Connect with us

دیش

سپریم کورٹ کا وقف رجسٹریشن کی مدت میں توسیع سے انکار

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی:سپریم کورٹ کی دورکنی بینچ نے آج امید پورٹل پر وقف املاک کی رجسٹریشن کی مدت میں توسیع کرنے سے انکارکردیا، اورکہاکہ جب مدت میں توسیع کے لئے متاثرہ فریق ٹربیونل جاسکتے ہیں تواس معاملہ میں سپریم کورٹ کے ذریعہ دخل دینے کی کوئی وجہ نظرنہیں آتی، واضح ہوکہ امید پورٹل پر وقف املاک کی رجسٹریشن کی آخری تاریخ 6دسمبرہے، صدرجمعیۃعلماء ہند مولانا ارشدمدنی کی طرف سے پیش ہوئے سینئر وکیل کپل سبل نے یہ دلیل دی کہ لاکھوں متولی رجسٹریشن کراناچاہتے ہیں لیکن پورٹل میں تکنیکی خرابی کی وجہ سے بہت دقت آرہی ہے، وقف کی تفصیل پورٹل پر اپلوڈنہیں ہوپارہی ہے، اس پر بینچ کے ججوں نے کہا کہ سالسٹرجنرل کے مطابق پورٹل کام کررہاہے، مگر آپ اس میں خامی کی بات کہہ رہے ہیں اگر ایساہے تو اس کی تصدیق کے لئے آپ کو دستاویزداخل کرنا چاہئے۔
قابل ذکر ہے کہ آج جب سماعت کا آغازہواتو سالیسٹرجنرل تشارمہتانے بینچ کے روبروکہا کہ اگر کوئی متولی 6 دسمبر کی آخری تاریخ تک رجسٹریشن نہیں کراپاتاہے تووہ وقف ٹربیونل کے سامنے وجہ بیان کرکے توسیع لے سکتاہے، مگر درخواست گزارنئے وقف قانون میں دی گئی مدت میں تبدیلی کرانا چاہتے ہیں ان کا یہ مطالبہ درست نہیں ہے، عدالت نے بھی دلائل سننے کے بعد یہ بات کہی کہ نیا وقف قانون 3Bکے تحت وقف ٹربیونل کو یہ اختیارفراہم کرتاہے کہ وہ مخصوص معاملوں میں مدت میں توسیع کرسکتاہے، کپل سبل نے عدالت سے یہ بھی کہا کہ اگر کوئی وقف سوسال پرانا ہے توکسی کو بھی اس بات کا علم نہیں ہے کہ اس کی تفصیل پورٹل پر کس طرح اپلوڈکی جائے،انہوں نے کہا کہ سواورسواسوسال پرانے وقف کے بارے میں یہ پتہ نہیں چل پاتاکہ واقف یعنی وقف کرنے والا کون ہے، اورپورٹل پر جب تک اس کی تفصیل نہ دی جائے وہ دیگر تفصیلات کو بھی قبول نہیں کرتااس سے املاک کے رجسٹریشن میں سخت دقت آرہی ہے،انہوں نے یہ بھی کہا کہ پورٹل میں آنے والی تکنیکی خرابیوں کے بارے میں وہ باضابطہ ایک نوٹ عدالت میں پیش کرسکتے ہیں۔
سینئر وکیل ابھیشیک منوسنگھوی نے بھی دلیل دی کہ پورٹل میں رجسٹریشن کے وقت متعدد تکنیکی خرابیاں آجاتی ہیں اس لئے وہ صرف مد ت میں توسیع چاہتے ہیں، سینئر ایڈوکیٹ پی وی سریندرناتھ نے کہا کہ کیرالا اسٹیٹ وقف بورڈنے بھی ایک عرضی داخل کرکے کہا ہے کہ پورٹل میں جو کالم دیئے گئے ہیں انہیں پرکرنے میں زبردست پریشانی آرہی ہے، ان کے علاوہ دوسرے کئی وکلاء نے بھی مدت میں توسیع کے لئے اپنے دلائل پیش کئے مگر سپریم کورٹ نے رجسٹریشن کی مدت میں توسیع کرنے سے انکارکردیا اورکہا کہ وقف کے متولی اس کے لئے وقف ٹربیونل سے رجوع کرسکتے ہیں۔

دیش

آسام میں سیلاب سے 61 ہلاک،8لاکھ افراد متاثر،گجرات میں بھار ی بارش سے 8کی موت،تمام تعلیمی ادارے بند

