Connect with us

Bihar

جمیعت علماء ارریہ کے زیر اہتمام ارریہ میں ضلع کے اربابِ مکاتب و مدارس کے لئے منفرد اور تاریخی تربیتی ورکشاپ کا انعقاد۔

Published

on

ارریہ:گزشتہ روز بعد نماز ظہرتا نماز عصر،دینی تعلیمی و تربیتی اور معروف ومشہور ادارہ مدرسہ اسلامیہ یتیم خانہ کے وسیع و عریض کیمپس میں جمعیت علماء کے زیر اہتمام، ڈاکٹر عابد حسین صدر جمعیت علماء ارریہ کی صدارت، مولانا  مفتی جاوید اقبال صدر جمعیت علماء بہار کی سرپرستی، مولانا مفتی اطہر القاسمی، نائب صدر جمیعت علماء بہار و جنرل سیکرٹری جمعیت علماءارریہ کی حسن نظامت، مولانا شاہد عادل قاسمی نائب صدر جمعیت علماء ارریہ و پرنسپل مدرسہ اسلامیہ یتیم خانہ ارریہ کی نگرانی میں مدارس اسلامیہ ضلع ارریہ کے تمام نظماء، مہتممین، منتظمین، اساتذۂ کرام،ائمہ مساجد، حفاظ و معلمین مکاتب اور درد دل رکھنے والے دانشوران قوم و ملت کی تربیت اور گائیڈ کے کے لئے بڑے تزک و احتشام کے ساتھ ایک پروقار منفرد اور تاریخی خصوصی تربیتی ورکشاپ کا انعقاد ہوا۔ اس پروقار اور منفرد ورک شاپ کا بابرکت آغاز قاری مطیع الرحمن صاحب کی تلاوت سے ہوا جبکہ قاری قمر الزماں قمر نعمانی اور مولانا فیاض راہی نے نعتوں کا گلدستہ پیش کیا اور اس پروقار اور خصوصی ورکشاپ میں مہمان خصوصی عالم ربانی، فاضل جلیل اور فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ مہمان خصوصی کی حیثیت سےجبکہ مہمان اعزازی کی حیثیت سے، مولانا شاہد قاسمی ناظم تعلیمات المعہد الاسلامی حیدرآباد و مفتی عمیر انور مظاہری امام و خطیب قطب شاہی و ڈائریکٹر سدرہ ایجوکیشن اکیڈمی حیدراباد سمیت ملت اسلامیہ کی عظیم شخصیات اور دیگر معززین نے شرکت فرماکر اس منفرد ورکشاپ کے حسن کو دو بالا کر دیا اور اس خصوصی ورکشاپ میں مہمان خصوصی حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، مہمان اعزازی مولانا شاہد قاسمی ناظم تعلیمات المعہد الاسلامی حیدرآباد، مہمان اعزازی مولانا مفتی جاوید اقبال صدر جمیعت علماء بہار نے ضلع ارریہ کے تمام  مہتممین، اساتذہ کرام، ائمہ مساجد، حفاظ و معلمین مکاتب اور دانشوران قوم و ملت کو ملک کی موجودہ حالات کے پیش نظر مدارس اسلامیہ کا نظام کیسے چلائیں؟ مدارس اسلامیہ کی استقامت اور اس کی بقا کے لئے کیا کیا لائے عمل درکار ہیں؟ اور زمینی سطح پر کن کن دستاویزات سمیت دیگر کیا کیا ضروری چیزیں حقیقیق طور پر از حد لازمی ہیں؟، اس کے متعلق پوری تفصیل کے ساتھ جانکاریاں دیں۔  ضلع بھر کے علمائے کرام اور ائمۂ مساجد سے خطاب کرتے ہوئے  مہمان خصوصی مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے کہا کہ ہمیں اپنی زندگیاں اسلامی اصولوں کے مطابق گزارنی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ علماء دین اسلام کے پاور ہاؤس ہیں، علماء کے ذریعہ اللہ اور رسول کے کلام دین اسلام کے پیروکاروں تک پہنچتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں دینی مدارس اسلام کے تحفظ کے قلعے ہیں، اس لئے اس کی حفاظت ضروری ہے۔ مولانا نے کہا کہ آپسی اختلافات کے وقت غیر ضروری قانونی چارہ جوئی سے گریز کریں اور مل بیٹھ کر مفاہمت کا راستہ اختیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ علماء حضرات کو تعلیمی بیداری اور قومی یکجہتی میں اہم کردار ادا کرنا چاہیئے۔  