دیش
ہلدوانی ریلوے زمین معاملہ:سپریم کورٹ 17متاثرین کی عرضداشت پرسماعت کیلئے تیار
(پی این این)
نئی دہلی:اتراکھنڈ کے مسلم آبادی والے ضلع ہلدوانی میں آزادی سے قبل سے ریلوے کی مبینہ زمین پر آباد مسلم بستی کو ہٹانے والے اتراکھنڈ ہائی کورٹ کے فیصلے کو جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی کی ہدایت پر جمعیۃ علماء ہلدوانی نے متاثرین کی مدد سے سپریم کورٹ میں چیلنج کیاہے۔آج اس اہم مقدمہ کی سماعت چیف جسٹس آف آف انڈیا سوریہ کانت اور جسٹس جوئیمالا باگچی کے روبرو سماعت عمل میں آئی جس کے دوران سینئر ایڈوکیٹ گورو اگروال نے عدالت کو بتایا کہ مفاد عامہ کی پٹیشن کی سماعت کے دوران اتراکھنڈ ہائی کورٹ نے 20/ دسمبر 2022کو ایک یک طرفہ فیصلہ صادر کرتے ہوئے ریلوے کی مبینہ زمین پر آباد پچاس ہزار سے زائد مکینوں کو بستی خالی کرنے کا حکم دیا تھا۔ اترا کھنڈ ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ غیر آئینی ہے کیونکہ ہائیکورٹ نے بستی میں رہنے والوں کو اپنے دلائل پیش کرنے کا موقع نہیں دیا تھا۔
سینئر ایڈوکیٹ گورو اگروال نے مزید بتایا کہ ریلوے کی مبینہ زمین کی دعوی داری کے خلاف ریلوے عدالت سے رجوع نہیں ہوئی تھی بلکہ ایک مقامی سوشل ورکر نے پٹیشن داخل کی تھی جس پر ہائی کورٹ نے اتنا بڑا فیصلہ دیا تھا۔ سینئر ایڈوکیٹ گورو اگروال نے عدالت کو مزید بتایا کہ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف داخل پٹیشن سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے لہذا اس پٹیشن کو بھی سماعت کے لیئے قبول کیاجائے اور پہلے سے داخل پٹیشن کے ساتھ منسلک کردیا جائے۔ سینئر ایڈوکیٹ گورو اگروال کے دلائل کی سماعت کے بعد چیف جسٹس آف انڈیا نے پٹیشن کو سماعت کے لیئے قبول کرتے ہوئے دیگر عرضداشتوں کے ساتھ منسلک کردیا۔
دوران سماعت چیف جسٹس آف انڈیا نے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل آف انڈیا ایشوریہ بھاٹی کو ہدایت دی کہ وہ عرض گذاروں کے تعلق سے عدالت میں رپورٹ پیش کرے، عدالت یہ جاننا چاہتی کہ آیا عرض گذار اسی علاقے میں رہتے ہیں یا نہیں۔دوران سماعت عدالت نے سینئر ایڈوکیٹ گورو اگروال سے سوال کیا کہ وہ اتنی تاخیرسے عدالت سے کیوں رجوع ہوئے ہیں جس پر سینئر ایڈوکیٹ نے بتایا کہ یہ بات درست ہے وہ عدالت میں تاخیر سے آئے ہیں لیکن انہیں اتراکھنڈ سرکار کی جانب سے نوٹس تاخیر سے ملی تھی۔دوران سماعت سینئر ایڈوکیٹ گورو اگروال کی معاونت ایڈوکیٹ عارف علی، ایڈوکیٹ شاہد ندیم، ایڈوکیٹ مجاہداحمد، ایڈوکیٹ پنکج ودیگر نے کی جبکہ پٹیشن کو ایڈوکیٹ آن ریکاردچاند قریشی نے داخل کیا ہے۔
سپریم کورٹ آف انڈیا میں اتراکھنڈ ہائی کورٹ کے فیصلے کے داخل پٹیشن میں عرض گذار فیصل صدیقی، شرافت اللہ صدیقی، شفاعت حسین، جاوید حسین، یامین، عبدالرشید، جلیس احمد، محمد حسین، عشرت بیگم، صابرہ بیگم، نعیم عشرت، ذاکر علی، محمد جاوید، نزاکت احمد، تہور احمد اورمسعود احمد ہیں۔عرضداشت میں تحریر کیا گیا ہے کہ مبینہ ریلوے کی زمین پر آزادی کے پہلے سے لوگ بسے ہوئے ہیں جن کے پاس رہائشی ثبوت، الیکٹرک سٹی بل، نل پٹی و دیگر دستاویزات ہیں نیز ماضی میں اتراکھنڈ سرکار نے سرو ے کرکے مکینوں کو رہنے کی اجازت بھی دی تھی اس کے باوجود ہائی کور ٹ نے یک طرفہ کارروائی کرتے ہو ئے بستی اجاڑنے کا حکم دیا ہے۔عرض داشت میں مزید تحریر کیا گیا ہے کہ ریاستی حکومت اور ریلوے محکمہ نے ہائیکورٹ میں اس بستی کے تعلق سے حقائق پیش نہیں کیئے، ماضی کی پالیسی عمل کرنے کی بجائے مبینہ سیاسی دباؤ میں بستی اجاڑنے کے حق میں حلف نامہ داخل کیا گیا جسے ہائی کورٹ نے منظور کرلیا۔
