تازہ ترین
مظفرپور میں مفت طبی کیمپ کا انعقاد،ماہر ڈاکٹروں نے دی صحت سے متعلق رہنمائی،سیوا ٹرسٹ کی پہل، بچوں اور خواتین سمیت مختلف امراض کے مریضوں کو ملی طبی سہولت، مفت ادویات بھی تقسیمسپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں کیا جائیگا اردو ٹی ای ٹی امیدواروں کا مقدمہ دائرارریہ: سدبھاونا منچ کے اراکین نے مختلف درگا پوجا پنڈالوں کاکیا دورہ، باہمی محبت اور بھائی چارے کا دیا پیغام،وسرجن میں شامل ہونے والے افراد کا استقبال اور کیا جائے گا اعزازسرسید احمد خاں نے قوم کو تعلیم کی اہمیت سے کرایاروشناس ،اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کے زیرِ اہتمام یومِ سرسید کی پر تقریب کا انعقادوائس چانسلر نعیمہ خاتون کے ہاتھوں دس کتابوں کا اجرا ،یوم سر سید پر سر سید اکیڈمی کی جانب سےتقریب رسم اجرا کا انعقاددھام پور میں جشنِ سرسید تقریب کا انعقاد، عصری علوم کے حصول پرزور،سرسید احمد خاں کی خدمات کوپروقار اور شاندار انداز میںپیش کیاگیا خراجِ عقیدت5 افراد کی موت کے معاملے میں بہن، بہنوئی سمیت تین گرفتاردہلی حکومت جمنا کو صاف کرنے کے لیےکر رہی ہے کام : سی ایم ریکھا
دیش

سپریم کورٹ کا وقف رجسٹریشن کی مدت میں توسیع سے انکار

(پی این این)
نئی دہلی:سپریم کورٹ کی دورکنی بینچ نے آج امید پورٹل پر وقف املاک کی رجسٹریشن کی مدت میں توسیع کرنے سے انکارکردیا، اورکہاکہ جب مدت میں توسیع کے لئے متاثرہ فریق ٹربیونل جاسکتے ہیں تواس معاملہ میں سپریم کورٹ کے ذریعہ دخل دینے کی کوئی وجہ نظرنہیں آتی، واضح ہوکہ امید پورٹل پر وقف املاک کی رجسٹریشن کی آخری تاریخ 6دسمبرہے، صدرجمعیۃعلماء ہند مولانا ارشدمدنی کی طرف سے پیش ہوئے سینئر وکیل کپل سبل نے یہ دلیل دی کہ لاکھوں متولی رجسٹریشن کراناچاہتے ہیں لیکن پورٹل میں تکنیکی خرابی کی وجہ سے بہت دقت آرہی ہے، وقف کی تفصیل پورٹل پر اپلوڈنہیں ہوپارہی ہے، اس پر بینچ کے ججوں نے کہا کہ سالسٹرجنرل کے مطابق پورٹل کام کررہاہے، مگر آپ اس میں خامی کی بات کہہ رہے ہیں اگر ایساہے تو اس کی تصدیق کے لئے آپ کو دستاویزداخل کرنا چاہئے۔
قابل ذکر ہے کہ آج جب سماعت کا آغازہواتو سالیسٹرجنرل تشارمہتانے بینچ کے روبروکہا کہ اگر کوئی متولی 6 دسمبر کی آخری تاریخ تک رجسٹریشن نہیں کراپاتاہے تووہ وقف ٹربیونل کے سامنے وجہ بیان کرکے توسیع لے سکتاہے، مگر درخواست گزارنئے وقف قانون میں دی گئی مدت میں تبدیلی کرانا چاہتے ہیں ان کا یہ مطالبہ درست نہیں ہے، عدالت نے بھی دلائل سننے کے بعد یہ بات کہی کہ نیا وقف قانون 3Bکے تحت وقف ٹربیونل کو یہ اختیارفراہم کرتاہے کہ وہ مخصوص معاملوں میں مدت میں توسیع کرسکتاہے، کپل سبل نے عدالت سے یہ بھی کہا کہ اگر کوئی وقف سوسال پرانا ہے توکسی کو بھی اس بات کا علم نہیں ہے کہ اس کی تفصیل پورٹل پر کس طرح اپلوڈکی جائے،انہوں نے کہا کہ سواورسواسوسال پرانے وقف کے بارے میں یہ پتہ نہیں چل پاتاکہ واقف یعنی وقف کرنے والا کون ہے، اورپورٹل پر جب تک اس کی تفصیل نہ دی جائے وہ دیگر تفصیلات کو بھی قبول نہیں کرتااس سے املاک کے رجسٹریشن میں سخت دقت آرہی ہے،انہوں نے یہ بھی کہا کہ پورٹل میں آنے والی تکنیکی خرابیوں کے بارے میں وہ باضابطہ ایک نوٹ عدالت میں پیش کرسکتے ہیں۔
سینئر وکیل ابھیشیک منوسنگھوی نے بھی دلیل دی کہ پورٹل میں رجسٹریشن کے وقت متعدد تکنیکی خرابیاں آجاتی ہیں اس لئے وہ صرف مد ت میں توسیع چاہتے ہیں، سینئر ایڈوکیٹ پی وی سریندرناتھ نے کہا کہ کیرالا اسٹیٹ وقف بورڈنے بھی ایک عرضی داخل کرکے کہا ہے کہ پورٹل میں جو کالم دیئے گئے ہیں انہیں پرکرنے میں زبردست پریشانی آرہی ہے، ان کے علاوہ دوسرے کئی وکلاء نے بھی مدت میں توسیع کے لئے اپنے دلائل پیش کئے مگر سپریم کورٹ نے رجسٹریشن کی مدت میں توسیع کرنے سے انکارکردیا اورکہا کہ وقف کے متولی اس کے لئے وقف ٹربیونل سے رجوع کرسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