آپ نے یہ بھی کہا کہ عام لوگ تو اپنے لئے جیتے ہیں مگر ہم علماء کو لوگوں کے لئے جینا ہے، ان کے لئے پریشانیاں اٹھانی ہیں۔ آپ نے کہا امام ضامن ہے، یعنی امام کی نماز صحیح ہوگی تو مقتدیوں کی نماز بھی صحیح ہوگی اور مساجد کے ائمۂ حضرات اپنے آپ کو صرف نماز کا امام نہ گردانیں بلکہ اپنے آپ کو  لوگوں کے ایمان کا بھی امام سمجھیں!، جس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو مسلمانوں کی نماز کی فکر تھی، ان کے ایمان کی فکر تھی، ان کے معاملات کی فکر تھی، ویسے ہی فکر ہمیں بھی اوڑھنی چاہیے اور اس کو عملی جامہ پہناناچاہیے پھر آپ نے ایک صحابی کی نماز صحیح نہیں ہونے کے واقعہ کو تفصیل سے بتایا اور اس ضمن میں آپ نے کہا کہ مقتدی کی نماز میں خشوع و خضوع پیدا ہو اور ان کی نمازیں درست ہوں، یہ امام کی ذمہ داری ہے، آپ نے سوالیہ انداز میں کہا کہ کیا ہم مسجدوں میں اپنے مقتدی کے لئے اور مدرسوں میں ہم اساتذہ طلباء کے لئے توقف کرتے ہیں؟ آپ نے کہا عالم کا کردار یہ ہے کہ بغیر اشتہار اور بغیر دعوت نامہ کی فریقین کے معاملے کو دیکھیں اور اس کا تصفیہ شریعت کی روشنی میں کریں! یہ انتظار نہ کریں کہ ہم کو مدعو کریں گے۔ بلکہ خود سے پہنچ کر فریقین کے درمیان مصالحت کروائیں اور مصالحت کروانے میں فریقین کی عزت نفس کا پورا پورا خیال رکھیں! آپ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج تو ہم امامت کے لئے جھگڑا کرتے ہیں پھر آپ نے یہاں پر بھی ایک صحابی کا نام لیا جو امامت کر رہے تھے اور حضور کی آہٹ پاکر کر پیچھے ہٹ رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارے سے منع فرما دیا۔ دیکھئے وہاں اللہ کے رسول نے ایسا نمونہ پیش کیا کہ دنیا دنگ رہ گئی آپ نے اماموں سے کہا کہ جس طرح حضورؐ نے اپنی حیات طیبہ میں صرف صحابہ کی نمازوں کی فکر نہیں کی تھی بلکہ آپ نے معاشرے کے معاملات کی بھی فکر کی تھی آپ نے ہندوستان کے ایک وکیل کا تذکرہ کرتے ہوئے اور ایک جج کی بات کو رکھتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کہا کہ آپ اپنا مقدمہ لائیں گے تو ہم اپنے قانون کے حساب سے فیصلہ کریں گے۔ جب عدالت میں ہمارے مقدمات پہنچے تو حکومت کو ہمارے معاملات میں مداخلت کا راستہ مل گیا۔ اس لئے امت کے اختلافات کو علماء ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے فریقین تک پہنچ کر، ان کےآپسی اختلافات کو ختم کراکر دم لیں! فی الوقت کے حالات کے پیش نظر ضرورت ہے کہ لوگ اپنے مقدمات کا فیصلہ علماء سے کرائیں!، علماء کی ذمہ داری ہے کہ عوام کی معیشت کی بھی فکر کریں اپنی دولت کی حفاظت کریں ورنہ آئندہ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ آپ روپیہ بھر کے لے جائیں اور آپ کو زمین اور مکان نہ ملے۔ آپ نے کہا بازاروں میں جن سامانوں  کی رسد اور ڈیمانڈ زیادہ ہوتی ہےتو ان چیزوں کی قیمت بھی زیادہ ہو جاتی ہے اور جب ڈیمانڈ کم ہوتی ہے تو قیمت کم ہو جاتی۔  آپ نے کہا مکئی کی اہمیت بہت زیادہ ہے کیونکہ اس میں کولسٹرول نہیں ہوتی ہے آپ مکئی کی فصل میں محنت کرتے ہیں مگر آپ کو  قیمت کم ملتی ہے۔ اسلام دین فطرت اور فطری قوانین پر عمل ضروری ہے علماء کا کام کسی ایک شعبہ سے جڑا ہوا نہیں ہونا چاہیے! اور علماء منکرات پر انگلیاں رکھیں۔ پھر آپ نے ملیشیا میں نکاح سے پہلے لڑکا اور لڑکیوں کے ورک شاپ کے انعقاد کاذکر کیا اور کہا کہ ملیشیا میں نکاح سے قبل پہلے لڑکا اور لڑکی دونوں سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ کے پاس ورک شاپ کی سند ہے یا نہیں اگر سند ہوتی ہے تو اس کی شادی ہوتی ہے ورنہ نہیں۔ آپ نے کہا کہ زوجین کے اختلافات کو ان کے بچوں کی موجودگی میں ان کی کفالت اور دیگر ممتا کو سامنے رکھتے ہوئے ان کے درمیان کے اختلافات کو ختم کروانا علماء کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔ علماء کو تو مسلمانوں کے تمام مسائل کی فکر ہونی چاہیے اگر اس کی فکر نہیں ہے تو گویا آپ علماء کو اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی کی کوئی فکر نہیں ہے جبکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس عالم کو اپنے عوام کی فکر نہ ہو وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ آخر میں آپ نے مدارس کے اساتذہ سے کہا کہ طلباء کو جسمانی سزادینے سے گریز کریں! یہ شرعا بھی جائز نہیں ہے اور نہ ہی قانوناً درست ہے، خاص کر آج کے ماحول کے پیشِ نظر بچوں کو جسمانی سزا دینے کو حرام سمجھیں۔ آپ نے کہا مدرسوں کی تعمیر سے زیادہ اس کی سیفٹی کی ضرورت ہے۔ جب کہ مولانا مفتی جاوید اقبال نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ ارباب مدارس اپنے مدرسوں کے لئے تین کام کو فوقیت دیں نمبر ایک اپنے اپنے مدرسوں کی زمین کو مدرسے کے نام سے تبدیل کریں! اور دو نمبر پر ٹرسٹ یا سوسائٹی بنائیں اور نمبر تین مدرسے کی آمدنی اور خرچ کی اوڈٹ کرائیں!،  تعمیراتی عمل کے اسٹیمیٹ کو نگر پریشد یا پنچایت سے پاس کرائیں! کیونکہ آپ کی خامی کی وجہ سے آپ کا ادارہ بند ہو سکتا ہے، ایسے کوئی مدرسہ بند نہیں ہوگا، مدرسوں کی آمدنی پبلک کی چیز ہے اور پبلک کی چیز کا حساب انہیں دینا ضروری ہے۔آپ نے یہ بھی کہا کہ عام طور پر مدرسوں کی مشترکہ بینک میں کھاتہ نہیں ہوتا ہے اس لئے اس جانب پہل کریں! اور جوائنٹ کھاتا کھلوائیں خاص کر سرحدی علاقے کے ارباب مدارس اپنے دستاویزات درست کر لیں اور ارباب مدارس جذبات سے نہیں حکمت سے کام کریں! ڈرنے اور خوف کھانےکی ضرورت نہیں ہے، کیوں کہ جمعیت علماء ضرورت پڑنے پر آپ کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگی، آپ کی اعانت کے لئے ہر وقت تیار ہے اور رہے گی اوراس ورکشاپ کے مہمان اعزازی مولانا شاہد قاسمی ناظم تعلیمات المعہد الاسلامی حیدر آبادنے بھی مدارس کے کاغذات اور دستاویزات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی قانون کو ہلکے میں نہ لیں!، ورنہ بعد میں یہی آپ کے لئے پریشانی کا باعث بن سکتا ہے کیونکہ فی الوقت ملک ہندوستان میں رائی کو پہاڑ اور پہاڑ کو رائی بنانے کا کام ہورہاہے۔ اس لئے مدارس کے ذمہ داران یہ بات نوٹ کر لیں کہ جس جس شعبے میں کمیاں اور کمزوریاں ہیں تو ان کمزوریوں کا ازالہ کریں! اور اپنی نافعیت برقرار رکھیں انشاءاللہ آپ خراب حالات کا بہتر طریقے سے مقابلہ کر لیں گے اور آپ کے ادارے کا بال بھی بانکا نہیں ہوگا۔ آپ نے وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ۗ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا مومنین کو یقین دلانا ہے کہ انہیں دنیاوی زندگی میں خوف، بھوک، مالی نقصانات، جانوں کے زیاں (شہادت یا موت) اور پیداوار کی کمی جیسی آزمائشوں سے گزارا جائے گا تاکہ صبر کرنے والے اور سچے ایمان والے الگ ہو سکیں۔ آپنے اخیر میں کہا جو ادارے صحیح نہج پر چلتے ہیں ان کے ساتھ خدا کی نصرت ہوتی ہے۔ آپ نے کہا جب آپ کا ادارہ نافعیت اور ثمر آور درخت کی طرح ہوگا تو یقینا نصرت خداوندی آپ کے ادارے پر ہوں گی ، اس لئے مدارس کی نافعیت کے ہمیشہ ملحوظ نگاہ رکھیں! آپ علماء کرام دین کے معمار ہیں اور آپ پرجو فرائض منصبی عائد ہیں،  اس کی تکمیل ایمانداری اور دیانت داری کے ساتھ کریں! واضح رہے کہ ارریہ میں پہلی بار اتنے بڑے پیمانے پر علمائے کرام کے لئے تعلیم اور قومی اتحاد پر ایک تاریخی تربیتی ورکشاپ کا کامیاب انعقاد کیا گیا۔ اس سے قبل مہمانوں کی شال پوشی کرکے انہیں اعزاز بخشا گیا پھر ورکشاپ کی شتہ اور ادبی انداز میں نظامت کے فرائض انجام دے رہے مولانا مفتی محمد اطہرالقاسمی نے مہمان خصوصی مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی علمی، ادبی اور ملی خدمات پر مشتمل سپاس نامہ پڑھ کرسنایا اور ان کی ملی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ پھر اس ممتاز، منفرد اور تاریخی خصوصی تربیتی ورکشاپ کے نگران مولانا شاہد عادل قاسمی نے خطبۂ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے مہمان خصوصی، مہمانانِ اعزازی اور ضلع کے تمات ارباب مدارس، ائمہ مساجد، حفاظ ومعلمین مکاتب اور مختلف اخبارات کے نمائندوں کا شاندار استقبال کرتے ہوئے انہیں خوش آمدید کہا اور آپ نے فرمایا کہ ارریہ کی سرزمین اپنے علماء، صلحا اور اکابرین کی بڑی قدر کرتی ہے اپنی قدر کی بقا کے لیے ہم علماء کو چاہیے کہ ہم اپنے وقار کو کبھی مجروح نہ ہونے دیں آپ نے یہ بھی کہا کہ آج کا پروگرام اصلاحی پروگرام ہے ہم لوگ اپنی اصلاح کے لیے اکٹھا ہوئے اور ملک میں جمہوریت کی بقا اور اس کی سالمیت کے لئے ہم ہمیشہ پیش پیش رہیں
 اس تاریخ ساز منفرد خصوصی تربیتی ورکشاپ کو کامیاب بنانے میں جمعیت علماء کے اراکین سمیت تمام رضاکاروں نے اہم کردار ادا کیا جن میں پونے سے تشریف فرما قاری ڈاکٹر محمد طالب صدیقی بانی و مہتمم المعہد الاسلامی مولوی ٹولہ ڈوریا سوناپور، مولانا اکبر صادق ندوی امام وخطیب جامع مسجد یتیم خانہ ارریہ، مولانا مبارک صدیقی، مفتی محمد خالد قاسمی، مفتی ہمایوں اقبال ندوی، مولانا مصور عالم ندوی، مولانا دانش احمد قاسمی، مولانا عمر فاروق قاسمی، مفتی محمد ثاقب قاسمی اور مولانا غلام مجتبیٰ رشادی،
مولانا محمد فاروق مظہری ،مولانا محمد فیروز نعمانی ،مولانا آس محمد مظاہری ،مولانا غیاث الدین نعمانی ،مولانا عبد الجبار ندوی ،مفتی نعیم الدین ندوی ،مفتی دلشاد احمد نعمانی ،مفتی جاوید اختر مظاہری ،قاری حسیب الرحمان رحمانی ،مولانا محمد سفیان قاسمی ،مولانا اکبر صادق ندوی ،ڈاکٹر محمد معیز عالم ،مولانا وثیق الرحمن قاسمی ،قاری امیتاز احمد کاشفی ،مولانا کاشف نسیم ،مولانا ارشد جمال سبیلی ،مفتی محمد نعمان ابراہیمی ،مولانا ہلال مفتاحی ،مولانا اکرام الدین نعمانی ،مفتی محمد ثاقب قاسمی، الحاج محمد اسعد، الحاج رضی احمد ،ماسٹر شاکر رضا ،مفتی محمد خالد قاسمی ،حافظ نعمان اسلم ،مولانا محمد آصف قاسمی ،مولانا دانش احمد قاسمی ،مولانا عامر قاسمی ودیگر جمعیت علماء کے ضلع، بلاک اور پنچایتوں کے تمام اراکین کے نام قابلِ ذکر ہیں۔

