Connect with us

دیش

آسام کے وزیر اعلیٰ کامسلمانوں کے خلاف زہر افشانی،جمعیۃ علماء ہند کی سپریم کورٹ میں عرضی داخل

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی:جمعیۃ علماء ہند نے اپنے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کے توسط سے سپریم کورٹ آف انڈیا میں آج ایک مفصل عرضی داخل کرتے ہوئے آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کے حالیہ عوامی بیان کو سنگین نفرت انگیز، فرقہ وارانہ اشتعال اور آئینی اقدار کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔عرضی میں آسام کے وزیر اعلیٰ کی 27 جنوری 2026 کو دی گئی اس بیان کا خصوصی طور پر حوالہ دیا گیا ہےجس میں انھوں نے یہ دعویٰ کیا کہ ’’چار سے پانچ لاکھ ’مِیاں‘ ووٹروں کو انتخابی فہرستوں سے خارج کیا جائے گا‘‘ اور یہ بھی کہا کہ وہ اور ان کی پارٹی ’’براہِ راست مِیاؤں کے خلاف ہیں‘‘۔عرضی کے مطابق لفظ’ مِیاں‘ آسام میں مسلمانوں کے لیے تحقیر آمیز اور توہین آمیز انداز میں استعمال کیا جاتا ہے۔
عرضی میں مزید کہا گیا ہے کہ آسام کے وزیر اعلیٰ کی مذکورہ تقریر، اس تناظر میں کہ وہ ایک اعلیٰ آئینی منصب پر فائز ہیں، کسی بھی طرح سے محض رائے کے اظہار کے دائرے میں نہیں آتی، بلکہ اس کا واحد اور بنیادی مقصد ایک کمیونٹی کے خلاف نفرت، عداوت اور بدخواہی کو فروغ دینا ہے۔ ایسے بیانات سے سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچا ہے اور ایک مخصوص برادری کو اجتماعی طور پر نشانہ بنایا گیا ہے جو اپنے عہدے کی مریاد ا سے غداری ہے۔جمعیۃ علماء ہند نے سپریم کورٹ سے یہ بھی گزارش کی ہے کہ وہ آئینی عہدوں پر فائز افراد کی تقاریر کے لیے سخت ضابطہ اخلاق مقرر کرے ، تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی بھی شخص آئینی منصب کی آڑ میں فرقہ وارانہ نفرت، اشتعال انگیزی یا کسی کمیونٹی کو بدنام کرنے کا اختیار نہ رکھتا ہو۔ ایسے ضابطے اس اصول کو مضبوط کریں گے کہ آئین اور قانون سے کوئی بالاتر نہیں اور یہی تصور رول آ ف لاءکی بنیاد ہے۔
عرضی میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کے بیانات آئین ہند میں دی گئی مساوات، اخوت ، سیکولرازم اور وقارِ انسانی کی ضمانتوں کو براہِ راست مجروح کرتے ہیں اور اظہارِ رائے کی آزادی کے تحفظ کے تحت نہیں آ سکتے۔ جمعیۃ نے اس امر کی بھی نشاندہی کی ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے نفرت انگیز ی کے خلاف ازخود کارروائی (Suo Motu) سے متعلق واضح ہدایات کے باوجود ایسے بیانات کا تسلسل تشویشناک ہے۔
واضح رہے کہ یہ گزارش ، جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے سپریم کورٹ میں پہلے سے زیرِ سماعت نفرت انگیز ی اور اہانت رسول ﷺ کے خلاف رٹ پٹیشن نمبر1265/2021 میں شامل کی گئی ہے ۔ اس مقدمے کی چار سالہ سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ محفوظ رکھتے ہوئے، فیصلہ سنانے سے قبل جمعیۃ علماء ہند کے سینئر وکیل جناب ایم۔ آر۔ شمشاد اور ایڈوکیٹ آن ریکارڈ فرخ رشید سے چند اہم نکاتی مشورے طلب کیے ہیں کہ ان کے نزدیک ملک میں نفرت انگیزی کو روکنے کے لیے کون سے مؤثر اور عملی اقدامات ضروری ہیں۔لہِذ ا یہ عرضی اس معنی میں بہت ہے کہ اس وقت سپریم کورٹ ملک میں بڑھتی ہوئی نفرت انگیز تقاریر، آئینی عہدوں کے غلط استعمال اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے امتیازی طرزِ عمل جیسے سنگین مسائل کے آئینی و قانونی پہلوؤں پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔

انٹر نیشنل

امریکہ کے بعدبرطانیہ میں بھی بھاگوت کی پرزور مخالفت

Published

on

لندن:امریکہ کے بعد برطانیہ کی راجدھانی لندن کے میئر صادق خان کو سول سوسائٹی کے 20 تنظیموں نے مکتوب بھیج کر آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے پروگرام کے بائیکاٹ کی اپیل کی ہے۔
مکتوب میں آر ایس ایس کو ایک تانا شاہ اور ملٹری فکر والی تنظیم بتایا گیا ہے۔ اور ایسا ہی ایک خط برطانیہ کے وزارت خارجہ کو بھی بھیجا گیا ہے۔ غورطلب ہے کہ گزشتہ ہفتہ امریکہ میں کئی ہندو تنظیموں نے آر ایس ایس سربراہ کے ’یونیورسل ون نیس سیلیبریشن ‘پروگرام کی مخالفت کی تھی ، مظاہرہ کیا تھا۔
موہن بھاگوت کا یہ پروگرام نیویارک شہر کے میڈیسن اسکوائر گارڈن میں منعقد ہوا تھا۔ لندن کی سوسائٹی کے تنظیموں نے مکتوب میں میئر کو گریٹر لندن اتھارٹی سے اپیل کرنے کو کہا کہ وہ موہن بھاگوت کو برطانیہ دورے کے درمیان آر ایس ایس کے ذریعہ منعقد پروگراموں کا بائیکاٹ کرے۔ موہن بھاگوت ہفتہ کے اختتام میں برطانیہ میں ہندنژاد طبقات کے لئے منعقد ایک پروگرام کو خطاب کریں گے۔
ان تنظیموں نے میئر صادق خان سے یہ بھی اپیل کی ہے کہ وہ آر ایس ایس کے پروگرام کیلئے جگہ کی اجازت نہ دیں۔ آرا یس ایس کے سو سال پورے ہونے کے موقع پر چلائے جارہے انٹرنیشنل آئوٹ ریچ پروگرام کے تحت بھاگوت کا دورہ امریکہ اور کینڈا میں ہوچکا ہے۔ دا انڈیپنڈنٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق انھوں نے آر ایس ایس کو ایک تاناہی اور ملٹری فکر والی تنظیم قرار دیا ہے۔ جس سے یوروپین فاسی واد سے تحریک ملی تھی۔ اور تنظیم نے افسران سے یہ بھی کہا ہے کہ برطانیہ کے الگ الگ ثقافت والے سماج کی تحفظ کےلئے بھی نظم کیا جائے۔ اس مکتوب میں ہندوزفار ہیومن رائٹرس ، یوکے انڈین مسلم کونسل ، انڈیا لیبر سالیڈیٹری اور ساوتھ ایشیا سالیڈیٹری جیسی تنظیموں نے دستخط کئے ہیں۔ مکتوب میں خاص طبقات کی سیکورٹی کے لئے میٹروپولٹن پولیس کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں بھی جانکاری مانگی گئی ہے۔