واضح رہے کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ آف انڈیا میں زیر سماعت ہے اور سپریم کورٹ آف انڈیا نے ہائی کورٹ کے فیصلے پر اسٹے دیا ہوا ہے، موجود پٹیشن اس وجہ سے داخل کی گئی ہے کیونکہ دیگر مکین سپریم کورٹ میں دستاویزاتی ثبوت پیش کرنا چاہتے ہیں۔مقامی جمعیہ علماء کے ذمہ داران مولانا مقیم قاسمی (صدر جمعیۃ علماء ضلع نینی تال)، مولانا محمد قاسم(ناظم اعلی جمعیۃ علماء ضلع نینی تال)، مولانا محمد عاصم (شہر صدرجمعیۃ علماء ہلدوانی)،مفتی لقمان،ڈاکٹر عدنان، عبدالحسیب و دیگر نے سپریم کورٹ میں پٹیشن داخل کرنے میں متاثرین کی مدد کی ہے۔
دیش
اتراکھنڈ:بہہ گیا 170فٹ لمبا برج، عام زندگی مفلوج،چھتیس گڑھ کے کئی کالج طلبا ندی میں لاپتہ،بہار میں 47 لاکھ لوگ سیلاب سے متاثر
نئی دہلی:اتراکھنڈ میں زبردست بارش ہورہی ہے۔ جس کی وجہ سے پتھوڑا گڑھ کے پل گاڑھ نالے پر بنا 170 فٹ لمبا بیلی برج تیز بہائو میں نذر ہوگیا۔ اس سے چین سرحد سے منسلک ویاس ، دارما اور چندوس دروں کا رابطہ ٹوٹ گیا ہے۔جس سے عام زندگی مفلوج ہوگئی ہے، یہ برج 27 اگست ہی بنایا گیا تھا، کیونکہ پرانا پل 18 اگست کو چٹان گرنے سے ٹوٹ گیا تھا۔ ادھر چھتیس گڑھ کے جانجگیر چانپا میں ہسدیو ندی کے بہائو میں چار کالج طلبا بہہ گیے ہیں۔ صرف ایک طالب علم کی لاش ملی ہے۔ ولاس پور کے چوکسے پور کالج کے آٹھ طلبا وطالبات پکنک منانے گائوں پہنچے تھے۔ ندی کے کنارے سیلفی کے دوران ایک طالب علم کا پیر پھسلا جس کو بچانے کے لئے تین طلبا پانی میں کود گئے اور بہہ گئے۔
ادھر بہار میں سیلاب سے پندرہ اضلاع کے 47 لاکھ سے زیادہ افرا د متاثر ہیں۔ وہ رحت کیمپوں میں ہیں، گنگا سمیت کئی ندیاں خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہیں۔ یوپی کے چھبیس اضلاع بھی سیلاب کے نرغے میں ہیں۔ یہاں چار لاکھ کی آبادی متاثر ہے۔
21 ہزار سے زیادہ افراد محفوظ مقام پر پہنچائے گئے ہیں۔ کانپور انائو میں گنگا خطرےکے نشان تک پہنچ گئی ہے آس پاس کے علاقوں میں دس فٹ پانی بھرا ہوا ہے۔ ادھر راجستھان میں مانسون سرگرم ہوگیا ہے۔
ایم پی کے پندرہ ضلعوں میں بھاری بارش کا الرٹ ہے۔ جبکہ راجستھان میں 29 اضلاع میں بارش کا امکان ہے۔ راجستھان کے الور ، سوائی مادھو پور ، دوسہ میں تیز بارش سے سڑکوں پر پانی بھر گیا ہے۔ آر ایف بی کے جوان پانی نکالنے میں لگے ہوئے ہیں۔دموہ میں کئی علاقے ڈوب گئے ہیں۔
دیش
برکس کے مشترکہ بیان میں پہلگام حملے کی مذمت،ہندوستان کی بڑی سفارتی کامیابی،دہشت گردی پر سخت پیغام
نئی دہلی :برکس کے مشترکہ اجلاس میں ہندوستان کو بڑی سفارتی کامیابی ملی ہے۔ روس ، چین سمیت برکس کے ملکوں نے پہلگام دہشت گردانہ حملے کی مذمت کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ دہشت گردوں کو پناہ دینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ظاہر ہے ان کا اشارہ پاکستان کی طرف تھا۔
برکس کے درمیان مشترکہ بیان جاری کرنے کا اتفاق ایسے وقت میں ہوا ہے جب مغربی ایشیا میں جنگ چل رہی ہے۔ اور ایران سعودی عرب ، یو اے ای کے الگ الگ نظریات ہیں۔ ہندوستان نے گفتگوکے ذریعہ اعتراض کو دور کرنے اور ارکان ممالک کے درمیان عام اتفاق بنانے میں اہم رول نبھایا ہے۔
