Connect with us

دیش

ایک طاقتور محرک کے طور پر ابھرا ہے ہندوستان کا اختراعی ماحولیاتی نظام :جے شنکر

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی:وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اعتراف کیا کہ ہندوستان کا اختراعی ماحولیاتی نظام گزشتہ دہائی کے دوران ترقی، روزگار اور اقتصادی تبدیلی کے کلیدی محرک کے طور پر ابھر رہا ہے کیونکہ ملک اسٹارٹ اپ انڈیا پہل کے 10 سال مکمل کر رہا ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں، جے شنکر نے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت کے کردار، پائیدار اصلاحات، مضبوط ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، اور کاروباریوں کو بااختیار بنانے اور عالمی معیشت میں ہندوستان کی موجودگی کو مضبوط بنانے میں معاون پالیسیوں پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ جب ہم اسٹارٹ اپ انڈیا کے سفر کی ایک دہائی منا رہے ہیں، ہندوستان کا اختراعی ماحولیاتی نظام ترقی، روزگار اور اقتصادی تبدیلی کے ایک طاقتور محرک کے طور پر ابھرا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی جی کی قیادت میں، پائیدار اصلاحات، مضبوط ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور مضبوط پالیسی سپورٹ نے ہمارے کاروباریوں کو بااختیار بنایا ہے اور ہندوستان کے عالمی قدم کو مضبوط کیا ہے”۔
اس سے پہلے آج، وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک تاریخی سنگ میل کا جشن منایا، ہندوستان کی اسٹارٹ اپ صنعت کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مبارکباد پیش کی۔ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے لکھا، “آج کا دن خاص ہے کیونکہ ہم اسٹارٹ اپ انڈیا کے آغاز کو ایک دہائی منا رہے ہیں۔ یہ دن ہمارے لوگوں، خاص طور پر ہمارے نوجوانوں کی ہمت، جذبہ اختراع اور کاروباری جوش کو منانے کے بارے میں ہے، جنہوں نے عالمی اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام میں ہندوستان کے عروج کو تقویت بخشی ہے۔”
انہوں نے تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر اپنے اسٹارٹ اپ ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے کے ہندوستان کے وعدوں کے بارے میں بھی بات کی۔”جس ریفارم ایکسپریس کا آغاز ہندوستان نے کیا ہے اس نے اسٹارٹ اپس کے لیے ان علاقوں میں قدم رکھنے کے لیے ایک بہت سازگار ماحول پیدا کیا ہے جس کا پہلے تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا، چاہے وہ خلا، دفاع اور بہت کچھ ہو۔”انہوں نے اس بارے میں بھی بات کی کہ کس طرح ہندوستانی اسٹارٹ اپس ہندوستانی نوجوانوں کی طرف سے خطرات مول لے کر اور مسائل کو حل کرنے والے بن کر آتم نربھر بھارت کی کامیابی میں حصہ ڈال رہے ہیں۔
ماحولیاتی نظام کے بارے میں بات کرتے ہوئے، انہوں نے سرپرستوں، انکیوبیٹرز، سرمایہ کاروں، تعلیمی اداروں اور دیگر کے کردار کا ذکر کیا جو اسٹارٹ اپ کو سپورٹ کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ “ان کی حمایت اور بصیرت ہمارے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی میں ایک طویل سفر طے کرتی ہے کیونکہ وہ اختراعات کرتے ہیں اور ترقی میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔

دیش

پانچ کلو وزن ہواکم،وانگچک کے بھوک ہڑتال کا ساتواں دن

Published

on

نئی دہلی:جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی کا دھرنا جاری ہے۔ ان کے اندولن کے ساتھ معروف سماجی خدمات گار سونم وانگچک بھی شریک ہوچکے ہیں آج ان کے بھوک ہڑتال کا ساتواں دن ہے۔ جس میں ان کا پانچ کلو وزن کم ہوگیا ہے۔ اس دوران سی جے پی نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبہ کو تیز کردیا ہے۔ واضح ہو کہ جنتر منتر پر طلبا نیٹ ، یوجی سمیت مقابلہ جاتی امتحانات میں بدعنوانی کولیکر مظاہرہ کررہے ہیں۔

