Connect with us

Bihar

جہان آباد : ڈائل 112 جیپ نےبائک سوار کو کچلا

Published

on

جہان آباد:بہار کے جہان آباد صدر تھانہ علاقے کے تحت پٹنہ-اورنگ آباد مین روڈ پر کینرا بینک کے قریب ایک بے قابو ڈائل 112 پولیس جیپ نے پیچھے سے ایک بائک سوار کو ٹکر مار دی۔ حادثے میں 16 سالہ سوار شدید زخمی ہوگیا۔ ٹکر اتنی شدید تھی کہ نوجوان کا سر ٹوٹ گیا اور وہ خون میں بہہ کر سڑک پر گر گیا۔ اس واقعہ کے بعد لوگوں نے زبردست ہنگامہ کیا۔ نوجوان کو پٹنہ ریفر کر دیا گیا ہے۔ جہاز میں سوار پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے مکینوں نے چار گھنٹے تک سڑک بلاک کر دی۔
زخمی شخص کی شناخت 16 سالہ سدھانشو کمار کے طور پر کی گئی ہے، جو بیجیندر یادو ساکن لیکھا بیگھہ کا بیٹا ہے۔ واقعے کے بعد مقامی لوگوں نے پولیس کی گاڑی کو روکنے کی کوشش کی تاہم ڈرائیور موقع سے فرار ہوگیا۔ اس کے بعد گاؤں والوں نے سڑک پر ہنگامہ شروع کر دیا۔واقعہ کی اطلاع ملتے ہی مشتعل دیہاتیوں اور شہر کے باشندے کینرا بینک کے پاس جمع ہوگئے۔ مشتعل مظاہرین نے پٹنہ اورنگ آباد این ایچ 139 اور کینال روڈ کو مکمل طور پر بلاک کر دیا۔ مشتعل مظاہرین نے سڑک کے دونوں طرف ٹرک کھڑے کر دیئے اور دو پہیہ گاڑیوں کی آمدورفت کو بھی روک دیا۔ جس کی وجہ سے گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں جس سے بڑے پیمانے پر ٹریفک جام ہوگیا۔ناکہ بندی کی اطلاع ملتے ہی صدر پولیس اسٹیشن آفیسر درباری چوہدری، بلاک ڈیولپمنٹ آفیسر (بی ڈی او) کماری سشما اور ٹریفک پولیس اسٹیشن آفیسر اتم کمار اپنی فورسز کے ساتھ جائے وقوعہ پر پہنچے۔
اہلکاروں نے اہل خانہ کو تسلی دینے کی کافی کوششیں کیں۔ لواحقین نے 112 گاڑی میں تعینات قصوروار پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی پر اصرار کیا۔ انہوں نے جائے حادثہ پر اسپیڈ بریکر کی فوری تعمیر کا مطالبہ کیا۔
بی ڈی او اور صدر پولیس اسٹیشن آفیسر کی جانب سے ان کے مطالبات پر فوری کارروائی کی پختہ یقین دہانی کے بعد تقریباً چار گھنٹے سے جاری ناکہ بندی ختم ہوگئی۔ اس کے بعد ہی مین روڈ پر ٹریفک معمول پر آ گئی۔ اس دوران عوام کے غصے کے سامنے عہدیدار پریشان ہوگئے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Bihar

بہار کونہیں بننے دیا جائے گا پولیس کی حکمرانی والی ریاست ،تیجسوی یادو کریں گے مارچ، طلبہ پر اے کے-47 سے فائرنگ کے خلاف احتجاجی تحریک کا اعلان

