹس اور اس کے بعد پراکٹریل کمیٹی کی طرف سے جاری جرمانے کے حکم کو دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔ یونیورسٹی نے الزام لگایا کہ پانچ طلبہ مبینہ طور پر جارحانہ انداز میں کیمرہ اسٹینڈ کو ہلا رہے تھے۔
وہ ایف آر ٹی سسٹم کی توڑ پھوڑ کرنے والے طلبا کو خوش کر رہے تھے۔ تین دیگر طلباء پر تالیاں بجا کر اور نعرے لگا کر توڑ پھوڑ کی حوصلہ افزائی کرنے کا الزام تھا۔ طلبا نے شوکاز نوٹس کے جواب میں الزامات کی تردید کی۔عبوری راحت دیتے ہوئے، بنچ نے مشاہدہ کیا کہ اگر شوکاز نوٹس میں لگائے گئے الزامات کو سچ مان لیا جائے تو زیادہ سے زیادہ یہ ظاہر ہوتا ہے کہ طلباء مظاہرین کو دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔ بنچ کے مطابق، اس طرح کا ایکٹ کسی بھی قسم کی بے ضابطگی نہیں بنتا۔بنچ نے کہا کہ یونیورسٹی کے طلباء کا اختلاف رائے، احتجاج اور مظاہرے کی حمایت کا حق ایک اہم حق ہے۔ اسے کسی بھی طرح سے دبا یا نہیں جا سکتا۔ بنچ نے کہا کہ درخواست گزار طالب علم ہونے کے ناطے اس طرح کی سرگرمی کے لیے سزا نہیں دی جا سکتی۔بنچ نے یہ بھی کہا کہ یونیورسٹی کی کارروائی درخواست گزاروں کے بنیادی حقوق پر حملہ کے مترادف ہے اور اسے قبول نہیں کیا جا سکتا۔ بنچ نے تسلیم کیا کہ طلباء نے اپنا پہلا مقدمہ قائم کر لیا ہے۔ لہٰذا، اس مرحلے پر جرمانے کو نافذ رہنے کی اجازت دینے سے ان کے بنیادی حقوق کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس کے بعد بنچ نے آٹھ طلباء پر عائد 19,000 روپے کے جرمانے کو اگلی سماعت تک روک دیا۔ کیس کی اگلی سماعت 12 جنوری 2027 کو ہوگی۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network