Bihar

وقف کی زمین پر قبضے کی کوشش یا انتظامی سرپرستی؟،بھاگلپور کے تہبل پورگاؤں میں وقف جائیداد پرجے سی بی سے کھدائی، درختوں کی کٹائی اور باؤنڈری تعمیرکولے کر معاملہ گرم

Published

on

(پی این این)
بھاگلپور:ضلع کے سبور انچل کے تحت موضع تہبل پور، حلقہ لودی پور میں واقع شہامت حسین وقف اسٹیٹ نمبر-263 کی وقف جائیداد پر مبینہ قبضے کی کوشش نے انتظامی نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ الزام ہے کہ جے سی بی مشین لے کر پہنچے افراد نہ صرف زمین پر کھدائی اور باؤنڈری کی تعمیر کر رہے ہیں بلکہ کئی دہائیوں پرانے 95-96 آم کے درختوں کو کاٹنے کی بھی کوشش کی جا رہی ہے۔تادم تحریر کئی درخت کاٹے بھی جا چکے ہیں۔
سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ جب معاملہ عدالت میں مقدمہ نمبر TA 72/15 کے تحت زیرِ سماعت ہے اور زمین کو وقف بورڈ کی ملکیت قرار دیا جا چکا ہے، تو آخر کس کی سرپرستی میں یہ سب ہو رہا ہے؟وقف جائیداد کے متولی کے وکیل ابو ناصر نے ضلعی انتظامیہ اور پولیس انتظامیہ کو دی گئی درخواست میں الزام عائد کیا ہے کہ فاروق طاہر، ولد مرحوم محمد ابو طاہر، ساکن شہامت حسین روڈ برہ پورہ، اپنے ساتھیوں اور سماج دشمن عناصر کے ساتھ جے سی بی لے کر پہنچے اور مبینہ طور پر زبردستی قبضے کی نیت سے گزشتہ دو تین دنوں سے زمین کی کھدائی اور باؤنڈری تعمیر کا کام انجام دے رہے ہیں۔ابو ناصر کا دعویٰ ہے کہ یہ زمین بہار اسٹیٹ سنی وقف بورڈ کی رجسٹرڈ جائیداد ہے اور وہ اس پراپرٹی کے متولی ہیں، جبکہ سرکاری ریکارڈ میں بھی اس کا واضح اندراج موجود ہے۔
اس معاملے پر بہار اسٹیٹ سنی وقف بورڈ کے صدر محمد ارشاد اللہ نے بذریعہ فون بتایا کہ انہوں نے کئی مرتبہ ضلع مجسٹریٹ اور سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کو خط لکھ کر کارروائی کا مطالبہ کیا، لیکن کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا۔ انہوں نے کہا:”اب میں عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاؤں گا۔ وقف جائیداد ایکٹ 1995 کی دفعہ 51(1-4) کے تحت نہ اسے خریدا جا سکتا ہے اور نہ فروخت کیا جا سکتا ہے۔ یہ وقف نمبر-263 بورڈ میں باقاعدہ رجسٹرڈ ہے اور اس کی سالانہ آمدنی کا حساب کتاب بھی مستقل طور پر رکھا جاتا ہے۔”
واضح رہے کہ بہار اسٹیٹ سنی وقف بورڈ کے صدر کی جانب سے قبل ازیں ضلع مجسٹریٹ اور ایس ایس پی کو خط ارسال کر کے واضح کیا گیا تھا کہ متعلقہ کھاتہ نمبر 1 اور خسرہ نمبر 28 (پرانا کھاتہ نمبر 27، خسرہ نمبر 15) کی زمین وقف بورڈ کی ملکیت ہے۔