Connect with us

Bihar

جمیعت علماء ارریہ کے زیر اہتمام ارریہ میں ضلع کے اربابِ مکاتب و مدارس کے لئے منفرد اور تاریخی تربیتی ورکشاپ کا انعقاد۔

Published

on

ارریہ:گزشتہ روز بعد نماز ظہرتا نماز عصر،دینی تعلیمی و تربیتی اور معروف ومشہور ادارہ مدرسہ اسلامیہ یتیم خانہ کے وسیع و عریض کیمپس میں جمعیت علماء کے زیر اہتمام، ڈاکٹر عابد حسین صدر جمعیت علماء ارریہ کی صدارت، مولانا  مفتی جاوید اقبال صدر جمعیت علماء بہار کی سرپرستی، مولانا مفتی اطہر القاسمی، نائب صدر جمیعت علماء بہار و جنرل سیکرٹری جمعیت علماءارریہ کی حسن نظامت، مولانا شاہد عادل قاسمی نائب صدر جمعیت علماء ارریہ و پرنسپل مدرسہ اسلامیہ یتیم خانہ ارریہ کی نگرانی میں مدارس اسلامیہ ضلع ارریہ کے تمام نظماء، مہتممین، منتظمین، اساتذۂ کرام،ائمہ مساجد، حفاظ و معلمین مکاتب اور درد دل رکھنے والے دانشوران قوم و ملت کی تربیت اور گائیڈ کے کے لئے بڑے تزک و احتشام کے ساتھ ایک پروقار منفرد اور تاریخی خصوصی تربیتی ورکشاپ کا انعقاد ہوا۔ اس پروقار اور منفرد ورک شاپ کا بابرکت آغاز قاری مطیع الرحمن صاحب کی تلاوت سے ہوا جبکہ قاری قمر الزماں قمر نعمانی اور مولانا فیاض راہی نے نعتوں کا گلدستہ پیش کیا اور اس پروقار اور خصوصی ورکشاپ میں مہمان خصوصی عالم ربانی، فاضل جلیل اور فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ مہمان خصوصی کی حیثیت سےجبکہ مہمان اعزازی کی حیثیت سے، مولانا شاہد قاسمی ناظم تعلیمات المعہد الاسلامی حیدرآباد و مفتی عمیر انور مظاہری امام و خطیب قطب شاہی و ڈائریکٹر سدرہ ایجوکیشن اکیڈمی حیدراباد سمیت ملت اسلامیہ کی عظیم شخصیات اور دیگر معززین نے شرکت فرماکر اس منفرد ورکشاپ کے حسن کو دو بالا کر دیا اور اس خصوصی ورکشاپ میں مہمان خصوصی حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، مہمان اعزازی مولانا شاہد قاسمی ناظم تعلیمات المعہد الاسلامی حیدرآباد، مہمان اعزازی مولانا مفتی جاوید اقبال صدر جمیعت علماء بہار نے ضلع ارریہ کے تمام  مہتممین، اساتذہ کرام، ائمہ مساجد، حفاظ و معلمین مکاتب اور دانشوران قوم و ملت کو ملک کی موجودہ حالات کے پیش نظر مدارس اسلامیہ کا نظام کیسے چلائیں؟ مدارس اسلامیہ کی استقامت اور اس کی بقا کے لئے کیا کیا لائے عمل درکار ہیں؟ اور زمینی سطح پر کن کن دستاویزات سمیت دیگر کیا کیا ضروری چیزیں حقیقیق طور پر از حد لازمی ہیں؟، اس کے متعلق پوری تفصیل کے ساتھ جانکاریاں دیں۔  ضلع بھر کے علمائے کرام اور ائمۂ مساجد سے خطاب کرتے ہوئے  مہمان خصوصی مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے کہا کہ ہمیں اپنی زندگیاں اسلامی اصولوں کے مطابق گزارنی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ علماء دین اسلام کے پاور ہاؤس ہیں، علماء کے ذریعہ اللہ اور رسول کے کلام دین اسلام کے پیروکاروں تک پہنچتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں دینی مدارس اسلام کے تحفظ کے قلعے ہیں، اس لئے اس کی حفاظت ضروری ہے۔ مولانا نے کہا کہ آپسی اختلافات کے وقت غیر ضروری قانونی چارہ جوئی سے گریز کریں اور مل بیٹھ کر مفاہمت کا راستہ اختیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ علماء حضرات کو تعلیمی بیداری اور قومی یکجہتی میں اہم کردار ادا کرنا چاہیئے۔  