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:بہار میں طلبہ تحریک کے دوران طلبہ پر اے کے-47 سے فائرنگ کے معاملے میں اب تک کارروائی نہ ہونے پر راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) نے احتجاجی تحریک کا اعلان کر دیا ہے۔ آر جے ڈی 19 اگست کو ویرچند پٹیل پتھ واقع پارٹی دفتر سے لوک بھون تک مارچ کرے گی۔ قائدِ حزبِ اختلاف تیجسوی یادو نے کل نئی دہلی میں منعقدہ پریس کانفرنس میں اس کا اعلان کیا۔ تیجسوی یادو نے کہا کہ مارچ میں پارٹی کے تمام ارکانِ پارلیمنٹ، ارکانِ اسمبلی، ارکانِ قانون ساز کونسل اور پارٹی کارکنان شرکت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بہار کو پولیس کی حکمرانی والی ریاست نہیں بننے دیا جائے گا۔
بہار کے قائدِ حزبِ اختلاف نے کہا کہ اس مارچ کے سلسلے میں اپوزیشن کی دیگر جماعتوں سے بھی بات چیت کی جا رہی ہے۔ انہیں بھی بہار میں طلبہ کو انصاف دلانے کے لیے اس مارچ میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پورا ملک یہ جاننا چاہتا ہے کہ طلبہ پر فائرنگ کس کے حکم پر کی گئی۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی جانب سے آواز اٹھائے جانے کے بعد ایک سپاہی کو معطل کر دیا گیا، لیکن اب تک ایس پی کو معطل کیوں نہیں کیا گیا؟ انہوں نے پارلیمنٹ میں یہ معاملہ اٹھانے پر راہل گاندھی اور اکھلیش یادو کا شکریہ بھی ادا کیا۔
تیجسوی یادو نے اس کے ساتھ ہی الزام عائد کیا کہ وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ اور مرکزی وزیر داخلہ نے اس معاملے پر آج تک ایک لفظ تک نہیں کہا۔ وزیر اعلیٰ یا کسی نائب وزیر اعلیٰ نے زخمی طلبہ سے ملاقات کرنے تک کی زحمت نہیں کی۔ اگر ان معصوم طلبہ کی جان چلی جاتی تو اس کا ذمہ دار کون ہوتا؟ پریس کانفرنس میں رکنِ پارلیمنٹ میسا بھارتی، ابھے کشواہا اور سریندر یادو بھی موجود تھے۔
واضح رہے کہ راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے کارگزار صدر تیجسوی یادو نے اس سے قبل اگست ہی میں بہار کے پولیس ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی پی) ونے کمار سے ملاقات کی تھی اور 25 جولائی کو طلبہ کے احتجاج کے دوران اے کے-47 رائفل کے مبینہ استعمال کے معاملے میں سیوان کے پولیس سپرنٹنڈنٹ اور دیگر سینئر افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔
اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف تیجسوی یادو کی قیادت میں وفد نے کہا تھا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت والی قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) حکومت کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ طلبہ کے خلاف اس طرح کی رائفل استعمال کرنے کا حکم کس نے دیا تھا۔ آر جے ڈی لیڈر نے صحافیوں سے کہا تھا کہ مظاہرین کے خلاف اے کے-47 کا استعمال صرف وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری یا مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے حکم پر ہی کیا جا سکتا تھا۔ اس معاملے پر دونوں نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور کچھ بھی نہیں کہہ رہے ہیں۔ متعلقہ پولیس سپرنٹنڈنٹ (ایس پی) اور دیگر سینئر افسران کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔

Continue Reading

Bihar

بہار کو ایک بار پھر شراب کی لعنت میں دھکیلنے کی ہورہی ہے سازش،ریاست میں شراب بندی ختم کرنے کی سفارش پر سیاسی جنگ، جنتادل یونائیٹڈ این سی اے ای آر کوبھیجے گی قانونی نوٹس

