Connect with us

دیش

ہندوستان نے یمن کو فراہم کی67 ٹن طبی امداد

Published

on

(پی این این)
نئی دہلی: ہندوستانی بحریہ نےجہاز (INS) چنئی کے ذریعے تقریباً 67 ٹن طبی امداد، 4,572 ڈبوں میں پیک، یمن کو اگست میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے تباہ ہونے والی کمیونٹیوں کی مدد کے لیے پہنچائی ہے۔ یہ انسانی مشن، بھارت کی جاری آفات سے متعلق امدادی کوششوں کا حصہ ہے، بروقت مدد فراہم کرنے کے لیے بحریہ کے عزم کو واضح کرتا ہے اور خطے میں ایک قابل اعتماد پہلے جواب دہندہ کے طور پر بھارت کی پوزیشن کی تصدیق کرتا ہے۔
ڈیلیور کیے گئے امدادی سامان کا مقصد حالیہ طوفانی بارشوں سے شدید متاثر ہونے والی کمیونٹیوں کی مدد کرنا ہے جس کی وجہ سے اچانک سیلاب آیا، جس سے یمن کے متعدد صوبوں میں کم از کم 14 افراد ہلاک ہوئے، اور یمن کی انسانی ضروریات کو ترجیح دینے کی ہندوستان کی دیرینہ روایت کو جاری رکھے ہوئے ہے۔

Continue Reading
Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

دیش

’بات کرنی ہے تو جنتر منتر آئے سرکار‘

Published

on

نئی دہلی:مرکزی حکومت کہہ رہی ہے کہ وہ مظاہرین سے بات کرنے کے لئے تیار ہے۔ لیکن سی جے پی لیڈروں نے مرکزی وزیر نڈا سے ملنے سے انکار کردیا ہے۔ ان کا صاف کہنا ہے کہ ہم حکومت سے نہیں ملنے جائیں گے اور ان کو بات کرنی ہے تو وہ خود جنتر منتر آئے ۔ غورطلب ہے کہ 20 جولائی کے ہنگامہ کے دوران سی جے پی کے دو لیڈر نڈا سے ملے تھے۔ جہاں چار گھنٹے تک انھیں روکے رکھا تھا اور کوئی یقین دہانی نہیں کرائی تھی۔ لہذا اب سی جے پی جنتر منتر پر سے ہی اپنی قیادت کرتی رہے گی۔ حکومت اگر مسئلے کا حل چاہتی ہے تو وہ جنتر منتر آکر لیڈروں سے گفتگو کرے۔ اس دوران سی جے پی کے لیڈروں نے کہا ہے کہ ہمارے تحریک جاری رہے گی۔ جب تک وزیر تعلیم پردھان مستعفی نہیں ہوجاتے ۔ خاص بات تو یہ ہے کہ جنتر منتر کی آگ اب پورے ملک میں پھیل چکی ہے اور طلبا جگہ جگہ سڑکوں پر ہیں۔ واضح رہے کہ جنتر منتر پر سی جے پی کے ہڑتال کا 34واں دن ہے۔ جس میں بڑی تعداد میں لوگ شامل ہورہے ہیں۔

Continue Reading

دیش

پارلیمنٹ کے باہر این ڈی اے اور انڈیا بلاک آمنے سامنے

Published

on

نئی دہلی :پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے چوتھے دن این ڈی اے اور اپوزیشن کے درمیان پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر جھڑپ ہوئی۔ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے، کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی، پرینکا گاندھی واڈرا، اور سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو سمیت اپوزیشن کے ارکان پارلیمنٹ نے حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔
این ڈی اے کے ارکان پارلیمنٹ بھی احتجاج میں اپوزیشن کے ساتھ شامل ہوئے، دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کے خلاف نعرے لگائے۔ 21 جولائی کو وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے باہر راہل کے احتجاج پر این ڈی اے کے اراکین پارلیمنٹ احتجاج کر رہے ہیں۔دریں اثنا، انڈیا بلاک نیٹ  پیپر لیک ہونے پر وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہا ہے۔ احتجاج کے دوران پرینکا گاندھی این ڈی اے کے ممبران پارلیمنٹ کے بہت قریب چلی گئیں۔ سیکیورٹی اہلکاروں نے اسے روکنے کے لیے مداخلت کی۔ پارلیمنٹ کے اندر بھی ہنگامہ آرائی جاری رہی۔
جس کی وجہ سے لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی کارروائی دوپہر 2 بجے تک ملتوی کر دی گئی ہے۔ لوک سبھا کی کارروائی دوپہر دو بجے دوبارہ شروع ہوئی تو زبردست ہنگامہ ہوا۔ ایوان کی کارروائی جمعہ کی صبح گیارہ بجے تک ملتوی کر دی گئی۔اس دوران ہنگامہ آرائی کے باعث راجیہ سبھا کی کارروائی سہ پہر 3 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔ جب ایوان دوبارہ جمع ہوا تو ارکان پارلیمنٹ نے ایک اور ہنگامہ کھڑا کردیا۔ نتیجتاً راجیہ سبھا کی کارروائی بھی 24 جولائی تک ملتوی کر دی گئی۔وزیر اعظم مودی کے بیان پر کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’نریندر مودی نے آج ٹویٹ میں جو لکھا ہے، وہ کچھ ایسا ہے جیسے کوئی بچہ اپنے والد سے کہے کہ وہ ڈیزائنر بننا چاہتا ہے، لیکن والد کہے کہ فکر مت کرو، میں نے سیٹنگ کر کے تمہارا ایڈمیشن انجینئرنگ کالج میں کرا دیا ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’وزیر اعظم مودی سے طلبہ کا مطالبہ ہے کہ دھرمیندر پردھان استعفیٰ دیں اور انہیں پیٹنے والوں کے خلاف ایکشن ہو۔‘‘