آپ نے یہ بھی کہا کہ عام لوگ تو اپنے لئے جیتے ہیں مگر ہم علماء کو لوگوں کے لئے جینا ہے، ان کے لئے پریشانیاں اٹھانی ہیں۔ آپ نے کہا امام ضامن ہے، یعنی امام کی نماز صحیح ہوگی تو مقتدیوں کی نماز بھی صحیح ہوگی اور مساجد کے ائمۂ حضرات اپنے آپ کو صرف نماز کا امام نہ گردانیں بلکہ اپنے آپ کو  لوگوں کے ایمان کا بھی امام سمجھیں!، جس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو مسلمانوں کی نماز کی فکر تھی، ان کے ایمان کی فکر تھی، ان کے معاملات کی فکر تھی، ویسے ہی فکر ہمیں بھی اوڑھنی چاہیے اور اس کو عملی جامہ پہناناچاہیے پھر آپ نے ایک صحابی کی نماز صحیح نہیں ہونے کے واقعہ کو تفصیل سے بتایا اور اس ضمن میں آپ نے کہا کہ مقتدی کی نماز میں خشوع و خضوع پیدا ہو اور ان کی نمازیں درست ہوں، یہ امام کی ذمہ داری ہے، آپ نے سوالیہ انداز میں کہا کہ کیا ہم مسجدوں میں اپنے مقتدی کے لئے اور مدرسوں میں ہم اساتذہ طلباء کے لئے توقف کرتے ہیں؟ آپ نے کہا عالم کا کردار یہ ہے کہ بغیر اشتہار اور بغیر دعوت نامہ کی فریقین کے معاملے کو دیکھیں اور اس کا تصفیہ شریعت کی روشنی میں کریں! یہ انتظار نہ کریں کہ ہم کو مدعو کریں گے۔ بلکہ خود سے پہنچ کر فریقین کے درمیان مصالحت کروائیں اور مصالحت کروانے میں فریقین کی عزت نفس کا پورا پورا خیال رکھیں! آپ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج تو ہم امامت کے لئے جھگڑا کرتے ہیں پھر آپ نے یہاں پر بھی ایک صحابی کا نام لیا جو امامت کر رہے تھے اور حضور کی آہٹ پاکر کر پیچھے ہٹ رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارے سے منع فرما دیا۔ دیکھئے وہاں اللہ کے رسول نے ایسا نمونہ پیش کیا کہ دنیا دنگ رہ گئی آپ نے اماموں سے کہا کہ جس طرح حضورؐ نے اپنی حیات طیبہ میں صرف صحابہ کی نمازوں کی فکر نہیں کی تھی بلکہ آپ نے معاشرے کے معاملات کی بھی فکر کی تھی آپ نے ہندوستان کے ایک وکیل کا تذکرہ کرتے ہوئے اور ایک جج کی بات کو رکھتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کہا کہ آپ اپنا مقدمہ لائیں گے تو ہم اپنے قانون کے حساب سے فیصلہ کریں گے۔ جب عدالت میں ہمارے مقدمات پہنچے تو حکومت کو ہمارے معاملات میں مداخلت کا راستہ مل گیا۔ اس لئے امت کے اختلافات کو علماء ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے فریقین تک پہنچ کر، ان کےآپسی اختلافات کو ختم کراکر دم لیں! فی الوقت کے حالات کے پیش نظر ضرورت ہے کہ لوگ اپنے مقدمات کا فیصلہ علماء سے کرائیں!، علماء کی ذمہ داری ہے کہ عوام کی معیشت کی بھی فکر کریں اپنی دولت کی حفاظت کریں ورنہ آئندہ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ آپ روپیہ بھر کے لے جائیں اور آپ کو زمین اور مکان نہ ملے۔ آپ نے کہا بازاروں میں جن سامانوں  کی رسد اور ڈیمانڈ زیادہ ہوتی ہےتو ان چیزوں کی قیمت بھی زیادہ ہو جاتی ہے اور جب ڈیمانڈ کم ہوتی ہے تو قیمت کم ہو جاتی۔  آپ نے کہا مکئی کی اہمیت بہت زیادہ ہے کیونکہ اس میں کولسٹرول نہیں ہوتی ہے آپ مکئی کی فصل میں محنت کرتے ہیں مگر آپ کو  قیمت کم ملتی ہے۔ اسلام دین فطرت اور فطری قوانین پر عمل ضروری ہے علماء کا کام کسی ایک شعبہ سے جڑا ہوا نہیں ہونا چاہیے! اور علماء منکرات پر انگلیاں رکھیں۔ پھر آپ نے ملیشیا میں نکاح سے پہلے لڑکا اور لڑکیوں کے ورک شاپ کے انعقاد کاذکر کیا اور کہا کہ ملیشیا میں نکاح سے قبل پہلے لڑکا اور لڑکی دونوں سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ کے پاس ورک شاپ کی سند ہے یا نہیں اگر سند ہوتی ہے تو اس کی شادی ہوتی ہے ورنہ نہیں۔ آپ نے کہا کہ زوجین کے اختلافات کو ان کے بچوں کی موجودگی میں ان کی کفالت اور دیگر ممتا کو سامنے رکھتے ہوئے ان کے درمیان کے اختلافات کو ختم کروانا علماء کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔ علماء کو تو مسلمانوں کے تمام مسائل کی فکر ہونی چاہیے اگر اس کی فکر نہیں ہے تو گویا آپ علماء کو اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی کی کوئی فکر نہیں ہے جبکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس عالم کو اپنے عوام کی فکر نہ ہو وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ آخر میں آپ نے مدارس کے اساتذہ سے کہا کہ طلباء کو جسمانی سزادینے سے گریز کریں! یہ شرعا بھی جائز نہیں ہے اور نہ ہی قانوناً درست ہے، خاص کر آج کے ماحول کے پیشِ نظر بچوں کو جسمانی سزا دینے کو حرام سمجھیں۔ آپ نے کہا مدرسوں کی تعمیر سے زیادہ اس کی سیفٹی کی ضرورت ہے۔ جب کہ مولانا مفتی جاوید اقبال نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ ارباب مدارس اپنے مدرسوں کے لئے تین کام کو فوقیت دیں نمبر ایک اپنے اپنے مدرسوں کی زمین کو مدرسے کے نام سے تبدیل کریں! اور دو نمبر پر ٹرسٹ یا سوسائٹی بنائیں اور نمبر تین مدرسے کی آمدنی اور خرچ کی اوڈٹ کرائیں!،  تعمیراتی عمل کے اسٹیمیٹ کو نگر پریشد یا پنچایت سے پاس کرائیں! کیونکہ آپ کی خامی کی وجہ سے آپ کا ادارہ بند ہو سکتا ہے، ایسے کوئی مدرسہ بند نہیں ہوگا، مدرسوں کی آمدنی پبلک کی چیز ہے اور پبلک کی چیز کا حساب انہیں دینا ضروری ہے۔آپ نے یہ بھی کہا کہ عام طور پر مدرسوں کی مشترکہ بینک میں کھاتہ نہیں ہوتا ہے اس لئے اس جانب پہل کریں! اور جوائنٹ کھاتا کھلوائیں خاص کر سرحدی علاقے کے ارباب مدارس اپنے دستاویزات درست کر لیں اور ارباب مدارس جذبات سے نہیں حکمت سے کام کریں! ڈرنے اور خوف کھانےکی ضرورت نہیں ہے، کیوں کہ جمعیت علماء ضرورت پڑنے پر آپ کے شانہ بشانہ کھڑی ہوگی، آپ کی اعانت کے لئے ہر وقت تیار ہے اور رہے گی اوراس ورکشاپ کے مہمان اعزازی مولانا شاہد قاسمی ناظم تعلیمات المعہد الاسلامی حیدر آبادنے بھی مدارس کے کاغذات اور دستاویزات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی قانون کو ہلکے میں نہ لیں!، ورنہ بعد میں یہی آپ کے لئے پریشانی کا باعث بن سکتا ہے کیونکہ فی الوقت ملک ہندوستان میں رائی کو پہاڑ اور پہاڑ کو رائی بنانے کا کام ہورہاہے۔ اس لئے مدارس کے ذمہ داران یہ بات نوٹ کر لیں کہ جس جس شعبے میں کمیاں اور کمزوریاں ہیں تو ان کمزوریوں کا ازالہ کریں! اور اپنی نافعیت برقرار رکھیں انشاءاللہ آپ خراب حالات کا بہتر طریقے سے مقابلہ کر لیں گے اور آپ کے ادارے کا بال بھی بانکا نہیں ہوگا۔ آپ نے وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ۗ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا مومنین کو یقین دلانا ہے کہ انہیں دنیاوی زندگی میں خوف، بھوک، مالی نقصانات، جانوں کے زیاں (شہادت یا موت) اور پیداوار کی کمی جیسی آزمائشوں سے گزارا جائے گا تاکہ صبر کرنے والے اور سچے ایمان والے الگ ہو سکیں۔ آپنے اخیر میں کہا جو ادارے صحیح نہج پر چلتے ہیں ان کے ساتھ خدا کی نصرت ہوتی ہے۔ آپ نے کہا جب آپ کا ادارہ نافعیت اور ثمر آور درخت کی طرح ہوگا تو یقینا نصرت خداوندی آپ کے ادارے پر ہوں گی ، اس لئے مدارس کی نافعیت کے ہمیشہ ملحوظ نگاہ رکھیں! آپ علماء کرام دین کے معمار ہیں اور آپ پرجو فرائض منصبی عائد ہیں،  اس کی تکمیل ایمانداری اور دیانت داری کے ساتھ کریں! واضح رہے کہ ارریہ میں پہلی بار اتنے بڑے پیمانے پر علمائے کرام کے لئے تعلیم اور قومی اتحاد پر ایک تاریخی تربیتی ورکشاپ کا کامیاب انعقاد کیا گیا۔ اس سے قبل مہمانوں کی شال پوشی کرکے انہیں اعزاز بخشا گیا پھر ورکشاپ کی شتہ اور ادبی انداز میں نظامت کے فرائض انجام دے رہے مولانا مفتی محمد اطہرالقاسمی نے مہمان خصوصی مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی علمی، ادبی اور ملی خدمات پر مشتمل سپاس نامہ پڑھ کرسنایا اور ان کی ملی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ پھر اس ممتاز، منفرد اور تاریخی خصوصی تربیتی ورکشاپ کے نگران مولانا شاہد عادل قاسمی نے خطبۂ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے مہمان خصوصی، مہمانانِ اعزازی اور ضلع کے تمات ارباب مدارس، ائمہ مساجد، حفاظ ومعلمین مکاتب اور مختلف اخبارات کے نمائندوں کا شاندار استقبال کرتے ہوئے انہیں خوش آمدید کہا اور آپ نے فرمایا کہ ارریہ کی سرزمین اپنے علماء، صلحا اور اکابرین کی بڑی قدر کرتی ہے اپنی قدر کی بقا کے لیے ہم علماء کو چاہیے کہ ہم اپنے وقار کو کبھی مجروح نہ ہونے دیں آپ نے یہ بھی کہا کہ آج کا پروگرام اصلاحی پروگرام ہے ہم لوگ اپنی اصلاح کے لیے اکٹھا ہوئے اور ملک میں جمہوریت کی بقا اور اس کی سالمیت کے لئے ہم ہمیشہ پیش پیش رہیں
 اس تاریخ ساز منفرد خصوصی تربیتی ورکشاپ کو کامیاب بنانے میں جمعیت علماء کے اراکین سمیت تمام رضاکاروں نے اہم کردار ادا کیا جن میں پونے سے تشریف فرما قاری ڈاکٹر محمد طالب صدیقی بانی و مہتمم المعہد الاسلامی مولوی ٹولہ ڈوریا سوناپور، مولانا اکبر صادق ندوی امام وخطیب جامع مسجد یتیم خانہ ارریہ، مولانا مبارک صدیقی، مفتی محمد خالد قاسمی، مفتی ہمایوں اقبال ندوی، مولانا مصور عالم ندوی، مولانا دانش احمد قاسمی، مولانا عمر فاروق قاسمی، مفتی محمد ثاقب قاسمی اور مولانا غلام مجتبیٰ رشادی،
مولانا محمد فاروق مظہری ،مولانا محمد فیروز نعمانی ،مولانا آس محمد مظاہری ،مولانا غیاث الدین نعمانی ،مولانا عبد الجبار ندوی ،مفتی نعیم الدین ندوی ،مفتی دلشاد احمد نعمانی ،مفتی جاوید اختر مظاہری ،قاری حسیب الرحمان رحمانی ،مولانا محمد سفیان قاسمی ،مولانا اکبر صادق ندوی ،ڈاکٹر محمد معیز عالم ،مولانا وثیق الرحمن قاسمی ،قاری امیتاز احمد کاشفی ،مولانا کاشف نسیم ،مولانا ارشد جمال سبیلی ،مفتی محمد نعمان ابراہیمی ،مولانا ہلال مفتاحی ،مولانا اکرام الدین نعمانی ،مفتی محمد ثاقب قاسمی، الحاج محمد اسعد، الحاج رضی احمد ،ماسٹر شاکر رضا ،مفتی محمد خالد قاسمی ،حافظ نعمان اسلم ،مولانا محمد آصف قاسمی ،مولانا دانش احمد قاسمی ،مولانا عامر قاسمی ودیگر جمعیت علماء کے ضلع، بلاک اور پنچایتوں کے تمام اراکین کے نام قابلِ ذکر ہیں۔