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:بہار میں شراب بندی قانون پر نیشنل کونسل آف اپلائیڈ اکنامک ریسرچ (این سی اے ای آر) کی مطالعاتی رپورٹ کے بعد سیاسی ہنگامہ برپا ہوگیا ہے۔ کونسل نے اپنی مطالعاتی رپورٹ میں شراب بندی قانون کو دس سال بعد بھی ناکام قرار دیتے ہوئے اسے ختم کرنے کی سفارش کی ہے۔
اس پر جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) نے این سی اے ای آر کو قانونی نوٹس بھیج کر قانونی کارروائی کی وارننگ دی ہے۔ پارٹی کے چیف ترجمان نیرج کمار نے دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ ’’ہم انہیں چھوڑیں گے نہیں۔‘‘جے ڈی یو کے قانون ساز کونسلر و چیف ریاستی ترجمان نیرج کمار اور ریاستی ترجمان پوجا پیٹرک نے بہار میں شراب بندی کے حوالے سے نجی ادارے این سی اے ای آر کی جانب سے کرائے گئے سروے پر سخت حملہ بولا ہے۔ انہوں نے کمپنی کے اعلیٰ عہدوں پر فائز عہدیداروں کے مفادات اور کردار پر سنگین سوالات اٹھائے۔ دونوں رہنما جمعرات کو جے ڈی یو دفتر میں صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ اگر کسی نجی ادارے کے عہدیداروں یا ارکان کے براہِ راست یا بالواسطہ طور پر ایسے مالیاتی اداروں سے تعلقات ہوں، جو شراب کے کاروبار سے وابستہ کمپنیوں کو بینکاری سہولیات فراہم کرتے ہوں، تو ایسے ادارے کی جانب سے بہار میں شراب بندی کے حوالے سے کیے گئے سروے کی غیر جانب داری پر سوال اٹھنا فطری ہے۔
انہوں نے کہا کہ سروے کرانے والے نجی ادارے این سی اے ای آر کی گورننگ باڈی میں ایچ ڈی ایف سی بینک کے چیئرمین دیپک ایس پاریخ شامل ہیں، جن کے بارے میں جے ڈی یو رہنماؤں نے دعویٰ کیا کہ ان کی سرمایہ کاری شراب بنانے والی کمپنی میں ہے۔ وہیں سگریٹ بنانے والی کمپنی آئی ٹی سی کے چیئرمین و منیجنگ ڈائریکٹر سنجیو پوری بھی اس ادارے کے بورڈ ممبر ہیں۔جے ڈی یو رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ یہ تحقیق شراب کمپنیوں کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے اور بہار کو ایک بار پھر شراب کی لعنت میں دھکیلنے کی سازش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ شراب بندی ختم کرکے بہار کی خواتین کو دوبارہ پریشان کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن جے ڈی یو خاموش نہیں بیٹھے گا۔ نیرج کمار نے کہا کہ نتیش کمار نے خواتین کے مطالبے پر بہار کی اصلاح اور سماجی بہتری کے لیے شراب بندی کا قانون نافذ کیا تھا۔

Continue Reading

Bihar

اردو اسکولوں اور مدارس کیلئے جمعرات کونصف دن کی چھٹی کی دی جائے منظوری:مفتی سعید الرحمٰن قاسمی

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ، جھارکھنڈو مغربی بنگال کے ناظم جناب مولانا مفتی محمد سعیدالرحمٰن قاسمی صاحب نے اپنے ایک پریس ریلیز میں کہا کہ محکمۂ تعلیم بہار نے سرکاری اسکولوں کے لئے سنیچر کے نصف دن کی چھٹی کی منظوری کانوٹیفیکیشن جاری کیا ہے جس سے اسکولوں کے اساتذہ کو راحت ملی ہے اور قدیم روایت کی پاسداری بھی ہوئی ہے۔
تاہم اردو اسکولس اور مدارس جہاں ہمیشہ سے جمعہ کو مکمل دن کی سرکاری چھٹی کا معمول جاری ہے ایسے اسکولوں اور مدارس کے لئے نوٹیفیکیشن میں جمعرات کے آدھے دن کی چھٹی کی کوئی صراحت نہیں ہے ،جس کی وجہ سے اردو اسکولوں اور مدارس کے اساتذہ میں بے حد بے چینی پائی جارہی ہے ،یہ بات اصولی ہے کہ اگر اتوار کی رعایت کرتے ہوئے سنیچر کو نصف دن کی چھٹی کا منظوری نامہ جاری ہوا ہے تو جمعہ کی چھٹی کی رعایت کرتے ہوئے جمعرات کو بھی نصف دن کی چھٹی منظور کی جائے اور اس کے لئے واضح منظوری نامہ جاری ہو،ایسا نہیں کرنے کی صورت میں اردو اسکولوں اور مدارس کے اساتذہ کواس رعایت کا کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا اور خواہ مخواہ سنیچر کو آدھے دن چھٹی کرنے کی وجہ سے تعلیمی نظام میں خلل بھی واقع ہوگا۔
اس لئے جناب ناظم صاحب نے اپنے اس پریس ریلیز کے ذریعہ محترم وزیر تعلیم حکومت بہار اور محکمہ تعلیم کے اعلیٰ ذمہ داران سے پُرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس طرف توجہ دیں اورجلد از جلد متعلقہ محکمہ کی طرف سے اردو اسکولوں اور مدارس کے لئے جمعرات کے نصف دن کی چھٹی کا واضح منظوری نامہ جاری کیا جائے ؛تاکہ سابقہ روایت کی پاسداری بھی ہواور ان اداروں کے اساتذہ کو مساوی فائدہ بھی حاصل ہو سکے ۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network