واضح رہے کہ نئی دہلی میں منعقدہ دو روزہ برکس سربراہی اجلاس میں ہندوستان کو بڑی سفارتی کامیابی ملی ہے۔ بھارت منڈپم میں برکس کے رکن ممالک نے ’برکس نئی دہلی اعلامیہ 2026‘ کو متفقہ طور پر منظور کر لیا۔
تقریباً 45 صفحات پر مشتمل اس اعلامیے میں دہشت گردی کے حوالے سے جس زبان کا استعمال کیا گیا ہے، اسے ہندوستان کی طویل عرصے سے جاری تشویش کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اعلامیے میں پاکستان کا براہ راست نام نہیں لیا گیا، لیکن دہشت گردی کے خلاف اپنائے گئے سخت موقف میں ہندوستان کی اہم تشویش واضح طور پر نظر آتی ہے۔اعلامیے میں 22 اپریل 2025 کو جموں و کشمیر کے پہلگام میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ اس حملے میں 26 افراد ہلاک اور کئی دیگر زخمی ہوئے تھے۔
برکس ممالک نے واضح طور پر کہا کہ دہشت گردی کسی بھی مقصد، کسی بھی مقام یا کسی بھی شخص کی جانب سے کی جائے، اسے کسی بھی صورت میں درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ رکن ممالک نے دہشت گردی کے لیے کسی بھی قسم کا جواز قبول نہ کرنے کا عزم ظاہر کیا۔اعلامیے میں صرف دہشت گردانہ حملوں کی مذمت تک بات محدود نہیں رہی، بلکہ سرحد پار دہشت گردی، دہشت گردی کی مالی معاونت اور دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کے خلاف مؤثر کارروائی کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔
ہندوستان طویل عرصے سے بین الاقوامی پلیٹ فارموں پر سرحد پار دہشت گردی، دہشت گردوں کی مالی معاونت اور انہیں محفوظ ٹھکانے فراہم کرنے والے نیٹ ورکس کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔ برکس ممالک نے دہشت گردی کی تمام شکلوں اور مظاہر کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کو کسی مذہب، قومیت، تہذیب یا نسلی گروہ سے جوڑ کر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔برکس کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ دہشت گردی کی کسی بھی کارروائی کی سخت الفاظ میں مذمت کی جاتی ہے اور اسے مجرمانہ اور کسی بھی صورت میں ناقابل قبول سمجھا جاتا ہے، خواہ اس کے پیچھے کوئی بھی مقصد ہو، وہ کہیں بھی اور کسی کے ذریعے بھی کی گئی ہو۔اعلامیے میں 22 اپریل 2025 کو جموں و کشمیر میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی بھی شدید مذمت کی گئی، جس میں 26 افراد کی جان گئی تھی اور کئی دیگر زخمی ہوئے تھے۔ برکس ممالک نے دہشت گردی کی تمام شکلوں اور مظاہر کے خلاف لڑائی جاری رکھنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ اس میں دہشت گردوں کی سرحد پار نقل و حرکت، دہشت گردی کی مالی معاونت اور انہیں محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنا بھی شامل ہے۔اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ دہشت گردی کو کسی مذہب، قومیت، تہذیب یا نسلی گروہ سے نہیں جوڑا جانا چاہیے۔ برکس ممالک نے کہا کہ دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث تمام افراد اور ان کے حامیوں کو قومی اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق جوابدہ بنایا جانا چاہیے اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔ برکس ممالک نے دہشت گردی کے خلاف اجتماعی کوششیں جاری رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے تمام عناصر، ان کے مالی معاونین اور انہیں محفوظ ٹھکانے فراہم کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ضروری ہے۔