Bihar

میں بہار کا شیر ہوں، مجھے سیکورٹی کی کوئی فکر نہیں،ریاستی حکومت کی جانب سے سیکورٹی کی سطح میں کمی پرآرجے ڈی سپریمولالوپرساد یادو کاسمراٹ چودھری پر طنزیہ ردعمل

Published

on

(پی این این)
پٹنہ:راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے سربراہ لالو پرساد یادو نے 7 جولائی کو اپنی سیکورٹی سے متعلق ظاہر کی جا رہی تشویش کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ انھوں نے خود کو ’بہار کا شیر‘ قرار دیا، اور کہا کہ سیکورٹی کی سطح اگر کم کر دی گئی ہے، تو اس سے انھیں کوئی پریشانی نہیں ہے۔
خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس سے خصوصی گفتگو میں لالو یادو نے کہا کہ ’’میں بہار کا شیر ہوں اور مجھے اس (سیکورٹی سطح میں کمی) سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔‘‘ وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کی جانب سے مبینہ طور پر سیاسی نشانہ بنائے جانے سے متعلق سوال کے جواب میں وہ کہتے ہیں کہ ’’انہیں نشانہ بنانے دو۔‘‘ جب اس بارے میں بہار کے سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی خاموشی پر لالو پرساد کا رد عمل جاننے کی کوشش کی گئی، تو انھوں نے کہا کہ ’’ہاں، سبھی خاموش ہیں۔‘‘
بہار اسمبلی میں حزب اختلاف کے قائد تیجسوی یادو کی جانب سے پارٹی کی مؤثر قیادت کے بارے میں بھی لالو یادو سے سوال کیا گیا۔ اس کے جواب میں انھوں کہا کہ ’’ہاں، وہ پارٹی کو اچھی طرح آگے لے جا رہے ہیں۔ اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔‘‘آر جے ڈی سپریمو لالو یادو کا یہ بیان 2 جولائی کو بہار کی سیاست کے سب سے باوقار ایڈریس (پتہ) میں سے ایک پٹنہ کے ’10 سرکولر روڈ‘ واقع بنگلے کے ایک نئے باب میں داخل ہونے کے چند دن بعد سامنے آیا ہے۔
گزشتہ دنوں سابق وزیر اعلیٰ رابڑی دیوی نے تقریباً 20 برس وہاں رہنے کے بعد یہ سرکاری بنگلہ خالی کر دیا۔ رابڑی دیوی اپنے شوہر لالو یادو کے ساتھ کوٹلیہ نگر میں واقع خاندان کی ذاتی رہائش گاہ پر منتقل ہو گئی ہیں۔ وہ 2 فروری 2006 سے 10 سرکولر روڈ واقع سرکاری بنگلے میں رہ رہی تھیں، لیکن اب ان کا پتہ بدل گیا ہے۔10 سرکولر روڈ واقع رہائش گاہ انہیں قائد حزب اختلاف کے طور پر ان کی مدت کار کے دوران الاٹ کی گئی تھی۔
گزشتہ چند برسوں میں یہ بنگلہ لالو خاندان کا سیاسی مرکز بن گیا تھا، جہاں انڈیا اتحاد کی متعدد میٹنگیں ہوئیں اور یہ وہ مقام تھا جہاں کئی اہم سیاسی حکمت عملیوں اور فیصلوں کو شکل دی گئی۔ اس طرح 10 سرکولر روڈ بہار میں آر جے ڈی کی سیاست کی علامت بن گیا۔
بنگلے کا قبضہ حوالے کرنے سے پہلے رابڑی دیوی نے سرکاری ملکیت کی اشیا کی سرکاری فہرست کے حوالے سے تشویش ظاہر کی تھی۔ انہوں نے عمارت تعمیرات محکمہ کو خط لکھ کر 2006 میں رہائش گاہ الاٹ کیے جانے کے وقت تیار کیے گئے اصل چارج رجسٹر اور انوینٹری فہرست کی نقل طلب کی۔
ذرائع کے مطابق محکمہ نے اب تک اصل دستاویزات فراہم نہیں کیے ہیں۔ رابڑی دیوی نے کہا کہ سرکاری املاک کے حوالے سے مستقبل میں کسی بھی تنازعہ یا الزام سے بچنے کیلئے رہائش گاہ باضابطہ طور پر حوالے کرنے سے پہلے فہرست کی تصدیق کی جانی چاہیے۔ معاملہ زیر التوا ہونے کے باوجود انہوں نے بنگلہ خالی کر دیا۔