خط میں یہ بھی الزام لگایا گیا تھا کہ محمد فاروق طاہر نے مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے اپنے نام داخل خارج کرا لیا، جس کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔معلوم ہو کہ سبور انچل افسر کی جانب سے مبینہ غلط میوٹیشن کو چیلنج کرتے ہوئے ڈی سی ایل آر عدالت میں مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔ مقدمہ نمبر ایم اے-393/2026-27 فی الحال زیرِ غور ہے۔اس کے علاوہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج-16، بھاگلپور کی عدالت میں بھی معاملہ زیرِ سماعت ہے۔ مزید یہ کہ ضلع مجسٹریٹ اور بہار اسٹیٹ سنی وقف بورڈ کی درخواست پر ضلعی رجسٹری دفتر کی جانب سے مذکورہ جائیداد کو مبینہ طور پر پابندی کی فہرست میں بھی شامل کیا جا چکا ہے۔ایسی صورتِ حال میں بڑا سوال یہ اٹھتا ہے کہ جب معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہو، زمین پابندی کی فہرست میں درج ہو اور انتظامیہ کو پہلے سے معلومات ہوں، تو پھر مبینہ طور پر جے سی بی لے کر پہنچنے اور تعمیراتی سرگرمیاں انجام دینے کی ہمت آخر کس کے بھروسے پر ہوئی؟وہیں اس معاملے میں لودی پور تھانہ انچارج کا بیان بھی قابلِ غور ہے۔
انہوں نے کہا:”سب ڈویژنل افسر نے دوسرے فریق کے حق میں فیصلہ دیا ہے، انہی سے پوچھئے۔ میری یہاں ڈیوٹی لگی ہوئی ہے۔”تھانہ انچارج کے اس بیان نے معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، کیونکہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر مقدمہ عدالت میں زیرِ سماعت ہو تو کیا کسی انتظامی حکم کی بنیاد پر موجودہ صورتِ حال کو تبدیل کیا جا سکتا ہے؟قانونی ماہرین کے مطابق وقف جائیداد کی حیثیت مستقل ہوتی ہے۔ ایک بار کوئی جائیداد وقف قرار دے دی جائے تو نہ اسے فروخت کیا جا سکتا ہے، نہ خریدا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کی بنیادی نوعیت تبدیل کی جا سکتی ہے۔ایسے میں اگر زمین وقف بورڈ کے ریکارڈ میں درج ہے تو پھر کسی نجی شخص کے نام داخل خارج کیسے ہو گیا؟ کیا انتظامی سطح پر سنگین کوتاہی ہوئی یا قوانین کو نظر انداز کیا گیا؟
اب سوالات براہِ راست انتظامی نظام پر اٹھ رہے ہیں۔ کیا “بڑھتا بہار اور بدلتا بہار” میں حقیقی مالکان کی جائیداد محفوظ نہیں؟ کیا عدالت میں زیرِ سماعت معاملے کے باوجود زمین پر قبضے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی یا انہیں تحفظ فراہم کیا جاتا رہے گا؟اور سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا وقف جائیدادوں کا تحفظ صرف سرکاری فائلوں تک محدود رہ گیا ہے؟فی الحال متاثرہ فریق نے انتظامیہ سے موجودہ صورتِ حال برقرار رکھنے، مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں پر روک لگانے اور باغ کی حفاظت کے لیے پولیس فورس فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اب نظریں انتظامی کارروائی اور عدالتی عمل پر مرکوز ہیں۔