Continue Reading

دیش

حکومت پر تنقید جمہوریت کا حصہ ، جرم نہیں : بمبئی ہائی کورٹ

Published

on

بمبئی ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں کہا ہے کہ جمہوری نظام میں شہریوں کو حکومت کی پالیسیوں سے اختلاف کرنے، اپنے خیالات کا اظہار کرنے اور پُرامن احتجاج کرنے کا آئینی حق حاصل ہے۔ صرف حکومت مخالف نعرے لگانے یا احتجاجی مظاہروں میں شرکت کرنے کی بنیاد پر کسی شہری کو اس کے اپنے شہر سے بے دخل نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے اسی بنیاد پر مہاراشٹر پولیس کی جانب سے جاری ایک سالہ ایکسٹرنمنٹ (شہر بدری) کا حکم منسوخ کر دیا۔
یہ فیصلہ جسٹس مادھو جمدار کی بنچ نے سوشلسٹ ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) کے مہاراشٹر کے جنرل سیکریٹری اور سابق لوک سبھا امیدوار سعید احمد عبد الواحد چودھری کی درخواست پر سنایا۔ عدالت نے واضح کیا کہ انتظامی اختیارات کا استعمال شہریوں کے آئینی اور بنیادی حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے نہیں کیا جا سکتا۔
سماعت کے دوران عدالت نے پولیس کی کارروائی اور اس کے جواز پر کئی اہم سوالات اٹھائے۔ جسٹس مادھو جمدار نے ریمارکس دیے کہ ہر شہری کو حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرنے، احتجاج کرنے اور اختلاف رائے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔
عدالت نے سوال کیا کہ محض ’’بی جے پی حکومت مردہ باد‘‘ یا ’’امت شاہ مردہ باد‘‘ جیسے نعرے کسی شخص کے خلاف شہر بدری جیسی سخت کارروائی کی بنیاد کیسے بن سکتے ہیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ جمہوریت میں اختلاف رائے کو دبانے کے بجائے اسے برداشت کرنا ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے۔
جسٹس جمدار نے گزشتہ برسوں میں مختلف مسابقتی امتحانات کے پرچے لیک ہونے کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر عوام ایسے معاملات پر احتجاج کریں اور اس کے جواب میں ان پر مقدمات درج کیے جائیں تو یہ جمہوری اقدار کے مطابق نہیں ہوگا۔ عدالت نے واضح کیا کہ پولیس عوام کی خدمت کے لیے ہے اور اس کی جواب دہی شہریوں کے سامنے ہے، نہ کہ کسی سیاسی جماعت یا حکومت کے سامنے۔
اپنے تحریری فیصلے میں ہائی کورٹ نے کہا کہ حکومت کے بعض فیصلوں کی مخالفت کرنا کسی شخص کو اس کے رہائشی علاقے سے بے دخل کرنے کی قانونی بنیاد نہیں بن سکتا۔ عدالت کے مطابق ایسی کارروائی اظہارِ رائے کی آزادی اور وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔عدالت نے مشاہدہ کیا کہ درخواست گزار کے خلاف جاری کیے گئے ایکسٹرنمنٹ آرڈر کی اصل وجہ مختلف احتجاجی پروگراموں کا انعقاد اور ان میں شرکت تھی۔ عدالت نے کہا کہ صرف اسی بنیاد پر کسی شہری کے خلاف اتنی سخت انتظامی کارروائی نہیں کی جا سکتی۔
سعید احمد عبد الواحد چودھری شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے)، نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (این آر سی)، بابری مسجد تنازع، گیان واپی مسجد معاملہ، وقف بورڈ میں مبینہ بدعنوانی اور ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سمیت کئی عوامی مسائل پر ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں سرگرم رہے ہیں۔

Continue Reading

دیش

رام مندر کے بعد بدری ناتھ میں چڑھاوا چوری معاملہ ، کرمچاریوں سے جواب طلب

Published

on

نئی دہلیایودھیا کے رام مندر میں چڑھاوا چوری کا معاملہ چل ہی رہا ہے کہ اب معروف کیدار بدری ناتھ چڑھاوا چوری کا معاملہ بھی اجاگر ہوا ہے اس سلسلے میں انتظامیہ نے فوری طور پر کرمچاریوں کو نوٹس دیا ہے اور تین دن میں جواب دینے کو کہا ہے۔ غورطلب ہے کہ شری بدری ناتھ-کیدار ناتھ مندر کمیٹی (بی کے ٹی سی) نے معاملے کی تحقیقات کا حکم جاری کر دیا ہے۔ کمیٹی کے ایک عہدیدارکے مطابق دہرادون واقع ’بھیرو سینا‘ نامی تنظیم نے الزام عائد کیا ہے کہ بدری ناتھ دھام میں تعینات ایک ملازم عطیات اور نذرانوں کی رقم میں گڑبڑی کر رہا ہے۔ حالانکہ انتظامیہ کی جانب سے ان الزامات کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا گیا ہے، لیکن معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے کمیٹی نے تحقیقات شروع کر دی ہے۔ ساتھ ہی عطیات کی رقم کی گنتی سے منسلک ملازمین سے بھی وضاحت طلب کی گئی ہے۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network