 

 

Continue Reading

Bihar

حضرت مخدوم سید گگن دولہ شاہؒ کے مزار پر نتیش کمار کی حاضری

Published

on

پٹنہ:(پی این این)بہار کے سابق وزیر اعلیٰ اور جنتا دل (یونائیٹڈ) کے قومی صدر نتیش کمار نے منگل کے روز موسلا دھار بارش کے باوجود ضلع نالندہ کے شہر بہار شریف کے گگن دیوان محلہ میں واقع حضرت مخدوم سید گگن دولہ شاہؒ کے مزار پر حاضری دی اور ریاست کے عوام کی خوشحالی، امن، سکون اور ترقی کے لیے خصوصی دعا کی۔
نتیش کمار کی آمد پر علاقے کے عوام اور پارٹی کارکنوں میں جوش و خروش دیکھنے میں آیا۔ بڑی تعداد میں موجود کارکنوں، مقامی شہریوں اور حامیوں نے پھولوں کے ہار پہنا کر ان کا پرتپاک استقبال کیا۔اس موقع پر نتیش کمار نے کارکنوں اور شہریوں سے ملاقات کی، ان کی خیریت دریافت کی اور عوامی مسائل پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے ان کا حوصلہ بڑھایا۔تقریب میں بہار قانون ساز کونسل میں برسرِاقتدار جماعت کے نائب رہنما للن کمار صراف، سابق رکن اسمبلی انجینئر سنیل کمار، جنتا دل (یو) کے ضلع نالندہ کے صدر محمد ارشد سمیت متعدد پارٹی رہنما بھی موجود تھے۔مزار کے احاطے کے ساتھ ساتھ اطراف کی سڑکوں پر بھی پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی۔ سکیورٹی کے پیشِ نظر عام لوگوں کی آمد و رفت کو محدود رکھا گیا، جبکہ سکیورٹی ادارے پورے پروگرام کے دوران ہر سرگرمی پر کڑی نظر رکھے رہے۔ شدید بارش کے باوجود کارکنوں اور حامیوں کا جوش و خروش برقرار رہا۔
جنتا دل (یونائیٹڈ) کے بڑی تعداد میں کارکن، مقامی شہری اور نتیش کمار کے حامی مزار کے احاطے کے باہر اور اطراف میں موجود تھے۔ لوگوں نے پھولوں کے ہار پیش کرکے نتیش کمار کا پُرجوش استقبال کیا۔ نتیش کمار نے بھی ہاتھ جوڑ کر لوگوں کے خیرمقدم کا جواب دیا اور کارکنوں و عام شہریوں سے گرمجوشی کے ساتھ ملاقات کرتے ہوئے ان کی خیریت دریافت کی۔ اس موقع پر حامیوں نے ان کے حق میں نعرے بھی لگائے۔