انٹر نیشنل
امریکہ کے بعدبرطانیہ میں بھی بھاگوت کی پرزور مخالفت
لندن:امریکہ کے بعد برطانیہ کی راجدھانی لندن کے میئر صادق خان کو سول سوسائٹی کے 20 تنظیموں نے مکتوب بھیج کر آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے پروگرام کے بائیکاٹ کی اپیل کی ہے۔
مکتوب میں آر ایس ایس کو ایک تانا شاہ اور ملٹری فکر والی تنظیم بتایا گیا ہے۔ اور ایسا ہی ایک خط برطانیہ کے وزارت خارجہ کو بھی بھیجا گیا ہے۔ غورطلب ہے کہ گزشتہ ہفتہ امریکہ میں کئی ہندو تنظیموں نے آر ایس ایس سربراہ کے ’یونیورسل ون نیس سیلیبریشن ‘پروگرام کی مخالفت کی تھی ، مظاہرہ کیا تھا۔
موہن بھاگوت کا یہ پروگرام نیویارک شہر کے میڈیسن اسکوائر گارڈن میں منعقد ہوا تھا۔ لندن کی سوسائٹی کے تنظیموں نے مکتوب میں میئر کو گریٹر لندن اتھارٹی سے اپیل کرنے کو کہا کہ وہ موہن بھاگوت کو برطانیہ دورے کے درمیان آر ایس ایس کے ذریعہ منعقد پروگراموں کا بائیکاٹ کرے۔ موہن بھاگوت ہفتہ کے اختتام میں برطانیہ میں ہندنژاد طبقات کے لئے منعقد ایک پروگرام کو خطاب کریں گے۔
ان تنظیموں نے میئر صادق خان سے یہ بھی اپیل کی ہے کہ وہ آر ایس ایس کے پروگرام کیلئے جگہ کی اجازت نہ دیں۔ آرا یس ایس کے سو سال پورے ہونے کے موقع پر چلائے جارہے انٹرنیشنل آئوٹ ریچ پروگرام کے تحت بھاگوت کا دورہ امریکہ اور کینڈا میں ہوچکا ہے۔ دا انڈیپنڈنٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق انھوں نے آر ایس ایس کو ایک تاناہی اور ملٹری فکر والی تنظیم قرار دیا ہے۔ جس سے یوروپین فاسی واد سے تحریک ملی تھی۔ اور تنظیم نے افسران سے یہ بھی کہا ہے کہ برطانیہ کے الگ الگ ثقافت والے سماج کی تحفظ کےلئے بھی نظم کیا جائے۔ اس مکتوب میں ہندوزفار ہیومن رائٹرس ، یوکے انڈین مسلم کونسل ، انڈیا لیبر سالیڈیٹری اور ساوتھ ایشیا سالیڈیٹری جیسی تنظیموں نے دستخط کئے ہیں۔ مکتوب میں خاص طبقات کی سیکورٹی کے لئے میٹروپولٹن پولیس کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں بھی جانکاری مانگی گئی ہے۔
-
بہار10 months agoفوقانیہ اور مولوی کےامتحانات 19 سے 25 جنوری تک ہوں گے منعقد
-
دلی این سی آر2 years agoدہلی میں غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف مہم تیز، 175 مشتبہ شہریوں کی شناخت
-
دلی این سی آر2 years agoاقراءپبلک اسکول سونیا وہارمیں تقریب یومِ جمہوریہ کا انعقاد
-
دلی این سی آر2 years agoاشتراک کے امکانات کی تلاش میں ہ ±کائیدو،جاپان کے وفد کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کا دورہ
-
دلی این سی آر2 years agoجامعہ :ایران ۔ہندکے مابین سیاسی و تہذیبی تعلقات پر پروگرام
-
بہار1 year agoحافظ محمد منصور عالم کے قاتلوں کو فوراً گرفتار کرکے دی جائےسخت سزا : مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی
-
محاسبہ2 years agoبیاد گار ہلال و دل سیوہاروی کے زیر اہتمام ساتواں آف لائن مشاعرہ
-
محاسبہ2 years agoجالے نگر پریشد اجلاس میں ہنگامہ، 22 اراکین نے کیا بائیکاٹ