Published

on

گوہاٹی/احمد آباد:آسام میں سیلاب کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد 61 سے تجاوز کرگئی ہے۔چوبیس  گھنٹے میں 15 لوگوں کی موت کی خبریں ہیں۔ ریاست کے بارہ اضلاع زیر آب ہیں۔8 لاکھ سے زائد کو دوسری جگہ منتقل کرایا گیا ہے۔ادھر گجرات میں بھی بارش نے تباہی مچائی ہے۔ وہاں مسلسل بارش ہورہی ہے۔ 50 ہزار سے زائد لوگوں کو دوسری جگہ منتقل کیا گیا ہے۔بارش سے جڑے حادثات میں 8 لوگوں کی موت کی خبریں ہین۔ احمد آباد میں تمام اسکول ، کالج، آنگن باڑی ودیگر تعلیمی ادارے بند کردیے گئے۔ادھر اترپردیش اور راجستھان میں بھی بارش کا الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔اترپردیش میں گزشتہ پندرہ دنوں سے لگاتار بارش ہورہی ہے،آج تیس اضلاع میں زبردست بارش کا الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ راجستھان میں بھی بارش کا دور جاری ہے۔محکمہ موسمیات نے ریاست کے مختلف حصوں کے لئے الرٹ جاری کردیا ہے۔ حالانکہ جموں وکشمیر میں لینڈ سلائڈنگ کی وجہ سے آمدورفت ٹھپ تھی لیکن اب چھ دنوں کے بعد آمدورفت جاری ہوئی ہے۔ امرناتھ یاترا بھی شروع کردی گئی ہے۔

Continue Reading

دیش

سونیا گاندھی کا نام ووٹر لسٹ میںشامل کرنے کا معاملہ، فیصلہ محفوظ

Published

on

نئی دہلی:رائوایونیو کورٹ نے سونیا گاندھی کا نام ووٹر لسٹ میں شامل کئے جانے سے منسلک نظرثانی اپیل پر اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔ عرضی میں الزام لگایا گیا ہے کہ ہندوستانی شہریت ملنے سے پہلے سونیا گاندھی کا نام ووٹر لسٹ میں شامل کیا گیا تھا۔ عرضی دہندہ نے اس معاملے میں ایف آئی آر درج کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔ جسے مجسٹریٹ نے خارج کردیا تھا۔ اسی حکم کے خلاف نظر ثانی اپیل دائر کی ۔کانگریس کے لیڈروں کا کہنا ہے کہ ایسی عرضیاں داخل کی جاتی ہیں تاکہ شہرت مل سکے۔ یہ سب سیاست کا ایک حصہ ہے۔ سونیا گاندھی کے کردار پر کوئی انگلیاں نہیں اٹھا سکتا ، اسی طرح ان کی شہریت اور حب الوطنی بھی ایک مثال ہے۔

Continue Reading

دیش

ہندوستان کے ماضی ہیں وزیر اعظم نریندر مودی،ماضی کبھی مستقبل کا نہیں کرسکتا مقابلہ،راہل گاندھی سمیت اپوزیشن رہنمائوں کا ردعمل

Published

on

نئی دہلی: وزیر تعلیم پردھان کے استعفیٰ کے بعد اپوزیشن میں جشن کا ماحول ہے۔کانگریس نے کہا ہے کہ یہ سچ کی جیت ہے، وزیر اعظم کی ضد ہار چکی ہے۔کانگریس نے کہا کہ نریندر مودی ہندوستان کے ماضی ہیں اور وہ مستقبل کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔اس سے قبل راہل گاندھی نے ایک پریس کانفرنس میں حکومت کو طلبا مخالف بتاتے ہوئے تعلیمی نظام میں اصلاح کی بات کہی تھی۔ انھوں نے ایک پریس کانفرنس میں آئیسا کی قومی صدر نیہا بورا وغیرہ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کیا۔ اور کہا کہ طلبا کے مفادات پر سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔
دریں اثنا دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے بعد ایک ویڈیو پیغام میں کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی نے اسے ہمارے تعلیمی نظام کی اصلاح کی طرف ایک بڑا قدم قرار دیا اور ملک بھر کے طلباء کو ان کے عزم کے لیے مبارکباد دی۔
دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے بعد کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے کہا کہ یہ لاکھوں نوجوانوں، سچائی اور متحد اپوزیشن کی جیت ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی کی ضد کی شکست ہے۔ کھرگے نے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ہندوستان کے طلباء کی آواز آخر کار متکبر حکومت کی دہلیز تک پہنچ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے لاکھوں نوجوانوں کی جیت ہے جو ملک بھر میں تعلیمی نظام میں اصلاحات کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ کانگریس صدر نے کہا کہ یہ سچائی کی جیت اور مودی کی ضد کی شکست ہے۔کانگریس لیڈر پون کھیرا نے اس فیصلے کو ناکافی اور تاخیری قدم قرار دیا۔ کھیرا نے کہا یہ بہت دیر سے نامکمل قدم ہے لیکن ہم نے آخر کار اس مسئلے سے چھٹکارا حاصل کر لیا ہے۔دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ پر، سپریا سولے نے کہا، “وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ پرامن مظاہرین، طلباء اور اپوزیشن کے مسلسل دباؤ کے بعد آیا ہے۔ میں ہر اس مظاہرین کو مبارکباد پیش کرتی ہوں جو نیٹ یو جی کے معاملے پر ڈٹے رہے۔
ششی تھرور نے بھی دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ پر ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر تعلیم کا استعفیٰ اس بات کا اعتراف ہے کہ جمہوریت میں احتساب سے ہمیشہ کے لیے گریز نہیں کیا جا سکتا۔
عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے کہا دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ پر پوری قوم کو مبارکباد۔ یہ جمہوریت کی بڑی جیت ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network