Continue Reading

دیش

ٹی ایم سی کے 22 باغیوں کی رکنیت پر لٹکی تلوار

Published

on

نئی دہلی:ترنمول کانگریس کے 22 باغی ممبران پارلیمنٹ جو این سی پی میں چلے گئے ہیں، ان کی رکنیت پر تلوار لٹکی ہوئی ہے۔ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے انھیں نوٹس جاری کردیا ہے کہ وہ 22 ستمبر تک جواب دیں کہ کیسے وہ این سی پی آئی میں گئے۔ غورطلب ہے کہ ٹی ایم سی کے لیڈر ابھشیک بنرجی نے اپنی عرضی میں ان تمام باغی ارکان پارلیمنٹ کی رکنیت منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے جو غیر قانونی طور پر ایک گمنام جماعت این سی پی آئی میں چلے گئے ہیں۔ واضح ہو کہ گزشتہ 18 جون 2026 کو ٹی ایم سی کے جنرل سکریٹری اور ایم پی ابھشیک بنرجی نے اوم برلا سے ان تمام باغی ارکان پارلیمنٹ کے خلاف آئین کی دسویں شیڈیول کے تحت نااہل قرار دیتے ہوئے ان کی رکنیت منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق اسپیکر اوم برلا نے ان 20 این سی پی آئی ممبران پارلیمنٹ کو ٹی ایم سی اس عرضی کا جواب دینے کے لئے 22 ستمبر تک کا وقت دیا ہے۔
غورطلب ہے کہ مغربی بنگال اسمبلی انتخاب کے نتیجے آنے کے بعد 14 جون ٹی ایم سی کے 20 ارکان پارلیمنٹ نے بغاوت کردی تھی اور نیشنلسٹ سٹیزن پارٹی آف انڈیا (این سی پی آئی ) کا دامن تھام لیا تھا۔ اس کے بعد انھوں نے این ڈی اے کو حمایت دینے کا اعلان کردیا تھا، مگر اب ان کی رکنیت پر آئینی سوال کھڑا ہوگیا ہے۔ ان باغی ارکان کی قیادت پارٹی کے سینئر رہنماؤں سدپ بندیوپادھیائے اور کاکولی گھوش دستیدار کر رہے ہیں۔ ان ارکان نے انتخابی شکست کے بعد پارٹی میں پیدا ہونے والی اندرونی کشمکش کے دوران جون میں پارٹی سے الگ راہ اختیار کی تھی۔دسویں شیڈول یعنی پارٹی بدلنے سے متعلق قانون سے بچنے کے لیے، باغی گروپ نے، جو ٹی ایم سی کے 28 لوک سبھا ارکان میں سے دو تہائی سے زیادہ ارکان پر مشتمل ہے، تریپورہ میں قائم نیشنلسٹ سٹیزنس پارٹی آف انڈیا (این سی پی آئی) میں انضمام کا اعلان کیا تھا۔
اس دوران اسپیکر اوم برلا نے 20 باغی ارکان کے لیے ایوان میں الگ نشستوں کی منظوری دے دی ہے، تاہم ان کے انضمام کی ابھی توثیق نہیں کی ہے۔ ابھشیک بنرجی نے اسپیکر اوم برلا سے باغی ارکان کے خلاف نااہلی کی درخواستوں پر کارروائی تیز کرنے اور ٹی ایم سی کے باقی 8 وفادار ارکان کے لیے نشستوں کے انتظام میں تبدیلی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔
بنرجی نے اس معاملے میں سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا تھا۔ سماعت کے دوران لوک سبھا اسپیکر اور ایوان کے سکریٹری جنرل کی جانب سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے بنچ کو بتایا تھا کہ اسپیکر نے دسویں شیڈول کے تحت ٹی ایم سی کی جانب سے دائر نااہلی کی درخواستوں پر 20 ارکان کو پہلے ہی نوٹس جاری کر دیے ہیں۔بہرحال باغیوں میں حجان کی کیفیت ہے جبکہ ممتا بنرجی خیمہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔اطلاع یہ بھی ہے کہ یوسف پٹھان سمیت چار ممبران پارلیمنٹ ممتا بنرجی کے رابطہ میں ہیں۔

Continue Reading

دیش

بی سی آئی کو قانون کے طلبا کے خلاف کارروائی کا اختیار نہیں

Published

on

نئی دہلی:سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ بار کونسل آف انڈیا (بی سی آئی) قانون کے طلبہ کو ان کے کالج یا یونیورسٹی کے اندر کیے گئے کسی طرز عمل پر سزا نہیں دے سکتی۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ بی سی آئی کے پاس قانون کی تعلیم حاصل کر رہے طلبہ کے خلاف تادیبی کارروائی کرنے کا اختیار نہیں ہے۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ قانون کے طلبہ کے طرز عمل اور ان کے نظم و ضبط سے متعلق فیصلہ ان کی یونیورسٹی یا تعلیمی ادارہ ہی کر سکتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ بی سی آئی نے چیف جسٹس کی کانووکیشن تقریب میں شرکت کی مخالفت کرنے والے نلسار کے طلبہ کے خلاف کارروائی کے لیے جو خطوط بھیجے تھے، وہ اس کے دائرہ اختیار سے باہر تھے۔یہ عرضی نالسار کے سابق طلبہ مہر سود اور ابھشیک تیواری نے دائر کی تھی۔ عرضی میں بی سی آئی کے چیئرمین منن کمار مشرا کے 13 اگست کے اس سرکلر کو چیلنج کیا گیا تھا، جس میں انہوں نے نالسار کے طلبہ کے کسی بھی بار کونسل میں وکیل کی حیثیت سے رجسٹریشن پر پابندی عائد کرنے کا حکم دیا تھا۔ تاہم مخالفت کے بعد منن مشرا نے یہ سرکلر واپس لے لیا تھا۔
دراصل نالسار کے طلبہ نے چیف جسٹس سوریہ کانت کے ہاتھوں کانووکیشن تقریب میں ڈگری حاصل کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کے بعد منن کمار مشرا نے یہ سرکلر جاری کیا تھا۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network