Continue Reading

Bihar

سب کیلئے انصاف پسند ہے بہار حکومت،جرائم پیشہ اور سرحدی دراندازوں کے ساتھ نہیں کیا جائے گاکوئی سمجھوتہ : وزیراعلیٰ

Published

on

(پی این این)
ارریہ: وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے ضلع کے فاربس گنج بلاک میں ہری پور پنچایت گورنمنٹ بلڈنگ میں منعقدہ سہیوگ کیمپ میں شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ حکومت بہارایک ایسی حکومت ہے جو سب کے لیے انصاف کو فروغ دیتی ہے اور وہ خود سرحدی علاقوں میں رہنے والے مجرموں اور دراندازوں کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ مجرموں اور غیر قانونی دراندازوں کو بہار چھوڑ دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان تب ہی ترقی کرے گا جب بہار ترقی کرے گا اور اس خوشحالی کے لیے سب کو کام کرنا چاہیے۔وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے بھی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے سہیوگ کیمپ کے انعقاد کا مقصد عام لوگوں کے مسائل کے حل کے طور پر بتایا۔ انہوں نے بتایا کہ بہار بھر میں 453,062 شکایات موصول ہوئی ہیں اور ان میں سے 425,260 پر کارروائی کی گئی ہے اور حکام کو باقی 27,000 زیر التوا درخواستوں پر کارروائی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ارریہ ضلع سے موصول ہونے والی 7,130 درخواستوں میں سے 6,845 پر کارروائی کی گئی، جبکہ ہری پور پنچایت سے موصول ہونے والی 259 درخواستوں میں سے 245 پر کارروائی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ بہار میں حکام نے اب تیزی سے کام کرنا شروع کر دیا ہے۔ وہ ترقی کو ترجیح دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر 30 دن کے اندر کسی بھی درخواست پر کارروائی نہیں کی گئی تو ان کے دفتر سے عہدیداروں کو نوٹس بھیجا جائے گا اور اگر تیسرے نوٹس کے بعد بھی ایسا کام ادھورا رہا تو افسر کو معطل کردیا جائے گا۔وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے کہا کہ 15 جولائی سے ریاست کے 213 بلاک میں ڈگری کالج کھولے جائیں گے۔و
زیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے فاربس گنج میں ہوائی اڈے کی تعمیر کا اعلان کیا، جس کا کام اگلے سال شروع ہونے والا ہے۔ انہوں نے بہار کی ترقی کے لیے 20,000 کروڑ روپے فراہم کرنے کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے جو خوشحال بہار کا خواب دیکھا تھا وہ پورا ہو گا۔ لوہیا سوچھ بھارت مہم کے ساتھ ساتھ بھارت میں نریندر مودی کی حکومت اور بہار کی حکومت غریبوں کے لیے مستقل مکان بنانے کے لیے کام کرے گی۔
سمراٹ چودھری نے گاؤں اور گھرانوں کو بجلی فراہم کرنے کے بعد سولر پینل کی تنصیب پر بھی بات کی۔ حکومت بجلی جمع کرے گی اور 125 یونٹس سے زیادہ بجلی پیدا کرنے والے صارفین کو معاوضہ ادا کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ کوشی میچی ریور لنک پروجیکٹ، چھ لین سلی گوڑی گورکھپور ایکسپریس وے کے ساتھ، ہر کھیت تک آبپاشی کے پانی کو یقینی بنائے گا، اور بہار کی مٹی سونا حاصل کرے گی۔وزیر اعلیٰ سے پہلے حکومت بہارکے جنگلات، ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی کے وزیر ڈاکٹر رام چندر پرساد، ایم پی پردیپ کمار سنگھ، اور فاربس گنج کے ایم ایل اے منوج وشواس نے بھی اجتماع سے خطاب کیا۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network