Continue Reading

Bihar

مہابودھی مہاودیالیہ، نالندہ کے گورننگ باڈی کی میٹنگ منعقد

Published

on

(پی این این)
بہار شریف:مہاودیالیہ، نالندہ میں گورننگ باڈی کی میٹنگ مہاودیالیہ کے صدر اور بہار حکومت کے وزیر شروان کمار کی صدارت میں منعقد کی گئی۔
اس میٹنگ میں مہاودیالیہ کے سیکرٹری جناب راجیندر پرساد، یونیورسٹی نمائندہ رکن کی حیثیت سے کشان کالج، سوہسرائے، نالندہ کے انگریزی شعبے کے شعبہ سربراہ جناب ستیندر پرساد سنہا، ڈونر رکن جناب انیت بھارتی، مہاودیالیہ اساتذہ نمائندہ ڈاکٹر سدھیر کمار، اور مہابودھی مہاودیالیہ کے انچارج پرنسپل ڈاکٹر اروند کمار موجود ہوئے۔
اس میٹنگ میں درج ذیل قراردادوں پر غور و خوض کے بعد فیصلے لیے گئے:قرارداد نمبر 1: پچھلی میٹنگ میں لیے گئے قراردادوں اور فیصلوں کی متفقہ طور پر توثیق کی گئی۔ انٹر امتحان 2018 میں کامیابی کی بنیاد پر بہار حکومت سے موصول شدہ امدادی رقم 26,32,600 روپے RTGS کے ذریعے اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کے لیے موصول ہوئی ہے۔
حکومت کی ہدایت کے مطابق 2016-18 میں ملازم اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کو اس رقم کی ادائیگی تشکیل شدہ ملازمین کی تنخواہ کمیٹی سے ادائیگی کے بل بنوا کر سیکرٹری کی ہدایت میں کر دی گئی ہے۔ متفقہ طور پر ادائیگی کے بل کا جائزہ لے کر توثیق کی گئی۔نئے تعمیر ہونے والے G+2 عمارت کے تعمیراتی اخراجات کا جائزہ لیا گیا۔ متفقہ طور پر انچارج پرنسپل کے ذریعے پیش کردہ اخراجات کے تفصیل کا جائزہ لینے کے بعد توثیق فراہم کی گئی۔ اور انچارج پرنسپل کو نئے تعلیمی سیشن سے پہلے تعمیراتی کام مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی۔اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کی خدمات کی توثیق کی گئی۔
وزیر شروان کمار نے تعلیمی معیار کے لیے تجاویز اور ہدایات دیں۔ اساتذہ اور پرنسپل کی مستقل تقرری کے لیے انتخابی کمیٹی کی تشکیل پر غور و خوض کیا گیا۔ مہاودیالیہ میں معیاری تعلیمی ماحول بنانے کے لیے تمام اساتذہ کو ہدایت دی گئی، ساتھ ہی مہاودیالیہ ترقیاتی فنڈ سے بننے والی نئی عمارت کا مشاہدہ کر کے پرنسپل کو بہتری کے لیے کئی اہم ہدایات دی گئیں۔طلباء کو کلاس روم کی طرف راغب کرنے کے لیے تعلیمی پروگراموں کے تحت سماجی کاموں اور ہنر کی ترقی اور پیشہ ورانہ تعلیم کو فروغ دینے کے لیے اہم نصابوں کو شامل کرنے کی ہدایت پرنسپل کو دی گئی۔