Continue Reading

دیش

پھیلتی جارہی ہے نیٹکی آگ، ملک بھر میں مظاہرہ،پھیلتی جارہی ہے نیٹکی آگ، ملک بھر میں مظاہرہ،ممبئی، پٹنہ ، گروگرام میں پولیس سے تصادم،بہار کے کٹیہار میں طلبا پر لاٹھی چارج ،کئی زخمی

Published

on

نئی دہلی:دہلی کی جنتر منتر سے اٹھی آواز اب طلبا کوسڑک پر لاچکی ہے۔ نیٹ کی آگ پورے ملک میں پھیلتی جارہی ہے۔ ہر ریاست میں تعلیمی نظام کی بدحالی کولیکر طلبا سڑکوں پر ہیں،آج ملک کے کئی حصوں میں نیٹ پیپر لیک کے خلاف زبردست مظاہرہ ہوا۔ جس میں ہریانہ کے گروگرام،بہار کی راجدھانی پٹنہ میں پولیس اور طلبا میں زبردست ٹکرائو ہوا۔ بہار کے کٹیہارکے ڈی ایم آفس کے سامنے طلبا پر پولیس لاٹھی چارج سے معاملہ خراب ہوگیا، دونوں طرف سے ایک دوسرے پر پتھرائو ہوا۔ کئی طلبا زخمی ہیں جنھیں اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔
تمل ناڈو، چھتیس گڑھ، جھارکھنڈ ، راجستھان میں بھی نیٹ کے خلاف طلبا کا مظاہرہ ہوا۔ طلبا کے مظاہرے میں بہار سرفہرست ہے۔ جہاں کئی شہروں میں مظاہرہ کیا گیا۔ بیگو سرائے میں مظاہرین نے کلکٹریٹ کا گھیرائو کیا اور گیٹ پر چڑھ گئے۔ پٹنہ کالج کے پاس طلبا پھر سڑکوں پر اترے ، اشوک راج پتھ جام کردیا گیا۔ پولیس نے سب کو حراست میں لیا ،طلبا کا کہنا تھا کہ جب تک وزیر تعلیم پردھان استعفیٰ نہیں دیں گے ہم سڑکوں پر رہیں گے۔ راجستھان کے بانسواڑہ میں پیپر لیک کے خلاف زبردست مظاہرہ ہوا ۔
مظاہرین پہلے کشل باغ میں جمع ہوئے اور وہاں سے کلیکٹریٹ تک جلوس نکالا جہاں مظاہرین اور پولیس میں ٹکرائو ہوگیا۔ پولیس نے ہلکا لاٹھی چارج کیا اور معاملے کو کنٹرول کیا۔ چھتیس گڑھ کے رائے پور میں راجیو بھون کا گھیرائو کیا گیا ، کانگریس کے بارہ لیڈر گرفتار کرلیے گئے ، ان پر الزام ہے کہ انھوں نے پولیس اہلکاروں پر پتھرائو کیا۔ ادھر ہریانہ کے گروگرام میں میمورنڈم دینے جانے والے کانگریس لیڈروں اور طلبا کو گیٹ پر ہی روک لیا گیا ، جس سے ٹکرائو پیدا ہوا۔
دریں اثنا کروکشیتر یونیورسٹی کے طلبا کلاس چھوڑ کر سڑکوں پر آگئے ہیں اور مظاہرہ کررہے ہیں۔ جھارکھنڈ کے رانچی میں بی جے پی آفس کا گھیراو کرتے ہوئے ٹکرائو ہوگیا ، ایک دوسرے پر پتھر اور ٹماٹر پھینکے گئے۔
بہرحال طلبا کے اس مظاہرہ میں کانگریس کی سرپرستی شامل رہی ۔مگر اب پورے ملک میں نیٹ کے خلاف طلبا سڑکوں پر ہیں اور یہ آگ بڑھتی ہی جارہی ہے۔ طلبا کا مطالبہ ہے کہ جنتر منتر پر پولیس کی جوبربریت ہوئی ہے اس پر کاروائی کی جائے اور مظاہرہ کو ختم کرنے کے لئے تعلیمی نظام میں سدھار لانے کی کوشش کی جائے ، ساتھ ہی ساتھ وزیر تعلیم کے استعفیٰ کے لئے بھی طلبا بضد ہیں۔

Continue Reading

رجحان ساز

Copyright © 2025 Probitas News Network