Continue Reading

Bihar

سی ٹی این ایس سی اے ایس 1.0 ورکشاپ کا کامیاب انعقاد،بہار پولیس اور این آئی سی بہار کی جانب سے ڈیجیٹل پولیسنگ کو مضبوط بنانے کی سمت اہم اقدام

Published

on

(پی این این)
بہار شریف:بہار پولیس کے ذریعے سی ٹی این ایس سی اے ایس (CCTNS CAS) 1.0 کے مؤثر نفاذ کی ذمہ داری نیشنل انفارمیٹکس سینٹر (این آئی سی)، بہار کو سونپی گئی ہے۔ اسی سلسلے میں این آئی سی بہار کے ذریعے ریاست بھر کے نو قائم شدہ 343 پولیس تھانوں کے لیے سی ٹی این ایس سی اے ایس 1.0 پر ایک خصوصی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔
ورکشاپ سے بہار ریاستی انفارمیٹکس افسر (SIO) ڈاکٹر شیلش کمار شریواستو نے خطاب کیا۔ انہوں نے مختلف اضلاع سے جڑے شرکاء سے مکالمہ کرتے ہوئے تمام نو قائم شدہ پولیس تھانوں میں سی ٹی این ایس سی اے ایس 1.0 پروجیکٹ کے کامیاب نفاذ پر خصوصی زور دیا۔ انہوں نے بہار کو سی ٹی این ایس سی اے ایس 1.0 کے نفاذ میں ملک کا سرکردہ ریاست بنانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بہار کے ذریعے تیار کردہ اختراعات، کارروائی کے طریقے اور سافٹ ویئر نفاذ کا ماڈل دیگر ریاستوں کے لیے مشعل راہ بن سکتے ہیں۔
ڈاکٹر شریواستو نے یہ بھی ذکر کیا کہ این آئی سی بہار نے قومی سطح پر مسلسل کئی بہترین طریقوں کا تعاون دیا ہے اور پروجیکٹ کے نفاذ کے دوران اعلیٰ معیار اور معیارات کو برقرار رکھنا سب سے اولین ترجیح ہے۔ورکشاپ کے دوران نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (NCRB) کے نمائندوں کے ذریعے اہم تکنیکی سیشن پیش کیے گئے، جن میں سی ٹی این ایس سی اے ایس 1.0 کی اہم خصوصیات اور کارروائی کے طریقوں کا تفصیلی مظاہرہ کیا گیا۔این آئی سی بہار کے ایس ٹی ڈی جناب نوین کمار نے شرکاء کو پروجیکٹ کی نفاذ کی حکمت عملی اور رول آؤٹ پلان سے متعلق اہم معلومات فراہم کیں۔
وہیں جوائنٹ ڈائریکٹر جناب رام بھگوان سنگھ، جوائنٹ ڈائریکٹر جناب پردیپ نائک اور ڈپٹی ڈائریکٹر جناب ابھیشیک کمار کے ذریعے سی ٹی این ایس سی اے ایس 1.0 کے تمام ماڈیولز پر تفصیلی تربیتی سیشن منعقد کیے گئے۔
نالندہ ضلع سے ضلعی انفارمیٹکس افسر جناب اجیت کمار، ڈی آر ایم جناب تنویر عالم، نیٹ ورک انجینئر جناب نیرج کمار سنگھ اور جناب آشی ش رنجن نے ورکشاپ میں فعال کردار ادا کیا۔ ساتھ ہی نالندہ ضلع کے منتخب 8 تھانوں کے تھانہ داروں نے ویڈیو کانفرنسنگ (VC) کے ذریعے تربیت حاصل کی۔یہ ورکشاپ بہار کے نو قائم شدہ پولیس تھانوں میں CCTNS CAS 1.0 کے کامیاب نفاذ کی سمت ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔ ساتھ ہی یہ پروگرام ریاست بھر میں ڈیجیٹل پولیسنگ کو مضبوط بنانے اور جدید تکنیکی نظام کے مؤثر استعمال کے لیے بہار پولیس اور این آئی سی بہار کے عزم کو مزید مضبوط کرتا ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network